Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
164 - 175
 (۱۱) امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب طبقات کبرٰی احوال حضرت سیدی ابوالمواہب محمد شاذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں:
وکان رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول رایت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اذاکان لک حاجۃ واردت قضاء ھافانذر لنفیسۃ الطاہرۃ ولوفلسافان حاجتک تقضی۲؎
یعنی حضرت ممدوح رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھاحضور نے فرمایا جب تمہیں کوئی حاجت ہو اور اس کا پورا ہونا چاہو تو سیدہ طاہرہ حضرت نفیسہ کے لئے کچھ نذر مان  لیا کرو اگرچہ ایک ہی پیسہ ہوتمہاری حاجت پوری ہوگی۔
 (۲؎ طبقات کبرٰی     امام عبدالوہاب الشعرانی)
یہ ہیں اولیاء کی نذریں، اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ نذراولیاء کو مااھلّ بہ لغیراﷲ میں داخل کرنا باطل ہے، ایسا ہوتا تو ائمہ دین کیونکر اسے قبول فرماتے اور کھاتے کھلاتے بلکہ مااھلّ بہ لغیراﷲ وہ جانور ہے جو ذبح کے وقت تکبیرمیں غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا ۔
اب امام الطائفہ اسمٰعیل دہلوی صاحب کے باپوں کے بھی اقوال لیجئے:

(۱) جناب شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی مولوی اسمٰعیل کے دادا اور دادا استاد اور پردادا پیر انفاس العارفین میں اپنے والد ماجد کے حال میں لکھتے ہیں:
حضرت ایشاں در قصبہ ڈاسنہ بزیارت مخدوم الہ دیارفتہ بودند شب ہنگام بود دراں محل فرمودند مخدوم ضیافت مامی کنند ومی گویند چیزے خوردہ روید توقف کردند تا آنکہ اثر مردم منقطع شد وملال بریاراں غالب آمدآنگاہ زنے بیامد طبق برنج و شیرینی برسر و گفت نذرکردہ بودم کہ اگر زوج من بیاید ہماں ساعت ایں طعام پختہ نشیندگان درگاہ مخدوم الہ دیا رسانم دریں وقت آمد ایفائے نذر کردم۔۱؎
حضرت ایشاں قصبہ ڈاسنہ میں حضرت مخدوم الہ دیا کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے، رات کا وقت تھا اس وقت فرمایا کہ حضرت مخدوم نے ہماری دعوت کی ہے اور فرمایا ہے کہ کھاناکھاکر جائیں۔ آپ نے دعوت کا انتظار فرمایا یہاں تک کہ رات گزرجانے کی وجہ سے لوگوں کی آمد ورفت بھی ختم ہوگئی، احباب ملول ہوئے، اچانک ایک عورت میٹھے طعام کاتھال لئے نمودار ہوئی اس نے کہا میں نے نذر مانی تھی کہ میرا خاوند جس وقت گھرواپس آئے گا میں اسی وقت طعام پکاکر مخدوم الہ دیا کی درگاہ میں قیام پذیر فقراء میں تقسیم کروں گی، میری خواہش تھی کہ خدا کرے اس وقت رات گئے درگاہ میں کوئی موجود ہوتا کہ طعام تناول کرے اور میری نذر پوری ہو۔(ت)
 (۱؎ انفاس العارفین (مترجم اردو)حضرت مخدوم الہ دیہ     المعارف گنج بخش روڈ لاہور    ص۱۱۲)
 (۲) اسی میں ہے:
حضرت ایشاں میفرمودند کہ فرہادبیگ را مشکلے پیش افتاد نذر کردم کہ بارِ خدایا کہ اگر ایں مشکل بسر آید ایں قدر مبلغ بحضرت ایشاں ہدیہ دہم آں مشکل مندفع شد آں نذر از خاطر اوبرفت بعد چندے اسپ اوبیمار شد و نزدیک ہلال رسید برسبب ایں امر مشرف شدم بدست یکے ازخادمان گفتہ فرستادم کہ ایں بیماری اسپ عدم وفائے نذرست اگر اسپ خودرامیخواہی نذرے راکہ در فلاں محل التزام نمودہ بفرست وے نادم شد وآں نذر فرستاد ہماں ساعت اسپ او شفا یافت۔۲؎
حضرت ایشاں نے فرمایا کہ فرہاد بیگ کو ایک مشکل در پیش ہے، اس نے نذرمانی ہے کہ اے باری تعالٰی اگر یہ مشکل سرہوجائے تو میں مبلغ اتنے حضرت ایشاں کی خدمت میں ہدیہ دوں گا، وہ مشکل ختم ہوگئی اور اس کے ذہن سے وہ نذر نکل گئی، اس کے بعد اس کے چند گھوڑے بیمار ہوکر قریب المرگ ہوگئے، مجھے جب معلوم ہوا تو میں نے اس کو ایک خادم کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ اگر گھوڑوں کی خیر چاہتے ہوتو فوراً نذر پوری کرو جو تم نے فلاں جگہ فلاں وقت مانی تھی نذر پوری نہ کرنے کی وجہ سے گھوڑے بیمار ہوئے ہیں، تو وہ بہت نادم ہوا، اورنذر خدمت میں ارسال کردی تو گھوڑے فوراً تندرست ہوگئے۔(ت)
 (۲؎انفاس العارفین (مترجم اردو)   منکر سے بزور نذر وصول کی المعارف گنج بخش روڈ لاہور ص۱۲۷و ۱۲۸)
(۳) حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں:
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ اور اتمام امت برمثال پیراں و مرشداں می پرستند وامور تکوینیہ را بایشاں وابستہ می دانند وفاتحہ و در ود صدقات و نذر بنام ایشاں رائج و معمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است فاتحہ ودرود ونذر وعرس و مجلس۔۱؎
حضرت امیر (علی کرم اﷲ وجہہ) اور ان کی اولاد پاک کو تمام امت پیروں اور مرشد وں کی طرح سمجھتی ہے اور تکوینی امور فاتحہ، درود ، صدقات اور نذر ونیازان کے نام سے رائج ہیں اور معمول بنا ہوا ہے، چنانچہ تمام اولیاء کرام سے یہی معاملہ ہے کہ ان کے نام پر نذر و نیاز، فاتحہ، درود، عرس اور مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔(ت)
 (۱؎ تحفہ اثنا عشریہ     باب ہفتم درامامت    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۲۱۴)
فوائدِ عظیمہ جلیلہ
مسلمان دیکھیں دونوں شاہ صاحبوں کی ان تینوں عبارتوں سے کتنے جلیل و جمیل وہابیت کش فائدے حاصل ہوئے، وﷲالحمد:

(۱) اولیاء کا اپنے حاضرینِ مزارات پر مطلع ہونا(۲) ان سے کلام فرمانا کہ جب حضرت مخدوم الہ دیا قدس سرہ کے مزار شریف پر شاہ ولی اﷲ صاحب کے والد عبدالرحیم صاحب حاضر ہوئے حضرت نے مزار شریف سے ان کی دعوت کی اور فرمایا کچھ کھاکر جانا(۳) اولیائے کرام کا بعد وفات پر غیبوں پر اطلاع پانا کہ حضرت مخدوم قدس سرہ کو معلوم ہوا کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے آنے پر ہماری نذر مانی ہے اور یہ آج اس کا شوہر آئیگا اور یہ کہ عورت اسی وقت ہماری نذر کے چاول اور شیرینی حاضر کرے گی(۴) اولیاء کی نذر (۵) مصیبت کے وقت اس کے دفع کواولیاء کی نذر ماننی(۶) ان کی نذر مان کر پوری نہ کرنے سے بلاآنا اگرچہ وہ پورانہ کرنا بھول جانے سے ہو (۷) اس نذر کے پوراکرتے ہی فوراً بلاکادفع ہونا کہ فرہاد بیگ نے کسی مشکل کے وقت شاہ ولی اﷲ صاحب کے والد کی نذر مانی پھر یاد نہ رہی، گھوڑا مرنے کے قریب پہنچ گیا، شاہ صاحب کو معلوم ہوا کہ اس پر یہ مصیبت ہماری نذر پوری نہ کرنے سے ہے، اس سے فرمابھیجا کہ گھوڑا بچانا چاہتے ہوتو ہماری منت پوری کرو، اس نے وہ نذر پوری کی گھوڑا فوراً اچھا ہوگیا(۸) فاتحہ مروّجہ(۹) عرس اولیاء (۱۰) ان سب سے بڑھ کریہ پانچ بھاری غضب کہ پیر پرستی (۱۱) مولیٰ علی وائمہ اطہار کی بندگی(۱۲) اس پرستاری و بندگی پر تمام امتِ مرحومہ کا اجماع(۱۳) فتح، شکست، تندرستی، دولتمندی، تنگدستی، اولاد ہونانہ ہونا، مراد ملنا نہ ملنا، اور ان کے مثل احکام تکوینیہ کا مولیٰ علی وائمہ اطہار واولیائے کرام سے وابستہ ہونا(۱۴) اس وابستہ جاننے پر امت مرحومہ کا اجماع ہونا۔وہ سات بڑے شاہ صاحب کے کلام میں تھے یہ بھاری پتھر چھوٹے شاہ صاحب کے کلام میں ہیں۔ اب اسمٰعیل دہلوی کی تقویۃ الایمان وایضاح الحق اور گنگوہی صاحب کی براہین قاطعہ وغیرہا خرافاتِ وہابیہ سے ان ۱۴کو ملا کر دیکھئے دونوں شاہ صاحب معاذ اﷲ کتنے بڑے کٹے پکے مشرک،مشرک گر ٹھہرتے ہیں مگر ان کا مشرک ہونا آسان نہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ(۱۵) بھاری فائدہ حاصل ہوگا کہ اسمٰعیل دہلوی و گنگوہی وتھانوی اور سارے کے سارے وہابی سب مشرک کافر ہیں کہ اسمٰعیل دہلوی ان دومشرکوں کا غلام، ان کا شاگرد، ان کا مرید، ان کا مداح، ان کوامام وولی چنیں وچناں جاننے والا۔ اور گنگوہی و تھانوی اور سارے کے سارے وہابی ان دو تقویت الایمانی دھرم پر مشرکوں اور اس تیسرے قرآنی دھرم پر بددین گمراہ کو ایسا ہی جاننے والے اور جوایسوں کو ویسا جانے وہ خود مشرک کافر بے دین والحمد ﷲ رب العالمین ہے۔ کسی وہابی گنگوہی تھانوی دہلوی امر تسری بنگالی بھوپالی وغیرہم کے پاس اس کا جواب یا آج ہی سے
وقفو ھم انھم مسئولونoمالکم لاتناصرونoبل ھم الیوم مستسلمونo۱؂
 (انہیں روکوان سے پوچھنا ہے تمہیں کیا ہوا اب ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے بلکہ اب وہ گردن ڈالے ہیں۔ت)کاظہور بے حجاب
کذٰلک العذاب ولعذاب الاٰخرۃ اکبر لوکانویعلمونo۲؂
 (عذاب ایسا ہوتا ہے اور بیشک آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے کاش وہ جانتے۔ت)یہاں سے ظاہر ہوگیا کہ اس مجموعہ خطب کے اشعار موافق اہلسنت نہیں، اور برکات الامداد کی وہ عبارت متعلق بہ استمداد ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۳۷ /۲۴تا۲۶)(۲؎ القرآن الکریم ۳۹ /۲۶)
Flag Counter