فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
170 - 175
مسئلہ۲۷۵:از ڈیرہ غازی خاں بلاک۱۲مرسلہ مولوی احمد بخش صاحب۲۱ذی القعدہ۱۳۳۹ھ
حضرت ملک العلماء والفضلاء ثقتی ورجائی ادام اﷲتعالٰی ظلہ علیٰ رؤس المستفیضین، نیاز بے انداز وشوق زیارت کے بعد جن کاکوئی حداندازہ نہیں۔ گزارش اس پہاڑی علاقہ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ زانی ومزنیہ کو زنا کی حالت میں قتل کرڈالتے ہیں، اور بعض واقعات یہ ہیں کہ جب ان کے نزدیک عورت کا کسی بیگانہ کے ساتھ بیٹھتا ہوا یا آتاجاتا ہوا دیکھتے ہیں تو پہلے چند مرتبہ اسے منع کرتے ہیں اور اس کے باز نہ رہنے کے بعد اس عورت کو قتل کردیتے ہیں اور اگر کرسکتے ہیں تو اس شخص بیگانہ کو بھی نہیں چھوڑتے، بموجب شرع شریف ان دونوں صورتوں میں قاتل گنہگار ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
جناب مولٰنا المکرم ذی الفضل الاتم والمجدد الکرم دامت مکارمہ، اس سلسلہ میں اضطراب کثیر ہے اور وہ جو فقیر کو کتب معتمدہ دلائل شرعیہ سے تحقیق ہوا یہ ہے کہ صورت ثانیہ میں ان مرد وزن کا قتل محض حرام ہے، فقط آنے جانے اٹھنے بیٹھنے کی سزا شریعت نے بھی قتل نہ رکھی، نہ اس قدر خلوت کو مستلزم، اور حق یہ کہ مجرد خلوت بلکہ دواعی پر بھی شرع مطہر نے قتل نہ رکھا، اور سیاست کا اختیار غیر سلطان کو نہیں بلکہ سلطان کو بھی علی الاطلاق نہیں کل ذٰلک معلوم من الشرع بلاخفاء(یہ سب کچھ شرع سے بلاخفاء معلوم ہے۔ت)
لاجرم یہ ناحق قتل مسلم ہوا اور وہ سخت کبیرہ شدیدہ ہے اور قاتل پر قصاص عائد۔ صورتِ اولیٰ میں بھی حکم مطلق نہیں بلکہ واجب کہ پہلے زجر و ضرب و قہر کریں، اگر جدا ہوجائیں تو اب عامہ کو اس کا قتل حرام ہے، ہاں شہاداتِ اربع گزریں یا مروجہ شرعی چار مجلسوں میں چار اقرار ہوں، تو ان میں جو محصن ہو سلطان اسے رجم فرمائے گا، نہایہ امام سغناقی پھر عالمگیریہ میں ہے:
سئل الھندوانی رحمہ اﷲ تعالٰی عن رجل وجد مع امرأتہ رجلا ایحل لہ قتلہ قال ان کان یعلم انہ ینزجر عن الزناء بالصیاح والضرب بمادون السلاح لایحل وان علم انہ لاینزجر الابالقتل حل لہ القتل وان طاوعتہ المرأۃ حل لہ قتلھاایضا۱؎کذافی النھایۃ۔
امام ہندوانی سے سوال کیاگیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو بدفعلی کرتے ہوئے موقعہ پرپائے تو اس کو جائز ہوگا کہ اس غیر مرد کو موقعہ پر قتل کردے؟تو آپ نے جواب میں فرمایا اگر خاوند کو یقین ہوکہ یہ زانی شورمچانے یا پٹائی کرنے سے باز آجائے تو قتل کرنا حلال نہ ہوگا اور اگر خاوند کو یقین ہو کہ ڈانٹ ڈپٹ سے باز نہ آئے گا بلکہ قتل ضروری ہے تو قتل کرنا حلال ہوگا اور اگر بیوی کی مرضی اس میں شامل ہے تو اس کو بھی قتل کرنا حلال ہوگا جیسا کہ نہایہ میں ہے۔(ت)
( ۱؎ فتاوٰی ہندیہ فصل فی التعزیر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۱۶۷)
اور اگر نہ مانیں تو اس صورت میں اگرچہ زانی کو مطلقاً اور عورت کو بھی اگر مکرمہ نہ ہوصرف عین حالتِ اشتغال میں نہ بعد اس سے فراغ کے قتل ازالہ منکر ہے اور اس کے لئے سلطان ہونا شرط نہیں۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من راٰی منکم منکرافلیغیرہ بیدہ۲؎الحدیث۔
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جو تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے روکے۔ الٰی آخر الحدیث۔ (ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۱)
پھر ہندیہ میں ہے:
قالوالکل مسلم اقامۃ التعزیر حال مباشرۃ المعصیۃ بعد المباشرۃ فلیس ذٰلک لغیر الحاکم قال فی القنیۃ رأی غیرہ علی فاحشۃ موجبۃ للتعزیر فعزرہ بغیراذن المحتسب فللمحتسب ان یعزر المعزران عزرہ بعد الفراغ منھا۳؎۔
فقہاء نے فرمایا: گناہ میں مصروف کو روکنے کے لئے ہر مسلمان کوتعزیر کاحق ہے، لیکن گناہ سے فراغت کے بعدکسی پر تعزیر لگانا صرف حاکم کا حق ہے۔ قنیہ میں فرمایا: کسی غیر کو ایسے گناہ میں مصروف پایا جس پر تعزیر واجب ہوسکتی ہے تو محتسب کی اجازت کے بغیر لگائی تو جائز ہے اور اس گناہ سے فراغت کے بعد تعزیر لگانے والے کو محتسب چاہے تو تعزیر لگا سکتا ہے۔(ت)
(۳؎ فتاوی ہندیہ فصل فی التعزیر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۱۶۷)
مگر یہ امر فیما بینہ وبین اﷲ ہے حاکم نہ مانے گا اور جب تک بینہ عادلہ سے ثبوت نہ دے اسے قتل کریگا یا اگر مقتول معروف و مشہور بخباثت وشرور وعادت زنا و فجور ہے قاتل سے اس کاخوں بہالے گا۔
درمختارمیں ہے:
الاصل ان کل شخص رأی مسلمایزنی ان یحل لہ قتلہ وانما یمتنع خوفا من ان لایصدق انہ زنی۴؎۔
قاعدہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو زنا میں مصروف پائے تو ہر شخص کو اسے قتل کرنا حلال ہے،اور اس خوف سے کہ قتل کے بعد قاضی کے ہاں اس کا زنا ثابت نہ کرسکے گا قتل سے باز رہے۔(ت)
(۴؎ درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۶)
ردالمحتارمیں ہے:
عزاہ بعضھم ایضاالی جامع الفتاوٰی وحدود البزازیۃ وحاصلہ انہ یحل دیانۃ لاقضاء فلایصدقہ القاضی الاببینۃ، ولاظاہر انہ یأتی ھنا التفصیل المذکور فی السرقۃ وھو مافی البزازیۃ وغیرہا ان لم یکن لصاحب الداربینۃ فان لم یکن المقتول معروفا بالشروالسرقۃ قتل صاحب الدار قصاصًا وان کان متھما بہ فکذٰلک قیاساوفی الاستحسان تجب الدیۃ فی مالہ لورثۃ المقتول لان دلالۃ الحال اورثت شبھۃ فی القصاص لافی المال۱؎۔
اس بات کو بعض نے جامع الفتاوی اور بزازیہ کے باب الحدود کی طرف بھی منسوب کیا ہے، اور اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ بات دیانۃً جائز ہے قضاءً نہیں، لہذا قاضی زنا کو بغیر گواہی کے تسلیم نہ کرے گا، اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں وہ تفصیل مرا د ہوگی جو سرقہ کے باب میں بیان ہوئی ہے اور وہ بزازیہ وغیرہ میں یوں ہے(گھر والے نے چور کو موقعہ پر قتل کردیا) تو گھر والے کے پاس چوری پر گواہ نہ ہوں اور وہ مقتول جرائم اورچوری میں مشہور بھی نہ ہو تو قاضی قاتل کو قصاص کے طور پر قتل کرے گا، اور مقتول چوراگر چوری میں مشہور ہے تو قیاس پھر بھی یہی حکم کرتا ہے جبکہ استحسان یہ ہے کہ اس صورت میں گھر والے قاتل کو قتل کی بجائے دیت لازم ہوگی جو مقتول کے ورثاء کو دینی ہوگی کیونکہ موقعہ نے قصاص کے متعلق شبہہ پیدا کیا جس کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے گا لیکن مالی سزا یعنی دیت میں شبہہ پیدا نہ کیا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۸۰)
یہ ہے وہ جو فقیر کے نزدیک منقح ہوا۔
وھاانا اذکر لکم فی الدرالمختار وماعارضہ بہ فی ردالمحتار و ماتکلمت علیہ فی جدالممتار لیتجلٰی الامر جلاء النھار وما توفیقی الابالعزیز الغفار قال فی تنویر الابصار والدرالمختار (ویکون) التعزیر(بالقتل)کمن وجد رجلا مع امرأۃ لاتحل لہ، ولواکرھھا فلھا قتلہ ودمہ ھدر وکذاالغلام وھبانیۃ (ان کان یعلم انہ لاینزجر بصیاح وضرب بما دون السلاح والا) بان علم انہ ینزجر بما ذکر(لا) یکون بالقتل (وان کانت المرأۃ مطاوعۃ قتلھما) کذاعزاہ الزیلعی للھندوانی ثم قال(و)فی منیۃ المفتی (لوکان مع امرأتہ و ھو یزنی بھا او مع محرمہ وھما مطاوعان قتلھما جمیعا) اھ واقرہ فی الدررقال فی البحرومفادہ الفرق بین الاجنبیۃ لایحل القتل الا بالشرط المذکور من عدم الانزجار المزبور وفی غیرھا یحل (مطلقا) اھ،
اور اب میں آپ کو درمختاراور اس پر ردالمحتار نے معارضہ پیش کیا اور پھر میں نے جدالممتار میں جواس پر کلام پیش کیا ہے، پیش کرتا ہوں تاکہ روز روشن کی طرح معاملہ واضح ہوجائے جبکہ مجھے صرف اﷲ تعالٰی سے توفیق حاصل ہوئی، تنویر الابصار اور درمختار میں فرمایا: (تعزیر کے طور پر قتل کی صورت یہ ہے) مثلاًایک شخص نے کسی مرد کو غیر محرم کے ساتھ پایا تو اگرعورت سے جبراً زنا کررہا ہوتواس عورت نے زانی کو موقعہ پر قتل کردیا یا لڑکے سے جبراً بدفعلی کرتے ہوئے لڑکے نے اس کو قتل کردیا ہوتو یہ قتل مباح ہوا اور اس کا خون معاف ہے، وہبانیہ۔ بشرطیکہ قتل کرنے والے کو یقین ہو کہ یہ شور مچانے یا ہتھیار سے کم کی ضرب سے باز نہ آئے گا، (ورنہ) اگر معلوم ہو کہ مذکورہ کو شش سے باز آجائیگا تو پھر(روانہیں)یعنی باز کرنے کے لئے قتل مباح نہیں ہے اور اگر (مرد کے ساتھ عورت بھی مرضی سے مبتلائے زنا ہو تو موقعہ دیکھنے والادونوں تو قتل کردے) اس کو زیلعی نے ہندوانی کی طرف ایسے ہی منسوب کیا ہے، پھر کہا(اور) منیۃ المفتی میں ہے(اگر اس کی بیوی کے ساتھ کوئی زنا میں مصروف ہے یا اس کی محرمہ عورت کے ساتھ مصروف زنا ہے اور دونوں کی مرضی شامل ہے تو (دونوں کو قتل کردے)اھ، اور اس بات کو درر میں ثابت رکھا ہے، اور بحرمیں فرمایا کہ اس بحث کا مفاد یہ ہے کہ اجنبی عورت اور اپنی بیوی یا محرمہ عورت میں فرق ہے کہ اجنبی عورت کے ساتھ مصروف زنا پائے تو مذکورہ شرط کہ شور یا ہتھیار کے بغیر باز نہ کے بغیر قتل حلال نہ ہوگا، اور اجنبی عورت کے غیر یعنی بیوی یا محرمہ عورت کی صورت میں قتل حلال ہے(مطلقا) اھ،
وردہ فی النھر بما فی البزازیۃ وغیرہا من التسویۃ بین الاجنبیۃ وغیرھا ویدل علیہ تنکیر الھندوانی للمرأۃ، نعم مافی المنیۃ مطلق فیحمل علی المقید لیتفق کلامھم، ولذا جزم فی الوھبانیۃ بالشرط المذکورمطلقا وھو الحق بلاشرط احصان لانہ لیس من الحد بل من الامر بالمعروف وفی المجتبی الاصل ان کل شخص رأی مسلما یزنی انہ یحل لہ قتلہ وانما یمتنع خوفا من ان لایصدق انہ زنی۱؎
اور اس کو نہر میں بزازیہ وغیرہ کے بیان پر کہ تمام عورتوں یعنی اجنبی اور غیر اجنبی کا معاملہ مساوی ہے، ردکیا ہے۔ اور اس پر ہندوانی کے بیان میں عورت کو نکرہ ذکر کرنا بھی دلالت کرتا ہے کہ کوئی عورت ہو،اگرچہ منیۃ المفتی میں اطلاق ہے، تو اس مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا تاکہ سب کا کلام متفق قرارپائے، اسی لئے وہبانیہ نے مذکورہ شرط کا مطلقاً جزم کیا ہے اوریہی حق ہے اس قتل میں کسی کا شادی شدہ ہونا شرط نہیں کیونکہ یہ موقعہ کا قتل حد نہیں بلکہ امر بالمعروف کی صورت ہے، اور مجتبی میں ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو زنا میں مصروف پائے تو اس کو قتل کرنا حلال ہے لیکن بعد میں زنا ثابت نہ کرسکنے کے خوف سے قتل نہ کرے۔
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۶)
وکتبت علیہ فی جدالممتار قولہ وفی غیرھا یحل اقول المقصود ازالۃ المنکر ومھما حصل بغیر القتل تعین ذٰلک الغیر ولیست السیاسۃ لغیر الامام والقتل فی الزوجۃ والمحرم دون الاجنبیۃ لایکون الاانتصارالنفسہ وازالۃ المنکرﷲ عزوجل ولافرق فیہ بین الاجنبیۃ وغیرہا فالکل اماء اﷲ تعالٰی علی السواء وفیہ حدیث سعد بن عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ونھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاہ عن القتل فالحق عندی التسویۃ بین النساء و التقیید لعدم الانزجار بغیر القتل مطلقاکما مشی علیہ الشارح المدقق متابعا للعلامۃ مدقق عمروبن نجیم رحمہم اﷲ تعالٰی۔
میں نے تنویر اور در کی اس عبارت پر جدالممتار میں یہ لکھا ہے قولہ کہ غیراجنبی عورت میں حلال ہے اقول(میں کہتا ہوں) مقصود تو برائی کا ازالہ کرنا ہے تو جب تک قتل کے بغیر ازالہ ممکن ہو تو یہ غیر قتل کی صورت متعین قرار پائے گی، جبکہ سیاسۃً قتل کرنا امامِ وقت کے غیر کے لئے جائز نہیں ہے،اور بیوی اور محرمہ کے معاملہ میں قتل کرنا تو اپنے مفاد کے لئے ہے جبکہ برائی کا ازالہ اﷲ تعالٰی کی رضا کے لئے ہوتا ہے اس معاملہ میں اپنی اور اجنبی عورت برابر ہیں، تما م عورتیں اﷲ تعالٰی کی باندیاں ہونے میں برابر ہیں، اس حکم میں مساوات کے بارے میں سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے کہ ان کوحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قتل سے منع فرمایا: تو میرے نزدیک اجنبی اور غیر اجنبی عورت کا معاملہ مساوی ہے لہذا قتل کے جواز کے لئے قتل کے بغیر باز نہ آنے والی شرط عام ہےجیسا کہ اس کو شارح نے علامہ مدقق عمرو بن نجیم کی پیروی میں سب میں جاری مانا ہے رحمہم اﷲ تعالٰی۔
قولہ ویدل علیہ تنکیر الھندوانی للمرأۃ اقول بل ھو نص جوابہ فانہ انما سئل عمن وجدمع امرأتہ رجلا کما فی الھندیۃ عن النھایۃفشمل الحکم المحارم بدلالۃ المساواۃ والاجنبیۃ بدلالۃ الاولویۃ فالتنکیر من الناقلین عنہ ما معنی۱؎اھ ماکتبت علیہ۔
قولہ اس پر ہند وانی کا عورت کو نکرہ ذکر کرنا دلالت کرتا ہے اقول(میں کہتا ہوں) بلکہ انہوں نے اپنے جواب میں اس کو نصًا ذکر کیا ہے کیونکہ ان سے سوال یہ ہوا تھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو مصروف زنا پائے، جیسا کہ ہندیہ میں نہایہ سے منقول ہے تو ان کے جواب کا حکم محرمہ عورت کو بیوی کی مساوات سے اور اجنبی عورت کو اولویت کی وجہ سے سب کو شامل ہوا تو ہندوانی کے جواب کو نقل کرنے والوں کی تنکیر کا کوئی معنیٰ نہیں ہے۔ میرا حاشیہ ختم ہوا۔(ت)