Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
173 - 175
مسئلہ۲۷۶ :           ۱۸محرم الحرام۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص کسی عالم کی نسبت یا کسی دوسرے کی لفظ مردود کہے کہ وہ بیوقوف ہے کچھ نہیں جانتا اور الو ہے، تو اس شخص کی نسبت شرع شریف کیا حکم دے گی؟بینواتوجروا۔
الجواب

بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایسے الفاظ سے یادکرنا مسلمان کو ناحق ایذا دینا ہے اور مسلمان کی ناحق ایذا شرعاً حرام۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذٰی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ۲؎۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲعزوجل کو ایذادی (اس کو طبرانی نے اوسط میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
 (۲؎ المعجم الاوسط    حدیث ۳۶۳۲     مکتبۃ المعارف الریاض     ۴ /۳۷۳)
پھر علمائے دین متین کی شان تو نہایت ارفع واعلی ہے ان کی جناب میں گستاخی کرنے والے کو حدیث میں منافق فرمایا۔

ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط۱؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیرعن ابی امامۃ وابوالشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔

یعنی سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: تین شخص ہیں جن کا حق ہلکانہ جانے گا مگر منافق، ایک اسلام میں بڑھاپے والادوسرا عالم تیسرا بادشاہ اسلام عادل۔ (اس کو طبرانی نے کبیر میں حضرت ابوامامہ سے اور ابوالشیخ نے توبیخ کے باب میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت فرمایا ہے۔ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر     حدیث ۷۸۱۹عن ابی امامہ     المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۸ /۲۳۸)
ایساشخص شرعاً لائق تعزیر ہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۲۷۷:     ۱۸محرم الحرام ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مومن کہنا تخصیص رکھتا ہے قومِ نورباف سے یا عام امتِ محمدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے؟دوسرے یہ کہ اگر کوئی شخص براہِ طعنہ قوم مذکور کی نسبت مومن کہے تو اس کی نسبت کیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

الحمد ﷲ ہر مسلمان مومن ہے اور بعض بلادہند کے عرف میں اس قوم کو مومن کہنا شاید اس بناء پر ہو کہ یہ لوگ اکثر سلیم القلب حلیم الطبع ہوتے ہیں جن سے اور مسلمانوں کو آزار کم پہنچتا ہے، اور حدیث میں فرمایا کہ
المؤمنون من امن جارہ بوائقہ۲؎
مومن وہ ہے جس کے ہمسائے اس کی ایذاؤں سے امان میں ہوں۔
پھر یہ لفظ بطور طعن انہیں کہنا دوسری شناعت ہے ایک تو مسلمان کو اس کی نسبت یا پیشہ کے سبب حقیر جاننا دوسرے ایسے عظیم جلیل لفظ کو محل طعن میں استعمال کرنا، ایسے شخص کو چاہئے اﷲ تعالٰی سے ڈرے اور اپنی زبان کی نگہداشت کرے۔
اللّٰھم اھدنی والمسلمین انک انت ارحم الراحمین۔اٰمین.
واﷲ تعالٰی اعلم۔
اے اﷲ!مجھے اور تمام مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما بیشک تو رحم کرنے والوں سے بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ آمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۷۸:ازوڑنگر دایہ مہ  سانہ گجرات گاڑیکے دروازہ متصل مکان بنجارہ چاند مارسول مسئولہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب احمد آبادی ۲۲رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی مسلمان کے مال کا نقصان کرنا اور اس کی ہتک حرمت میں کوشش کرنا کیسا ہے؟
الجواب

اگر بلاوجہ شرعی ہے حرام قطعی ہے او ر وجہ شرعی سے ہے تو کوئی حرج نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۲۷۹:از شہر صدر بازار بریلی مسئولہ پیش امام جامع مسجد ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ

ایک شخص نماز پڑھنے سے انکار وحیلہ بہت سے کرتا تھا ہر چند اس کو برادرانہ طور بہت کچھ سمجھایا لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور لوگ اس کو پکڑنے کے واسطے گئے اس وقت وہ مسلمانوں کو لاٹھی لے کر مقابلہ کرنے کو آمادہ ہوا، لہذا دو مسلمانوں نے اس کے ہاتھ پکڑلئے، ایک شخص نے اس کو درے لگائے، لہذا وہ نماز پڑھتا ہے، پکڑنے کے وقت اس کے ہاتھ میں گھڑی بندی تھی وہ ٹوٹ گئی وہ مسلمانوں سے طلب کرتا ہے، اس کی گھڑی دی جائے یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب

تفہیم چاہئے، تنبیہ چاہئے، مارپیٹ کا وقت نہیں، اور اس کی گھڑی کی قیمت دی جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۰:از بریلی محہ بہاری پور مسئولہ اشفاق حسین طالب علم ۳ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید و عمرووبکر ایک مقام پر بیٹھے تھے، اتفاقاً ایک لڑکی اس راہ سے گزری، زید نے عمرو سے کہا یہ لڑکی تمہاری بہن ہے، عمرو نے زید کوجواب دیاکہ ہاں یہ لڑکی بہن ہے لیکن اے زید !یہ لڑکی تیری بہن ہے، اس پر زید نے عمرو سے کہا کہ میری بہن نہیں ہے بلکہ تیری  بہن ہے، عمرو نے زید سے کہا کہ جب ہم تم سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں تو ہم تم سب بھائی بہن ہیں بکر نے عمرو سے کہا کہ اس طرح تو کتے سور بھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں تو کتے اور سور بھی تمہارے بھائی بہن ہوئے، عمرو نے کہا کہ نہیں ان جانوروں کو اہل اسلام کے لوگ براسمجھتے ہیں، اس پر بکر بہت غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ نہیں سوراور کتے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں، اور مکررسہ کرر یہی الفاظ کہے یہاں تک کہ آپس میں جھگڑا ہونے لگا اور معاملہ طول ہوگیا۔ عرض یہ ہے کہ ان تینوں شخصوں کے واسطے کیاحکم ہے؟واجباً عرض کیا ہے۔
الجواب

عمرونے جو اس کے بہن ہونے سے انکار کیا اس پر کچھ الزام نہیں بلکہ وہ اگر غیر مسلمان تھی تو بہت اچھا کہ انکار کردیا زیدنے کہ اسے عمرو کی بہن کہا اس پرالزام نہیں اگر وہ لڑکی مسلمان تھی کہ مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں ہاں اگر وہ مسلمان نہ تھی تو برا کیا  کہ اسے مسلمان کی بہن ٹھہرایا، اور فقط اولادِ آدم علیہ السلام ہونا کافی نہیں کہ کافروں کا نسب خود حضرت سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منقطع ہے،
قال اﷲ تعالٰی انما المومنون اخوۃ۱؎، وقال تعالٰی انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا بیشک تمام مومن بھائی بہن ہیں، اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اے پیارے نوح (علیہ السلام) یہ آپ کی اہل میں نہیں وہ تو اپنے عمل والا نہیں ہے۔(ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم     ۴۹ /۱۰	)(۲؎ القرآن الکریم    ۱۱ /۴۶)
رہا بکر، اس نے سخت شدید شنیع بری بات کہی، اس کے قول سے نبی اﷲ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایک عیب لگتا ہے اس پر توبہ فرض ہے بلکہ کلمہ پڑھے تجدید اسلام کرے۔ ہاں اگر وہ لڑکی کافرہ تھی اور اس نے کتے سور سے مراد کافر لئے یعنی ان کی اولاد میں تو کافر بھی ہیں جو کتوں سوروں کے مثل ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں وہ ہمارے بھائی کیسے ہوسکتے ہیں، تو اس پر الزام نہ رہے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۱:ازدھاموں ڈاکخانہ دھاموں ضلع سیالکوٹ پنجاب روز دوشنبہ ۲صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

اگر زید اپنی حقیقی بھائی بکرکو کسی سازش سے ایک مجلس میں بآواز کلمہ طیبہ پڑھ کر کہے کہ تم میرے بھائی نہیں ہو، ایسی صورت میں زید پربموجبِ شرع شریف کچھ کفارہ لازم ہے اگر ہے تو کیا وکس قدر؟بینواتوجروا۔
الجواب

اگر اس کے بھائی نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ خلاف اخوت کیا جو بھائی بھائی سے نہیں کرتا تو اس پر اس کہنے میں الزام نہیں کہ اس نفی سے نفیِ حقیقت مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی ثمرہ، اور ایسا نہیں بلکہ بلاوجہ شرعی یوں کہاتوتین کبیروں کا مرتکب ہوا، کذبِ صریح وقطع رحم وایذائے مسلم،اس پر توبہ فرض ہے اور بھائی سے معافی مانگنی لازم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۲تا۲۸۴: معرفت مصطفی رضاخان صاحب بروز پنجشنبہ ۲۹صفر المظفر۱۳۳۲ھ
 (۱) بعض لوگوں کا قاعدہ ہے کہ مثلا کسی نے کہا کہ فلاں کے گھر چور ی ہوئی انہوں نے کہا کہ اچھا ہوا چوری ہوئی، پھر بعض دفعہ تو جو ظاہر کلام ہے ظاہر مرادہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ مرادہوتا ہے کہ چونکہ مثلاً مال رہنا مضر تھا یا اس کا انہیں غرور تھا لہذا اچھا ہوا چوری ہوگئی کہ غرور جاتا رہا یا مضردور ہوگیا دونوں تقدیروں پر یہ ممنوع چیز کو اچھا کہنا کیسا ہے؟

(۲) ایک شخص سے کوئی خلاف کلمہ نکلا بعد کو اس نے صراحۃ انکار کیا اور اس کا قبح تسلیم کرلیا یا اس کو چھوڑ کر اس کے مخالف حق کلمہ کا اقرار کیا آیا یہ توبہ ہوگئی یا ضرور ہے کہ لفظ توبہ کہے۔ 

(۳) ہمارے اعزہ میں سے ایک عورت نے اپنے شوہر سے ناراض ہوکر کہا نہ معلوم تمہیں فلاں کے مکان سے (نام لے کر) کیا عشق ہے،شوہر نے کہا خداجانے، اس پر عورت نے کہا کچھ بھی خداجانے نہیں ہے، اور اس کے بعد ایک اور جملہ کہا جو شاید یہ تھا کہ سب تمہارے حیلہ حوالے بیکار یہ ان بے پروائیاں ہیں، یہ جملہ کیسا ؟اس کا کیاحکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب

(۱) اس سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ سرقہ اچھی بات ہے جس سے حرام قطعی کا استحقاق بلکہ استحسان ہو کر معاذ اﷲ نوبت بہ کفر پہنچے بلکہ اس مسروق منہ کے نقصان مال کا استحسان سمجھا جاتا ہے اور یہی مقصود ہوتا ہے کہ کبھی براہ حسد ہوتا ہے اور حسد حرام ہے، اس صورت میں تو مطلقاً گناہ ہے، کبھی براہِ عداوت ہوتا ہے کہ دشمن کا نقصان دشمن کو پسند آتا ہے اس کا حکم اس عداوت کا تابع رہے گا اگر عداوت مذمومہ ہے یہ بھی قبیح ومذموم ہے اور اگر عداوت محمودہ ہے جیسے اعداء اﷲ سے دشمنی تو اس میں حرج نہیں جیسے
ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علٰی قلوبھم۱؎
 (اے ہمارے رب ! ان کے مال برباد کردے اور ان کے دل سخت کردے۔ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم ۱۰ /۸۸)
جب دعا سے اس کا نقصان چاہنا روا ہے توبعد وقوع اس پر خوش ہوناکیابیجا ہے، کبھی وہ صورت ہوتی ہے جو سوال میں مذکور ہے وہ اگر بہ نیت صحیحہ ہے تو غیر مخطور کہ یہ اس کے نقصان پر خوش ہونا نہیں بلکہ نفع پر۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۲)لفظ توبہ نہ ضرور نہ کافی جو قول بیجا صادر ہوا تھا اس پر ندامت اور اس سے نفرت واظہار برأت درکار ہے، السربالسروالعلانیۃ بالعلانیۃ (پوشیدہ سے پوشیدہ اور علانیہ سے علانیہ۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔

(۳) قائلہ کاہر گز یہ مقصود نہیں کہ باری عزوجل سے معاذاﷲ نفی علم کرے نہ زنہار ا سکے کلام سے سامع کا ذہن اسطرف جاسکتا ہے، بلکہ شوہر نے کہا تھا خداجانے یعنی کوئی چیز مخفی ہے جو مجھے معلوم نہیں یا جسے میں بتانا نہیں چاہتا اس نے کہا کچھ بھی خداجانے نہیں اسے اس ہولناک حکم سے کوئی تعلق نہیں نیز یہاں ایک اور دقیقہ ہے بفرض غلط نفی علم ہی مراد لیں تو معاذ اﷲ نفی مطلق کی ہر گز بوبھی نہیں بلکہ اس امر خاص سے یعنی اس کا کوئی سبب خفی اﷲ نہیں جانتا اور علم الٰہی سے کسی شئے کی نفی اس کے علم سے نفی ہے کہ واقع ہوتا تو ضرور علم میں ہوتا،
فکان من باب قولہ وجعلواﷲ شرکاء قد سموھم ام تنبؤنہ بمالم یعلم فی الارض۱؎۔
تو یہ اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کے باب سے ہوگا کہ انہوں نے اﷲ تعالٰی کے شریک بنائے فرمادیجئے ان کے نام بتائیے یا تم وہ خبر اس کو دیتے ہو جس کو اس نے روئے زمین پر نہ جانا۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۱۳ /۳۳)
ہاں ارسال لسان ہے جس سے احتیاط درکار، اور خود شوہر کے ساتھ بدزبانی بھی
 تکفرن العشیر۲؎
(عورتیں خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ت)میں داخل کرنے کوبس ہے توبہ چاہئےواﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الحیض ۱ /۴۴ وکتاب الزکوٰۃ ۱ /۱۹۷    قدیمی کتب خانہ کراچی)
Flag Counter