Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
167 - 175
مسئلہ۲۵۴:از بڑود ہ گجرات کلاں محلہ بھوتنے کاجھاپہ نظام پورہ مرسلہ امراؤ بائی بنت غلام حسین حالہ ۱۶/رجب ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے شریعت اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو ایک آدمی اور ایک عورت کے ہمراہ کسی کام ضروری کے لئے کہیں بھیجا ، بعد واپس آنے کے نان و نفقہ موقوف کردیا کچہری گائی کواڑی میں مقدمہ ہے کچہری کہتی ہے کہ نان و نفقہ کیوں نہیں دیتا، خاوند کہتا ہے بغیر حکم میرے کیوں گئی، عورت نے گواہ شاہد قولی پیش کئے کہ اس نے عورت کو جانے کےلئے حکم دیا عورت کہتی ہے کہ مجھے میرے خاوند نے بہتان لگایا میری آبرولی، جو شخص اپنی عورت کی آبرولے شریعت میں اس کی کیا سزا ہے؟فریبی دغا باز و جعلساز کےلئے کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب

بہتان اٹھانا، ناجائزطور پر آبرو لینا، جعل دغا فریب یہ سب باتیں گناہ ہیں خواہ اپنی عورت کے ساتھ ہوں خواہ کسی کے ساتھ ، اور ان گناہوں کے لئے شرع نے کوئی حد مقرر نہ فرمائی تو ان میں سزائے تعزیر ہے جس کااختیار حاکمِ شرع کو ہے، جو سزا مناسب دے، مگر مارے تو انتالیس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے، اور امام ابویوسف کے نزدیک پچھتر ، اور اسی  پر فتوی ہے۔
اشباہ میں ہے:
ضابطۃ التعزیر کل معصیۃ لیس فیھا حد مقدر ففیہ التعزیر۱؎۔
ضابطہ تعزیر یہ ہے کہ جس گناہ کےلئے کوئی حد مقرر نہ ہو اس پر تعزیر ہے۔(ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     کتاب الحدود والتعزیر     ادارۃالقرآن کراچی     ۱ /۲۸۵)
اسی میں ہے:
من اٰذٰی غیرہ بقول او فعل یعزر کذافی التاتارخانیۃ۲؎۔
جس نے کسی دوسرے کو اپنے عمل یا قول سے اذیت دی تو اس پر تعزیر ہے، جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے(ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر     کتاب الحدود والتعزیر     ادارۃالقرآن کراچی   ۱ /۲۸۴)
درمختار میں ہے:
التعزیر لیس فیہ تقدیر بل ھو مفوض الی رأی القاضی۳؎۔
تعزیر میں سزا مقرر نہیں ہے بلکہ وہ قاضی کی رائے پر موقوف ہے۔(ت)
 (۳؎ درمختار     باب التعزیر         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۲۶)
اسی میں ہے:
اکثرہ تسعۃ وثلثون سوطا لوبالضرب۴؎۔
تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑے ہیں،یہ سزا مارنے کی ہے۔(ت)
 ( ۴؎ درمختار     باب التعزیر         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۲۶)
پھر یہ حکم بہتان زنا کے سوا اور بہتانوں میں ہے اور اگر مرد اپنی عورت کو صاف زنا کی تہمت لگائے خواہ بالقصد تہمت لگانا ہی منظور ہو یا جس طرح بیباک عوام میں کچھ لفظ دشنام کے رائج ہیں کہ غصہ میں زبان سے نکالتے ہیں اور ان کے معنیٰ میں صراحۃًزنا کا۔۔۔۔۔۔(جواب ناقص ملا)
مسئلہ۲۵۵تا۲۶۴:ازنیپال گنج بازار ڈاک خانہ روپی ڈیہہ ضلع بہرائچ مسئولہ مولوی حبیب اﷲ محبوب علی شاہ دوشنبہ ۲۱محرم الحرام ۱۳۳۷ھ   کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) ایک محصن مرد اور محصنہ عورت بعلت زنا مشتہر ہوکر دونوں نے بجلسہ عام اقرارِ زنا کیا گو موقعہ کے عینی شاہد نہیں ملے مگر تحقیقات سے رموز زنا اور زانیہ کے پیام وسلام قول وقرار کے ثبوت بھی ملے۔ 

 (۲) اب یہ عقود فسخ ہوئے یا قائم رہے؟

(۳) اور عورت زانیہ کے شوہر کو اسے طلاق دینا لازم ہے یانہیں؟

(۴) اگر لفظ طلقتک نہیں کہا اور طلاقنامہ لکھ کر دے دیا جس کی نقل منسلکہ استفتاء ہذا ہے جس روزسے یہ تحریر دی ہے اس روز سے مواجہہ نہیں ہوا ایک روز قبل نمازِ جمعہ میں زانیہ کے شوہر نے طلاق بائنہ کا اقرار کیا لہذا یہ طلاق بائنہ ہوئی یانہیں؟

(۵) اگر عورت مطلقہ نے خود طلاق مانگی تھی اور عدت بھی توڑدی ہے اس صورت میں اب زانیہ کے شوہر کومہر ومصارفِ عدت ادا کرنا چاہئے یانہیں؟

(۶) اور ایسے زانی و زانیہ کی اگرچہ شرعی سزا دینا یہاں پر اس وقت غیر ممکن ہے تو حاکمِ وقت مقامی سے حسبِ قانونِ حکومت سزائے زنا دلانے کا عذر دار ہونا لازم ہے یا نہیں؟

(۷) مر د محصن زانی کا بھی عقد فسخ ہوا یانہیں؟

(۸) ایک گروہ کثیر نے مرد محصن زانی کے ساتھ میل جول و حقہ پانی ترک کردیاہے لیکن چند اشخاص نے جن میں سے صرف دو شخص خواندہ عقائد وہابیہ دیوبندیہ اور ایک شخص خواندہ اہلسنت و جماعت جو کہ اشخاص عقائد وہابیہ مذکرہ کا صرف ہم مشرب ہے بقیہ اشخاص ناخواندہ ہیں انہوں نے زانی وزانیہ کو توبہ کراکے میل جول حقہ پانی دے کر ہم پیالہ وہم نوالہ ہوگئے ہیں بدیں باعث بڑے گروہ نے ان سب کا بھی میل جول حقہ پانی ترک کردیا ہے یہ ترک کرنا جائز ہے یانہیں، اور یہی چند اشخاص اس زنا کے محرک معلوم ہوتے ہیں۔

(۹) شوہر زانیہ کا پیش امام جامع مسجد ومدرس مدرسہ اسلامیہ ہے اس واسطے تنبیہاً ان زانی اور زانیہ کی موافق رسم و رواج حال کی کیا سزا ہونی چاہئے ؟

(۱۰) اور زانی وزانیہ کے شریک داران مذکرہ بھی کسی قسم کی سزا کے مستوجب ہیں یانہیں؟بینواتوجروامع الکتاب ۔

نقل طلاق نامہ: منکوحہ جواد ولد حسین علی متوطن لکھنؤ ساکن نیپال گنج، جوکہ مسماۃ منیر ا نومسلم میرے عقد و نکاح میں نوسال سے تھی اب مسماۃ مذکورہ کی بدچلنی ثابت ہونے سے اور زبانی خود سے تعلق بے جا کے اقرار سے میں طلاق اس کے طلب برضا و رغبت طلاق دیتا ہوں اور یہ چند کلمہ بطریق طلاق نامہ کے لکھ دئے کہ سندر ہے اور وقت پر کام آئے۔ العبد محمد جواد بقلم خود۔ گواہ شد نورمحمد بقلم خود۔ مورخہ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ مطابق ۱۷گنے کنوار۱۹۷۵؁بمواجہہ فقیر بخش وبدلو ومنےﷲوغیرہم کے یہ تحریر لکھی گئی۔
الجواب

(۱ و ۲) ایسی بازاری باتوں سے زنا کاثبوت نہیں ہوسکتا جب تک کافی شہادت شرعیہ یاکافی اقرار زانی یا زانیہ نہ ہو، اور اگر زنا ثابت بھی ہوا تو اس سے نکاح میں کچھ فرق نہیں آتا مگر ایسا زنا جس سے مصاہرت ثابت ہو جیسے شوہر کے باپ یا بیٹے سے کہ اس صورت میں البتہ نکاح فاسد ہوجاتا ہے۔
(۳) زانیہ کو طلاق دینا شوہر پر لازم نہیں۔
درمختار میں ہے:
لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ۱؎۔
فاجرہ عورت کو طلاق دیناخاوند پر واجب نہیں ہے(ت)
 ( ۱؎ درمختار کتاب النکاح     ۱ /۱۹۰    وکتاب الحظر والاباحت ۲ /۲۵۴مجتبائی دہلی)
 (۴) طلاق جس طرح زبان سے ہوتی ہے اسی طرح قلم سے،جبکہ بلامجبوری شرعی لکھا ہو، اشباہ میں ہے :
الکتاب کالخطاب۲؎
 (تحریر بھی خطاب کی طرح ہوتی ہے۔ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث احکام الکتابۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۵۹۶ و۵۹۷)
طلاقنامہ سے طلاق رجعی ثابت ہوتی ہے، لیکن شوہر نے اگر طلاق بائن کا اقرار کیا تو بائن ہوگئی۔
 (۵) مہربہر حال دینا ہوگا اور عورت پر فرض ہے کہ عدت اسی مکان میں پوری کرے۔
قال اﷲ تعالٰی لاتخرجو ھن من بیوتھن ولایخرجن الاان یأتین بفاحشۃ مبینۃ۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:تم بیویوں کوگھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الایہ کہ وہ کھلے بندوں فحش کاری کریں۔(ت)

اس حالت میں تاختم عدت شوہر پر لازم ہوگا کہ اسے نفقہ دے۔
 (۳؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۱)
 (۶) ہرگز نہیں، سزاوہی ہے جو مطابق شرع ہے اور اس کے خلاف کی خواستگاری ناجائز ۔
قال اﷲ تعالٰی ومن لم یحکم بماانزل اﷲ فاولٰئک ھم الظلمون۴؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور جو اﷲ تعالٰی کے نازل کئے ہوئے پر حکم نہ کریں تو وہ لوگ ظالم ہیں۔(ت)
( ۴؎القرآن الکریم ۵ /۴۵)
وقال اﷲ تعالٰی وقد امرواان یکفروابہ۵؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: ان کوحکم دیا گیا کہ اس سے انکارکریں۔(ت)
 (۵؎ القرآن الکریم ۴ /۶۰)
 (۷) زانی کے نکاح پر زنا سے کوئی اثر نہیں پڑسکتا مگر یہ کہ ا س سے مصاہرت ثابت ہو جیسے اپنی زوجہ کی ماں یا بیٹی سے۔
 (۸) اگر ان لوگوں نے زانی و زانیہ کی توبہ کے بعد ان سے میل جول کیا ہے تو ان پر اس سے کچھ الزام نہیں اور اس بناپر ان کا حقہ پانی بند کرنا ناجائز ہے ،اور اگر بغیر توبہ کئے میل جول کرلیا تو بیجا کیا اس حالت میں بطور تنبیہ انکا حقہ پانی بندکرنے میں حرج نہیں، توبہ کے لئے اولیاء کا مواجہہ ضرورنہیں، ہاں بنظر حق العبد ان کی معافی کی ضرورت ہے مگر بغیر اس کے جتنی توبہ کی ہے وہ بھی نامعقول سمجھی جائے، یہ محض باطل ہے۔ دیوبندی عقیدے والے خود مرتد ہیں اور ان سے میل جول مطلق حرام۔ اس واقعہ پر اس کوبناکرنااور یہ نہ ہوتا تو ان سے میل جول رکھنا جہل و ضلالت ہے، یونہی وہ جو دیوبندیہ سے میل جول رکھتا ہواگرچہ اپنے آپ کو سنی کہتا ہو سخت فاسق ہے اور مسلمانوں کو اس سے قطع تعلق لازم ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولاترکنواالی الذین ظلمو افتمسکم النار۔۱؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:تم ظالم لوگوں کی طرف میلان نہ کروورنہ تمہیں آگ چھولے۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۱۱ /۱۳)
(۹) یہاں ترکِ تعلق کے سوا کوئی سزاجاری نہیں ہوسکتی اور زنائے زن سے شوہر پر کچھ الزام نہیں جبکہ وہ اس پر راضی نہ ہو۔
قال اﷲ تعالٰی ولاتزر وازرۃ وزراخری۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: کوئی جان دوسرے کا بوجھ (گناہ) نہ اٹھائے گی(ت)
 ( ۲؎القرآن الکریم ۷ /۱۶۴و ۳۵ /۱۸)
 (۱۰) اگر وہ زنامیں ساعی تھے یا بعد زنا بلاتوبہ انکے حامی ہوئے تو بھی مستحق سزائے شرع ہیں ورنہ نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter