Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
163 - 175
 (۵) نیز فرماتے ہیں:
الشیخ منصور البطائحی رضی اﷲ تعالٰی عنہ من اکابر مشائخ العراق اجمع المشائخ والعلماء علی تبجیلہ وقصد بالزیارات والنذور من کل جھۃ ۳؎
حضرت منصور بطائحی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اکابر اولیائے عراق سے ہیں،اولیاء وعلماء نے ان کی تعظیم پرا جماع کیا، اور ہر طرف سے مسلمان ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر لاتے۔
 (۳؎ بہجۃ الاسرار    شیخ منصور البطائحی         مصطفی البابی مصر    ص۱۴۰)
 (۶) نیز فرماتے ہیں:
لم یکن لاحد من مشائخ العراق فی عصر الشیخ علی بن الھیتی فتوح اکثر من فتوحہ کان ینذرلہ من کل بلد۱؎
حضرت علی بن ہیتی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے زمانے میں اولیائے عراق سے کسی کی فتوح ان کے مثل نہ تھی ہر شہر سے ان کی نذر آتی۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار    شیخ علی بن ہیتی     مصطفی البابی مصر    ص۱۵۳)
 (۷) نیز فرماتے ہیں:
الشیخ ابوسعید القیلوی احد اعیان المشائخ بالعراق حضر مجلسہ المشائخ والعلماء وقصد بالزیارات والنذور۲؎
حضرت ابوسعید قیلوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اکابر اولیائے عراق سے ہیں مسلمان ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر کی جاتی۔
 (۲؎ بہجۃ الاسرار     شیخ ابوسعید القیلوی      مصطفی البابی مصر     ص۱۶۱)
 (۸) نیز فرماتے ہیں:
اخبرنا ابوالحسن علی بن الحسن السامری قال اخبرنا ابی قال سمعت والدی رحمہ اﷲ تعالٰی یقول کانت نفقۃ شیخننا الشیخ جاگیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ من الغیب وکان نافذالتصریف خارق الفعل متواتر الکشف ینذرلہ کثیرا وکنت عندہ یوما فمرت بہ بقرات مع راعیھا فاشارالٰی احدٰھن وقال ھذہ حامل بعجل احمر اغرصفتہ کذاوکذاویولد وقت کذا یوم کذاوھو نذرلی وتذبحہ الفقراء یوم کذاویاکلہ فلان وفلان ثم اشارالی اخری وقال ھذہ حامل بانثی ومن وصفھا کذاوکذاتولد وقت کذاوھی نذرلی یذبحھا فلان رجل من الفقراء یوم کذاویاکلھا فلان وفلان ولکلب احمر فیھا نصیب قال فواﷲ لقد جرت الحال علی ماوصف الشیخ۳؎۔
ہمیں خبردی ابوالحسن بن حسن سامری نے کہ ہمیں ہمارے والد نے خبردی، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، فرماتے تھے ہمارے شیخ حضرت جاگیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا خرچ غیب سے چلتا تھا اور ان کا تصرف نافذ تھا ان کے کام کرامات تھے علی الاتصال انہیں کشف ہوتا تھا مسلمان کثرت سے ان کی نذرکرتے،ایک دن میں ان کے پاس حاضر تھا کچھ گائیں اپنے گوالے کے ساتھ گزریں، حضرت نے ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اس گائے کے پیٹ میں سرخ پچھڑا ہے جس کے ماتھے پر سپیدی ہے۔ اور اس کا سب حلیہ بیان فرمایا،فلاں دن فلاں وقت پیدا ہوگا اور وہ ہماری نذر ہوگا فقراء اسے فلاں دن ذبح کرینگے اور فلاں فلاں اسے کھائیں گے۔پھر دوسری گائے کی طرف اشارہ اشارہ کیا اور فرمایا: اس کے پیٹ میں پچھیاہے۔ اور اس کا حلیہ بیان فرمایا فلاں وقت پیدا ہوگی اور وہ میری نذر ہوگی ، فلاں فقیر اسے فلاں دن ذبح کرے گا اور فلاں فلاں اسے کھائیں گے اور ایک سرخ کتّے کا بھی اس کے گوشت میں حصہ ہے۔ ہمارے والد نے فرمایا خداکی قسم جیسا شیخ نے ارشاد کیا تھا سب اسی طرح واقع ہوا۔
 (۳؎ بہجۃ الاسرار    شیخ جاگیر رضی اﷲ عنہ      مصطفی البابی مصر     ص۱۶۹)
(۹) نیزفرماتے ہیں:
اخبرنا الفقیۃ الصالح محمد الحسن بن  موسی الخالدی قال سمعت الشیخ الامام شھاب الدین السھروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول مالاحظ عمی شیخنا الشیخ ضیاء الدین عبدالقاھر رضی اﷲ تعالٰی عنہ مریدابعین الرعایۃ الانتج وبرع وکنت عندہ مرۃ فاتاہ سوادی بعجل وقال لہ یاسیدی ھذانذرناہ لک وانصرف الرجل فجاء العجل حتی وقف بین یدی الشیخ فقال الشیخ لنا ان ھذاالعجل یقول لی انی لست العجل الذی نذرلک بل نذرت للشیخ علی بن الھیتی وانما نذرلک اخی فلم یلبث ان جاء السوادی وبیدہ عجل یشبہ الاول فقال السودی یاسیدی انی نذرت لک ھذاالعجل ونذرت الشیخ علی بن الھیتی العجل الذی اتیتک بہ اولاوکانا اشتبھا واخذالاول وانصرف۱؎۔
ہمیں خبردی فقیہ صالح ابومحمد حسن بن موسٰی خالدی نے کہ میں نے شیخ امام شہاب الدین سہروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو فرماتے سنا کہ ہمارے شیخ حضرت عبدالقاہر ضیاء الدین سہروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب کسی مرید پر نظرِ عنایت فرماتے وہ پھولتاپھلتا اور بلند رتبہ کو پہنچتا،اور ایک دن میں حضور میں حاضر تھا کہ ایک دہقانی ایک بچھڑا الایا اور عرض کی یہ ہماری طرف سے حضرت کی نذر ہے، اور چلاگیا، بچھڑا آکر حضرت کے سامنے کھڑا ہوا حضرت نے فرمایا یہ بچھڑا مجھ سے کہتا ہے میں آپ کی نذرنہیں ہوں میں حضرت شیخ بن علی بن ہیتی کی نذر ہوں آپ کی نذر میرا بھائی ہے ۔ کچھ دیر نہ ہوئی تھی کہ وہ دہقانی ایک اور بچھڑا لایا جو صورت میں اس کے مشابہ تھا اور عرض کی: اے میرے سردار!میں نے حضور کی نذر یہ بچھڑامانا تھا اور وہ بچھڑا جو پہلے میں حاضر لایا وہ میں نے حضرت شیخ علی بن ہیتی کی نذر مانا ہے مجھے دھوکا ہوگیا تھا۔یہ کہہ کرپہلے بچھڑے کو لے لیا اور واپس چلاگیا۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار     شیخ عبدالقاہر السہروردی     مصطفی البابی مصر    ص۲۳۴ و ۲۳۵)
 (۱۰) نیزفرماتے ہیں:
اخبرنا ابوزیدعبدالرحمٰن بن سالم احمد القرشی قال سمعت الشیخ العارف اباالفتح بن ابی الغنائم بالاسکندریۃ۱؎،
ہمیں ابوزید عبدالرحمٰن بن سالم بن احمد قرشی نے خبردی کہ میں نے حضرت عارف باﷲابوالفتح بن ابی الغنائم سے اسکندر یہ میں سنا کہ اہل بطائح سے ایک شخص دبلا بیل کھینچتا ہوا ہمارے شیخ حضرت سیداحمد رفاعی رضی تعالٰی عنہ کے حضورلایا اور عرض کی: اے میرے آقا!میرااور میرے بال بچوں کا قوت اسی بیل کے ذریعہ سے ہے اب یہ ضعیف ہوگیا اس کے لئے قوت و برکت کی دعا فرمائیے۔ حضرت نے فرمایا:شیخ عثمان بن مرزوق(بطائحی رضی اﷲ تعالٰی عنہ) کے پاس جا اور انہیں میرا سلام کہہ اور ان سے میرے لئے دعاچاہ۔ وہ بیل کو لے کر یہاں حاضر ہوا، دیکھا کہ حضرت سیدی عثمان تشریف فرماہیں اور ان کے گرد شیرحلقہ باندھے ہیں، یہ پاس حاضر ہوتے ڈرا، فرمایا:آگے آ۔ قریب گیا، قبل اس کے کہ یہ حضرت رفاعی کا پیام پہنچائے سیدی عثمان نے خود فرمایا کہ میرے بھائی شیخ احمد پر سلام، اﷲ میرا اور ان کاخاتمہ بالخیر فرمائے، پھر ایک شیر کو اشارہ فرمایا کہ اٹھ اس بیل کوپھاڑ۔ شیر اٹھااور بیل کو مار کر اس میں سے کھایا، حضرت نے فرمایا:ا ب اٹھ آ۔ وہ اٹھ آیا، پھر دوسرے شیر سے فرمایا: اٹھ اس میں سے کھا۔ وہ اٹھا اور کھایا۔ پھر اسے بلایا۔ تیسرا شیر بھیجا، یونہی ایک ایک شیر بھیجتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سارا بیل کھالیا، اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ بطیحہ کی طرف سے ایک بہت فربہ بیل آیا اور حضرت کے سامنے کھڑا ہوا، حضرت نے اس شخص سے فرمایا: اپنے بیل کے بدلے یہ بیل لے لو۔ اس نے اسے پکڑتو لیا مگر دل میں کہتا تھا میرا بیل تو مارا گیا اور مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی اس بیل کو میرے پاس پہچان کر مجھے ستائے، ناگاہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور حضرت کے دست مبارک کو بوسہ دے کر عرض کی:
یاسیدی نذرت لک ثوراواتیت بہ الی البطیحۃ فاستلب منی ولاادری این ذھب۲؎
اے میرے مولیٰ!میں نے ایک بیل حضور کی نذر کا رکھا تھا اسے بطیحہ تک لایا وہاں سے میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا معلوم نہیں کہاں گیا،فرمایا:
قد وصل الیناھا ھو تراہ۳؎
وہ ہمیں پہنچ گیا یہ دیکھو یہ تمہارے سامنے ہے۔ وہ شخص قدموں پر گرپڑااور حضرت کے پائے مبارک چوم کر کہا: اے میرے مولا!خدا کی قسم اﷲ نے حضرت کو ہر چیز کی معرفت بخشی اور ہر چیز یہاں تک کہ جانوروں کو حضرت کی پہچان کرادی،
 (۱؎ بہجۃالاسرار    شیخ ابوعمرو عثمان بن مرزوق البطائحی     مصطفی البابی مصر    ص۱۵۹)

(۲؎ بہجۃالاسرار    شیخ ابوعمرو عثمان بن مرزوق البطائحی     مصطفی البابی مصر    ص۱۵۹)

(۳؎ بہجۃالاسرار    شیخ ابوعمرو عثمان بن مرزوق البطائحی     مصطفی البابی مصر    ص۱۵۹)
حضرت نے فرمایا:
ھذا ان الحبیب لایخفی عن حبیبہ شیئا ومن عرف اﷲ عز وجل عرفہ کل شیئ۔
اے شخص!بیشک محبوب اپنے محبوبوں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھتاجسے اﷲ کی معرفت ملتی ہے اﷲ اسے ہر چیز کا علم عطا کرتاہے۔ پھر بیل والے سے فرمایا: تو اپنے دل میں میرا شاکی تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرا بیل تو مارا گیا اور خداجانے یہ بیل کہاں کا ہے مبادا کوئی اسے میرے پاس پہچان کر مجھے ایذا دے۔ یہ سن کر بیل والا رونے لگا۔ فرمایا: کیا تونے نہ جانا کہ میں تیرے دل کی جانتا ہوں جااﷲاس بیل کو تجھ پر مبارک کرے۔ وہ بیل کولے کر چند قدم چلااب اسے یہ خطرہ گزرا کہ مبادا مجھے یا میرے بیل کو کوئی شیر آڑے آئے۔ فرمایا :شیر کا خوف ہے؟عرض کی:ہاں۔حضرت نے جو شیر سامنے حاضر تھے ان میں سے ایک کو حکم دیا کہ اسے اور اس کے بیل کو بحفاظت پہنچادے۔ شیر اٹھا اور ساتھ ہولیا اس کے پاس سے شیر وغیرہ کو دور کرتا کبھی اس کے داہنے کبھی بائیں کبھی پیچھے چلتا یہاں تک کہ وہ امن کی جگہ پہنچ گیا اور اپنا قصہ حضرت احمد رفاعی سے عرض کیا، حضرت روئے اور فرمایا: ابن مرزوق کے بعد ان جیسا پیدا ہونا دشوار ہے۔ اور اﷲ تعالٰی نے اس بیل میں برکت رکھی کہ وہ شخص بڑامالدار ہوگیا۱؎۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار     شیخ ابوعمروعثمان بن مرزوق البطائحی     مصطفی البابی مصر    ص۱۹۵)
Flag Counter