Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
175 - 175
مسئلہ۲۸۹تا۲۹۰:از پوسٹ کانت فقیر ہاٹ مدرسہ اسلامیہ کالاپل چاٹگام مرسلہ وحیداﷲ صاحب ۲۶ربیع الاول ۱۳۳۶
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی ھٰذہ المسألۃ ان رجلا اخاالجھل قال لمعلم العلوم العربیۃ اعنی المبادی والمقاصد ماانت الابشر مثلنا فقال لہ اذکان الامر کذٰلک فما اصنع فی المدرسۃ العالیۃ مثلا فاجاب لہ یا راعی البقر والخنزیر ترعیھما فیھا وایضا اعتقدان اﷲ یغفر ویدخل الجنۃ من یشرک بہ لمن یشاء یغفر لمن یشاء فذکر العالم شیأ من اٰیۃ القراٰن والاحادیث الصحیحۃ فقال ھذالیس بشیئ ففی الصورۃ المسئولۃ ھل یجب التوبۃ وتجدید النکاح علیہ ام لا۔
علمائے کرام(اﷲ تعالٰی آپ پر رحم کرے) آپ کا کیا ارشادہے کہ اس مسئلہ میں کہ ایک جاہل شخص، عربی علوم کی مبادی ومقاصد، کے استاذ کو کہتا ہے کہ تو ہمارے جیسا بشر ہے، تو عربی کے معلم نے جواب میں کہا اگر یہی معاملہ ہے تو پھر میں مدرسہ عالیہ میں کیا کررہا ہوں تو جاہل نے اسے جواب میں کہا، اے گائے اور خنزیر کے چروا ہے!تو وہاں ان کو چراتا ہے اور نیز اس کا عقیدہ ہے اﷲ تعالٰی جس مشرک کو چاہے بخش دیتا ہے اور اس کو جنت میں داخل فرماتا ہے، تو اس پر اس عالم نے اس کو کچھ قرآنی آیات اور صحیح احادیث سنائیں، تو جاہل نے کہا یہ کوئی چیز نہیں ہے، تو کیا مسئولہ صورت میں توبہ اور تجدید نکاح ضروری ہے یانہیں؟
 (۲) من قال واعتقد تارک الصلٰوۃ کافر فالقائل ھل ھوخارج عن مذھب ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی ام لا۔ بینواتوجروا۔
 (۲) جو شخص یہ عقیدہ رکھے اور بیان کرے کہ نماز کا تارک کافر ہے، تو یہ کہنے والا، کیا وہ ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب سے خارج ہے یانہیں؟بیان کرو اجر پاؤ۔(ت)
الجواب

اماماخاطب بہ العالم فھو من جھلہ وسوء ادبہ یستحق بہ التعزیر الشدید الائق بحالہ الزاجر لہ ولامثالہ ففی الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط۱؎۔
اس نے عالم کو جن الفاظ سے خطاب کیا ہے وہ اس کی جہالت اور انتہائی بے ادبی ہے اس کی وجہ سے وہ اور ایسے دیگر لوگ اپنے جرم کے مناسب شدید تعزیر کے مستحق ہیں۔ حدیث شریف میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے تین حضرات کی توہین کھلے منافق کے بغیر دوسرا نہیں کرسکتا ایک عالم، دوسرا وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا، اور تیسرا مسلمان عادل بادشاہ،
 (۱؎ کنز العمال     بحوالہ الشیخ فی التوبیخ     حدیث ۴۳۸۱۲    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۶ /۳۲)

(المعجم الکبیر     حدیث ۷۸۱۹    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۸ /۲۳۸)
اماقولہ ان اﷲ یغفر لمن یشرک بہ لمن یشاء فمخالف للقراٰن العظیم قال اﷲ عزوجل ان اﷲ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذٰلک لمن یشاء۲؎
تاہم اس کا یہ کہنا کہ، اﷲ تعالٰی جس مشرک کو چاہے بخش دیتا ہے، تویہ قرآن عظیم کے مخالف ہے، کیونکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالٰی شریک بنانے والے کونہیں بخشتا،اس کے علاوہ جس کو چاہے بخشتا ہے۔
 (۲؎ القرآن الکریم ۴ /۴۸و ۱۱۶)
واما قولہ لاٰیات القراٰن العظیم والاحادیث ھذا لیس بشیئ فھذالیس بشیئ الاالکفر الجلی تجری بہ علیہ احکام المرتدین فعلیہ ان یسلم واذااسلم فلیجدد نکاحہ برضألمرأۃ وان لم ترضی فلھا الخیار تعتد وتنکح من تشاء، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اور اس کا قرآن وحدیث کے متعلق یہ کہنا کہ، یہ کوئی چیز نہیں ہے، یہ توخالص ایسا کفر ہے جس پر مرتدوں والے احکام جاری ہوتے ہیں، لہذا اس پر تجدید اسلام ضروری ہے اور مسلما ن ہوکر عورت کی رضامندی سے دوبارہ اس سے نکاح کرے، اگراس سے نکاح پر راضی نہ ہوتو بیوی کو اختیار ہے کہ وہ عدت پوری کرکے کسی اور سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرے۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
 (۲) الحکم بالکفر علی تارک الصلٰوۃ وارد فی صحاح الاحادیث وعلیہ جمھور الصحابۃ والتابعین ولیست المسألۃ فقہیۃ بل کلامیۃ وقد اختلف اھل السنۃ قدیما فمن قال باحد القولین لایخرج بہ عن الحنفیۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) نماز کے تارک پر احادیث صحیحہ میں کفر کا اطلاق آیا ہے، اور جمہور صحابہ وتابعین کا یہی مسلک ہے جبکہ یہ مسئلہ فقہی نہیں بلکہ علمِ کلام سے متعلق ہے، اس میں اہلسنت کا قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے لہذا اگر کوئی دو قولوں میں سے ایک قول کو اختیار کرے تو وہ حنفیت سے خارج نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۱تا۲۹۲:از بنگلوربازار مرسلہ قاضی عبدالغفار صاحب مورخہ ۱۱ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱) ایک شخص درود شریف پورا پڑھتا ہے اللھم صل وسلم علی محمد وسیدنا وھادینا ومرشدنا ومخدومنا(نام اپنے پیر کا لیتا ہے) حضور صلی تعالٰی علیہ وسلم کے نام پاک پر نہ سیدنا وھادینا ہے اور اپنے پیر کے نام پر القاب تعظیمی لگاتا ہے،پس ایسا درود پڑھنا جائز ہے یانہیں؟اور کوئی پیر اس کو روارکھے تو کیسا ہے؟

(۲) بشیرونذیر القاب مخصوصہ سید العالمین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے ہیں یا اور کسی کوبھی کہہ سکتے ہیں؟اگر کوئی شخص اپنے مریدوں سے کہلوائے اور اپنی نسبت روارکھے تو اس پیر ومرشد کا شرعًا کیا حکم ہے؟
الجواب

(۱) یہ بیجا ہے اور ایک نوع ظلم ہے اسے اس سے احتراز چاہئے،ادب تویہ ہے کہ اکابر کے نام کے ساتھ ان کے اصاغر کانام لیا جائے، اگروہ اپنے اکابر ہوں تو ان کے نام کے ساتھ ان کے نام میں زیادہ الفاظ تعظیمی ضروری نہیں، نہ کہ معاذ اﷲ عکس۔ عرب میں کنیت تعظیم ہے۔ امام ابویوسف امام محمد کے استاد مگر امام اعظم کے شاگرد ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم، امام محمد نے جامع صغیروغیرہ جتنی کتابیں بروایت امام ابی یوسف حضرت امام اعظم سے روایت کیں ان میں امام ابویوسف کو کنیت سے یاد نہ کیا بلکہ نام سے محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم،اس کا نکتہ علماء نے یہی لکھا ہے اس شخص پر اس سے احتراز لازم ہے اور پیر پر واجب ہے کہ اسے ہدایت کرے، اور اگر یہ مطلب ہوکہ پیر کی عظمت حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے زائد ہے تو یہ صریح کفر ہے، والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲) حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تمام صفاتِ کریمہ بایں معنی خصائصِ حضور ہیں کہ کوئی صفت میں حضور کا مماثل و شریک نہیں، امام ابومحمد بوصیری قدس سرہ فرماتے ہیں:
منزہ عن شریک فی محاسنہ     فجوھرالحسن فیہ غیر منقسم۱؎
 (آپ اپنے محاسن میں کسی شریک سے پاک ہیں، تو آپ کے حسن کا مادہ منقسم نہیں ہے)
 (۱؎ قصیدہ بردہ     الفصل الثالث     تاج کمپنی لاہور     ص۱۰)
مگر حضور نے اپنی بعض صفات کریمہ کا اپنے مستفیضوں، اپنے خادموں اور اپنے غلاموں پر بھی پر توڈال دیا جیسے علیم، حلیم، کریم کہ ان صفات کی تجلی جس میں متحقق ہو اس پر ان کے اطلاق میں حرج نہیں بشیر ونذیر بھی انہیں صفات میں ہیں،
قال تعالٰی مبشرین ومنذرین۱؎،وقال تعالٰی وان من امۃ الاخلافیھا نذیر۲؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: بشارت دینے والے اور ڈرسنانے والے۔ اور فرمایا: ہرامت میں ڈر سنانے والا گزرا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۶۵ و ۱۸ /۵۶ و ۶ /۴۸) (۲؎ القرآن الکریم ۳۵ /۲۴)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشرواولاتنفروا۔۳؎ واللہ تعالٰی اعلم۔
اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:بشارت دو نفرت پیدا نہ کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب العلم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۶)
مسئلہ ۲۹۳: ازاجمیر شریف کارخانہ گریچ علاقہ نمبر۳۰لوہار خانہ مرسلہ جمال محمد ۱۴جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ

ہر کسی کو شیطان کہیں،یہ حلال یا حرام ؟
الجواب

گمراہ بددین کو شیطان کہا جاسکتا ہے اور اسے بھی جولوگوں میں فتنہ پردازی کرے، ادھر کی ادھر لگا کر فساد ڈلوائے، جو کسی کو گناہ کی ترغیب دے کر لے جائے وہ اس کا شیطان ہے، اور مومن صالح کو شیطان کہنا شیطان کاکام ہے۔وھو تعالٰی اعلم۔
نوٹ:  جلد سیزدہم ختم ہوئی، اس کاآخری عنوان کتاب الحدود والتعزیر ہے، جبکہ آنے والی جلد چہاردہم کا پہلا عنوان کتاب السیر ہوگا۔
Flag Counter