Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
24 - 175
مسئلہ۱۹: از ریاست رامپور مرسلہ حبیب اﷲ بیگ جماعت مولوی فاضل اورنٹیل کالج۱۷صفر۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنی عورت سے کہتا ہے کہ تجھ پر تین شرطوں سے طلاق قول من حیث ہو قول کیا، کسی چیز کی طرف اشارہ وغیرہ نہیں کیا بس تین شرطوں سے کہہ دیا یہ طلاق کون طلاق، واقع ہوگئی اور کیوں؟اور تین شرطوں سے کیا مراد ہے اور کیوں؟
الجواب

ظاہر الفاظ کا مفادیہ ہے کہ طلاق بشرطِ مجہول دیتا ہے تو یہ کہنا ایسا ہوا کہ مطلقہ ہے،اگر تین شرطیں پائی جائیں اس صورت میں طلاق اصلاً واقع نہ ہوگی،

درمختار میں ہے:
وشرط صحتہ ذکر المشروط فنحو"انت طالق ان"لغوبہ یفتی۱؎۔
تعلیق کی صحت کے لئے مشروط کا ذکر ضروری ہے، تو یوں کہنا''تجھے طلاق ہے اگر'' لغو قرار پائے گا، اسی پر فتوٰی ہے(ت)
 ( ۱؎ درمختار         باب التعلیق         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۳۰)
اور ایک احتمال یہ بھی ممکن کہ اس نے اپنے جاہلانہ محاو رہ سے تین عدد کو تین شرطیں کہا ہو جیسے تین بار ہاتھ دھونے کو بعض جہال کہتے ہیں تینوں شرطیں پوری کرلو۔ اگر یہ اس کا محاورہ ومقصود ہے تو تین طلاقیں ہوگئیں۔ ردالمحتار میں ہے:
یحمل کلام کل عاقل وحالف علی عرفہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
عقد کرنے والے کے اور حلف دینے والے کلام کو اس کے عرف پر محمول کیا جائے گا۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب التعلیق         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۴۹۹)
مسئلہ۲۰: از چھاؤنی برار علاقہ ریاست گوالیار متصل عقب گرلس اسکول بمعرفت منشی سید امجد علی صاحب مرسلہ عطا حسین صاحب نقشہ نویس ۵ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے والد اور ہندہ نے زیدسے اسٹامپ لکھواکر کچہری میں رجسٹری کروالی ہے جن میں کے چند شرائط درج ہیں:

(۱) ہندہ تمام عمر اپنے باپ ہی کے مکان پر رہے گی۔

(۲) جو اس وقت اولاد موجود ہے اس کی مالک ہندہ ہوگی زید مالک نہیں ہوسکتا اور آئندہ جواولاد ہوگی اس اولاد کی بھی مالک ہندہ ہوگی۔

(۳) ہندہ کی حیات میں تم دوسری شادی نہیں کرسکوگے۔

(۴) دس۱۰روپیہ ماہوار ہندہ کے خرچ کے لئے زید کو ہندہ کے والد کے مکان پر بھیجنا ہوں گے۔

(۵) میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر کسی وقت میں تین ماہ تک بہ استثنائے حوادثاتِ زمانہ جس کو میری زوجہ تسلیم کرلے خرچ نہ بھیجوں یا شرط مذکورہ بالا میں سے کسی شرط کا ایفاء نہ کروں تو میری یہ تحریر بجائے تین طلاق مغلظ وشرع کے سمجھی جائے، یہ سب شرائط لکھنے کے بعد زید چھ۶ماہ تک ہندہ سے ملنے نہیں گیا اور نہ چھ ماہ تک ہندہ کے لیے خرچ بھیجا ،بعد چھ ماہ کے زید ہندہ کے مکان پر گیا ،ہندہ کے والد نے زید کو ہندہ سے ملنے دیا اور ہندہ کو زید کے ہمراہ رخصت کردیا، زیدہندہ کواپنے مکان پر لے آیا، اسی طرح سے آنا جانا بنا رہا، بعد چارماہ کے ہندہ کا خط زید کے پاس آیا مجھ کو خرچ بھیجو، زید اس وقت بوجہ قرضداری کے خرچ نہیں بھیج سکا، ہندہ کے والد نے پھر ایک خط زید کو بھیجا تم نے اپنی تحریر کے موافق خرچ نہیں بھیجا تین ماہ کے بجائے چار ماہ گزرگئے اس لئے تم دونوں کو شریعت نے بالکل علیحدہ کیا طلاق ہوچکی اب کسی طرح میل جول نہیں ہوسکتا تم کو نوٹس دیا جاتا ہے کہ تیرہ سوبیس۱۳۲۰ روپے حق مہر یکمشت ادا کردو، اس وقت اولاد کا دعوٰی کرنا،زید ہندہ کے والد کے پاس گیا زید نے یہ کہا جبکہ میں نے چھ چھ ماہ تک خرچ نہیں بھیجا اور ہندہ کو آپ نے میرے ہمراہ رخصت کردیا، اتنے عرصہ تک خرچ نہ بھیجنے پر اس وقت طلاق کیوں نہیں ہوئی، ہندہ کے والد نے جواب دیا ہندہ نے تم کو خرچ بھیجنے کیلئے نہیں لکھا تھا اب ہندہ نے تم کو خرچ منگوانے کے لئے لکھا ہے اس وقت سے تین ماہ رکھے گئے ہیں، پھر زید نے یہ سوال کیاکہ اسٹامپ میں آپ نے یاہندہ نے یہ نہیں درج کروایا ہے کہ خرچ منگوانے پر تین ماہ رکھے جائیں، پھر زید نے ہندہ کا خط ہندہ کے والد کے روبرو پیش کیا، تین ماہ گزرنے میں پانچ یوم باقی ہیں ہندہ کے والد نے زید سے کہا تین ماہ کے تیس۳۰روپے دے دو تیس ۳۰روپے دینے پر بھی تم ہندہ سے نہیں مل سکو گے اس وقت تک جبکہ تمہاری زوجہ کو خرچ نہ بھیجنے پر معذور سمجھے، اور علمائے دین سے دریافت کیا جائے اگر علمائے دین ملنے کی اجازت دے دیں اس وقت تم کو اطلاع دے دیں گے تم آکر اپنی زوجہ کو رخصت کرالے جانا، اور اگر علمائے دین نے ملنے کی اجازت نہ دی اور طلاق مقرر کردی تو تمہارے تیس۳۰ روپے واپس کردئے جائیں گے، زید نے کہا اس وقت میرے پاس تیس۳۰ روپے نہیں فی الحال دس روپے لئے لیجیئے مکان پر پہنچ کر بیس۲۰ روپے اور بھیج دوں گا انہوں نے دس روپے نہیں لئے، زید کو واپس لوٹا دیا، ہندہ کے والد نہ تو زید کو اولاد دیتے ہیں اور نہ ہندہ سے ملنے دیتے ہیں، زید میں اس قدر حیثیت نہیں ہے کہ تیرہ سوبیس۱۳۲۰ روپیہ حق مہر یکمشت ادا کرسکے، اب ہندہ کے والد یہ کہتے ہیں کہ علماء سے اجازت لو اگر علمائے دین ہندہ سے ملنے کی اجازت دے دیں تو پھر مجھ کو کچھ عذر نہ ہوگا تمہارے ساتھ ہندہ کو رخصت کردوں گا، اب عرض یہ ہے کہ ان سب شرائط سے طلاق ہوئی یانہیں؟ ہندہ کے والد نے زید کو لکھا کہ جس عالم سے تم فتوٰی منگواؤ اگر وہ لکھیں کہ طلاق نہیں ہوئی تو ان کو یہ ضرور لکھ دینا کہ جس کتاب سے طلاق نہیں ہوئی ہے(ثابت ہے) اس کتاب کا نام اور صفحہ کا نمبر ضرور لکھیں۔بینواتوجروا
الجواب

یہ سب جاہلانہ خرافات ہیں، وہ اقرار نامہ باطل محض ہے اس میں جتنی شرطیں لگائیں سب باطل ومردود وخلاف شرع ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مابال رجال یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فھو باطل وان کان مائۃ شرط فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق۱؎۔ رواہ البخاری ومسلم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جواﷲ کی شریعت میں نہیں، جو شرط شریعت کے خلاف ہو وہ باطل ہے اگر چہ سو۱۰۰ شرطیں ہوں، اﷲ کا حکم حق ہے، اور اﷲ کی شرط مؤکد۔(اس کو بخاری اور مسلم نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الشروط    باب الشروط فی الولاء     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۷۷)
اور اب باپ ہی کے یہاں رہے گی اور موجودہ او لاد کی وہی مالک ہوگی اور آئندہ اولاد کی بھی وہی مالک ہوگی اور باپ کے گھر بیٹھے نفع پائے گی یہ سب شرطیں خلافِ شرع ومردود ہیں پانچویں شرط کو خلاف کرے تو یہی تحریر تین طلاق سمجھی جائے یہ بھی باطل ہے، غیر طلاق کو طلاق سمجھنا کیا معنی،
فتاوی قاضی خاں میں ہے:
امرأۃ قالت لزوجھامراطلاق دہ، فقال الزوج دادہ انگار او کردہ انگار لایقع وان نوی کانہ قال لھا بالعربیۃ احسبی انک طالق وان قال ذٰلک لایقع وان نوی ۱؎اھ ملخصاً۔
ایک عورت نے اپنے خاوند کو کہا تو مجھے طلاق دے، تو خاوند نے کہا دی ہوئی یا کی ہوئی سمجھ، تو طلاق نہ ہوگی خواہ نیت بھی کی ہو۔ گویا خاوند نے عربی میں کہا تو خیال کرلے کہ تو طلاق والی ہے۔ تو ایساکہنے پر طلاق نہیں اگرچہ نیتِ طلاق بھی ہو،اھ ملخصاً(ت)
( ۱؎ فتاوٰی قاضی خاں         کتاب الطلاق         نولکشور لکھنؤ     ۲ /۲۱۰)
اسی میں ہے:
لوقیل لرجل اطلقت امرأتک فقال عدھا مطلقۃ او احسبھا مطلقۃ لاتطلق امرأتہ۲؎۔
اگر کسی شخص کو یہ کہا جائے کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو وہ جواب میں کہے تو اس مطلقہ شمار کریاکہے بیوی کو مطلقہ سمجھ لے، تو اس سے طلاق نہ ہوگی(ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں         کتاب الطلاق         نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۱۳)
بالجملہ نہ صورتِ مستفسرہ میں طلاق ہوئی نہ عورت مالک اولاد ہوسکتی ہے،
قال اﷲ تعالٰی وعلی المولود لہ رزقھن۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بیوی کا نفقہ اولاد والے یعنی خاوند پر ہے۔(ت)
 ( ۳؎ القرآن الکریم  ۲/ ۲۳۳)
ہاں بحق  حضانت لڑکا سات برس کی عمر تک ماں کے پاس رہے گا اور لڑکی نو برس کی عمر تک، پھر باپ لے گا۔ شوہر اگر اپنے پاس بلانا چاہے تو عورت کو باپ کے گھر رہنے کا اختیار نہیں،
قال اﷲ تعالٰی اسکنوھن من حیث سکنتم۴؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم اپنی بیویوں کو وہاں رکھو جہاں سکونت پذیر ہو۔(ت)
 ( ۴؎ القرآن الکریم ۶۵ /۶)
اگر شوہر کے پاس آنے سے انکار کرے گی نفقہ پانے کی مستحق نہ ہوگی۔ عامہ کتب میں ہے:
لانفقۃ للناشزۃ۵؎
 (نافرمان بیوی کے لئے نفقہ نہیں۔ت)
(۵؎ بحرالرائق         باب النفقۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۴ /۱۷۹)

(ردالمحتار         باب النفقۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۴۷)
مہر اگر نہ معجل تھا نہ مؤجل یعنی رخصت سے پہلے دینا قرار پایا تھا نہ کوئی میعاد معین مثلاً سال دو سال قرارپائی تھی، تو جب تک موت یا  طلاق نہ ہو عورت کو اس کے مطالبہ کا کچھ اختیار نہیں۔ 

ردالمحتار میں ہے:
مؤخر المھرحق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت اوالطلاق۱؎۔
مؤخر کردہ مہر کامطالبہ، طلاق یا موت کے بعد ہوسکتا ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب القضاء     فصل فی المجلس     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴ /۳۴۳)
پدر ہندہ کا یہ شرط لگانا کہ کتاب کاصفحہ بتایا جائے انہیں شرائط کے قبیل سے ہے جو اس نے اقرار نامہ میں لکھوائیں اگر وہ ذی علم ہوتا اس پر یہ احکام مخفی نہ رہتے نہ ایسا مہمل اقرار نامہ لکھواتا نہ یہ ہوتا کہ چھ مہینے گزرنے پر طلاق نہ سمجھی، تین مہینے گزرنے پر طلاق ہے، اور جوبے علم ہے اس کا حوالہ وصفحہ  طلب کرنا اپنے منصف سے بڑھنا ہے اور اسے صفحہ بتانا فضول، اسے یہ حکم ہے کہ علماء سے دریافت کرے نہ یہ کہ صفحہ سطر جانچے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter