Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
18 - 175
بست ویکم: تااینجا جہالاتِ دیوبندیہ بود حالاضلالات دیوبند یہ جوش رد بیباک بے ادراک کلمہ گفت کہ بد ریا ہا نتواں شست کہ''اگر تسلیم کر دہ شود کہ طلاقین اولین واقع شد ند تاہم بوجہ رجعت باطل الٰی قولہ اکنواں برائے طلاق  بلاشرط رجعت صحیح ست'' انا ﷲ وانا لایہ راجعونo
بست ویکم: یہاں تک دیوبندی جہالتیں تھیں اب دیوبندی گمراہی نے جوش مارا اور بے سوچے سمجھے بے دریغ ایسا کلمہ کہہ دیا کہ تمام دریا بھی اس کو صاف نہ کرسکیں، اور کہا کہ اگر تسلیم کرلیا جائے کہ پہلی دو طلاقیں واقع ہوگئی ہیں تب بھی احمد علی کے رجوع کرلینے پر وہ باطل ہوگئی ہیں، اور آخر میں کہا کہ اب غیر مشروط طلاق کے بعد اس کا رجوع صحیح ہے اناﷲ وانّا الیہ راجعون۔

ع  آدمیاں گم شدند ملک گرفت اجتہاد

آدمی ختم ہوگئے اب فرشتہ اجتہاد شروع کررہاہے۔
تعلیم دیوبندی دریں(عہ۱)  قرآن عظیم وحدیث کریم واجماعِ ائمہ حدیث وقدیم ہمہ را یکسرپس پشت انداخت وبزورِ زبان وزور بہتان بمصداق ارشاد حضور سید الاسیاد علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام الٰی یوم القیام کہ یستحلون الخ شرمگاہ زناں را حلال خواہند گرفت فرج حرام را حلال ساخت
قال اﷲ تعالٰی عزوجل الطلاق مرّتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان الٰی قولہ تبارک وتعالٰی فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۱؎
یعنی طلاق کہ بعد وے اختیار رجعت ست ہمیں تا دو بار ست کہ شوی رادر ماندن زن بخوبی یا آزاد کردن بہ نیکوئی (عہ۲) اختیارست پس اگر بعد اینہا طلاق دگر دہد زن مرا در احلال نبود تا باشوئے دگر ہمخوابہ نشود،
 ( عہ۱:  یہاں مسودہ میں بیاض ہے۱۲ ) (عہ۲: یہاں مسودہ میں بیاض ہے۱۲)
ۤدیوبندی تعلیم نے یہاں پر قرآن وحدیث اور ائمہ قدیم وجدید کا اجماع تمام کو یکسر نظر انداز کردیا ہےاور زبان وبہتان کے زور پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد ''عورتوں کی حرام شرمگاہوں کو حلال کریں گے'' کے مصداق اس کا ارتکاب کیا، حالانکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایادو طلاقیں ہوں تو پھر خوبصورتی سے رجوع کرکے روک لو یا نیکی کے طور پر آزاد کردو۔ اور اس کے بعد اﷲ تعالٰی کے قول''پس اگر تیسری طلاق دے دی ہو تو بیوی اس کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے'' تک۔یعنی جس طلاق کے بعد رجوع ہوسکتا ہے وہ دوبار طلاق ہے کہ جس میں خاوند کو اختیار ہے کہ بیوی کو روک رکھے یا نیکی کے ساتھ آزاد کرتے ہوئے طلاق دے دے، اس کے بعد اگر طلاق دے گا تو بیوی اس کے لئے حلال نہ ہوگی تا وقتیکہ وہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۹۔۲۲۸)
ائمہ تفسیر وحدیث سبب نزول کریمہ چناں آوردہ اند کہ پیش ازیں طلاق راعددے معدود حدے محدود نبود ہر قدر بار شائے خواستے طلاقہا دادے ورجعت ہا کردے وآنکہ اضرار زن خواستے طلاقش دادے تاکہ آنکہ چوں عدتش برسرگز شتن آمدن رجعت کردے باز طلاق دادے باز در قرب انقضائے عدت رجعت نمودے وہمچناں کردے تاآنگاہ کہ دلش خواستے بیچارہ زن بایں کار معلقہ باندے نہ رائے رفتن نہ روئے ماندن، زن ازیں معنی بحضور بارگاہِ رسالت فریاد آوردآنگاہ آیہ کریمہ نزول فرمود وبعد سہ طلاق اختیار رجعت نماند وکارزن بدست زن شد،

ائمہ تفسیر وحدیث نے اس آیہ کریمہ کا شانِ نزول یوں بیان فرمایا کہ اسلام سے قبل طلاق کی کوئی تعداد یا حد مقرر نہ تھی بلکہ خاوند جتنی بار بھی طلاق دے کر رجوع کرنا چاہتا کرلیتا، اور جب بیوی کو تنگ کرنا مقصود ہوتا تو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب وہ رجوع کرلیتا اور رجوع کے بعد پھر طلاق دیتا  اور عدت کے خاتمہ کے قریب رجوع کرلیتا اور جتنی بار دل چاہتا کرتا بیوی بیچاری لٹک کر رہ جاتی ا س کےلئے آزادی یا آبادی کا کوئی طریقہ نہ رہتا، اسی پریشانی میں ایک عورت دربارِ رسالت میں حاضر ہوئی اور فریاد کی، تو اس پر یہ آیہ کریم نازل ہوئی، اورتین طلاقوں کے بعد رجوع کا اختیار ختم ہوگیا اور بیوی خود مختار ہوگئی۔
امام بغوی در تفسیر معالم التنزیل فرمود
قولہ تعالٰی الطلاق مرتٰن
روی عن عروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال کان الناس فی الابتداء یطلقون من غیر حصر ولاعدد وکان الرجل یطلق امرأتہ فاذا قاربت انقضاء عدتھا راجعھا ثم طلقھا کذٰلک ثم راجعھا یقصد مضارتھا فنزلت ھذہ الاٰیۃ الطلاق مرتٰن یعنی الطلاق الذی یملک الرجعۃ عقیبہ مرتان فاذاطلق ثلثا فلاتحل لہ الابعد نکاح زوج اٰخر۱؎
امام بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد''الطلاق مرتٰن الخ''الآیۃ کا شانِ نزول یہ ہے جس کو حضرت عروہ بن زبیر رضی تعالٰی عنہ نے بیان فرمایا کہ لوگ ابتداء میں بے شماراور لاتعداد طلاقیں دیتے تھے، اور کوئی بھی شخص بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرلیتا اور پھرطلاق دے دیتا اور یوں بار بار کرتا رہتا جس کا مقصد بیوی کو تنگ کرنا تھاتو یہ آیہ  کریمہ نازل ہوئی، یعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے وہ دوبارہے، اور جب تین طلاقیں پوری کردے تو اس کےلئے بیوی حلال نہ ہوگی مگر بیوی دوسرے شخص سے نکاح کرے تو اس کے بعد حلال ہوسکے گی۔
 (۱ ؎ معالم التنزیل علٰی حاشیۃ تفسیر الخازن     تفسیر آیۃ الطلاق مرتٰن الخ        مصطفی البابی مصر    ۱ /۲۲۷)
امام رازی د رتفسیر کبیر فرمود المسئلۃ الاولی کان الرجل فی الجاھلیۃ یطلق امرأتہ ثم یراجعھا قبل ان تنقضی عدتھا ولو طلقھا الف مرۃ کانت القدرۃ علی المراجعۃ ثابتۃ لہ فجاءت امرأۃ الٰی عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا فشکت ان زوجھا یطلقھا ویراجعھا یضارھا بذٰلک فذکرت عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ذٰلک لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنزل
قولہ تعالٰی الطلاق مرتٰن۱؎،
امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرماما: مسئلہ اولٰی، یہ کہ جاہلیت میں مرد بیوی کو طلاق دے کر پھرعدت کے خاتمہ کے قریب رجوع کرلیتا اور اس طرح ہزار طلاق بھی ہوتی تب بھی خاوند کو رجوع کا اختیار رہتا، تو ایک عورت حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی کہ وہ طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتا ہے اور تنگ کررہا ہے تو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے یہ واقعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو بیان کیا تو اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی الطلاق مرتان، الآیۃ۔
 (۱؎ تفسیر کبیر    زیر آیۃ الطلاق مرتان الخ    المطبعۃ البہیۃ المصریۃ بمصر    ۶ /۱۰۲)
درتفسیرات احمدیہ ست
لما کان عدد الطلاق فی الجاھلیۃ غیر مقرر علی وتیرۃ واحدۃ حتی انہ لو طلقھا عشرۃ یمکنہ رجعتھا وکان یراجعھا وقت انقضاء العدۃ ثم یطلقھا ویراجعھا حتی ان جاءت امرأۃ الٰی عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا تشکومن مراجعۃ زوجھا ثم تطلیقھا ثم وثم ھکذافعرضت الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنزل قولہ تعالی الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان یعنی ان الطلاق الرجعی الذی یتعلق بہ الرجعۃ مرتان ای اثنتان لازائد تان فبعد ذٰلک امساکھا بمعروف او تسریحھا کذٰلک وھذا امر بصیغۃ الخبر کانہ قیل طلقوا الرجعی مرتین وھذاالتوجیہ المذکور فی الحسینی والزاھدی والبیضاوی والتلویح وھو الموافق لمذھب الشافعی وابی حنیفۃ جمیعا۱؎،
تفسیرات احمدیہ میں ہے کہ چونکہ جاہلیت میں طلاق دے کر بھی پھر رجوع کرلیتا اور عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرکے پھر طلاق دے دیتا،حتی کہ ایک عورت نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس آکر اپنے خاوند کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ با ربار طلاق دیتا اور رجوع کرلیتا ہے، تو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنھا نے یہ بات حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عرض کی، تو اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی، اﷲ تعالٰی نے فرمایا:الطلاق مرتان الآیۃ،یعنی وہ طلاق جس کے بعد رجوع کرنا جائز ہے وہ دوبار طلاق ہے اس سے زائد نہیں، اس کے بعد بھلائی سے بیوی کو پاس رکھنا ہوگا یانیکی کے ساتھ آزاد کرتے ہوئے آخری طلاق دینا ہوگی۔ اورتفسیر بیان کی جو امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہمااﷲتعالٰی دونوں کے مذہب کے موافق ہے۔
 (۱؎ تفسیرات احمدیہ     زیر آیت الطلاق مرتان الخ        مکتبہ کریمی واقع بمبئی     ص۱۲۳)
ترمذی وابن مردودیہ وحاکم بافادہ تصحیح وبیہقی در سنن از ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا روایت کنند
قالت کان الناس والرجل یطلق امرأتہ ماشاء ان یطلقھا و ھی امرأتہ اذا ارتجعھاوھی فی العدۃ  وان طلقھا مائۃ مرۃ اواکثر حتی قال رجل لامرأتہ واﷲ لااطلقک فتبینین منی ولاأویک ابداقالت وکیف ذٰلک قال اطلقک فکلما ھمت عدتک ان تنقضی راجعتک، فذھبت المرأۃ حتی دخلت علی عائشۃ فاخبرتھا فسکتت عائشۃ رضی اﷲتعالٰی عنھا، حتی جاء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاخبرتہ فسکت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی نزل القراٰن
الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ۱؎،
ترمذی، ابن مردودیہ، حاکم بافادہ تصحیح اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا کہ لوگ اپنی بیوی کو جتنی چاہتے طلاقیں دیتے اس کے باوجود وہ بیوی رہتی جبکہ وہ عدت کے دوران رجوع لیتا، اگرچہ سومرتبہ یا اس سے بھی زائد طلاقیں دے چکا ہوتا حتی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے طلاق نہ دوں کہ تو جدا ہوجائے اور نہ ہی تجھے پاس رکھوں تو ہمیشہ ایسے ہی رہے گی، بیوی نے پوچھا وہ کیسے؟ تو اس نے کہا میں تجھے طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے قبل جب عدت ختم ہونیوالی ہوگی تو رجوع کرلوں گا، تواس عورت نے جاکر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے یہ شکایت کی، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا خاموش ہوگئیں حتی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس بات پر مطلع کیا جس پر آپ نے سکوت فرمایا حتی یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی الطلاق مرتٰن الخ،
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب الطلاق الثلاث    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ۱ /۱۴۳)

(السنن الکبرٰی للبیہقی     باب ماجاء فی امضاء الطلاق     دارصادر بیروت         ۷ /۳۳۳)
نیز ابن مردودیہ وبیہقی از ام المومنین روایت آرند،
قالت یکن للطلاق وقت یطلق امرأتہ ثم یراجعھا مالم تنقض العدۃ وکان بین رجل وبین اھلہ بعض مایکون بین الناس فقال واﷲلاترکنک، لاایما ولاذات زوج فجعل یطلقھا حتی اذا کادت العدۃ ان تنقضی راجعھا ففعل ذلک مرارا فانزل اﷲ فیہ الطلاق مرتن فامساک بمعروف او تسریح باحسان فوقت لھم الطلاق ثلثا یراجعھا فی الواحدۃ وفی الثنتین ولیس فی الثلاثۃ رجعۃ حتی تنکح زوجا غیرہ۲؎،
نیز ابن مردودیہ اور بیہقی نے حضرت ام المومنین رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کی، آپ نے بیان کیاکہ بیوی کو طلاق دینے اور پھر رجوع کرنے کا کوئی ضابطہ نہ تھا، کوئی بھی بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلیتا اور خاوند بیوی میں کوئی خانگی جھگڑا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے ہوتا تو خاوند کہتا خداکی قسم میں تجھے نہ خاوند والی اور نہ غیرخاوند والی بنادوں گا، اس کےلئے وہ بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیتا اور بار بار ایسے کرتا، اس پر اﷲ تعالٰی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی الطلاق مرتٰن الآیۃ،جس میں تین طلاقیں مقررکردی گئی ہیں، جس میں سے ایک اور دو کے بعد رجوع کا حق دیا گیا ہے اور تیسری کے بعد رجوع نہیں ہوگا تا وقتیکہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔
(۲؎ تفسیر د رمنثور بحوالہ ابن مردودیہ والبیہقی تحت آیۃ الطلاق مرتان مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم، ایران ۱ /۲۷۷)
اجلہ ائمہ مالک وشافعی وعبد بن حمید وترمذی وابن جریر وابن ابی حاتم وبیہقی از عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما آرند قال کان الرجل اذا طلق امرأتہ ثم ار تجعھا قبل ان تنقضی عدتھا کان ذٰلک لہ وان طلقھا الف مرۃ فعمد رجل الی امرأتہ فطلقھا حتی اذاماجاء وقت انقضاء عدتھا ارتجعھا ثم طلقھا ثم قال واﷲ لااویک الی ولاتحلین لی ابدا فانزل اﷲ تعالٰی
الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ۲؎
امام مالک، امام شافعی، عبد بن حمید، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم بیہقی ان اجلہ ائمہ کرام نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاکہ ابتداء میں مرد کو اختیار تھا کہ وہ طلاق کی عدت ختم ہونے سے قبل رجوع کرلے اگرچہ وہ ہزار طلاقیں بھی دے دے، تو ایک مرد نے بیوی کو طلاق دے کر عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کرلیا اور پھر طلاق دے دی پھر کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے نہ رکھوں گا نہ دوسرے کےلئے بھی حلال ہوسکے گی، تو اﷲ تعالٰی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان،
 (۲؎ مؤطاامام مالک     جامع الطلاق                 میر محمد کتب خانہ مرکز علم کراچی ص۵۲۹)
مسلمان دمے انصاف دہید تعلیم دیوبندی چسپاں مقصود شریعت وحکم آیت را برھم میزند وظلم وستم جاہلیت را از سرِ نو تازہ می کند اگر طلاق پیشین برجعت باطل شود وبعد اوشوئے را از سرِاختیار سہ طلاق بدست ماند چنانکہ ایں کس زعم نمود پس لاجرم ہماں آتش جاہلیت بکا سہ اندرست وانسداد ظلمے کہ خدائے خواست معاذاﷲ باطل وبے اثر، ہر کہ خواہد ھزار بار طلاق دہد وہربار رجعت کند طلاق ہائے دادہ نادادہ شود واختیار ات نامتنا ہیہ بدست شوہر بود ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم اینست مخالفت تعلیم دیوبندی باقرآن عظیم۔

اب مسلمانوں کو انصاف سے غور کرنا چاہئے کہ دیوبندی کس طرح شریعت کے مقصداور آیہ کریمہ کے حکم کو پامال کرتے ہیں اور جاہلیت کے ظلم وستم کو دوبارہ تازہ کررہے ہیں، اگر پہلی طلاقیں رجوع کرنے سے باطل ہوجائیں اور خاوند کونئے سرے سے دوبارہ تین طلاقوں کا اختیار مل جائے جیسا کہ یہ شخص کہہ رہا ہے تو لازمی طور پر جاہلیت کی آگ محفوظ رہے گی اور اﷲ تعالٰی نے جس ظلم کو ختم کرنا چاہا ہے وہ سب باطل اور بے اثر ہوکر رہ جائے گا اور جاہلیت دوبارہ عود کرآئے گی، اور جو شخص بھی ہزار بارطلاق دے کر رجوع کرتا رہے تو رجوع سے پہلی طلاق کا ہونا نہ ہونا برابر ہوجائے گا اور خاوند کو نہ ختم ہونے والااختیار حاصل ہوجائے گا، لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔دیوبندی کی یہ تعلیم قرآن کے مخالف ہے۔
Flag Counter