فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
23 - 175
مسئلہ۱۸: از ملک بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتہیامرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۱ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں فضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے یوں کہہ کر نکاح کیا کہ میں تمہاری بلااجازت دوسرا نکاح نہیں کروں گا اگر کروں تو طلاق مغلظہ ہوگی، اب اس صورت میں شرط فوت ہوجائے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟اور ہوتو کَے طلاق ہوں گی؟بینواتوجروامع الدلیل۔
الجواب
اگر زید نے یہ الفاظ عقد نکاح سے پہلے کہے تھے یا خود نفس عقد میں یہ شرط کی مگرایجاب یعنی ابتدائے الفاظ عقد جانب زید سے تھی، مثلاً اس نے کہا میں نے تجھے اپنے نکاح میں لیا اس شرط پر کہ بے تیری اجازت کے نکاح ثانی نہ کروں گا اگر کروں تو طلاق مغلظہ ہو، ہندہ نے کہا میں نے قبول کیا جب تو بحال وقوع شرط زوجہ ثانیہ پر طلاق نہ ہوگی اور اگر بعد نکاح الفاظ مذکورہ کہے یانفس عقد اس شرط پر ہوا اور زید کی جانب سے قبول تھا مثلاً ہندہ نے کہا میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا زید نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر الخ یا ہندہ نے کہا میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ تو بے میری اجازت کے نکاح ثانی نہ کرے اگر کرے تو طلاق مغلظہ ہو،زید نے کہا میں نے قبول کیا، تو در صورت وقوع شرط دونوں عورتوں میں سے ایک مطلقہ ہوگی زید کو اختیار ہوگا کہ ان میں سے جس کی طرف چاہے طلاق کو پھیردے خواہ ہندہ کی طرف خواہ منکوحہ ثانیہ کی جانب،
فی الھندیۃ عن الفتح، لوقال لامرأتہ ان تزوجت علیک ما عشت فالطلاق علی واجب ثم تزوج علیھا یقع تطلیقۃ علی واحدۃ منھما، یصرفھا الی ایتھما شاء۱؎اھ ملخصا
ہندیہ میں فتح سے منقول ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا:''اگر تیری زندگی میں تجھ پر کسی دوسری عورت سے نکاح کروں تو مجھ پر طلاق واجب ہے'' اس کے بعد اس نے اس بیوی پر دوسرا نکاح کرلیا تو پہلی اور دوسری دونوں بیویوں میں سے ایک کو طلاق ہوجائیگی خاوند اس طلاق کو جس پر چاہے نافذ کردے اھ(ملخصا)_
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ فصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان، اذا وغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۲۶)
قلت ففی الفصل الثانی لما وقع التکلم بالشرط بعد ثبوت النکاح لانہ یتم باللفظین فقدکانت ھندۃ محلا للتطلیق لثبوت ملکہ علیھا، فقولہ یکن طلاق مغلظ یحتملھما فیصرفہ الی ایتہما احب، اما فی فصل الاول لما کان التکلم بہ قبل حصول النکاح حیث لاتمام لہ بمجرد الایجاب لم تکن ھندۃ محلالہ لعدم الملک والاضافۃ الی نکاح ہندۃ فتعینت الاخری اعمالا للکلام کما لو قال لامرأتہ واجنبیۃ طلقت احدٰکما تطلق امرأتہ من غیرنیۃ لتعینھا الانشاء۱؎ کما فی الھندیۃ عن المحیط عن المبسوط،
(میں کہتا ہوں کہ) دوسری صورت یعنی نکاح کے بعد یا بیوی کی طرف سے ایجاب میں یہ الفاظ کہے ہوں، تو چونکہ شرط والے الفاظ کا تکلم ثبوت نکاح کے بعد ہوا کیونکہ نکاح ایجاب وقبول کے دولفظوں سے تام ہوتا ہے لہذا مسئولہ صورت میں ہندہ طلاق کا محل بن گئی کیونکہ نکاح کے تام ہونے پر ملکیت نکاح مکمل ہوگئی ہے، چونکہ زید نے اس موقعہ پر طلاق مغلظہ واقع ہونے کی بات کی ہے لہذا دوسرا نکاح کرنے پر مغلظہ طلاق کا احتمال دونوں بیویوں میں سے ہر ایک کے لئے ہے لہذا زید اس طلاق کو دونوں میں سے جس پر چاہے نافذ کردے لیکن پہلی صورت یعنی جب نکاح تام ہونے سے قبل شرط کا تکلم ہواکیونکہ صرف ایجاب سے نکاح تام نہیں ہوتا، اس لئے اس صورت میں ہندہ طلاق کا محل نہ بن سکے گی کیونکہ ابھی نکاح نہ ہوا اور نہ ہی نکاح کی طرف طلاق کو منسوب کیا گیا، لہذا یہ طلاق لازماً دوسری بیوی کو ہوگی اور وہی طلاق کے لئے متعین قرار پائیگی تاکہ زید کا کلام لغو نہ ہو، جیسا کہ کوئی شخص اپنی بیوی اور اجنبی عورت کو خطاب کرکے کہے میں نے تم دونوں سے ایک کو طلاق دی ہے، تو اس کی بیوی کو ہی بغیر نیت طلاق ہوگی کیونکہ وہی انشاءِ طلاق کا محل ہونے کی وجہ سے متعین ہوگی، اس کو ہندیہ میں محیط کے حوالے سے مبسوط سے نقل کیا ہے۔
وفی الدرالمختار من باب الرجعۃ، لوخافت ان لایطلقھا تقول زوجتک نفسی علی ان امری بیدی، زیلعی وتمامہ فی العمادیۃ اھ۲،
درمختار کے باب الرجعۃ میں ہے کہ اگر بیوی کو ڈر ہو کہ کہیں خاوند طلاق نہ دے دے تو نکاح کے وقت بیوی یوں کہے کہ میں تجھ سے اپنا نکاح اس شرط پر کرتی ہوں کہ میری طلاق کا اختیار میرے ہاتھ میں ہوگا اس کو امام زیلعی نے بیان کیا یہ بحث عمادیہ میں ہے اھ،
(۲؎ درمختار باب الرجعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۱)
فی ردالمحتار حیث قال ولو قال لھا تزوجتک علی ان امرک فقبلت جاز النکاح ولغاالشرط لان الامر انما یصح فی الملک اومضافا الیہ ولم یوجد واحدمنھما بخلاف مامر فان الامر صار بیدھا مقارنا لصیرورتھا منکوحۃاھ نھر، والحاصل ان الشرط صحیح اذاابتدأت المرأۃ لااذاابتدأالرجل ولکن الفرق خفی۳؎اھ کلام الشامی باختصار
ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند نے ایجاب کرتے ہوئے یوں کہا میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو عورت نے قبول کیا، اس صورت میں نکاح جائز ہوگا اور شرط کا ذکر لغو ہوگا، کیونکہ تفویض طلاق کےلئے جواز تب پیدا ہوتا ہے جب نکاح موجود ہو یا طلاق کو نکاح کے ساتھ معلق کیا ہو، جبکہ اس صورت میں دونوں باتوں میں سے کوئی بھی نہ پائی گئی بخلاف پہلے مذکور مسئلہ کے کہ وہاں عورت کی طرف سے ایجاب میں شرط کو خاوند نے قبول کیا تو نکاح اور طلاق کی شرط دونوں اکٹھے پائے گئے اس لئے طلاق کا اختیار عورت کو حاصل ہوگااھ نہر، حاصل یہ کہ شرط عورت کے پہل کرنے پر صحیح ہوگی، مرد کے پہل کرنے پر درست نہ ہوگی، لیکن یہ فرق مخفی رہا، اختصاراً، علامہ شامی کاکلام ختم ہوا۔
(۳؎ ردالمحتار باب الرجعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۴۰)
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول بل ھو ظاھر والحمد ﷲ فان الزوج اذا ابتدأفقال تزوجتک علی انک طالق فقالت قبلت کان التعلیق قبل حصول الملک، اذلاملک الابعد تمام الرکنین، ولاتعلیق علی سبب الملک، فان المعینۃ یجب فیھا حقیقۃ الشرط لامعناہ کما تقدم فکان باطلا کما نقلہ عن النھر، امااذاکانت ھی المبتدأۃ انی زوجتک نفسی علی انی طالق فقال قبلت کان السؤال معادا فی الجواب، فکانہ قال بعد ایجابھا قبلت علی انک طالق، فوقع بعد تمام الرکنین، افادہ فی الخانیۃ حیث قال لان البدأۃ اذاکانت من الزوج کان الطلاق فلایصح اما اذا کانت البدأۃ من قبل المرأۃ یصیر التفویض بعد النکاح لان الزوج لما قال بعد کلام المرأۃ قبلت والجواب یتضمن اعادۃ مافی السؤال صار کانہ قال قبلت علی انک طالق اوعلی ان یکون الامر بیدک فیصیرمفوضا بعد النکاح اھ
مجھے یادہے کہ میں نے علامہ شامی کے اس کلام پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول(میں کہتا ہوں کہ) فرق مخفی نہیں بلکہ ظاہر ہے الحمد ﷲ، کیونکہ خاوند کے پہل کرنے اور یہ کہنے پر کہ میں تجھ سے نکاح اس شرط پر کرتا ہوں کہ تجھے طلاق ہے تو عورت نے قبول کرلیا تو یہ تعلیق ملکیت نکاح کے دونوں رکن (ایجاب وقبول) سے پہلے ہوئی ہے لہذ ا ملکیت حاصل نہ ہوئی اور ملکیت کے سبب پر بھی تعلیق نہیں کیونکہ معینہ عورت کے لئے حقیقۃ شرط کا پایا جانا ضروری ہے محض شرط کا معنی کافی نہیں، جیسا کہ پہلے گزرا ہے، تو یہ تعلیق بالطلاق باطل ہوگی جس طرح انہوں نے اس کو نہر سے نقل کیا ہے لیکن، اگر عورت پہل کرکے ایجاب میں کہے میں نے تجھے اپنا نفس نکاح کرکے دیا اس شرط پر کہ مجھے طلاق ہے تو خاوند نے قبول کرتے ہوئے کہا میں نے قبول کیا، چونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے اس لئے گویا خاوند نے یوں کہا''میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ تجھے طلاق ہے'' تو یہ تعلیق نکاح کے دونوں رکن(ایجاب وقبول) پائے جانے کے بعد پائی گئی اس کا خانیہ نے افادہ فرمایا جہاں انہوں نے فرمایا کہ جب ابتداء زوج کرے تو طلاق اور تفویض دونوں نکاح سے قبل پائی گئیں لہذا صحیح نہ ہوں گی لیکن جب عورت ابتداء کرے تو تفویض نکاح کے بعد پائی گئی کیونکہ جب خاوند نے جواب میں کہا''میں نے قبول کیا'' چونکہ جواب میں سوال کا اعادہ مراد ہوتا ہے تو گویا یوں کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ تجھے طلاق ہے، یاتفویض کی صورت میں یوں کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ طلاق کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے تو تفویض نکاح کے بعد ہوئی اھ،
قلت وبہ تبین حکم مااذا ابتدأت المرأۃ من دون شرط وقبل الزوج بشرط حیث یصح الطلاق والتفویض لان کلام المرأۃ لاعبرۃ بھا فی ھذاالباب، انما کانت الصحۃ فیما مرلوقوعہ فی قبول الزوج تقدیرا لتضمن الجواب مافی السؤال، فاذا وقع فیہ تحقیقا کان اولی بالصحۃ۱؎اھ ماکتبت علیہ وبہ یظھرلک کل ماذکرنا ھٰھنا۔
قلت (میں کہتاہوں) اس سے صورت کا حکم معلوم ہوگیاجس میں بغیر شرط عورت ایجاب میں پہل کرے اور خاوند قبول کرتے ہوئے شرط ذکر کرے تو طلاق اور تفویض صحیح ہوگی، کیونکہ طلاق کے متعلق عورت کا کلام بے معنٰی ہے اس کی صحت کا دارومدار خاوند کے قبول کرنے پر ہے جو کہ قبول کرنے میں مقدر طور پر مذکور ہے کیونکہ خاوند کا جواب عورت کے ایجاب یعنی سوال کو متضمن ہے تو جب خاوند کے قبول کرنے میں صراحتاً شرط مذکور ہو تو بطریق اولٰی صحیح ہوگا اھ میں نے یہاں حاشیہ میں جو لکھا وہ ختم ہوا، اس سے یہاں پر تمام بحث کا آپ کو علم ہوگیا۔(ت)
(۱؎ جدالممتار حاشیۃ ردالمحتار باب الرجعۃ حاشیہ نمبر۱۰۸۷ المجمع الاسلامی مبارکپور انڈیا ۲ /۶۶۔۵۶۵)
پھر بہر صورت منکوحہ ثانیہ خواہ ہندہ صورت مذکورہ میں جس پر طلاق پڑے گی تین طلاقیں ہوں گی کہ عرف میں طلاق مغلظہ اسی کو کہتے ہیں۔
اقول وحیث کان البناء علیہ فلایرد ان قال انت طالق اغلظ الطلاق واحدۃ بائنۃ ان لم ینو ثلثا۲؎ کما فی التنویر ثم اعلم ان الوقوع بالصفۃ عند ذکرھا کما اذا قال انت طالق البتۃ حتی لوقال بعدھا ان شاء اﷲ متصلا لایقع ولو کان الوقوع باسم الفاعل لوقع کما فی ردالمحتار فلایتوھم ان الاخری ینزل علیھا الطلاق وھو غیرمدخول بھا والتعلیق کالتکلم عند وجود الشرط فکانہ قال لھا حینئذانت طالق طلاقامغلظا فطلقت بطالق ولغاالوصف فافھم، واﷲ سبحانہ تعالٰی اعلم۔
اقول(میں کہتا ہوں کہ) جب گفتگو عرف پر مبنی ہے تو اب تنویر کی اس عبار ت سے اعتراض پیدا نہ ہوگا کہ''غلیظ تر طلاق والی ہے'' یہ ایک طلاق بائنہ ہوگی بشرطیکہ تین کی نیت نہ کرے۔ پھر یہ معلوم ہونا چاہئے کہ طلاق کا وقوع صفت کے ساتھ ہوگا جب صفت مذکور ہوگی، مثلاً جب خاوند کہے''تجھے طلاق ہے قطعی'' حتی کہ اس کے ساتھ متصل ان شاء اﷲ کہہ دے تو یہ طلاق واقع نہ ہو گی (کیونکہ ان شاء اللہ کا تعلق طلاق قطعی کے ساتھ ہے صرف ''قطعی'' سے نہیں) اگر اس میں طلاق کا وقوع صرف لفظ ''طالق''اسم فاعل سے ہوتا تو پھر ان شاء اﷲ کا تعلق صرف لفظ''قطعی'' یعنی البتۃ سے ہوتا،اور طالق کے ساتھ نہ ہونے کی بناء پر طلاق واقع ہوجاتی، جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے تو اس قاعدہ کی بنا پر یہ وہم نہیں کیا جاسکتا کہ دوسری نئی بیوی غیرمدخولہ ہونے کی وجہ سے اس پر مذکورہ شرط والی مغلظہ طلاق نہ پڑی تو وہ انت طالق(تو طلاق والی ہے) سے بائنہ ہوگئی، کیونکہ تعلیق میں شرط کے پائے جانے کے وقت طلاق والی کلام کا تکلم متحقق ہوتا ہے تو شرط پائے جانے پر گویا اس نے کہا تو طلاق والی ہے طلاق مغلظہ کے ساتھ، تو غیر مدخولہ کو طالق کہنے پر بائنہ طلاق ہوگئی اور اس کے بعد مغلظ کا وصف لغو قرار پایا، اس وہم کے مدفوع ہونے پر غور کرنا چاہئے، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
( ۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۲)