فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
17 - 175
پانزدہم: ایرادات قاہرہ بریں تفرقہ باہرہ در کلماتِ زائرہ ملک العلماء بحر العلوم قدس سرّہ مطالعہ کن غرض بالقدر مایتعلق بالمقام این ست کہ احمد علی زنِ خود را گفت اگر نماز نخوانی ترادو طلاق پس بالبداہۃ مقصود اونمازے ست کہ خواندن وگزاردن وادا نمودن در خارج برروئے کار آوردن را شایاں بود نہ نمازے کہ وجود ش محض ذہنی واعتباری باشد وقابلیت ایقاع وادا اصلاندارد پس محال ست انچہ گفتہ کہ مراد در ینجا
شانزدہم: ہنگام تحقق شرط بر عدم حنث نہ خفائے داشت کہ محتاج بہ نقل بودے فاما مجتہد دیوبند کمال سلیقہ خودر را در جلوہ دادن خواست وعبارت عالمگیری الاصل ان الیمین متی عقدت علی عدم الفعل فی محلین ینظر فیہما الٰی شرط البر۱؎کہ ازیں محل بیعلاقہ بود بہ سند نمود مسکین اگر آں واضحہ را در محل لائق او نتوانستی دید کاش ہم از ینجا بر فقرہ وعند فوات شرط البر یتعین الحنث کہ بہ تکلف متکلف بطور مفہوم مخالف بامقصود اوموافق می تواں شد قناعت کردے تعلیق یمین بہ د ومحل را دریں محل چہ مقام ومحل۔
شانزدہم: عدم فعل کی شرط کے پائے جانے پر حنث کا پایا جانا واضح بات ہے جس پر کسی نقل کی ضرورت نہ تھی، لیکن دیوبندی مجتہد بڑے سلیقہ سے اپنا جلوہ دکھانا چاہتا ہے اور اس کا یہاں عالمگیری کی عبارت''کہ قاعدہ یہ ہے کہ اگر قسم کا تعلق ایسے عدم فعل سے ہو جس کا تعلق دو محل سے ہو تو دونوں میں قسم پورا ہونے کی شرط کو دیکھا جائے گا'' کو بطور سند پیش کرنا بے علاقہ بات ہے اس غریب کو اس واضح بات پر کوئی مناسب دلیل نظر نہ آئی تھی تو یہاں اس فقرہ پر کہ''اور قسم پورا ہونے کی شرط کے فوت ہوجانے پر حنث لازم اور متعین ہوگا'' اکتفاء کرلیتا کیونکہ یہ بطورِ مفہوم مخالف اس کے مقصد کے موافق تھی، توا س مفہوم مخالف کا تکلف کرلیتا، جبکہ قسم کو دو محلوں سے معلق کرنے کا یہاں کیا مقام تھا۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۲۹)
ہفدہم: آنکہ از عالمگیریہ مسئلہ ان لم تعطینی ھذا الثوب۱؎بازمسئلہ ان لم اطأک مع ھذہ المقنعۃ۲؎آوردو مسکین درمیان ایں دو مسئلہ مسئلہ کہ ہمیں عالمگیری از محیط از فتاوائے امام فقیہ ابواللیث سمر قندی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ آورد واز بے بصری نہ دیدیا دید واز بے بصیر تی نہ فہمید یا فہمید واز راہ مغالطہ عوام قطع وبرید گزید،
ہفدہم: یہ کہ عالمگیریہ کا مسئلہ، کہ بیوی کو کہا اگر تو مجھے یہ کپڑا نہ دے تو طلاق۔ اور پھر دوسرامسئلہ، اگر میں تجھ سے وطی نہ کروں اس اوڑھنی کے ساتھ،کو اس کفایت دینے والے مسئلہ کے ساتھ ذکر کیا اور اس غریب نے ان مذکورہ دونوں مسئلوں کے درمیان، عالمگیری کا محیط سے اور اس کا امام فقیہ ابواللیث سمر قندی سے منقولہ مسئلہ کو ذکر کیا اور بے بصری میں دیکھا نہیں یادیکھا ہے تو بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے سمجھا نہیں یا سمجھا ہے تو عوام کے مغالطہ دینے کےلئے قطع وبرید کردی،
( ۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۲۹)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۴۳۱(
ببیں کہ در ہمیں سطور عالمگیری چہ میں فرماید
فی فتاوٰی ابی اللیث رحمہ اﷲتعالٰی اذا اراد الرجل ان یجامع امرأتہ فقال لھا ان لم تدخلی معی فی البیت فانت طالق فدخلت بعد ماسکنت شہوتہ وقع الطلاق علیھا وان دخلت قبل ذٰلک لاتطلق کذافی المحیط۳؎
دیکھئے عالمگیری کی انہی سطروں میں کیا بیان کیا ہے کہ فتاوٰی ابو لیث رحمہ اﷲ تعالٰی میں ہے کہ خاوند نے بیوی سے مجامعت کا ارادہ کرتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر تو میرے ساتھ اندر کمرے میں داخل نہ ہوئی تو تجھے طلاق ہے، اس کے بعد عورت اس وقت داخل ہوئی جب خاوند کی شہوت ختم ہوگئی تو بیوی کو طلاق ہوگی،او ر اگر شہوت ختم ہونے سے قبل داخل ہوئی تو طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ محیط میں ہے،
( ۳؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۳۰ )
اینجاچرانہ گوید کہ محلوف علیہ عدم دخول مطلق ست ودخول مطلق موضوع قضیہ طبعیہ ست واومنتفی نشود مگر بانتفائے جمیع افراد دخول وایں نبود مگر بعدم دخول اصلاتا حصول موت احد ہما پس دخول گا ہے متحقق شود اگرچہ بعد دہ سال عدم دخول مطلق منتفی گردد و شرط حنث صورت نہ بندد۔
یہاں اس عبارت پر اس نے اپنی مذکور تقریر نہ کی کہ عدمِ دخول پر قسم کھائی ہے اور عدمِ دخول مطلق ہے اوردخولِ مطلق قضیہ طبعیہ کا موضوع ہے جو تمام افراد کے منتفی ہوئے بغیر منتفی نہیں ہوگا مگر اس وقت جب کبھی دخول نہ پایا جائے اور یہ بات خاوند بیوی دونوں میں سے ایک کے مرنے پر معلوم ہوسکے گی تو جب دخول متحقق ہو خواہ دس سال بعد ہو اس وقت تک دخولِ مطلق کا عدم منتفی رہے گا، اور قسم کے ٹوٹنے کے پائے جانے کی صورت نہ بنے گی۔
ہیچدہم: بازاز عالمگیریہ مسئلہ قان لم تصل الیوم رکعتین فانت طالق فحاضت قبل ان تشرع فی الصّلٰوۃ او بعد ما صلت رکعۃ۱؎آورد کہ اگر وقت یمین تا آغازِ حیض زمانے بود کہ دو رکعت راگنجائش دارد مطلقہ شود وایں مسئلہ را بظاہر منافی مسئلہ دائرہ انگاشتہ سنگ تطبیق و توفیق برسراجتہاد برمی دارد کہ درین عبارت قیدالیوم ورکعتین موجود ست لہذا حکمش مغائر مانحن فیہ شد فافترقتاولاتشکواونمی داند کہ دریں جہت اصلاً نہ در مسائل افترا ق نہ در حکم تغیرصلوۃ رکعتین فی الیوم نیز طبیعت کلیہ دارد و انتفائے شیئ بانتفائے جمیع افراد شود چوں روز گزشت وہیچ فردازافراد صلٰوۃ دو رکعت دراں متحقق نہ شد شرط بر منتفی گشت وحنث رو نمود وتوہم آنکہ شوہر الیوم گفت وبجا آوری دورکعت در مدۃ العمر بہیچ روزے از روز ہائے عمر اینجا بسند کند وہمینست کہ ہیچ غیر دیوبندی را عارض نتواں شد اگر چہ در غایت جہل و عنادت باشد حاجت رفعش مگر بقیاس عقول علیہ دیوبندیہ افتاد باز رکعتیں را موجب تفرقہ دانستن طرہ براں۔
ہیچدہم: پھر عالمگیری کا مسئلہ ذکر کیاکہ خاوند نے بیوی کو کہا اگر تو آج دو رکعتیں نماز نہ پڑھے تو تجھے طلاق، اس کے بعد بیوی کو نماز شروع کرنے سے قبل حیض آگیا، یا ایک رکعت پڑھنے کے بعد حیض آگیا، تو بتایا کہ اگر قسم اور نماز شروع کرنے کے درمیان اتنا وقت تھا کہ دورکعتیں نماز پڑھ سکے، تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی، اس نے اس مسئلہ کو ظاہری طور پر زیر بحث کے منافی بتایا اور تطبیق و توفیق کا پتّھر اجتہاد کے سرپر اٹھا کر کہا اس مسئلہ کی عبارت میں ''آج'' اور ''دو رکعتوں'' کی قید ذکر کی گئی ہے لہذا اس مسئلے کا حکم ہمارے زیر بحث کے حکم سے مغایر ہے۔ لہذا دونوں مسئلے جدا ہیں اور تمہارا اعتراض نہ ہو، اس کو معلوم نہ ہوا کہ اس وجہ کی بنا پر مسائل میں اختلاف اور نہ ہی حکم متغیر ہوا''آج دو رکعتیں نماز'' کی بھی طبیعت کلیہ ہے اور کسی چیز کا انتفاء اس کے تمام افراد کے انتفاء سے ہوجاتا ہے تو جب دن بھر میں کوئی فرد نماز کا نہ پایا گیا اور اس دن میں دو۲ رکعتوں کا وجود نہ پایا گیا تو دو رکعت نماز نہ پڑھنے کی شرط پائے جانے کی وجہ سے قسم ٹوٹ گئی تو طلاق ہوگئی ہے، اور اس کا یہ وہم کرنا کہ خاوند نے '''آج'' کا لفظ کہا ورنہ''دو رکعتیں پڑھنے'' کا عمر بھر میں سے کوئی دن بھی ہوسکتا تھا تو یہ وہم دیوبندی کے علاوہ کسی کو خواہ کتنا ہی جاہل اور غبی ہوکسی کو لاحق اور عارض نہیں ہوسکتا، لہذا صرف دیوبندی عقول عالیہ کوہی اس وہم کو دفع کرنے کی حاجت محسوس ہوئی پھر اس پر طرہ یہ کہ اس نے دو۲ رکعتوں کو بھی وجہ فرق بتایا۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی التعلیق بکلمۃ ان واذا وغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۳۶)
نوزدہم: باز بکمال ذیہوشی مسئلہ''اگر سزائے وے نکنم فامرأتہ کذا۱؎،آورد اگر نیت فور کند بر فور باشد ورنہ مطلق وخود ش گفت کہ ایں صورت مطابق مانحن فیہ است واعتراف کرد کہ ہمچنیں حکم اگر نمازنخوانی ترا دو طلاق ان نوی الفور فھو علی الفور تا اینجا نا دانستہ بحق رجوع آورد باز زخم نامندمل راچارہ کار بہماں مکابرہ وانکار جست لیکن احمد علی نیت فور نکردہ نہ قرینہ فور یافتہ شد سبحان اﷲ قرینہ فور از کلام خودت پرس کہ خواہر زادہ خالہ تو بالاچہ گفتہ است کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ است دائما ونیت احمد علی ہم بامدادکا ر بامداداحمد علی دریاب کہ چون زن نماز عشاء نگزارد وصباح رجعت نمود اگر نیت فور نبودے رجعت از کدام راہ رونمودے، الحمد ﷲ کہ حق واضح ست فاما مکابرہ راچہ علاج۔
نوزدہم: پھر اپنی کمال عقلمندی دکھاتے ہوئے، یہ مسئلہ کہ اگر اس کو سزا نہ دوں تو بیوی کو طلاق، ذکرکرکے کہا کہ نیت فور کی کرے تو فور ہوگا ورنہ مطلق ہوگا، اور خود کہا کہ یہ مسئلہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کے مطابق ہے اور اعتراف کیا کہ یوں ہی عورت کو کہنا اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاقیں، اس کا حکم بھی وہی ہوگا کہ اگر فور کی نیت کی تو فور ہوگا، یہ کہہ کر اس نے حق کی طرف رجوع نادانستہ طور پر کرلیا اور پھر اس مندمل نہ ہونے والے زخم کا علاج اس مکابرہ اور انکار سے کرتے ہوئے کہا، لیکن احمد علی نے فور کی نیت نہیں کی اور نہ ہی فورکا قرینہ پایاگیا، سبحان اﷲ! فور کا قرینہ خود اپنے کلام سے پوچھ کہ تیری خالہ کے بھانجے نے (تونے) اوپر کیا کہا ہے''کہ متکلم کی غرض بیوی کو ہمیشہ نماز کا عادی بنانا ہے'' اور پھر احمد علی کی نیت معلوم کرنے کےلئے احمد علی سے پوچھ کہ اس کی بیوی کے رات کو عشاء کی نماز نہ پڑھنے پر طلاقوں سے صبح رجوع کرلیا، اگر فور کی نیت نہ ہوتی تو رجوع کرنے کا کیا جواز تھا، الحمد ﷲ حق تو واضح ہے مگر مکابرہ کا کیا علاج ہے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی التعلیق بکلمۃ ان واذا وغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۳۶)
بستم: بازاز شرح وقایہ قہستانی وقاضیخاں
مسئلہ انت کذا ان لم اطلقک۱؎ومسئلہ ان لم اجامعک علٰی راس ھذا الرمح۲؎
بستم: پھر قاضی خاں، قہستانی اور شرح وقایہ سے نقل کرتے ہوئے مسئلہ''تجھے طلاق ہے اگر تجھے طلاق نہ دوں'' اور مسئلہ ''اگر اس نیزے کے سر پر تجھ سے جماع نہ کروں تو طلاق ہے کو ذکرکرکے کہاکہ ان مسئلوں میں فقہاء نے آخر عمر اور نیزے کی بقاء تک مہلت دی ہے اور تمام وہ مقدمات مسلمہ جن کو فقہائے کرام نے اپنے فتاوٰی جلیلہ میں بہت اچھے انداز سے واضح کرکے ہدایہ، فتح القدیر کی عبارات سے مستند کیا ہے ان کو بار بار یہ ذکر کرتا ہے اور واضح کو بے مقصد واضح اور تحصیل حاصل کر تا چلاجاتا ہے اور بلند پایہ نکتہ جس کو تلخیص الجامع الکبیر، شرح تلخیص علامہ فاسی، انتقاض الاعتراض، تنویر الابصار، درمختار، فتح القدیر، شرنبلالیہ، ردالمحتار، اشباہ ونظائر اور تبیین الحقائق وغیرہا کے حوالوں سے مستفاد کیا گیا ہے، کو مسلسل نظر انداز کررہا ہے اور باطل کے درپے ہے، یاربً!کیا کہا جائے، نہ دیکھی چیز کو دکھانا آسان ہے اورصد بار دیکھی چیز سے بند آنکھ اور دیدہ کو نادیدہ بنانے والے کےلئے کیا چارہ کیا جائے۔
( ۱؎ شرح الوقایہ بیان لغویۃ التعلیق قبل التزوج مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۷)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۲۸)
بارے مگردر شرح وقایہ بلکہ خو د وقایہ ایں مسئلہ ندیدی کہ شرط للحنث فی ان خرجت وان ضربت (فانت طالق) لمریدۃ خروج او ضرب عبد فعلھما فور۳؎،
کیا آپ نے شرح وقایہ بلکہ خود وقایہ میں یہ مسئلہ کبھی نہیں دیکھا کہ جب بیوی باہرجانے کو یا غلام کو مارنے کےلئے تیار ہوتو اس وقت اس کو کہنا کہ تو باہر نکلی یا تو نے مارا تو تجھے طلاق ہے، تو یہ دونوں یمین فور ہیں۔
( ۳؎ مختصر الوقایہ فی مسائل الھدایۃ فصل حلف الفعل نور محمد کتب خانہ تجارت کراچی ص۸۶ )
او در قہستانی، فیہ اشارۃ الی ماتفرد بہ ابوحنیفۃ رحمہ اﷲفی استنباطہ من اتمام اقسام الیمین فان سلفہ قسموھا الی المؤبدۃ لفظا ومعنی، والمؤقتۃ کذٰلک، مثل لاافعل کذاولاافعلہ الیوم ثم زاد الامام اتماماً ماسمیّ بیمین الفور او یمین الحال مما ھی المؤبدۃ لفظا والموقتۃ معنی کما مر۱؎(ملخصاً)
امام قہستانی نے فرمایا کہ اس مسئلہ میں اشارہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے قسموں کے اقسام مکمل فرمانے میں اپنے استنباط میں تفرد فرمایا ہے کیونکہ آپ سے قبل اسلاف نے یمین کو صرف لفظاً ومعنیً مؤبدہ اور موقتہ پر تقسیم فرمایا تھا مثلا میں یہ نہ کروں گا ،اور میں آج یہ نہ کروں گا ۔پھر امام صاحب نے لفظا ومعناًمؤبدہ اور مؤقتہ پر ایک قسم زائد بیان کی جس کو یمین فور یا یمین حال کہا جاتا ہے یہ قسم لفظاً مؤبد ہے اور معناً موقت ہے جیسا کہ پہلے گزرا،
(۱؎ جامع الرموز فصل حلف الفعل مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۶۶۵)
ودر قاضی خاں،
سکران ضرب امرأتہ فخرجت من دارہ فقال ان لم تعودی الی فانت طالق وکان ذٰلک عند العصر فعادت الیہ عند العشاء قالوا یحنث فی یمینہ لان یمینہ تقع علی الفور وان قال لم انوالفور لایصدق قضاء، وفی المرأۃ اذا قامت لتخرج فقال الزوج ان خرجت فانت طالق وجلست ثم خرجت بعدذٰلک بساعۃ لایحنث فی یمینہ۲؎، مکرایں بیچار گاں چہ کنند کہ تعلیم نجدیت در قرآن وحدیث نیز بمصداق افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض۳؎کار میکند ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
قاضیخاں میں ہے کہ ایک نشے والے نے اپنی بیوی کو پیٹا تو وہ باہر نکل گئی تو اس نے کہا اگر تو واپس میرے پاس نہ آئی تو تجھے طلاق ہے، یہ واقعہ عصر کے وقت ہوا تو بیوی اس کے پاس عشاء کے وقت لوٹ آئی، اس پر فقہاء نے فرمایا قسم ٹوٹ گئی، کیونکہ یہ اس کی قسم یمین فور تھی اگر وہ کہے کہ میں نے فور کی نیت نہیں کی تھی تو قاضی اس کی تصدیق نہ کریگا، اور اس مسئلہ میں کہ بیوی باہر نکلنے لگی تو خاوند نے کہہ دیا کہ اگر تو نکلی تو تجھے طلاق ہے، اس پر بیوی واپس بیٹھ گئی اور تھوڑی دیر بعد نکلی تو قسم نہ ٹوٹے گی، یہ بیچارے کیا جانیں ، ان کو قرآن وحدیث کی نجدی تعلیم ہے، اور پھر بعض کتاب مانتے ہواو ربعض کا انکار کرتے ہو، کے مصداق عمل کرتے ہیں، لاحول ولاقوۃ الابا ﷲ العلی العظیم۔
(۲؎ قاضی خان باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۳۵)
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۸۵)