فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
20 - 175
مسئلہ۱۱: از جام جودھ ملک کاٹھیا واڑ جماعت اہلسنت وجماعت مرسلہ آدم احمد صاحب۱۱شعبان ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک چھوٹی سی بستی میں ایک عالم مدت دس۱۰ پندرہ سال سے وعظ بیان کرتا تھا ہمیشہ چند لوگ اس عالم کی گلہ وغیبت کیا کرتے تھے اتفاقاً ایک روز ناٹک والے لوگوں کی فاسق کمپنی آئی اور چند مسلمان اس چھوٹی بستی کے اس تماشے میں داخل ہوئے اوراس اثناء میں ایک سید کے مکان پر وعظ کی محفل منعقد ہوئی چند لوگ ناٹک کے تماشا گر بھی اس محفل میں شریک تھے، واعظ صاحب کی نظر جب ان فاسقوں پرپڑی تو وعظ میں بہت لعن طعن کئے، فجر کو فاسقوں منافقوں نے غل مچایا، فساد ودنگاکرنے کی باتیں کیں، ایک شخص نے ان لوگوں کی طرف سے ان کو کہا کہ تم نے رات کو جو وعظ کیا سو چند آدمی آپ سے البتہ فساد کریں گے اور آپ کو فقط نماز روزہ کا وعظ کرنا چاہئے ورنہ ہمیشہ فساد ہوا کرے گا، کبھی دنگا اس کام سے نہ مٹے گا، پس واعظ کو غصہ آیا تو یہ لفظ عین غضب میں منہ سے نکالا کہ جو کوئی اس بستی میں وعظ کرے اس کی جوروپر طلاق ہے جو کوئی اس بستی میں وعظ کرے سے خود کی نیت کی تھی لیکن تین یا دو کا لفظ منہ سے نہ نکلا اور تین کی نیت نہ تھی، اور وہ مسلمان لوگ سب مل کر واعظ کے پاس عاجزی سے کہتے ہیں کہ تم وعظ کرو، پس واعظ کہتا ہے کہ اگر میں وعظ کروں تو میری زوجہ مطلقہ ہوتی ہے میں ہرگز وعظ نہ کروں گا، پس ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے یانہیں، اور کون سی طلاق بائن یا کیا، اور وعظ وہ کرے یانہیں، اور جب وعظ کرے تو بائن واقع ہونے سے کیا کرے، اور اگر قسم کی طلاقیں واقع ہوتی ہیں تو ان کا بھی خلاصہ لکھنا، کل مسلمان اہلسنت وجماعت آپ کے جواب کے منتظر ہیں، ان الفاظ میں اگر نیت ثلاثہ کی کی ہوتو کیا ثلاثہ واقع ہوگی یا نہیں، والسلام۔
الجواب
واعظ کو نہ چاہئے کہ طلاق کی قسم کھاتا کہ شرعاًناپسندیدہ ہے یہاں تک کہ حدیث میں آیا
ماحلف بالطلاق مومن وما استحلف بہ الامنافق۱؎۔ رواہ ابن عساکر عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مومن طلاق کی قسم نہیں کھاتا اور طلاق کی قسم نہیں لیتا مگر منافق۔ اس کو ابن عساکر نے انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
( ۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن انس حدیث ۴۶۳۴۰کتاب الیمین من قسم الاقوال موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۶۸۹)
اب کہ کہہ چکا ضرور وہاں وعظ کہنے سے عورت پر ایک طلاق رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر رجعت کرلینے سے بدستور وہ اس کی زوجہ رہے گی۔
درمختار میں ہے:
جماعۃ یتحدثون فی مجلس فقال رجل منھم من تکلم بعد ھذافامرأتہ طالق ثم تکلم الحالف طلقت امرأتہ لان کلمۃ من للتعمیم والحالف لایخرج نفسہ عن الیمین فیحنث۲؎۔
ایک جماعت مجلس میں باتیں کررہی تھی کہ ان میں سے ایک نے کہااس کے بعد جو بھی بات کرے اس کی بیوی کو طلاق، پھر خود قسم کھانیوالے نے بات کرلی، تو اس کی بیوی کو طلاق ہوگئی، کیونکہ''جوبھی'' کالفظ عام ہے تو حلف اٹھانے والے کو بھی شامل ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خارج نہیں کیااس لئے اس کی قسم ٹوٹ گئی۔(ت)
(۲؎ درمختار باب طلاق غیر المدخول بہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴)
ہاں اگر اس قول میں تین طلاقوں کی نیت کی تھی تو تین پڑیں گی اور عورت بے حلالہ نکاح میں نہ آسکے گی۔
درمختار میں ہے:
فی انت الطلاق یقع واحدۃ رجعیۃ ان لم ینو شیأ اونوی واحدۃ اثنین لانہ صریح مصدر لایحتمل العدد فان نوی ثلثا فثلث لانہ فرد حکمی۱؎، ملخصاً۔
''تو طلاق ہے'' کے لفظ سے ایک طلاق رجعی ہوگی، ایک کی یا دو طلاقوں کی، یا کوئی نیت نہ ہوتب بھی یہی حکم ہے کیونکہ طلاق مصدر صریح ہے اس میں عدد کی گنجائش نہیں،اور اگر کہنے والے نے اس لفظ سے تین طلاقوں کی نیت کی ہو تو تین ہوں گی کیونکہ طلاق میں تین کل جنس ہونے کی وجہ سے حکمی فرد بن گیا،ملخصاً(ت)
(۱؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۹)
رہا یہ کہ اب وہاں وعظ کرے یانہیں، اگر وہ وعظ اللہ عزوجل کےلئے کرتا ہے اور طلب مال یااپنی شہرت وریاست مقصود نہیں اور اس کا وعظ مطابق شرع ہے ،اتنا علم دین کافی ووافی رکھتا ہے جس سے اسے وعظ کی اجازت ہو، جب تو ظاہر ہے کہ ایسے بندہ خداہادی راہِ ہدٰی کا وعظ کہنا ہی اس کے، ان مسلمانوں کے سب کے حق میں بہتر ہے، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیرمنھا فلیات الذی ھو خیرولیکفر عن یمینہ۲؎۔ رواہ الائمۃ احمد ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی بات پر قسم کھالے پھر دیکھے کہ اس قسم کا خلاف بہتر ہے تو وہی بہتر کام کرے اور قسم کا کفارہ دے لے(اس کوامام احمد، مسلم اور ترمذی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۵۸)
اور اگر ان باتوں سے کوئی بات کم ہے مثلاً علم دین کافی نہیں یا کسی غرض فاسد یا عقیدہ فاسدہ کے باعث وعظ خلافِ شرع کہے جب تو ظاہر کہ اس کا وعظ اس کے اور مسلمانوں سب کے حق میں برا ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القراٰن بغیر علم فلیتبوأمقعدہ من النار۳؎۔ رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جس نے بغیر علم قرآن کا مطلب بیان کیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنائے۔ اس کو ترمذی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیااور صحیح قرار دیا۔(ت)
(۳؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأیہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۱۹)
اور اگر مال یا شہرت مقصود ہے تو اگرچہ مسلمانوں کےلئے اس کا وعط مفید ہو خود اس کے حق میں سخت مضر ہے، علماء فرماتے ہیں ایسی اغراض کے لئے وعظ ضلالت اور یہود ونصارٰی کی سنت ہے۔ درمختار میں ہے:
التذکیر علی المنا برللوعظ والاتعاذسنۃ الانبیاء والمرسلین ولریاسۃ ومال وقبول عامۃ من ضلالۃ الیھودوالنصاری۔۱؎
منبر پر وعظ و نصیحت کرنا انبیاء اور مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت ہے۔ اپنی بڑائی، مال یا اپنی مقبولیت کے لئے وعظ کہنا یہود ونصاری کی گمراہی جیسے ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی البیع کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳)
صورتِ ثانیہ میں اسے وعظ کی اجازت ہی نہیں، نہ کہ ایسی حالت میں کہ اس کے سبب عورت پر طلاق ہوگی اور طلاق اﷲ عزوجل کو بلاوجہ شرعی سخت نا پسند ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ابغض الحلال الی اﷲ الطلاق۲؎۔ رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما وفی لفظ للحاکم بسند صحیح عنہ موصولا ولابی داؤد عن محارب بن دثار مرسلاً مااحل اﷲ شیأ ابغض الیہ من الطلاق ۳؎۔
اﷲ تعالٰی کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال طلاق ہے۔ اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ اور حاکم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے، اور دوسرے الفاظ میں عبداﷲ بن عمر ہی سے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ موصولاً روایت کیا، ابوداؤد نے محارب بن دثاررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مرسلاً یوں روایت کی ہے: اﷲ تعالٰی کی حلال کردہ چیزوں میں سے طلاق اﷲ تعالٰی کے ہاں زیادہ ناپسندہے۔(ت)
(۲؎ سنن ابوداؤد باب فی کراھیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۶)
(۳؎ سنن ابوداؤد باب فی کراھیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۶)
اور اگر صورت صورتِ اولٰی ہے جس میں وعظ کہنااس کے حق میں بہتر ہے تو وعظ کہے اور عورت کو رجعت کرلے، اور اگر تین طلاق کی نیت کی تھی تو اگر چاہے تو یہ حیلہ ممکن ہے کہ عورت کو ایک طلاق دے جب عدت گزرجائے اور عورت نکاح سے نکل جائے اس وقت وعظ کہے پھر عورت سے نکا ح کرلے اور وعظ کہتا رہے طلاق نہ پڑے گی،
لانہ لما ابانھا وانقضت العدۃ لم تبق محلا للطلاق فاذاحنث بعدہ نزل الجزاء المعلق ولم یصادف محلا فمضی ھملا وقد انتہی الیمین لعدم مایدل علی التکرار فاذا تزوجھا بعد وعظ لم یحنث۔
کیونکہ جب بیوی کو بائنہ کردیا اور عدت گزر گئی تو اب وہ طلاق کا محل نہ رہی، اب اس کے بعد قسم ٹوٹنے کی وجہ سے معلق شدہ جزاء وارد ہوگی تو اس وقت محل نہ ہونے کی وجہ سے مہمل ہوجائے گی اور قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ اس میں تکراروالی کوئی بات نہیں، اور اب وعظ کرلے اور اس کے بعد دوبارہ نکاح کرلے تو حنث نہ ہوگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
تنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقا لکن ان وجد فی الملک طلقت والالا فحیلۃ من علق الثلاث بدخول الداران یطلقھا واحدۃ ثم بعد العدۃ تدخلھا فتنحل الیمین فینکحھما۱؎۔
مطلقاً شرط پائے جانے کے بعد قسم ٹوٹ جاتی ہے لیکن وہ شرط اگر ملکیت نکاح میں پائی جائے تو طلاق ہوجائیگی ورنہ نہیں، تو جس نے تین طلاقوں کو دخولِ دار کی شرط سے معلق کیا ہو اس کے لئے حیلہ یہ ہے کہ بیوی کو ایک طلاق دے دے جب اس کی عدت ختم ہوجائے تو عدت کے بعد عورت دخولِ دار کرلے اب قسم ٹوٹ کر ختم ہو جائے گی پھر وہ عورت سے نکاح کرلے۔(ت)
( ۱؎ درمختار باب التعلیق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۱)
مگر یہ صورت دقت سے خالی نہیں بعد انقضاءِ عدت عورت خود مختار ہوجائے گی اور اگر وہ اس سے نکاح نہ کرے تو اس پر جبر کا کوئی اختیار نہیں۔ یونہی یہ سب صورتیں اس تقدیر پر ہیں کہ اس سے پہلے کبھی اس عورت کو دو طلاقیں مجموع خواہ متفرق نہ دے چکا ہو ورنہ وعظ کہتے ہی یا قبل وعظ ایک طلاق دیتے ہی فوراً تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اب سواحلالہ کوئی علاج نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔