| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۲۶۵ : ۲۸صفر۱۳۱۱ھ چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں معنی کہ مثلاً زید کہ باخالد دوستی دارد و بازنِ او مرتکب فعل زناشد و خالد ازیں امر کہ مکروہ تروناپسندیدہ تر نزد اوبودروادارتفضیح در سوائے زید نشدہ وبدیں سبب کہ دوست اوبود اورانزد قاضی برائے مواخذہ واجرائے حد شرع نہ برد بلکہ چشم پوشی کرد بکراہت تمام، وبہمیں اکتفا کرد کہ الاٰن او را از دوستی خود خارج کرد و زن خود را طلاق داد یا درصورتیکہ ایں زن توبہ کرد اوراززوجیت خودخارج نکرد پس این چشم پوشی خالد کہ نسبت زید واقع شد چہ گونہ است آیا داخل احسان ومروت است یانے؟بینواتوجروا۔
علماء دین ومفتیانِ شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید خالد کا دوست تھا اور اس کی بیوی سے زید نے زناکیا تو خالد ا س بدترین فعل کے باوجود زید سے رواداری کرتے ہوئے اس کی ذلت ورسوائی کے درپے نہ ہوااور دوستی کی وجہ سے قاضی کے ہاں مواخذ ہ اور شرعی حدکے لئے اس کو پیش نہ کیا بلکہ چشم پوشی سے کام لیا اور انتہائی ناراضگی کے باوجود صرف اتنا کیا کہ اب زید سے دوستی ختم کردی اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی، یا بیوی کی توبہ پر اس کی زوجیت سے خارج نہ کیا، زید کے بارے میں خالد کی یہ چشم پوشی کیا حیثیت رکھتی ہے؟کیااسے احسان و مروت قرار دیاجائے گا یانہیں؟بینواتوجروا۔(ت)
الجواب بہ نسبت زید احسان بود نش خود پیداست و اگر باوصف غیرت محمودہ شرعیہ محض بہ نیت پردہ پوشی مسلمانان صبر وستر پیش گرفت خودراداخل
فمن عفاواصلح فاجرہ علی اﷲ ۱
است۔واﷲ سبحٰنہ وتعالی اعلم۔
زید پر احسان ہونے میں کیا شک ہے اور اگر شرعی طور پر پسندیدہ غیرت رکھتے ہوئے مسلمان کی پردہ پوشی کی نیت سے صبر کرتے ہوئے درگزر کیا تو اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد میں داخل ہے''جس نے معاف کیا اور اصلاح کی کوشش کی تو اس کااجر اﷲ تعالٰی کے کرم پر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۴۲ /۴۰)
مسئلہ۲۶۶:ازسیتاکلاں پرگنہ نواب گنج ضلع بریلی مرسلہ سید زائر حسین ٹھیکیدار ۲۲شعبان ۱۳۳۷ھ السلامُ علیکم،کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت قبل شوہر کسی غیر مرد سے اپنے خاوند کے نزدیک مشکوک ہوئی اور مرد کہتا ہے کہ میں نے فعل حرام کیا اور عورت کہتی ہے کہ نہیں، لہذا دو شخص مسلمان ہیں، فاعل ازروئے حلف کہتا ہے کہ میں فعل شنیعہ کا مرتکب ہوا اورمفعول کہتا ہے کہ نہیں بلکہ اس کا ایساارادہ تھا چونکہ مطلب برآری نہیں ہوئی بدیں وجہ ناحق الزام لگاتا ہے، اب ایسی صورت میں جب فاعل مفعول دونوں محلف بکلام الٰہی ہیں تو کس کا اعتبار کیا جائے، میرے نزدیک دونوں شخص مکرکے پھرتے ہیں اور دونوں حلف اٹھاتے ہیں ایسی صورت میں فاعل سچا یا مفعول سچا یا کیا؟
الجواب وعلیکم السلام، وہ مرد عورت دونوں اپنے اپنے حق میں سچے مانے جائیں گے اور دوسرے کے حق میں جھوٹے، عورت جو انکار کرتی ہے سچ کہتی ہے اسے جو فقط بربنائے قولِ مرد، زنا کی تہمت لگائے سخت گنہگار اور اسی کوڑوں کا سزا وار ہوگا۔ مرد جواپنے زنا کا اقرار کرتا ہے اسے زانی مانا جائے گا، اسلامی سلطنت ہوتی تو سزاپاتا، اب اسی قدر ہوسکتا ہے کہ اسے برادری سے خارج کیا جائے، مسلمان اس سے میل جول چھوڑدیں جب تک علانیہ توبہ نہ کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۶۷:ذوالفقار گنج شہر بریلی مسئولہ بابومورخہ ۱۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دربارہ زید مقدمہ زنامیں بروقت اطلاع یابی مقدمہ اہل برادری نے چند پنچوں اہل برادری کو برائے تفتیش مقدمہ خاص موقع متنازعہ پر بھیجا موقع پر پہنچ کر تمام سکنائے اہل محلہ سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ درحقیقت یہ امرصحیح ہے، بدیں وجہ ہمارے یہاں سے خورد و نوش نشست و برخاست بند ہے لہذا بیان ملزمان وشہادت باظہار حلفی گواہان مندرجہ ذیل بخدمت شرع شریف پیش ہے کیا حکم ہے؟اور ہم لوگوں کو کیا عمل کرنا چاہئے؟بینواتوجروا۔ (۱) بیان زید کے لڑکے کی زوجہ کا میرے بارہ میں سب لوگ غلط بیان کرتے ہیں میں نے کسی سے کچھ نہ کہا، (۲) از طرف گواہان عزیز واقربا: واضح ہو کہ زید کے لڑکے کی زجہ باقرار زنا اس وجہ سے انحراف کرتی ہےکہ اہل برادری نے ملزمان کو تاکیداً منع کردیا تھا کہ ہر گز اس خسر سے کوئی تعلق نہ رکھنا باوجود منع کرنے کے ملزمہ بہمراہی اپنی خواشدامن وخسر کے عدم موجودگی اپنے شوہر کے چلی آئی، معلوم ہوتا ہے کہ بخوبی سکھلا پڑھادی گئی بدیں وجہ یہ انحراف ہے۔ (۳) شہادت باظہار حلفی حافظ عبدالرحمٰن صاحب:زید کی زوجہ کی زبانی معلوم ہوا کہ میرا شوہر زید لڑکے کی بیوی کی چھاتی پکڑتا تھا میں نے منع کیا چھاتی کیوں پکڑتاہے تجھ کو شرم نہیں معلوم ہوتی؟جواب دیا میرا مال ہے میں نے بافسوس کہا کہ میرا لڑکا اس بہو نے تو لیا مگر میرا شوہر بھی چھین لیا، یہ ایسی بہوتھی، جبکہ یہ واقعہ زید کے لڑکے کے سامنے بیان کیا تو اس نے خاموشی اختیار کی۔ (۴) باظہار حلفی منشی نبی بخش صاحب پابند صوم وصلوٰۃ: میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ زید کی زوجہ اپنے گھر میں زید سے بغصہ کہتی تھی کہ تم لڑکے کی زوجہ کی چھاتی کیوں پکڑتے ہوتم کو کیا حاصل ہے تم کو شرم نہیں آتی ؟زید نے جواب دیا ہمارا مال ہے ہم کو اختیار ہے۔ بعدہ زید کی زوجہ میرے مکان پر میری زوجہ کے پاس آئی تو اس وقت اس سے دریافت کیا کہ روزانہ تمہارے گھر کیا جھگڑا فساد رہتا ہے؟جواب دیا کہ اس میرے لڑکے کی بیوی نے لڑکے کوتو لیا مگر میرے خاوند کو بھی چھین لیا ضرور ایک دن خونریزی ہوگی۔ (۵) بیان محمد بخش صاحب:بموجب منشی نبی بخش صاحب کہ فی الواقع صحیح ہے بلکہ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ زید نے اپنی نواسی کو جو کہ زید کے پاس بیٹھی تھی اٹھادیا صرف موقع خالی ہونے کی وجہ سے لڑکی نے اپنی نانی سے شکایت کی کہ مجھ کو نانا نے اپنے پاس سے اٹھادیا، بعدہ زید کے لڑکے کی بیوی کی چھاتی وغیرہ پکڑی، زید کی زوجہ نے کہا کہ اب ہم کو بخوبی معلوم ہوگیا کہ لڑکے کی بی بی تمہاری بی بی ہے تب سے تو یہ دونے مٹھائی وغیرہ خوب اڑائی جاتی ہے کیوں ؟بہوتو دونے مٹھائی وغیرہ اڑاتی ہے نا! (۶) بیان شیخ جی صاحب تصدق حسین:میری زوجہ نے لعل محمد کے گھر میں کی چھت پر سے اپنے لڑکے کی زوجہ سے بچشمِ خود زنا کرتے دیکھا۔ (۷)بیان خیالی رام:میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ زید اپنے لڑکے کی زوجہ کواپنی طرف بلاتا ہے اور زید کی زوجہ غصہ ہوکر کہتی ہے کہ میں تمہاری بی بی بنی ہوں وہ بھی تمہاری بی بی؟زید جواب میں کہتا ہے کہ ہاں ہمارا مال ہے ہم کو اختیار ہے۔ (۸) بیان حلفی گردھاری لال:میں نے بچشم دیکھا کہ زید اپنے لڑکے کی زوجہ کو زبردستی ہاتھ پکڑکر اندرمکان کے لے گیا وہ ہر چند منع کرتی رہی کہ چچا کیا کرتے ہو، مگر ہرگزنہ مانا۔ (۹) بیان حلفی رحمت حسین چچا کریم بخش دختر کے دادا:بزبانی لڑکی ہم کو یہ معلوم ہوا کہ میری خوشدامن کی عدم موجودگی میں میرے خسر نے بوقت بارہ بجے دن کے جبکہ میں روٹی پکاتی تھی مجھ کو اپنے پاس بلاکرزبردستی کی اور گالی وغیرہ دی، قریب ایک گھنٹہ مجھ کو اپنے پاس کھڑا کیا اور میرے ہاتھ میں کاٹا، بعدہ مجھ سے بوس وکنار کیا، میں نے بحجاب صرف اتنا کہا مگر دیگر رشتہ داروں سے صاف صاف کما حقہ بیان کیا کہ میرے خسر نے مجھ سے زنا کیا۔ ہم کو کافی یقین ہوگیا کہ درحقیقت صحیح ہے بدیں وجہ ہم کو سخت رنج وملال ہوا رشتہ دار گواہ موجود ہیں۔ (۱۰) بیان حلفی مسماۃ غفورن: میرے گھر سب کے سامنے بیان کیا کہ میرے خسر نے مجھ کو دوگھنٹہ ڈانٹ ڈپٹ کی اور مجھ کو اپنے سامنے کھڑا کیا بعدہ میرے ساتھ زناکیا۔ (۱۱) بیان حلفی گھسن بھوپاصاحب:جبکہ ہم نے دریافت کیا اور کہا کہ سچ کہو یہ کیا قصہ پھیلا ہوا ہے تو اس نے کہا کہ واقعی میرے خسر نے میرے ساتھ زنا کیا۔ اب صورتِ مذکورہ بالا میں زنا ثابت ہوا یانہیں؟اور یہ عورت زید کے لڑکے پر حلال رہی یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب ایسے بیہودہ بے معنی و بے اصل گواہوں سے زنا تو قیامت تک ثابت نہیں ہوسکتا جب تک چار مرد عاقل بالغ مسلمان پرہیز گار دیندار جو کسی کبیرہ کا ارتکاب کرتے ہوں نہ کسی صغیرہ پر اصرار رکھتے ہوں نہ خفیف الحرکات ہوں حلف شرعی کے ساتھ شہادت دیں، انہوں نے ایک وقت معین میں زیدکو ہندہ کے ساتھ زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھ سے یوں مشاہدہ کیا جیسے سرمہ دانی میں سلائی، اس وقت تک زنا شہادت سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ ان شرطوں میں ایک بات بھی کم ہوگی تو خود گواہی دینے والے شرعاً اسی اسی کوڑوں کے مستحق ہوں گے مثلاً تین مسلمان پرہیز گار دیندار نے ویسی گواہی دی کہ سرمہ دانی میں سلائی کی طرح ہم نے اپنی آنکھ سے مشاہدہ کیا اور چوتھے نے یہ گواہی دی کہ میں نے دونوں کو سراپا برہنہ ایک پلنگ پر بیٹھے ہوئے اور باہم لپٹے ہوئے دیکھا زنا ثابت نہ ہوگا اور پہلے تین کو اسی اسی کوڑوں کاحکم ہوگا یاچاروں مرد مسلمان عاقل بالغ پرہیز گار دیندار نے گواہی دی کہ ہم نے اپنی آنکھ سے سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھا مگر دو نے کہا کل دیکھا، دونے کہا آج،یاتین نے کہا صبح دیکھا اور ایک نے کہا تیسرے پہر۔ سب کی گواہیاں مردود، اور زنا ثابت نہیں۔ اور سب پر اسی اسی کوڑوں کا حکم ہوگا۔ ایسی سخت شہادت کا معاملہ وہ ان ناپاک و بیہودہ گواہوں سے ثابت ہوسکتا ہے جن میں خیالی رام وگردھاری لال تک موجود ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور عورتوں کی گواہیاں زنا کے بارے میں مطلق مردود ہیں اگرچہ تین مردوں کے ساتھ نوعورتیں گواہ ہوں، باقی دو ایک میں وہ سنی سنائی گواہی دو کوڑی کے مال میں بھی مقبول نہیں نہ کہ زنا میں، جتنے گواہان مذکور ہیں سب پر توبہ فرض ہے اور کوڑے تو اسلامی سلطنت میں ہوتے، غرض زناتوبا لائے طاق رہا، اب اتنی بات کہ زید کا اپنی بہو سے بارادہ فاسد مثلاً بوس وکنار کرنا جس سے وہ عورت اپنے شوہر پر حرام ہوجائے، ان گواہوں سے اصلاً اس کا بھی کہیں ثبوت نہیں سب سنی سنائی کہتے ہیں کوئی زوجہ زید کی زبانی کوئی اس کی بہو کی زبانی،صرف ایک نبی بخش کی گواہی اتنی ہے کہ اس نے اپنے کان سے زید کو جواب دینے میں سنا کہ میرا مال ہے اور ممکن ہے کہ محمد بخش نے بھی ایسا ہی کہا کہ اس کی گواہی کو مثل نبی بخش کہا ہے، یہ دو شخص پرہیز گار قابل قبول شرع ہوں بھی تو سائل نے بیان کیا کہ ان دونوں سے پردہ ہے انہوں نے سنا تو باہر سے سنا، او ر باہر سے سنی ہوئی گواہی مردود ہے
لان النغمۃ تشبہ النغمۃ۱؎کما فی العٰلمگیریۃ وغیرہا
(آواز، دوسری آواز کے مشابہ ہوسکتی ہے جیسا کہ عالمگیری وغیرہ میں ہے۔ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادت الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۲)
اتنی بات بھی اصلاً ثابت نہیں اور وہ عورت اپنے شوہر پر حلال ہے ہاں اگر شوہر خود تصدیق کرے کہ اس کے باپ نے اس کی عورت کے ساتھ بدنیتی سے کچھ افعال مـثل بوس وکنار کئے تو البتہ عورت اس پر حرام مانی جائے گی کہ اس نے اس کو حرام ہونا تسلیم کیا اس پر لازم ہوگا کہ عورت کو فوراً چھوڑدے اور پھر کبھی اس سے نکاح نہ کرسکے گا، اور اگر شوہر تصدیق نہ کرے تو کچھ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم