| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
وکتبت علیہ فی جدالممتار قولہ کما یدل علیہ مایأتی عن منیۃ المفتی ای فانہ لما اطلق فیھا الحکم بالقتل عن قید عدم الانزجار قید معیۃ المرأۃ بالزنا وھٰھنا الحکم مقید بعدم الانزجار فتکون المعیۃ مقید ابعدم الزنا کیلا یتعارضا ،
میں نے اس پر جدالممتار میں لکھا ہے قولہ کما یدل علیہ مایأتی عن منیۃ المفتی جس طرح کہ اس پر منیۃ المفتی کا آئندہ کلام دلالت کررہا ہے، کیونکہ جب انہوں نے قتل کے حکم کو باز نہ آنے کے علم کی شرط سے عام رکھا جبکہ عورت کے ساتھ ہونے کو زنا سے مقید کیا اور یہاں حکم کو باز نہ آنے کے علم سے مقید کیا تو عورت کے ساتھ معیت عدم زنا سے مقید ہوگی تاکہ دونوں باتیں متعارض نہ ہوں،
اقول ولایخفی علیہ مافی ھذہ الدلالۃ من البعد والنظر الی الخارج وابداء جمع بینہ وبین کلام اخر لیس منہ دلالۃ ھذاالکلام فی شیئ لاسیما وذلک الجمع غیر متبین ولامتعین لانتفاء التعارض بما افاد الشارح من حمل المطلق علی المقید ثم انما مبناہ علی ماسبق الی خاطرہ رحمہ اﷲ من التوفیق الاتی لہ وسیأتیک الکلام علیہ ولیس الامر کماظن بل اصل المسئلۃ للامام الفقیہ الھند وانی سئل عن رجل وجد مع امرأتہ رجلا ایحل لہ قتلہ قال ان کان یعلم انہ ینزجر عن الزنا بالصیاح والضرب بما دون السلاح لایحل وان علم انہ لاینزجر الابالقتل حل لہ القتل وان طاوعتہ المرأۃ حل لہ قتلھا ایضا اھ، ہندیۃ عن النھایۃ وعنہ اخذفی منیۃ المفتی فعبرعنہ بماتری وسنحقق انہ لایحل القتل فی الدواعی کالمس والتقبیل والعناق فکیف بمجرد الخلوۃ ولااعلم لہ رحمہ اﷲ تعالٰی سلفا فیہ وکیف یحل الاجتراء علی قتل مسلم باستظھار بعید تفرد بہ عالم فی ھذاالزمان من دون سلف ولابرھان بل علی خلاف اصول الشرع المزدان وقضیۃ نصوص ائمۃ الشان حتی نفس ھذاالرفیع المکان کما ستعرف بعون المستعان،
اقول(میں کہتا ہوں) اس دلالت کا بعید ہونا آپ پر مخفی نہیں ہے، اور اس سے خارج امور اور اس کلام اور دوسرے کلام کے درمیان جمع کی صورت واضح ہوجانے کو پیشِ نظر رکھا جائے تو اس کلام کی دلالت اس معاملہ میں بالکل نہیں ہے خصوصاً جبکہ یہ جمع و موافقت غیر واضح اور غیر معین ہوجائے اس سبب سے کہ شارح علیہ الرحمۃ نے اس تعارض کو ختم کرنے کے لئے مطلق کو مقید پر محمول کرنے کی وجہ کو بطور افادہ بیان کردیا ہے پھر ان کے خیال میں اس تطبیق کا مبنیٰ وہ توفیق و تطبیق ہے جو انہوں نے آئندہ ذکر فرمائی ہے، حالانکہ اس پر اعتراض آرہا ہے، لہذا معاملہ وہ نہیں ہے جو انہوں نے خیال فرمایا، بلکہ اصل مسئلہ امام ہندوانی کا پیش کردہ ہے، جب ان سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو بدفعلی کرتے پایا کہ کیا اسے اس مرد کو قتل کرنا حلال ہے؟تو جواب میں انہوں نے فرمایا کہ اگر خاوند کو یقین ہوکہ زانی شور مچانے یا پٹائی کرنے پر زنا سے باز آجائے گا تو قتل کرنا حلال نہ ہوگا اور اگر یقین ہوکہ قتل کے بغیر بازنہ آئے گا تو قتل کرنا حلال ہوگا، اور اگر بیوی اس مرد کے ساتھ راضی ہوتو اس کو بھی قتل کرنا حلال ہے اھ، یہ ہندیہ میں نہایہ سے منقول ہے، اور نہایہ سے ہی منیۃ المفتی میں نقل کیا لیکن جس طرح انہوں نے تعبیر کی وہ آپ کے سامنے ہے، اور ہم عنقریب ثابت کریں گے کہ ایسی صورت میں محض زنا کی دواعی مثلاً چھونے، بوسہ لینے یا معانقہ کرنے کی وجہ سے قتل کرنا حلال نہیں ہے چہ جائیکہ محض خلوت نشینی کی وجہ سے قتل حلال ہو،ا ور مجھے ان سے پہلے اس بارے میں کسی کا قول معلوم نہیں ہوا، تو اس زمانے کے ایک عالم کے متفرد قول کی بناء پر کسی مسلمان کے قتل پر کیسے جرأت کی جاسکتی ہے جبکہ اس قول کی وجہ بھی بعید ہو اور پہلے بھی کسی نے یہ بات نہ کی ہو اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل ہو بلکہ اصول شرع اور عظیم الشان ائمہ کرام کی نصوص کے خلاف ہوحتی کہ خود ان کے اپنے موقف کے خلاف ہو، جیسا کہ آپ کو عنقریب معلوم ہوجائے گا،
قولہ اذالم یستطع منعہ الابالقتل اقول ھذاایضا نص فی امتناع القتل اذاامکن المنع بغیرہ خلافا لما اٰثرتم وقولکم والالم تکن مکرھۃ لااثر لہ لان غایۃ المطاوعۃ ان تکون مرتکبۃ لعین المنکر وھذاالقتل من ازالۃ المنکر ومرتکب منکر لاینھی عن نھیہ غیرہ منہ لانہ ماموربشیئین الامتناع والمنع، فان فوت احدھما لایسقط عنہ الاٰخر وارتکاب احدمعصیۃ لاتبیح لہ معصیۃ اخری بل ھذاالقتل فی حق المرأۃ نھی وانتھاء معافکانت اولی باباحہ وظھران التصویر بالاکراہ صدروفاقا،
قولہ اذالم یستطع منعہ الابالقتل،
جب قتل کے بغیر منع کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اقول (میں کہتا ہوں) یہ خود اس بات میں نص ہے کہ اگر کسی اور طریقہ سے روکنا ممکن ہو تو قتل ممنوع ہے، اور یہ کہناکہ ورنہ مکرہہ(مجبور) نہ قرار پائی گئی، بے فائدہ ہوگا، کیونکہ نہ ہونے کا مطلب موافق رہنا اور موافقت اور رضامندی کا نتیجہ یہ ہے کہ اس گناہ میں خود شریک ہوگی، جبکہ عورت کا مرد کو یہ قتل کرنا گناہ اور برائی کا مرتکب اور اس میں مبتلا ہو اس کے منع کرنے سے دوسرا اس برائی سے نہیں رکتا، کیونکہ برائی سے روکنے کےلئے دو چیزوں کا مامور بننا ہوتا ہے ایک یہ کہ خود برائی سے باز رہے اوردوسرا یہ کہ اس برائی سے دوسرے کو منع کرے، اور ان دونوں چیزوں میں سے ایک کے فوت ہوجانے پر دوسرے کا ساقط ہونا لازم نہیں ہے اور ایک گناہ کے ارتکاب سے دوسرے گناہ کا ارتکاب مباح نہیں بنتا، بلکہ یہاں عورت کا اس مرد کو قتل کرنا گناہ سے روکنا اور خود کو باز رکھنا دونوں چیزیں ہیں، تو یہ قتل بدرجہ اولٰی مباح ہوگا، تو ظاہر ہوا کہ جبرواکراہ کی صورت کا بیان محض اتفاق ہے،
قولہ ویاتی الکلام علیہ اقول ویاتی الکلام علیہ قولہ فلہ قتلہ مطلقا اقول وانما القصدازالۃ المنکر فاذا حصل بالادنی تعین کما افادہ الامام الفقیہ ابوجعفر واعتمدہ المعتمدون وتقدم عن شرح الوھبانیۃ وسینقلہ المحشی عن ابن وھبان وسیمشی علیہ بنفسہ قولہ ویدل علیہ عبارۃ المجتبٰی الاتیۃ، ای شرحا حیث اطلق فی الزنا ان لہ القتل ولم یقید بشیئ اقول وفیہ ماذکر الشارح ان المطلق یحمل علی المقید وکیف یرد اطلاق المجتبٰی علی تقیید المعتمدات وحمل المطلق علی المقید جادۃ واضحۃ بخلاف الغاء القید، قولہ فی الحاوی الزاھدی مایؤیدہ ایضا اقول بل یخالفہ فانہ جعل لہ القتل مطلقا فی الدواعی وانتم تخصصونہ بالزنا،
قولہ یاتی الکلام علیہ اس پر اعتراض ذکر ہوگا، اقول (میں کہتا ہوں) آپ کے اعتراض پر اعتراض ذکر ہوگا،قولہ فلہ قتلہ مطلقا تواس کوقتل کرنامطلقاً جائز ہوگا، اقول(میں کہتا ہوں) مقصد تو برائی کا ازالہ ہے، تو جب یہ ازالہ قتل کے بغیر کسی ادنیٰ طریقہ پر ممکن ہوتو وہ ادنیٰ طریقہ اس کے لئے متعین قرار پائے گا جیسا کہ امام فقیہ ابوجعفر نے یہ فائدہ بیان فرمایا اور اسی پر اعتماد کرنے والوں نے اعتماد کیا ہے، اور شرح وہبانیہ سے منقول ہوچکا ہے اور محشی بھی اس کو عنقریب ابن وہبان سے نقل کریں گے اور وہ خود اس کو اپنائیں گے، قولہ یدل علیہ عبارۃ المجتبٰی یعنی مجتبٰی کی آئندہ عبارت بطور شرح آئیگی جہاں وہ زنا کے متعلق قتل کو مطلق بیان کریں گے اور قتل کو کسی شرط سے مقید نہ کریں گے اقول(میں کہتا ہوں) اس میں اعتراض ہے کہ شارح نے یوں بیان فرمایا کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، اور معتمد علیہ کتب کی بیان کردہ قید کے باوجود مجتبیٰ کا اطلاق کیسے وارد ہوگیا حالانکہ واضح طریقہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتاہے جبکہ قید کو لغو بنانا اس کے خلاف ہے، قولہ فی الحاوی الزاھدی مایؤیدہ ایضا حاوی زاہدی کا بیان بھی اس کی تائید کرتا ہے اقول(میں کہتاہوں) بلکہ وہ تو اس کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے دواعی زنا میں بھی قتل کو مطلق جائز رکھا ہے جبکہ تم اس کو زنا سے ہی مخصوص کرتے ہو،
قولہ او یقبلھا الخ اقول لم یشرع اﷲ تعالٰی فی الدواعی القتل ولیست السیاسۃ لغیر الامام بل لیست الدواعی الاالصغائر ولیس القتل سیاسۃ للامام ایضا الافی جنایۃ عظمت وفحشت کمامر قبیل باب وطئ یوجب الحدان اللوطی والسارق والخناق اذا تکرر منھم ذٰلک حل قتلھم سیاسۃ اھ فلم یکتف فی تلک العظائم ایضا بمجرد صدورھا بل قید حل القتل بتکررھا وسیأتی ان الشارح اطلق اباحۃ القتل فی جمیع الکبائر فقیدہ المحشی بماکان منھا متعدی الضرر وھو الحق الواضح ان شاء اﷲتعالٰی ولم ینقل عن السلف قتل کل من اتی کبیرۃ فضلا عن الصغیرۃ ولواسیع القتل فی الصغائر وجعل ذٰلک الی العامۃ لاتسع الخرق وفشاالقتل فی المسلمین والعیاذ باﷲ تعالٰی فای یوم لاتری جھلا من الناس علی شیئ من الصغائر فقتل کل من تراہ وھذا لیس من حکم اﷲ فی شیئ فلاشک ان مافی الحاوی مردود واﷲ الموفق کیف وھو من الزاھدی المعتزلی المعروف بجمع کل غث وسمین الغیر الموثوق بنقلہ ایضا الغیر المعتمد علیہ فی روایۃ ولادرایۃ کما صرح بہ ارباب الدرایۃ،
قولہ او یقبلھا الخ یا وہ عورت کا بوسہ لے رہا ہو اقول (میں کہتا ہوں) اﷲ تعالٰی نے زنا کے دواعی میں قتل کو مشروع نہیں فرمایا، اور نہ ہی امام کے غیر کوسیاسی قتل روا رکھا ہے بلکہ دواعی تو صرف صغیرہ گناہوں میں سے ہے حالانکہ امام کو صرف کسی بڑی جنایت اور فحش گناہ میں سیاسۃً قتل کرنا جائز ہوتا ہے جیسا کہ ایسی وطی جس سے حد لازم ہوتی ہے، کے باب سے تھوڑا پہلے گزرا ہے کہ لوطی، چور اور پھندا ڈالنے والا، یہ لوگ جب بار بار کارروائیاں کریں تو ان کو سیاسۃً قتل کرنا حلال ہے اھ۔ تو ان عظیم کارروائیوں پر بھی محض ان کے صدور پر نہیں بلکہ ان کے تکرار پر قتل کو حلال کہا، اور عنقریب آئے گا کہ شارح نے تمام کبیرہ گناہوں کے متعلق سیاسۃً قتل کو مباح کہا تو خود محشی نے اس کو ایسے گناہ سے مقید کیا جس کا ضرر متعدی ہو،۔اور یہی واضح حق ہے ان شاء اﷲ تعالٰی، جبکہ اسلاف سے ہر کبیرہ گناہ کے مرتکب کے متعلق قتل منقول نہیں ہے چہ جائیکہ کسی صغیرہ گناہ پر قتل منقول ہو، اور اگر صغائر کے متعلق بھی قتل کو جائز قرار دے دیا جائے اور عوام کو یہ اختیار دیا جائے تو پھر امن تہ وبالا ہوجائے اور مسلمانوں میں قتلِ عام شروع ہوجائے، والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ بتائیے لوگوں کی جہالت سے صغائر سے کوئی دن خالی ہے تو کیا ہر ایک مرتکب صغیرہ قتل کیا جائے حالانکہ یہ کہیں بھی اﷲ تعالٰی کا حکم نہیں ہے تو بیشک حاوی زاہدی کا بیان مردود ہے، اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق حق عطا فرماتا ہے، یہ کیسے صحیح ہو جبکہ یہ زاہدی معتزلی جو کہ ثقہ اور غیر ثقہ ہر قسم کی روایات کو نقل کرنے میں بھی مشہور ہے او رروایت اور درایت کے لحاظ سے غیر معتمد علیہ باتوں کو نقل کردیتا ہے جیسا کہ ارباب درایت نے اس کی تصریح فرمائی ہے،
قولہ فھذا صریح اقول ای صراحۃ فیہ بل تقییدہ بالخوف المذکور بما یؤید التقیید السابق فان مثل التمرد لاینزجر بالزجر قولہ یفید صحۃ اقول قدمنا قررناہ اقول قد علمت مافیہ قولہ فلایقتضی اشتراط العلم اقول بلی یقتضیہ لان مراد الشارع ازالۃ المنکرات المظلمۃ لااھلاک النفوس المسلمۃ فاذا حصلت بدونہ وجب قصرالید عنہ،
قولہ فھذا صریح اقول(میں کہتا ہوں) اس میں کون سی صراحت ہے بلکہ اس میں تو قید کی صراحت ہے کہ کسی طرح خوف دلانے سے باز نہ آئے، جیسا کہ سابقہ قیدکا بیان اس کی تائید کررہا ہے کہ سرکش آدمی باز رکھنے کی کوشش سے باز نہیں آتا، قولہ یفید صحۃ اقول(میں کہتا ہوں) اس میں اعتراض ہے جس کو ہم نے پہلے بیان کردیا ہے، قولہ قد علمت مماقررناہ ہماری بیان کردہ تقریر سے آپ کو معلوم ہوگیا، اقول (میں کہتا ہوں) اس میں جو کمزوری ہے وہ آپ کو معلوم ہوچکی ہےقولہ فلایقتضی اشتراط العلم تووہ علم کی شرط کا مقتضی نہ ہوا، اقول (میں کہتا ہوں) بلکہ یہ علم کی شرط کا تقاضا کرتی ہے،کیونکہ شارع کی مراد ظالمانہ کارروائیوں سے دفاع ہے نہ کہ مسلمانوں کی جانوں کو ہلاک کرنا، تو جب قتل کے بغیر دفاع ممکن ہو تو قتل سے بازرہنا ضروری ہے،
قولہ حیث تعین القتل طریقا اقول ھذاایضا نص فی اشتراط القید المذکور وقد عادالمحشی رحمہ اﷲ تعالٰی بنفسہ الی الصواب اذاقال علی قول الشرح وعلی ھذالقیاس المکابر بالظلم وقطاع الطریق وصاحب المکس وجمیع الظلمۃبادنی شیئ لہ قیمۃ وجمیع الکبائر والاعونۃ والسعاۃ یباح قتل الکل ویثاب قاتلھم اھ نصہ قولہ والا عونۃ والسعاۃ عطف تفسیر او عطف خاص علی عام فیشمل کل من کان من اھل الفساد کالساحر وقاطع الطریق واللص واللوطی والخناق ونحوھم ممن عم ضررہ ولاینزجربغیر القتل اھ فقد اذعن بالتقیید وھو الحق السدید ولیس الزنا بافحش من ھاتیک الافا عیل فما صرح بہ الائمۃ فعلیہ الاعتماد والتعویل۱؎، ھذا ماکتبت علیہ فانظرہ متأملا متدبراوالحمدﷲ اولاً واٰخرًا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قولہ حیث تعین القتل طریقا جہاں ازالہ برائی کا طریقہ قتل متعین ہے اقول (میں کہتا ہوں) یہ بھی مذکور قید کی شرط ہونے میں نص ہے اور محشی خود بخود درستی کی طرف لوٹ آئے ہیں، جب انہوں نے شرح کی اس عبارت (اسی قیاس پر ہے جو اعلانیہ چیز کو چھین لے، ڈاکو، ظالمانہ ٹیکس وصول کرنیوالا اور ہر ظالم جو کمتر قیمت والی چیز کو ظلم سے چھین لے اور جو ظالم مرتکب کبیرہ کے ہوں اور انکے اہلکار اور چغلخور ایسے تمام لوگوں کا قتل مباح ہے اور انکا قاتل ثواب کا مستحق ہوگا،اھ۔)پر فرمایا کہ الاعونۃ، والسعاۃ، اہل کار اور عہدیدار، کا ذکر عطف تفسیری ہے یا عام پر خاص کا عطف ہے لہذایہ قول تمام اہل فساد مثلاً جادوگر، ڈاکو، چور، لوطی اور گلادبا کر ہلاک کرنے والا وغیرہ سب کو شامل ہے جن کا ضرر معاشرہ میں عام ہو اور وہ قتل کے بغیر باز نہ آئیں اھ،تو اس بیان میں انہوں نے مذکور قید پر جزم کیا ہے اور یہی درست اور حق ہے جبکہ زنا ان مذکور امور سے زیادہ فاحش ضرر نہیں ہے، توائمہ کرام نے جوتصریح فرمائی ہے وہی قابلِ اعتماد و تسلیم ہے۔ یہ میرا حاشیہ ہے اس کو غور اور تدبر سے ملاحظہ کرو، اﷲ تعالٰی کے لئے ہی اول وآخر حمد ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
( ۱؎ جدالممتار علی ردالمحتار)