فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
174 - 175
مسئلہ۲۸۵: قول انوارالحق تحصیل چونیاں ضلع لاہور بروز چہار شنبہ ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ(مکتوب)
(قول انوارالحق) میں عریضہ لکھ کر دوبارہ یا سیدنا ومولٰنا ومرشدنا عرض کرتا ہوں کہ آپ ہم لوگوں میں مثل رسول ونبی کے ہیں آپ خاکسار وں کی عرض سن کر جواب روانہ فرمائیں۔
الجواب
تنبیہ:مولانا!یہ لفظ بہت سخت ہے لاالٰہ الااﷲ یہ فقیر ذلیل سیاہ کارنابکارکیاچیز ہے ہاں اکابر کےلئے یہ لفظ حدیث میں آیا ہے کہ
الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ۱؎
(شیخ اپنی قوم میں مانند نبی کے ہیں اپنی امت میں مگر مثل اورمانندمیں بہت فرق ہے مثل معاذاﷲ مساوات کا ایہام کرتا ہے اور مانند صرف ایک مشابہت چاہتا ہے، اس لئے سیدنا امام اعظم رضی اﷲ عنہ نے
ایمانی کایمان جبریل
(میراایمان جبرائیل کے ایمان کی مانند ہے۔ت) فرمایا نہ کہ
مثل ایمان جبریل
(مثل ایمان جبریل۔ت)فقط
(۱؎ کنز العمال حدیث ۴۲۶۳۲و۴۲۶۳۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۵ /۶۶۴)
مسئلہ۲۸۶:مسئولہ سیدحمید الرحمٰن صاحب صابری فاروقی گولہ گھاٹ محلہ کچہری ہاٹ آسام ۱۵ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مقدس اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنے مرشدزادہ کو حقارت و بے ادبی سے کچھ باتیں کہیں وہ مرشد زادہ قوم کا سید حسینی ہے اور ہندوستان کے مدرسہ عربی کا تعلیم یافتہ مولوی ہے اور اہل طریقہ میں قادریہ عالیہ ہے، حقیقت میں اس مرشد زادہ کا کچھ بھی خطا و قصور نہیں تھا جبراً اس شخص نے بہت لوگوں کے سامنے اس مرشد زادے کو بے ادبی اور حقارت سے باتیں کیں۔ اب ازروئے شرع دین متین اس شخص کو کیا حکم دیتے ہیں اب ایمان و نکاح میں کچھ خلل اس کا ہوگا یانہیں؟فقط۔
الجواب
بلاوجہ کسی مسلمان کو سخت و سست کہنا حرام ہے نہ کہ سید نہ کہ عالم نہ کہ اپنامرشد زادہ۔ صحیح حدیث میں ہے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںَ
من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ۔۲؎
جس نے کسی مسلمان کو ایذادی اس نے مجھے ایذا دی، جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲعزوجل کو ایذادی۔
(۲؎ المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ /۳۷۳)
دوسری حدیث میں ہے:ثلثۃ لایستخفف بحقھم الامنافق بین النفاق، ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط۔۱؎
تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ کرے گا مگر کھلا منافق ایک وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا دوسرا عالم تیسرا بادشاہ اسلام عادل۔
صورت واقعہ اگر یونہی ہے جیسے سوال میں مذکور ہوئی تو وہ شخص ضرور مرتکب کبیرہ ہوا، مگر اسلام و نکاح میں خلل نہیں کہہ سکتے جب تک کوئی خاص قول و فعل ان میں مخل صادر نہ ہوا ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۷: از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضاخاں صاحب ۴رجب ۱۳۳۹ھ
زید ایک شخص ہے جس کا نکاح بکر کی لڑکی ساتھ ہوا ہے، اب چند بچے پیدا ہونے کے بعد زید نے اپنی بیوی کی ہمشیرہ کے ساتھ یعنی حقیقی سالی کے ساتھ بھی عقد کرلیا ہے اور دونوں سے مراسم بیوی کی ادا کرتا ہے اور دونوں کی اولاد بھی ہے، اور زید قوم قصاب سے ہے، آیا ایسی حالت میں اس کو زانی کہہ سکتے ہیں یانہیں؟اور اس کے ہاتھ کا گوشت خرید نا چاہئے یانہیں؟اور اس کی موت میں شریک ہونا چاہئے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
وہ ضرور حرامکار ہے، اس سے گوشت خریدنا بلکہ سلام کلام کرنا ہی نہ چاہئے، موت اس کے عزیز و قریب کرلیں گے اوروں کو بلاضرورت شرکت کی حاجت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۸: مرسلہ محمدتقی مقام بکسر متصل اسٹیشن ریلوے بتوسط حاجی بخش صاحب ۲۹ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کو اوقاتِ مختلفہ میں ابلیس مردود کافر متعدد بار کہا، زید معمر ہے بکر نوعمر، بکر یوم جمعہ کو خطبہ جمعہ پڑھ رہا تھا، اثناءِ خطبہ میں کسی آیہ کریمہ میں غلطی ہوئی زید نے چلا کر بتایا، بکر نے اپنی غلطی کی اصلاح کر لی مگر زید نے اسی ساعت میں چلا چلا کر چند بار اپنی قرأت کرتا ہی رہا، پھر بعد فراغ نماز زید نے سب لوگوں کو ٹھہرایا اور کہنے لگا یہ مردود ابلیس ہمیشہ غلط پڑھتا ہے اورمجھے ذبح کردیا ہے، بکر نے سوائے سکوت کوئی جواب نہیں دیا، اور اگر زید موجود ہے تو بکر نماز پڑھانے کے لئے زید کو کہلائے مگر زید نہ پڑھائے، پھر بکر نے دوجمعہ پڑھا کر جواب دیا کہ وہ شخص جمعہ پڑھائے جس سے کوئی غلطی نہ ہو۔ مقتدیوں نے کہا تم ضرور پڑھاؤ تو مخالفت کا باعث معلوم ہوتا ہے اور ثابت بھی ہوگیا، بہر حال دوسرے امام مقرر کئے گئے چند دنوں بعد امام صاحب نے انتقال فرمایا اس کے بعد زید خود ہی نماز پڑھانے لگا، اس حالت میں زید کی امامت صحیح ہوگی یانہیں؟اور ان دونوں میں شرعاً کافر وابلیس کون ہوگا؟
الجواب
مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی مردود ابلیس کہنا سخت حرام ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
وہ لوگ جو مومن مرد اور عورتوں کو بلاوجہ اذیت دیتے ہیں تو بیشک انہوں نے بہتان اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳۳ /۵۸)
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذی مسلمافقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ۲؎۔
جس نے کسی مسلمانوں کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ کو ایذادی۔
(۲؎ المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ /۳۷۳)
اور مسلمانوں کو کافر کہنا تو ایسا سخت ہے کہ احادیث کثیرہ صحیحہ میں فرمایافقد باء بہ احدھما۳؎یہ بلادونوں میں سے ایک پر ضرور پڑے گی جسے کافر کہا اگر وہ وقع میں کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کہنا اسی کہنے والے پر پلٹ آئے گا،
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفراخاہ بغیر تأویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۱)
ولہذا امام اعمش وائمہ بلخ وغیرہم کثیر فقہائے کرام کا فتوی یہی ہے کہ جو مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہوجاتا ہے والصحیح فیہ تفصیل اوردنا ھافی فتاوٰنا(اورصحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے جس کو ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے)عین حالت خطبہ میں تصحیح بکر کے بعد بھی جو زید بار بار اپنی قرأت کرتا رہا یہ بھی حرام تھا،
قال اﷲ تعالٰی اذاقرئ القراٰن فاستمعوا لہ وانصتوالعلکم ترحمون۴؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ تم پررحم کیاجائے۔(ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۷ /۲۰۴)
زید اگر بلاوجہ شرعی ان الفاظ کا مرتکب ہواہے تو اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور بکر سے معافی چاہے ورنہ وہ فاسق معلن ہے اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔