فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
21 - 175
مسئلہ۱۲: از ریاست رامپور محلہ باجوری ٹولہ متصل زیارت حافظ جمال اﷲ صاحب مرسلہ محمد ضمیر خاں صاحب ۵ذی قعدہ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمرو سے اس کی بیوی نے طلاق طلب کی۔ عمرو نے یہ کہا کہ تو مہر بخش دے تو تین طلاق دوں گا۔ عورت نے یہ کہا اگر تم مجھے طلاق دو تو میں نے مہر بخش دیا۔ عورت نے تین مرتبہ یہ کہا کہ اگر میرا شوہر مجھے طلاق دے تو میں نے مہر بخش دیا۔ پھر عمرو نے دو مرتبہ یہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ اس واقعہ کو قریب ایک ہفتہ کے ہوا اور یہ واقعہ درمیان شوہر اور بیوی کے غصہ کی حالت میں ہوا، آیا طلاق ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
اگر عورت مدخولہ ہے دو طلاقیں ہوگئیں مگر جب تک عدت نہ گزرے رجعت کرسکتاہے، مثلاً زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیرلیا وہ بدستور اس کی زوجہ رہے گی اگر اس سے پہلے کبھی کوئی طلاق نہ دے چکا ہو۔ اور اگر عورت غیر مدخولہ ہے تو ایک طلاق بائن پڑی اور عورت نکاح سے نکل گئی، مگر اس کی رضا کے ساتھ عدت میں خواہ عدت کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے رہا مہر وہ کسی حالت میں ساقط نہ ہوا بدستور باقی ہے بزازیہ کتاب البیوع میں ہے:
تعلیق الھبۃ بکلمۃ ان باطل۔۱؎
ہبہ کو کسی شرط سے معلق کرنا باطل ہے(ت)
( ۱؎ فتاوٰی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲۵)
بیع وشراء، ہبہ اور حق کی وصولی سے کسی کو بری کرنا جیسی چیزوں کی تملیک کسی شرط سے معلق کرنا باطل ہے(ملخصا) واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ اشباہ والنظائر القول فی الشرط والتعلیق ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۶۲۶، ۳۲۵)
مسئلہ۱۳: از ریاست رامپور سرشتہ پولیس مرسلہ سید جعفر حسین صاحب محرر سرشتہ ۲۰محرم ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس شرط پر نکاح کیا نصف مہر یعنی پانسو۵۰۰روپے اگر بوقت طلب زوجہ ہندہ ادا نہ کروں تو ہندہ پر سہ طلاق ہیں اب بعد نکاح کے ہندہ نے زید سے نصف مہر طلب کیا زید نے اس وقت روپیہ مذکور ادا نہ کیا اس صورت میں ہندہ پر سہ طلاق ہوئیں یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
اگر عقد نکاح میں ایجاب یعنی ابتدائے کلام بشرط مذکور جانب زید سے ہو مثلاً زید نے ہندہ سے کہا میں تجھے بعوض ہزار روپے مہر کے اپنے نکاح میں لایااس شرط پر کہ اگر نصف مہر تیری طلب کے وقت ادا نہ کروں تو تجھ پر تین طلاق، ہندہ نے کہا میں نے قبول کیا، تو صورت مستفسرہ میں اگر زید نے ہنگامِ طلب نصف مہر ادا نہ کیا ہندہ پر اصلاً طلاق نہ ہوئی، اور اگر ابتدائے عقد جانب ہندہ سے تھی خواہ شرط کلام ہندہ میں مذکور ہو، مثلاً ہندہ نے کہا میں نے اپنے نفس کو اس شرط پر تیرے نکاح میں دیا تو نصف مہر الخ، زید نے کہا میں نے قبول کیا یا کلام زید میں ہو مثلاً ہندہ نے کہا میں نے اپنی جان تیری زوجیت میں دی، زید نے کہا میں نے قبول کی اس شرط پر کہ اگر نصف مہر الخ یا ابتدائے ایجاب تو جانب زید سے تھی مگر شرط ہندہ نے قبول میں ذکر کی اور زید نے منظور کرلی، مثلاً زید نے کہا میں نے تجھے اپنی زوجیت میں لیا، ہندہ نے کہا میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ اگر تو نصف مہر الخ، زید نے کہا مجھے منظور ہے، توان صورتوں میں جب نصف مہر عندالطلب ادا نہ کیا ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں والفرق نفیس حسن بیناہ فی فتاوٰنا(اور یہ فرق نفیس خوب ہے، اس کو ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے۔ت) یہ مسئلہ خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وبحرالرائق وہندیہ وردالمحتار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴: از بنگالی ضلع پاپنا ڈاکخانہ سراج گنج موضع قاضی پور مرسلہ امید علی صاحب ۱۲صفر ۱۳۱۸ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی ھذہ المسئلۃ
(اے علماء کرام! اﷲ تعالٰی آپ پر رحمت فرمائے، آپ کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے۔ت) کہ ایک شخص نے اپنی منکوحہ سے کہا
کلمادخلت الدار فانت طالق
(جب بھی تو گھر میں داخل ہوگی تجھے طلاق ہے۔ت) بعد اس کے اس نے ایک طلاق دی بعد عدت عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا،بعدہ دوسرے نے بھی طلاق دے دی، بعد چند روز اول سے نکاح کرلیا پھر دخول دار پایا گیا اب طلاق پڑے گی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
اگر تین بار دخول دار سے انحلال یمین یا تین طلاق تنجیزی خواہ تعلیقی خواہ مختلط سے زوال حل نہ ہولیا تھا تو یمین ضرور باقی ہے وقوع شرط سے طلاق واقع ہوگی
والتفصیل یستدعی التطویل
(اس کی تفصیل کےلئے تطویل کی ضرورت ہے۔ت)
درمختار میں ہے:
اعلم ان التعلیق یبطل بزوال الحل لابزوال الملک فلو علق الثلث او مادونھا بدخول الدار ثم نجز الثلاث ثم نکحھا بعد التحلیل بطل التعلیق فلا یقع بدخولھا شیئ ولو کان نجز ما دونھا لم یبطل فیقع المعلق کلہ و اوقع محمد بقیۃ الاول و ھی مسألۃ الھدم۱؎ الخ۔
معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تعلیق حلف ختم ہونے پر باطل ہوگی محض ملکیت ختم ہونے پر تعلیق ختم نہ ہوگی، اگرخاوند نے تین طلاقوں یا ایک دوکودخولِ دار سے معلق کیا ہو اور پھر اس کے بعد اس نے اس بیوی کو غیر مشروط طور پر تین طلاقیں دے دیں جس پر بیوی مذکورہ نے حلالہ شرعیہ کے بعد دوبارہ اس پہلے خاوند سے نکاح کیا تو اس دوسرے نکاح کے بعد بیوی کے گھر میں داخل ہونے پر کوئی طلاق نہ ہوگی اور تعلیق ختم ہےاور اگر مذکورہ صورت میں خاوند نے تعلیق کے بعد تین سےکم طلاقیں دی ہوں تو اس کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرلینے کے بعد بھی تعلیق ختم نہ ہوگی لہذا دوبارہ پہلے خاوند سے نکاح کرنے پر دخول دار ہوا تو تمام معلق طلاقیں واقع ہوجائیں گی، جبکہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی پہلی دی ہوئی طلاق سے بقیہ طلاقوں کو واقع مانتے ہیں ان کا یہ قول، دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کرنے پر پہلی طلاقوں کے ساقط ہوجانے کے اختلافی مسئلہ پر ان کے مؤقف پر مبنی ہے الخ(ت)
(۱؎ درمختار باب التعلیق مطبع مجتبا ئی دہلی ۱ /۲۳۱)
اسی میں ہے:
تبطل الیمین ببطلان التعلیق اذا وجد الشرط مرۃ الافی کلما فانہ ینحل بعد الثلاث لاقتضا ئھا عموم الافعال کاقتضاء کل عموم الاسماء فلایقع ان نکحھا بعد زوج اٰخر۲؎الخ۔
تعلیق سے متعلق یمین، تعلیق کے باطل ہوجانے پر ختم ہوجائے گی جب ایک دفعہ شرط پائی گئی ہو، مگر لفظ ''کلما'' کے ساتھ کسی شرط سے تعلیق کی گئی ہو تو وہ یمین تین طلاقوں کے بعد ختم ہوگی، کیونکہ''کلما'' افعال کے عموم کو چاہتا ہے جیسا کہ ''کل'' عموم اسماء پر دلالت کرتا ہے، لہذا اس صورت میں تین طلاقوں کے بعد حلالہ کرنے پر پہلے خاوند سے نکاح کرے تو اب دخولِ دار سے طلاق نہ ہوگی الخ۔(ت)
(۲؎ درمختار باب التعلیق مطبع مجتبا ئی دہلی ۱ /۲۳۱)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فلایقع تفریع علٰی قولہ فانہ ینحل بعد الثلاث وانمالم یقع لان المحلوف علیہ طلقات ھذہ الملک وھو متناھیۃ کمامرامالوکان الزوج الاٰخر قبل الثلاث فانہ یقع مابقی۳؎۔
ماتن کا قول''فلایقع'' اسکے اپنے قول''تین طلاقوں کے بعد یمین ختم ہوجائے گی'' پر تفریع ہے، یہ اس لئے کہ حلف کاتعلق موجودہ ملکیت کی پوری طلاقوں سے ہوتاہے اور وہ محدودہیں اس لئے تین طلاقوں پر یمین ختم ہوجائے گی، جیسا کہ گزرا ہے، اور اگر تین طلاقوں سے کم پر دوسرے خاوند کے بعد پہلے سے نکاح کرے تو اب شرط پائے جانے پر باقی ماندہ طلاقیں واقع ہوں گی۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۰۰)
اسی میں قبیل باب التعلیق ہے:
اذا قال کلما دخلت الدار فانت طالق فدخلتھا مرتین ووقع علیھا الطلاق وانقضت عدتھا ثم عادت الیہ بعد زوج اٰخرفعند ھما تطلق کلما دخلت الدار الی ان تبین بثلاث طلقات خلافالمحمد کما ذکرہ الزیلعی۱؎الخ وانظر ماعلقنا علی قولہ السابق۔
اگرتعلیق میں ''کلما'' کے ساتھ شرط بیان کرتے ہوئے کہا جب بھی تو گھر میں داخل ہوتجھے طلاق ہے، تو اگر دو۲ مرتبہ گھر میں دخول پایا گیا اور اس پر دو طلاقیں ہونے اور عدت گزرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کیا تو امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیک تین مرتبہ داخلہ کے ساتھ تین طلاقیں ہوجائیں گی، اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک اب صرف ایک مرتبہ گھر میں داخلہ کے ساتھ ایک ہی باقیماندہ طلاق ہوگی، جیسا کہ اس کو امام زیلعی نے ذکر فرمایا الخ۔ردالمحتارکے پہلے قول پر ہمارا حاشیہ ملاحظہ کیا جائے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی المشیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۹۰)
درمختار میں ہے:
تنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقا لکن ان وجد فی الملک طلقت والالا۲؎۔
مطلقاً شرط پائے جانے پر یمین ختم ہوجاتی ہے اگر وہ شرط ملکیت یعنی نکاح کے دوران پائی جائے تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں۔(ت)
(۲؎ درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۱)
اس پر ردالمحتارمیں ہے:
المحقق فی الفتح افادفی باب التعلیق ان قولھم المعلق طلقات ھذا الملک الثلاث مقید بمادام مالکا لھا فاذا زال ملکہ لبعضھا صار المعلق ثلثا۳؎اھ وانظر ماکتبت علی ھامش الفتح من ھذاالقول واذا جمعت ھذہ کلھا عرفت بعون اﷲ تعالٰی تفاصیل صورالمسئلۃ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
فتح القدیر کے باب التعلیق میں محقق صاحب نے افادہ فرمایا کہ موجودہ ملکیت تین طلاقیں ہوتی ہیں، اس عبارت سے انہوں نے یہ قید بیان فرمائی کہ موجودہ ملکیت جب تک باقی ہے یمین وتعلیق باقی ہے اور اگر تین میں سے بعض طلاقوں کی ملکیت ختم ہوجائے تو تین تک تعلیق رہے گی اھ، فتح القدیر کے اس قول پر میرے حاشیہ کو دیکھو، تو جب یہ تمام عبارات ملاحظہ میں آئیں تو اس مسئلہ کی تمام صورتوں کی تفصیل بعون اﷲآپ کو معلوم ہوگئی۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ ردالمحتار فصل فی المشیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت۲ /۴۹۰)