Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
169 - 175
مسئلہ۲۶۸:محمد اختر حسین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران ۱۲صفر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک کافرہ عورت کے ساتھ اگر کوئی شخص زناکرے مع اس کی رضاکے، اور خوف شرکا بھی نہ ہو، ایسی حالت میں کیا حکم ہے اور جو شخص اس امر کے جواز کا قائل ہو اس کے واسطے کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب

زنا حرام ہے اور کافرہ ذمیہ کے ساتھ زناکے جواز کا قائل ہوتو کفر ہے ورنہ باطل و مردود بہر حال ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۶۹:شہر بریلی محلہ ذخیرہ مسئولہ حبیب اﷲ صاحب حجام۵جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی بی بی اپنے بہنوئی کے تنہا ہونے کی وجہ سے اپنی بہن کے فوت ہوجانے کے بعد اس کو روٹی وغیرہ تیار کرکے اس کو ہر طرح کا عیش آرام دیتی رہی، چند روز کے بعد بہنوئی کی دلی محبت پیدا ہوگئی۔ ایک روز زید نے اپنی بی بی کو بہنوئی سے ہم بستر دیکھ کر اپنے مکان پرآنے سے منع کیا مگروہ باز نہ آیا تب زید نے اپنے محلہ والے اور برادری والوں کو جمع کرکے حلف اٹھوایا اور لعنتی طور پر سمجھایا، اس کے بہنوئی نے قسم کھائی کہ اگر میں نے آج تک اس کے ساتھ برا کام کیا ہوتو اپنی ماں بہن اور لڑکی کے ساتھ براکام کیاہو، چند روز کے بعد رات کے بارہ یا ایک بجے پر خود چشم دید خوب اچھی طور پر دیکھتا رہا مگر بسبب مجبوری کے اس سے کچھ نہ کہہ سکا، زید نے مجبور ہوکر دوبارہ محلہ والوں کو اور برادری والوں کو جمع کرکے طلاق دے دی، اس کے دو تین روز کے بعد وہ اپنے بہنوئی کے یہاں چلی گئی، ابھی تک کسی کو دونوں کا نکاح ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے برادروں نے اس کے کنبہ والے اور عورت کو اور اس کے بہنوئی کو برادری سے علیحدہ کردیا، اگر اس کے کنبے والا یا اس کے برادری والا اس کے شریک ہوں تو شرع شریف ان کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
الجواب

عورت اور اس کے بہنوئی پر توبہ فرض ہے اور عدت کے اندر اس کا چلے جانا یہ دوسرا حرام تھا اس پر فرض ہے کہ عدت اپنے شوہر کے یہاں پوری کرے اگر نہ مانے توبرادری سے جوسزا اسے دی گئی ہے ضرور قائم رکھی جائے کہ اس ملک میں یہی باقی ہے نیز اس کا بہنوئی اگر توبہ نہ کرے تو اس پر بھی یہی حکم ہے بعض لوگ کہ اس سزا کوتوڑیں وہ مصلحت شرعیہ کے مخالف ہوں گے اور ان کے فعل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک یہ سزا جو یہاں ہاتھ میں رہ گئی یہ بھی اٹھ جائے اور پنچائتی قوموں کے لوگ بھی اوروں کی طرح ہرگناہ میں آزاد ہوجائیں یہ خود جرم ہے اور مجرموں کی حمایت،لہذا اگر باز نہ آئیں تو یہ بھی برادری سے خارج کرنے کے قابل ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۷۰:شہر شاہجہان پور تارمین گلی برمکان حضرت قاری صاحب مرحوم مولوی حکیم سید محمد آزاد یزدانی حسرت شاہجہان پوری ۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محرماتِ اندی یعنی ماں بہن وغیرہ سے جو جان بوجھ کر نکاح اور صحبت کرے تو اس پر حدِ شرعی نہیں  آتی۔ یہ مسئلہ ہدایہ جلدنمبر۱ ص۴۹۶، کنز اردو ص۱۷۵، ہدایہ مترجم فارسی جلد ۲ص۳۴میں ہے، آیا یہ مسئلہ صحیح ہے یاغلط؟
الجواب

گناہ تین قسم ہیں:

ایک ہلکے کہ حد کی حد تک نہ پہنچے، جیسے اجنبیہ سے بوس و کنار، ان پر حد مقرر نہیں ہوگی کہ ان کی مقدار سے زیادہ ہے، اور مولٰی عزوجل اس سے پاک ہے کہ کسی مجرم کو اس کی حدِ جرم سے زیادہ سزادے۔ ایسے گناہوں پر تعزیر رکھی جاتی ہے۔

دوسرے وہ اخبث درجہ کے گناہ کہ حد کی حد سے گزرے ہوئے ہیں جیسے صورۃ مذکورہ سوال۔ ان پر بھی حد نہیں رکھی جاتی کہ حد اس گناہ سے پاک کردینے کی ہوتی ہے اورایسا خبیث گناہ اس حد سے پاک نہیں ہوتا۔ 

تیسرے متوسط درجہ، ان پر حدود ہیں۔ اس کی نظیرپیشاب اور شراب، پیشاب شراب سے خبیث تر ہے کہ کبھی شریعت میں اس کی ایک بوند حلال یا طاہر نہ ٹھہرسکی، بایں وجہ شراب پینے پر حد ہے اور پیشاب پینے پر حد نہیں، یونہی اجنبیہ سے زنا پر حد ہے اور محارم سے نکاح پر نہیں کہ وہ خبیث کام ہے جسے حد سنبھال نہیں سکتی، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۷۱:از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ ضلع ایٹہ مسئولہ سید غلام شبر۲۰رمضان ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بیوہ زنِ پارسامکان سے تفریحاً شب ماہ میں بین المغرب والعشاء دروازہ کے سامنے مشرق و مغرب پچاس قدم کے فاصلہ سے اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ ٹہلتی تھی اور ہندہ کا چچازاد بھائی زید بھی ساتھ تھاہندہ نے جبکہ آگے شارع عام کی طرف بڑھنے کا قصد کیا تو زید مانع ہوا اور کہا مردانہ مکان ہے یہ مقام شارع عام ہے بس آگے نہ جائیے اندر زنانے میں چلئے، یہ کہہ کر زید نے ہندہ کے پس پشت سے ہندہ کے بازو پکڑ کر دروازے کی طرف پھیر دیا، ہندہ نے زید کے کلام کی تردید کی اور چند قدم مردانے مکان کی طرف جاکر پھر از خود زنانے مکان میں چلی گئی، چند روز بعد جبکہ ہندہ سے کئی نامشروع حرکات سرزد ہوچکیں اور زید پھر مانع ہوا اسوقت ہندہ نے اس کا اظہار کیا کہ زید نے بھی فلاں روز میرے جسم کو بدنیتی سےہاتھ لگایا تھا یعنی مذکور ہ بالا واقعہ کا اظہار کیا، زیدنے جواب دیا کہ میری روک ٹوک یا جسم کو ہاتھ لگانا واﷲ باﷲ کسی بدنیتی سے نہ تھا اگر آپ کے نزدیک وہ بدنیتی تھی یا اب ہے تو میں ضرور مستحق ہوں آپ یا تومجھے معاف فرمائیں یا ازروئے کتاب و سنت سزادیں مجھے ہرگز عذر نہیں کہ میرا امر آپ کے متعلق کتاب وسنت کے خلاف نہ تھا اور نہ ہے اور نہ ہوگا ان شاء اﷲ تعالٰی۔ اب ہندہ کو پورا گمانِ بدزید کی جانب ہے لہذا جواب عطا ہو کہ زید کا یہ فعل ونیت ظاہری اور ہندہ کی یہ حرکت وتردید کتاب و سنت میں کیسی ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

صورتِ مذکورہ میں ہندہ کا گناہگار و بیحیا ہونا ظاہر ہے، رہا زید بیان مذکور سے اس کا اصل مقصود ہندہ کو بری بات سے منع کرنا اور بیحیائی سے روکنا معلوم ہوتا ہے اس پر وہ مستحق اجرہے نہ کہ سزا وارِ سزاو زجر۔ پھر اس کا پس پشت سے ہندہ کو بازوپکڑکے شارع عام سے مکان کی طرف پھیر دینا اگر اس طرح ہو کہ اس کے ہاتھوں اور ہندہ کے جسم میں موٹاکپڑا حائل تھا کہ جسم ہندہ کی گرمی اس کے ہاتھوں کو پہنچنے سے مانع ہواجب تو اس پر کچھ الزام نہیں اور اگر ایسا نہ تھا بلکہ ہندہ کے کسی حصہ جسم کو اس کا ہاتھ بلاحائل پہنچا یا حائل باریک تھا کہ گرمی محسوس ہونے سے مانع نہ ہوا تو بیشک زید پر الزام ہے اور اس پر توبہ فرض، اسے چاہئے تھا کہ زبانی ممانعت پر قناعت کرتا یا موٹاکپڑا حائل رکھ کر پھیرتا یا اگر وہ بغیر اس کے نہ ماتنتی پھر بھی وہ بدنیتی جس کا ہندہ اتہام رکھتی ہے ثابت نہیں،یہ بھی اس کے افعالِ شنیعہ سے ایک فعل ہے کہ مسلمان پر تہمت رکھتی ہے اس کے اقارب پر اس کا بندوبست لازم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۷۲:از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ ضلع ایٹہ مسئولہ سید غلام شبر ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید زنِ شوہر دار سے کہ اس کی بھاوج ہے مزاح کرتا ہے اور فحش مزاح اور ہاتھا پائی کو بھی جائز رکھتا ہے بلاوسواس موقع بے موقع اس کے جسم کو ہاتھ لگانا مس کرنا  رواجانتا ہے اور کہتا ہے کہ میرایہ فعل مزاحاً ہے کہ میں اس کے شوہر کے روبرو بھی ایسا ہی مذاق کرتا ہوں اور مذاق میں زید زنِ مذکور کی ٹانگیں پکڑکر ایک پلنگ سے دوسرے پر اور دوسرے سے تیسرے پلنگ پر گھسیٹتا ہے اور اقربائے فریقین بھی اس کو دیکھ کر کچھ بھی تعرض نہیں کرتے تو کیا شرعاً یہ حرکت اور اقرباکا سکوت جائز ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

یہ حرکات حرام ہیں اور ایسا مزاح ابلیسی مزاح ہے اور اگر شوہر واقعی دیکھتا اور اس پر راضی ہوتا ہے یا بقدرِ قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث پر جنت حرام ہے، نیز اقارب فریقین جو منع نہیں کرتے شریک گناہ و مستحق عذاب ہیں،
قال اﷲ تعالٰی کانوالایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوایفعلون۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۵ /۷۹)
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۷۳:از موضع علی پور ضلع پٹرا مسئولہ منصب علی صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نابالغ یا بالغ نے بکری یاگائے یا بھینس کے ساتھ مجامعت کی اس شخص کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟اور نیز اس جانور کا گوشت کھانا یا پالنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب

نابالغ کو تنبیہ کریں بالغ پر تعزیر ہے جس کااختیار حاکم کو ہے، وہ جانور ذبح کرکے فنا کردیا جائے گوشت کھال جلائیں، پالانہ جائے۔
درمختارمیں ہے:
لایحدبوطی بھیمۃ بل یعزر و تذبح ثم تحرق ویکرہ الانتفاع بھاحیۃ ومیتۃ مجتبی۲؎۔
حیوان سے بدفعلی پر حدنہیں ہے بلکہ اس پر تعزیر لگائی جائے اور جانور کو ذبح کرکے جلادیا جائے کیونکہ اس جانور مردہ یا زندہ سے انتفاع حاصل کرنا مکروہ ہے، مجتبیٰ۔(ت)
 (۲؎ درمختار     باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۲۰)
ردالمحتار میں ہے:
ھذا اذاکانت ممالایؤکل فان کانت تؤکل جازاکلھا عندہ وقالالاتحرق ایضازیلعی ونھر۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ حکم اس جانور کے متعلق ہے جس کو کھایا نہیں جاتا، اور اگراس کو کھایا جاتا ہوتو کھانا جائزہے، امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین نے فرمایا اسکو جلابھی دیا جائے زیلعی ونہر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار باب الوطئ الذی یوجب والذی لایوجبہ  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳ /۱۵۵)
مسئلہ۲۷۴: کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ ایسے شخص سے ملنا اور راہ ورغبت کرنا کیسا ہے جو باوجود تنبیہ لوگوں کے اپنی بہن بھانجی زانیہ کو اپنے گھر سے نہیں نکالتا ہے اورنہ اس سے ملنا ترک کرتا ہے اور ایک بارحلف اٹھاچکا ہے کہ نہیں ملوں گا۔بینواتوجروا۔
الجواب

اس شخص پر اتنا واجب ہے کہ اس عورت کو سمجھائے فہمائش کرے، اگر کسی سختی جائز پر قدرت رکھتا ہو اسے بجالائے، جو بندوبست اس کے ہاتھ ہو اس میں کوتاہی نہ کرے، اگر یہ شخص سب باتیں کرتا ہے اور وہ باز نہیں آتی تو اس کا وبال اسی پر ہے اس پر کچھ نہیں کہ اﷲ تعالٰی ایک کے گناہ میں دوسرے کو نہیں پکڑتا۔
قال تعالٰی ولاتزروازرۃ وزراخری۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: کوئی جان دوسرے کا بوجھ (گناہ) نہیں اٹھائے گی۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۷ /۱۶۴ و ۳۵ /۲۱۸)
اور اگر یہ شخص اس کی اس حرکت پر ناراض ہے مگر فہمائش وغیرہ میں کمی کرتا ہے تو گنہگار ہوگا کہ نیک بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا جہاں تک اپنی قدر ت میں ہو مسلمان پر ضرور ہے،
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من راٰی منکم منکرافلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ذٰلک اضعف الایمان۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اس کو ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے طاقت نہ ہوتو زبان سے اگر اس سے بھی طاقت نہ رکھے تو پھر دل سے براجانے، اوریہ کمزور ترین ایمان ہے۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم   کتاب الایمان   قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۵۱)
مسلمان اسے فہمائش کریں اور اگر یہ شخص ان حرکات پر راضی ہوتو معاذاﷲ دیوث ہے مسلمان اسے سمجھائیں، اگر بازنہ آئے تو اس سے میل جول چھوڑدیں،
فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظٰلمین۔۳؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (اﷲتعالٰی  نے فرمایا) نصیحت یادآنے کے بعدپھر ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۳؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
Flag Counter