| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۱۵: ازہردوار مسئولہ فضل حسین ایک شخص نے بحالتِ غصہ اپنی عورت سے یہ کہا کہ اگر تو میرے گھر آئی تو تجھ کو طلاق ہے اور اگر میں تیرے ساتھ کوئی بات کروں(یعنی صحبت کروں) تو حرام کروں، ان الفاظ سے طلاق ثابت ہوتی ہے یانہیں اور اس عورت کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ کرنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟
الجواب اس کہنے کے وقت اگر عورت شوہر کے گھر کے علاوہ اور جگہ تھی تو جب شوہر کے گھر آئے گی ایک طلاق رجعی پڑے گی اور اگر اس وقت شوہر ہی کے گھر میں تھی تو جب تک یہاں رہے گی طلاق نہ ہوگی جب کہیں اور جاکر وہاں سے شوہر کے یہاں آئے گی اس وقت طلاق پڑے گی، اور بہر حال طلاق رجعی ہوگی، عدت کے اندر اگر شوہر اتنا کہہ دے کہ میں نے اسے اپنے نکاح میں پھیرلیا تو وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی اور اس کا نکاح دوسرے سے نہ ہوسکے گا، ہاں اگر طلاق پڑے اور شوہر اسے اپنے نکاح میں واپس نہ لے یہاں تک کہ طلاق ہونے کے بعد سے تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں تو اس وقت عورت نکاح سے نکل جائے گی اور دوسرے سے نکاح جائز ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۶: از کلکتہ مرسلہ ابوالقمر کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے قسمیہ اپنی منکوحہ عورت سے کہہ دیا کہ اگر بغیر عذر شرعی کے تم نے کبھی نماز نہ پڑھی تو تجھ کو میری طرف سے تین طلاقیں ہوں گی، کیا ایک جگہ ایک وقت ایک ہی دفعہ ایک لفظ سے تین طلاقیں واقع ہوں گی چونکہ اس قسم کا سلسلہ دراز ہے جب تک زوج اور زوجہ زندہ ہیں مدام اندیشہ میں ہیں اور اس زمانہ کے لوگ سُست ہیں دین کے کاموں میں بے پرواہوگئے ہیں،ممکن ہے کہ کسی وقت عورت سے غفلت ہوجائے تو اس کو طلاق پڑجائے گی۔ کیا کوئی ایسی صورت ہوسکتی ہے کہ طلاق کے واقع ہونے سے قبل کوئی ایسا حیلہ کیا جائے کہ عورت پر طلاق نہ پڑے۔
الجواب چاراماموں چاروں مذہب کا اجماع ہے کہ تین طلاقیں ایک جگہ ایک وقت ایک ہی دفعہ ایک ہی لفظ میں واقع ہوجاتی ہیں۔
قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بانت امرأتک وعصیت ربک ان لم تتق اﷲ فلم یجعل لک مخرجا۱؎۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا تیری بیوی بائنہ طلاق والی ہوگئی ہے اور تو نے اﷲ تعالٰی کی نافرمانی کی ہے اگر تو اﷲ تعالٰی کے عذاب سے خوف نہ کرے گا تو پھر تیرے لئے اﷲ تعالٰی کوئی سبیل نہ فرمائے گا۔(ت)
(۱؎سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث آفتاب عالم پریس لاہور ۲۹۹/۱ )
وہابی گمراہ بددین اس میں خلاف کرتے اور حرام کو حلال ٹھہراتے ہیں، زید نے جبکہ ایک وقت کی نماز نہ پڑھنے پر حکم طلاق مغلظ معلق کیا جیسا کہ تقریر سوال سے ظاہر تو عورت جب بے عذر شرعی ایک وقت کی نماز بھی چھوڑے گی فوراً اس پر تین طلاقیں ہوجائیں گی اور بے حلالہ اس کے نکاح میں نہ آسکے گی فان الجزاء ینزل عند نزول الشرط کما فی الھدایۃ وغیرہا(شرط پائے جانے پر جزاء پائی جاتی ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)اور اس کا حیلہ ارتکاب کبیرہ بالعمد پر مشتمل ہے اوراس کا بتانا بھی حرام ہے یہ اس معنی پر ہے جس پر سوال مبنی اور اگر مراد زید اور ہے تو اس کا اسی سے استفسار ہو،
فان للکلام محملین اٰخرین لانذکرھا کیلایکون تعلیما والمفتی منھی عنہ بل یسأل فھو اعلم بمرادہ۔
اس کلام کے دو محمل اور جن کو ہم ذکر نہیں کرتے تاکہ تعلیم نہ قرار پائے مفتی کو اس سے بازرہنے کا حکم ہے بلکہ وہ صرف سوال کرے کیونکہ مبتلا شخص اپنی مرادکو بہتر جانتا ہے۔(ت)
اس وقت اس کا جواب دیا جائے، وجیز کردری وعقودالدریہ میں ہےھ:
احب المفتی ان لایقول یصدق دیانۃ لانہ تعلیم بل ادبہ ان یقول لایصدق۔۲؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
مفتی کے آداب میں سے ہے کہ وہ کسی بات پر دیانت کی تصدیق نہ کرے کیونکہ یہ مبتلاء کو تعلیم قرار پاتی ہے بلکہ ادب المفتی یہ ہے کہ وہ کہے کہ تصدیق نہیں ہوسکتی وا ﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ عقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ فوائد تتعلق بآداب المفتی حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/۳)
مسئلہ۱۷: از پیلی بھیت محلہ منیر خاں مرسلہ مولانا عبدالاحد صاحب ۱۴رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے پدر سے کسی تذکرہ میں کہا تھا کہ اگر میری بیوی فلاں مکان میں جائے گی تو میری بیوی ہی نہ رہے گی پھر اس کے چند روز بعد دوسرے جلسے میں زید نے پدرِ ہندہ سے الفاظ مذکورہ دوبارہ پھر ادا کئے کہ ہندہ اگر فلاں مکان میں جائے گی تو میری بی بی ہی نہ رہیگی، بعد تھوڑے عرصہ کے ہندہ بلارضا مندی اپنے شوہر کے اس مکان میں چلی گئی جس کی بابت زید دومرتبہ دو جلسوں میں پدر ہندہ سے عدمِ رضا مندی اپنی ظاہر کرچکا تھا اور اب عرصہ پانچ ماہ سے ہندہ اسی مکان میں مقیم ہے،پس اس صورت میں نکاح زید سے قائم رہا یانہیں؟ اور مباد اگر نکاحِ ہندہ زید سے نہیں قائم رہا تو کون سی طلاق ہندہ پر پڑسکتی ہے؟ اور کیا صورت رجعت کی از روئے شرع شریف ہوسکتی ہے؟
الجواب اگر زید نے وہ الفاظ دونوں بار خواہ ایک بار بہ نیت ایقاعِ طلاق کے کہے تھے یعنی یہ مطلب تھا کہ اگر وہ وہاں جائے تو اس پر طلا ق ہے تو وہاں جانے سے عورت پر ایک طلاق بائن ہوگی نکاح سے نکل گئی رجعت نہیں کرسکتا، ہاں عورت کی رضا سے دوبارہ اس سے نکاح کرسکتا ہے عدت میں خواہ عدت کے بعد، بہر حال حلالہ کی حاجت نہیں اگر چہ لفظ مذکور تین بار کہا ہو اور اگر کسی بار اس سے نیت طلاق بمعنی مذکور نہ تھی تو عورت کا وہاں جانے سے کچھ نہ ہوا اور وہ بدستور اس کی زوجہ ہے، رہا یہ کہ نیت تھی یا نہ تھی یہ بیان زید پر ہے اگر وُہ بحلف کہہ دے کہ میرا وہ مطلب ان لفظوں سے کسی بار میں بھی نہ تھا توطلاق اصلاً نہ مانیں گے اگر زید جھوٹا حلف کرلے گا وبال اس پر رہے گا،
درمختار میں ہے:
القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا فی منزلہ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
نیت نہ ہونے کے متعلق خاوند کی بات حلف کے ساتھ تسلیم کرلی جائے گی اور بیوی کا گھر میں ہی اس سے قسم لے لینا کافی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱ درمختار )