Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
19 - 175
بست ودوم: خاص جزئیہ مسئلہ کہ طلاق بعد رجعت باطل نہ شد ومحسوب ماند در صحیحین بخاری ومسلم وعامہ کتب اسلام مصرح ست عبداﷲ بن عمر رضٰ اﷲ تعالٰی عنہما زوجہ خودرابحالتِ حیض طلاق داد سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امر مراجعت فرمودہ باوصف رجعت آں طلاق را محسوب داشت،
فی صحیح البخاری عن انس بن سیرین قال سمعت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال طلق ابن عمر امرأتہ وھی حائض فذکر عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال لیرا جعھا قلت تحتسب قال فمہ۱؎،
بست ودوم: خاص یہ جزئیہ کہ رجوع کے بعد طلاق کالعدم نہیں ہوتی، تو بخاری ومسلم اور عام اسلامی کتب میں تصریح ہے کہ عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس طلاق سے رجوع کا حکم دیا اور رجوع کے باوجود یہ حیض میں دی ہوئی طلاق شمار ہوئی صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو سنا انہوں نے فرمایا کہ عبداﷲ بن عمر (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی تو عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ نے یہ اطلاع حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کودی توحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا رجوع کرے، تو میں نے عرض کی کہ کیا وہ حیض میں دی ہوئی طلاق شمار ہوگی، تو عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا اور کیا ۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الطلاق باب اذا طلقت الحائض الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۹۰)
وعن قتادۃ عن یونس بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال مرہ فلیراجعھا قلت تحتسب، قال أرأیتہ ان عجز واستحمق ۲؎،
حضر ت قتادہ رضی اﷲ عنہ  سے انہوں نے یونس بن جبیر سے انہوں نے ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ عبداﷲ سے کہو کہ وہ رجوع کرے تو میں نے پو چھا کہ کیا پہلی طلاق شمار ہوگی، تو جواب فرمایا تو بتااگر وہ رجوع کئے بغیر عاجز ہوجائے حماقت کرے یعنی رجوع نہ کرے تو کیا طلاق نہ ہوگی،
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الطلاق باب اذا طلقت الحائض الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۹۰)
وعن سعید بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال حسبت علی بتطلیقۃ ۳؎
اور سعید بن جبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ عبد اﷲ بن عمر سے راوی ہیں کہ میں نے اسے ایک طلاق شمار کیا۔
(۳؎ صحیح البخاری     کتاب الطلاق باب اذا طلقت الحائض الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۹۰)
وفی صحیح مسلم عن عبیداﷲ عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما نحوہ وقال فی اٰخرہ قال عبیداﷲ قلت لنافع ماصنعت التطلیقۃ قال واحدۃ اعتدبھا ۱؎،
اور صحیح مسلم میں عبیداﷲ نافع سے، اور وہ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسی کی مثل روایت کی اور اس کے آخر میں ہے کہ عبیداﷲ نے کہا کہ میں نے نافع کو کہا کہ تو نے اس طلاق کو کیا خیال کیا، تو انہوں نے کہا میں نے اسے ایک شمار کیا۔
(۱؎ صحیح مسلم        باب تحریم طلاق الحائض    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۴۷۶)
 وعن سالم بن عبداﷲ  عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم عن ابیہ وفیہ کان عبداﷲ طلقھا تطلیقۃ فحسبت من طلاقھا وراجعھا عبداﷲ کما امرہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۲؎، وفی لفظ اخر قال قال ابن عمر فراجعتھاوحسبت لھا التطلیقۃ التی طلقتھا۳؎،
اور سالم عبداﷲ سے انہوں نے عبداﷲبن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور اس روایت میں ہے کہ عبداﷲ نے بیوی کو ایک طلاق دی تو میں نے اس کو طلاق شمار کیا اور اس نے رجوع کرلیا جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے فرمایا۔ اور دوسرے الفاظ میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نےفرمایا کہ میں نے  بیوی سے رجوع کرلیا اور میں نے جو طلاق دی اس کو میں نے ایک طلاق شمار کیا،
(۲؎ صحیح مسلم        باب تحریم طلاق الحائض    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۴۷۶)

( ۳؎ صحیح مسلم        باب تحریم طلاق الحائض    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۴۷۶)
وعن ابن سیرین عن یونس بن جبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم انہ امران یراجعھاقال قلت افحسبت علیہ، قال فمہ اوان عجز واستحمق۴؎، وعن انس بن سیرین قال قلت فاعتددت بتلک التطلیقۃ التی طلقت وہی حائض، قال مالی لااعتدبھا وان کنت عجزت۵؎ واستحمقت
بلکہ عبدالحق اشبیلی دراحکام، وبیہقی در سنن از عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت کردند
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال "ھی واحدۃ۶؎"  اینست مخالفت تعلیم دیوبندی باحدیث کریم۔
اور ابن سیرین، یونس بن جبیر سے وہ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی کہ فرمایا کہ رجوع کرنے کا حکم فرمایا، میں نے پوچھا کہ یہ طلاق شمار ہوگی؟ تو فرمایا اور کیا۔ رجوع سے عاجز ہوجائے یا حماقت کرتے ہوئے رجوع نہ کرے تو کیا طلاق نہ ہوگی، انس بن سیرین سے مروی ہے انہوں نے کہا کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی جو حالتِ حیض میں آپ نے دی ہے تو انہوں نے مجھے فرمایا شمار نہ کرنے کی وجہ کیا ہوسکتی، اگر میں عاجز ہوجاؤں یا حماقت کروں تو کیا نہ ہوگی، جبکہ عبدالحق اشبیلی نے احکام میں اور بیہقی نے سنن میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمایا یہ ایک طلاق ہے، یہ ہے دیوبندی تعلیم کی حدیث کی مخالفت۔
(۴؎ صحیح مسلم         باب تحریم طلاق الحائض    قدیمی کتب خانہ کراچی            ۱ /۴۷۷)

(۵؎ صحیح مسلم         باب تحریم طلاق الحائض    قدیمی کتب خانہ کراچی            ۱ /۴۷۷)

(۶؎ السنن الکبری         باب ماجاء فی طلاق السنۃ وطلاق البدعۃ     دارصادر بیروت     ۷ /۳۲۴)
 بست وسوم:     قال اﷲ تعالٰی
فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح   زوجا غیرہ۱؎
بست وسوم: اﷲ تعالٰی نے فرمایا اگر خاوند تیسری طلاق دے دے تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔
(۱؎ القرآن     ۲ /۲۳۰)
درتفسیر جلالین ست : فان طلقھا الزوج بعد الثنتین۲؎
تفسیر جلالین میں ہے اگر خاوند دو طلاق کے بعد تیسری طلاق دے۔
(۲؎ تفسیر جلالین     تحت الطلاق مرتان     ملک سراجدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور         ص ۳۵)
درجمل فرمود : ای سواء کان قد راجعھا ام لا۳؎ : ایں حکم کہ اطلاق آیت مراد متناول ست ہیچکس از علمائے امت رادر وخلاف نیست
اور تفسیر جمل میں مزید ہے کہ رجوع کرچکا ہو یانہ۔ مطلب یہ کہ تیسری طلاق کا یہ حکم مطلق ہے ہر صورت کو شامل ہے۔اس میں علمائے امت میں سے کسی نے اختلاف نہیں کیا۔
(۳؎ تفسیر جمل (الفتوحات الالٰہیہ)    تحت الطلاق مرتٰن     مصطفی البابی مصر        ۱ /۱۸۵)
کتب فقہ بلاخلاف مطلقا ثلاث را مثبت حرمت غلیظہ گویند وزنہار در ہیچ کتابے بوئے ازیں وسوسہ نجسہ نیست کہ بعد رجعت طلاق اول در حساب نمی ماند وشوھر از سر سہ طلاق را مالک می شود عبارات ہزار در ہزار بر بطلان ایں ضلالت  شاہد ست تنبیہ غافل وتعلیم جاہل را ہمیں مسئلہ دوارہ در کتب بسند ست کہ در کنز الدقائق وبحرالرائق فرمودند
(کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلثۃ فی بطون فالولد الثانی والثالث رجعۃ) لوقوع الطلاق بالاول و تثبت الرجعۃ بالثانی والثالث ویقع بکل طلقۃ اخری فتحرم حرمۃ غلیظۃ۱؎ ،
کتب فقہ میں بھی بلااختلاف تین طلاقوں کو مطلقاً حرمت غلیظہ کے لئے مثبت بیان کرتی ہیں، اور ہرگز کسی کتاب میں بھی اس پلید وسوسہ کی بو تک نہیں ہے کہ رجوع کے بعد پہلے دی ہوئی طلاق کالعدم ہوجاتی ہے اور خاوند نئے سرے سے پوری تین طلاقوں کامالک ہوجاتا ہے، اور ہزار ہا عبارات اس گمراہی کے بطلان پر شاہد ہیں۔ غافل کی تنبیہ اور جاہل کی تعلیم کےلئے اس مسئلہ کا تمام کتب میں دائر ہونا کافی سند ہے۔ کنزالدقائق اور بحرالرائق میں فرماتے ہیں کہ''خاوند نے کہا جب بھی تو بچہ جنے تو تجھے طلاق ہے، اس کے بعد بیوی نے نئے نئے حمل پر تین بچے جنے، تو دوسرا بچہ اور تیسرا بچہ پہلی اور دوسری طلاق سے رجوع قرار پائے گا، اس لئے کہ پہلے بچہ سے جو طلاق ہوئی اس سے دوسرے بچے کی وجہ سے رجوع ہوا، اور یونہی دوسرے بچے سے جو طلاق ہوئی اس سے تیسرے بچے کی وجہ سے رجوع ثابت ہوا جبکہ تیسرے سے جو طلاق ہوئی وہ تیسری طلاق ہے جس حرمت غلیظہ ہوگئی،
(۱؎ بحرالرائق         باب الرجعۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۴ /۵۵)
درتبیین الحقائق فرمود:
لانھا بولادۃ الاول وقع علیھا الطلاق ثم اذا جاءت بولد اٰخرمن بطن اخر علم انہ من علوق حدث فتثبت بہ الرجعۃ وتقع طلقۃ اخری بولادتہ ثم اذا جاءت  بالثالث تبین انہ کان راجعھا بوقوع الثانیۃ لما قلنا وتقع طلقۃ ثالثۃ بولادتہ فتحرم علیہ حرمۃ غلیظۃ ۲؎اھ مختصراً
تبیین الحقائق میں فرمایا : یہ اس لئے کہ جب پہلے بچےکی وجہ سے طلاق ہوئی پھر جب اس کے بعد نئے حمل سے دوسرا بچہ پیدا ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ نئے نطفہ سے پیدا ہوا ہے جس سے رجوع ثابت ہوا اور دوسری طلاق ہوگئی، پھر جب تیسرا بچہ پیدا ہوا تو اس بیان مذکور سے دوسری طلاق سے بھی رجوع ثابت ہوا اور تیسری طلاق ہوگئی اور بیوی حرمتِ غلیظہ کے طور پر حرام ہوگئی اھ
(۲؎ تبیین الحقائق    باب الرجعۃ    المکتبۃ الامیریہ بولاق مصر        ۲ /۲۵۶)
در شرح مسکین فرمود
 (فالولدالثانی) یصیربہ مراجعا فی الطلاق الاول(والثالث) یصیر فی الطلاق الثانی(رجعۃ) ویقع الطلاق الثالث بولادۃ الولد الثالث ولاسبیل الی الرجعۃ۳؎،
اور شرح ملا مسکین میں فرمایا کہ دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلی طلاق سے اور تیسرے بچے کی پیدائش سے دوسری طلاق سے رجوع ہوا اور تیسری طلاق ہوگئی جس کے بعد رجوع کےلئے چارہ نہ رہا،
 (۳؎ شرح کنز لملامسکین حاشیۃ فتح المعین     باب الرجعۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۲ /۱۶۹)
درتنویر الابصار ودرمختار فرمودند
فی کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلث بطون تقع الثلاث والولدالثانی رجعۃ فی الطلاق الاول، وتطلق بہ ثانیا کالولدالثالث، فانہ رجعۃ فی الثانی وتطلق بہ ثلثا عملا بکلما۱؎،
تنویر الابصار اور در مختار میں ہے کہ خاوندنے بیوی کو کہا کہ تو جب بھی بچہ جنے تو تجھے طلاق ہے تو اس نے تین حمل کے ساتھ تین بچے جنے تو تین طلاق ہوجائیں گی، یوں کہ دوسرا بچہ پہلی طلاق سے اور تیسرا بچہ دوسری طلاق سے رجوع قرار پائے گا اور تین طلاقیں کلما کہنے کی وجہ سے ہوجائیں گی۔
 (۱؎ درمختار         باب الرجعۃ         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۳۹)
درغرر ودرر فرمود
لوقال(کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلثۃ ببطون یقع) طلقات(ثلاث و) الولد (الثانی والثالث رجعۃ۲؎
غرر اور درر میں فرمایا کہ جب بیوی کو کہا کہ تو جب بھی بچہ جنے تجھے طلاق ہے، تو اس نے ہر بار نئےحمل سے تین بچے جنے تو تین طلاقیں ہوجائیں گی، اور دوسرا اور تیسرا بچہ رجوع ثابت کردے گا،
 (۲؎ الدررالحکام فی شرح غررالاحکام باب الرجعۃ     مطبعہ احمد کامل الکائنہ دار سعادت بیروت     ۱ /۳۸۶)
درملتقی الابحر ومجمع الانہر فرمودند
 (کلما ولدت فانت طالق فولدت ثلثۃ فی بطون فالثانی والثالث رجعۃ و تتم ) الطلقات (الثلث بولادۃ الثالث) فتحتاج الٰی زوج اٰخر ۳؎
ملتقی الابحر اور مجمع الانہر میں فرمایا، بیوی کو کہا، جب بھی تو بچہ جنے تو تجھے طلاق ہے تو اس نے مختلف حملوں میں تین بچے جنے تو دوسرا اور تیسرا بچہ رجعت ثابت کریں گے اور تین طلاقیں مکمل ہوجائیں گی، تیسرے بچے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کی ضرورت ہوگی۔
 (۳؎ ملتقی الابحر و مجمع الانہر   باب الرجعۃ       داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۳۷)
دروقایہ وشرح اش فرمودند
فی کلما ولدت فولدت ثلثۃ ببطون تقع الثلث والولدالثانی رجعۃ کالثالث۴؎
وقایہ اور اس کی شرح میں ہے: جب بھی بچہ جنے کہنے پر، تین مختلف حملوں میں تین بچے جننے پر بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی اور دوسرا بچہ پہلی طلاق سے جیسا کہ تیسرا دوسری طلاق سے رجوع ثابت ہوگا۔
 (۴؎ شرح الوقایہ   باب الرجعۃ      مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۶)
در غایۃ البیان وذخیرۃ العقبٰی فرمودند
اعلم انھا تطلق ثلثا ویثبت نسب الاولادمن الزوج وعلیھا العدۃ بثلث حیض بعد ولادۃ الولد الثالث۵؎
غایۃ البیان اور ذخیرۃ العقبٰی میں فرمایا کہ یاد رکھو مذکورہ صورت میں تین طلاقیں ہوجائیں گی اور تینوں بچوں کے نسب اس خاوند سے ثابت ہوں گے او ربیوی پر تیسرے بچے کی ولادت کے بعد عدت تین حیض ہوگی۔
 (۵؎ ذخیرۃ العقبٰی     باب الرجعۃ       مطبع نولکشور کانپور        ۲ /۲۱۳)
دراصلاح وایضاح فرمودند
کلما ولدت فولدت ثلثۃ ببطون یقع ثلث والولدالثانی رجعۃ کالثالث۱؎
اصلاح وایضاح میں فرمایا کہ جب بھی توبچہ جنے تو تجھے طلاق، کہنے پر جب تین بچے یکے بعد دیگرے حمل سے پیدا ہوجائیں تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور دوسرا بچہ رجوع ثابت ہوگا جیسا کہ تیسرا بچہ دوسری طلاق سے رجوع ثابت ہوگا۔
(۱؎ اصلاح وایضاح    )
امام اجل صدر شہید در شرح جامع صغیر امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرمود
لما ولدت الولد الثالث صار مراجعا ایضا بالوطی بعد الطلاق ووقع اٰخر بالولادۃ ولارجعۃ بعد ذٰلک لانہ تم الثلاث۲؎
امام اجل صدر شہید نے امام محمد کی جامع صغیر کی شرح میں فرمایا کہ مذکورہ صورت میں جب تیسرا بچہ جنا تو دوسرے بچے کی طرح یہ بھی طلاق سے وطی کے بعد رجوع ثابت ہوگا، اور تیسرے بچے کی ولادت سے آخری طلاق ہوجائیگی جس کے بعد رجوع نہ ہوسکے گا کیونکہ تین طلاقیں مکمل ہوگئیں۔
 (۲؎ حاشیہ علی الجامع الصغیر    بحوالہ صدر الشہید     باب الرجعۃ     مکتبۃ الیوسفی لکھنؤ     ص۵۹)
درخزانۃ المفتین بر مزاختیار شرح مختار فرمود یقع ثلاث والولد الثانی رجعۃ کالثالث۳؎اینست مخالفت تعلیم دیوبندی باائمہ امت ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
خزانۃ المفتین میں اختیار شرح مختار کی علامت سے بیان فرمایا کہ مذکورہ صورت میں تین طلاقیں ہوجائیں گی اور دوسرا بچہ پہلی طلاق سے جس طرح تیسرا دوسری طلاق سے رجعت ثابت ہوگا۔ یہ ہے دیوبندی تعلیم، ائمہ امت کے مخالف۔ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
 (۳؎ خزانۃ المفتین     فصل فی الرجعۃ         قلمی نسخہ         ۱ /۱۳۶)
بست وچہارم: ازغایت غباوت وغوایت اوست قول او چنانکہ بعد طلاق بائن اگر تجدید نکاح کند بعدہ ایضا طلاق دہد طلاقین اولین باطل شوند وبعد تجدید نکاح اگر طلاق دہد آں در حساب کردہ آید نہ طلاق قبل تجدید نکاح ہمچنیں بعد رجعت اول طلاق باطل است آفریں باوچہ خوش اصوات خارجہ از سوراخ فم اوست کہ دہن از آواز پر وذہن از معنی  تہی، وبیچارہ چہ کند کہ ہنوز ازیں نو عروساں منصہ دیوبندیت را بامطلب ومعنی جفت نکردہ اند، کدام دوطلاق پیشین ست کہ بطلان بائن بعد تجدید نکاح باطل می شود وچوں طلاق قبل تجدید نکاح نزد تو خود در حساب نیست بطلانش بر طلاق بائن بعد تجدید چہ موقوف باشد واگر از کسے شنیدہ است کہ بائن بہ بائن لاحق نشود ایں خود عام نیست باز عدم لحوق بطلان اول را چرا موجب شود باز مبنائش حمل بر اخبار ست در رجعی بعد رجعت اور اچہ کاراست باز اگر باشد بطلان یکے باشدنہ ہردو وبقطع نظر از جملہ وجوہ امر جامع میان رجعت بعد رجعی وطلاق بائن بعد تجدید نکاح بعد بائن چیست مگر آنکہ بدعقلی وکج فہمی لائق نجدیت وتعلیم دیوبندی است۔

بست وچہارم: اس کی انتہائی غباوت اور گمراہی اس کا یہ کہنا ہے کہ''جس طرح طلاق بائنہ کے بعد دوبارہ نکاح کرے تو اس کے بعد بھی طلاق دے دے تو پہلی دو طلاقیں کالعدم ہوجاتی ہیں اور دوبارہ نکاح کے بعد اگر طلاق دے تو وہ حساب میں آئے گی اور دوبارہ نکاح سے پہلے دی ہوئی شمار نہ ہوگی اسی طرح رجوع کے بعد پہلی طلاق کالعدم ہوجاتی ہے''اس پر آفرین کہ منہ کے سوراخ سے کیااچھی آواز نکال رہا ہے،اس کا منہ آواز سے پر اور ذہن فہم سے خالی ہے، یہ بیچارہ کیا کرے کہ ابھی دیوبندیت کی نئی نویلی دلہن سے مطلب ومعنٰی میں جفتی نہیں ہے، کون سی دوطلاقیں پہلے ہیں جوطلاق بائنہ کے بعد دوبارہ نکاح سے کالعدم ہوجاتی ہیں۔ جب تیرے ہاں دوبارہ نکاح سے قبل والی طلاق کالعدم ہوجاتی ہے، تو اس کا کالعدم ہونا دوبارہ نکاح سے طلاق بائنہ پر کیونکر موقوف ہوگا اور اگر کسی سے یہ سن لیا ہے کہ بائنہ کے بعد بائنہ لاحق نہیں ہوسکتی تو یہ عام قاعدہ نہیں ہے تو پھر پہلی طلاق کو بطلان کے لاحق ہونے کی وجہ کیسے ہوا، پھر اسکا مبنٰی اخبار ہونے پر ہے تو رجعی طلاق کے بعد رجوع سے کیا تعلق ہے، پھر اگر ہوبھی تو ایک کا بطلان ہونا چاہئے نہ کہ دو کا، اور ان تمام وجوہ سے قطع نظر، رجعی کے بعد اور بائنہ طلاق کے بعد دوبارہ رجوع کے بعد بائنہ میں کون ساجامع امر ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ نجدیت کی بدعقلی اور کج فہمی اور دیوبندی تعلیم ہے۔
بست وپنجم :از استنادش بمسئلہ درمختار طلقھا رجعیا فجعلہ بائنا او ثلاثا۱؎ مع عبارت ردالمحتار وطحطاوی لانہ بعدھا یبطل عمل الطلاق۲؎ چہ جائے شکوے کہ ہمچومدہو شاں وبیہوشاں در بطلان طلاق وبطلان عمل اگر فرق نکنند سزائے ایشاں فاما ہر مسلم عاقل را مسلم ومعقول ست کہ برجعت عمل طلاق مرتفع می شود نہ آنکہ طلاق کردہ ناکردہ گرددوازصفحہ واقع ارتفاع پزیرد۔ مسئلہ را بنہایت ایضاح اتضاح دادہ ایم بیش ازیں اطالت در کار نیست۔ 

بست وپنجم: درمختار کے مسئلہ،کہ رجعی طلاق دے کر اس کو بائنہ یا تین کرنا، اس کے ساتھ ردالمحتار اور طحطاوی کی عبارت کہ اس لئے کہ اس کے بعد طلاق کا عمل باطل ہوجاتا ہے، کہ دلیل بنانا، ان مدہوش اور بیہوش لوگوں کا جو بطلان  طلاق اور بطلانِ عمل میں فرق کرنہ سکیں، کیا شکوہ کیا جائیے، یہ انہی کو لائق ہے، لیکن ہر عاقل مسلمان جانتا ہے کہ رجوع سے طلاق کا عمل ختم ہوجاتا ہے نہ کہ طلاق ختم ہوجاتی ہے اور کالعدم ہوجاتی ہے۔ ہم نے مسئلہ کو مفصل طور پر واضح کردیا ہے اس سے زائد طوالت کی ضرورت نہیں ہے۔
 (۱؎ درمختار    باب الکنایات    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۵)

(۲؎ ردالمحتار   باب الکنایات    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۴۶۸)
بالجملہ حکم ہمان ست کہ زن احمد علی سہ طلاقہ شد وبے تحلیل بہ تحلیل مجتہدانِ دیوبندی حلال نشود بلکہ ایناں کہ بدعت زائغہ بطلان طلاقہائے پیشین برجعت پسیں در شرح ودین نہا دند، الحق کہ بتحلیل حرام قطعی لب کشادند او برحکم فقہی کفرے ست حتمی۔ زنِ احمد علی بتحلیل ایناں حلال نشد مگر ترسند کہ ہما زناں ایناں بحکم فقہ برایناں حرام شدند ہمچوکساں را باید کہ برائے حطامِ دنیا حلال نسازند وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بالجملہ حاصل کلام یہ ہے کہ زیر بحث مسئلہ کاحکم یہ ہے کہ احمد علی کی بیوی کو تین طلاقیں ہوچکی ہیں، دیوبندی مجتہدین کے حلال کرنیکے باوجود بغیر حلالہ کے حلال نہ ہوگی، بلکہ یہ کہ، بعد والی رجعت سے پہلی طلاقیں کالعدم ہوجاتی ہیں، یہ ان کی دین اور شریعت میں نئی بدعت ہے، حق یہ ہے کہ حرام قطعی کہ انہوں نے حلال کہہ دیا ہے جو کہ فقہی حکم کے مطابق قطعی کفر ہے، احمد علی کی بیوی ان کے حلال کرنے سے حلال نہ ہوگی مگران کو یہ فکر کرنی چاہئے کہ فقہی حکم کے مطابق ان کی بیویاں ان پر حرام ہوچکی ہیں، ان سب کو چاہئے کہ وہ خود تجدید اسلام اور اتجدید نکاح کریں، اور اﷲ تعالٰی کے حرام کردہ کو دنیاوی ایندھن کی خاطر حلال نہ کریں، وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)(رسالہ ختم ہوا)
Flag Counter