Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
162 - 175
مسئلہ۲۴۹:(یہ مسئلہ در اصل فتاوٰی افریقہ کا مسئلہ نمبر۶۰ہے، مناسبت کے پیشِ نظر اسے یہاں شامل کیا گیا ہے)
زید کہتا ہے غیر خدا جل وعلا کیلئے نذر چڑھانا حرام ہے چاہے نبی علیہ السلام ہوں چاہے اولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ مجموعہ خطب حرمین شریفین تالیف مولوی عبدالحی صاحب کے صفحہ ۱۷۴پر ہے ع

صندل بھی تربتوں پہ چڑھانا حرام ہے

اسی کتاب کے صفحہ ۲۳۲پر ہے: ؎

نذر بھی غیر خدا کی ہے یقین شرک سنو		غیر کی نذر کا کھانا بھی حرام اے اکرم

کیایہ اشعار اہلسنت کے خلاف ہیں یا نہیں؟اور حضور کے رسالہ برکات الامدادیہ میں ص۳۱پر ہے: خود امام الطائفہ میاں اسمٰعیل دہلوی کے بھاری پتھر کا کیا علاج، وہ صراط مستقیم میں اپنے پیرجی کا حال لکھتے ہیں:
روحِ مقدس جناب غوث الثقلین و جناب حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند متوجہ حال حضرت ایشاں گردیدہ۲؎۔
حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند (رحمہما اﷲ تعالٰی ) کی روحیں حضرت کے حال پر متوجہ ہوئیں۔(ت)
(۲؎ صراط مستقیم باب چہارم دربیان سلوک راہ نبوت الخ      المکتبۃ السلفیہ لاہور     ص۱۶۶)
اسی میں ہے:
شخصیکہ در طریقہ دریہ قصدِ بیعت میکند البتہ او رادرجناب حضرت غوث الاعظم اعتقادے عظیم بہم میرسد (الیٰ قولہ) کہ خودرا از  زمرہ غلاماں آنجناب میشمارد اھ۱؎ملخصاً۔
ایک شخص نے طریقہ قادریہ میں بیعت کا ارادہ کیا یقیناً اس کو جناب حضرت غوث الثقلین میں بہت پختہ اعتقاد تھا(الیٰ قولہ) کہ خود کو آنجناب کے غلاموں میں شمار کیا اھ ملخصا(ت)
 (۱؎ صراط مستقیم     باب چہارم دربیان طریق سلوک راہ نبوت     مکتبہ سلفیہ لاہور    ص۱۴۷)
اسی میں ہے:
اولیائے عظام مثل حضرت غوث الاعظم وحضرت خواجہ بزرگ الخ۲؎۔
اولیائے عظام جیسے غوثِ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور حضرت خواجہ بزرگ الخ(ت)
 (۲؎ صراط مستقیم تکملہ دربیان سلوک ثانی راہ ولایت         مکتبہ سلفیہ لاہور     ص۱۳۲)
یہی امام الطائفہ اپنی تقریر ذبیحہ مندرج مجموعہ زبدۃ النصائح میں لکھتے ہیں:
اگر شخصے بزے راخانہ پرور کند تا گوشت اوخوب شود اوراذبح کردہ وپختہ فاتحہ حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ خواندہ بخوراند خللے نیست۔۳؎
اگر کسی شخص نے کوئی بکراگھر میں پالاتاکہ اس کا گوشت اچھا ہوجائے اور اس کو ذبح کرکے پکاکر غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی فاتحہ دلائے اور لوگوں کو کھلائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
 (۳ ؎ زبدۃ النصائح امام الطائفہ میاں اسمٰعیل)
ایمان سے کہیوغوث الاعظم کے یہی معنی ہوئے کہ سب سے بڑے فریاد رس یا کچھ اور، خداجل وعلاکو ایک جان کر کہنا غوث الثقلین کا یہی ترجمہ ہوا کہ جن و بشر کے فریاد رس یا کچھ اور ،اورپھر یہ کیسا کھلا شرک تمہارا امام اور اس کاساراخاندان بول رہا ہے،قول کے سچے ہوتوان سب کو بھی ذرا جی کرّا کرکے مشرک بے ایمان کہہ دو  ورنہ شریعتِ وہابیہ کیا آپ کی خانگی ساخت ہے کہ فقط باہر والوں کے لئے خاص ہے گھر والے سب اس سے مستثنٰی ہیں۔
الجواب

غیر خداکیلئے نذرِ فقہی کی ممانعت ہے،اولیائے کرام کےلئے ان کی حیات ظاہری خواہ باطنی میں جو نذر کہی جاتی ہیں یہ نذر فقہی نہیں، عام محاورہ ہے کہ اکابر کے حضور جو ہدیہ کریں اسے نذر کہتے ہیں، بادشاہ نے دربار کیا اسے نذر یں گزریں، شاہ رفیع الدین صاحب برادرِ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رسالہ نذور میں لکھتے ہیں:
نذریکہ اینجا مستعمل میشوعد نہ برمعنی شرعی ست چہ عرف آنست کہ آنچہ پیچ بزرگاں می برند نذر  ونیاز می گویند۱؎
یہاں نذر کا لفظ شرعی نذر کے معنی میں استعمال نہیں کیونلہ عرف میں بزرگوں کو جو کچھ پیش کیاجاتا ہے اس کو نذر و نیاز کہتے ہیں۔(ت)
 ( ۱؎ مجموعہ رسائل تسعہ     رسالہ نذور     شاہ رفیع الدین     مطبع احمدی دہلی     ص۲۱)
امام اجل سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
ومن ھذاالقبیل زیارۃ القبور والتبرک بضرائح الاولیاء والصالحین والنذر لھم بتعلیق ذٰلک علٰی حصول شفاء او قدوم غائب فانہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین بقبورھم کما قال الفقہاء فیمن دفع الزکاۃ لفقیر وسماھا قرضا صح لان العبرۃ بالمعنی لاباللفظ ۲؎
یعنی اسی قبیل سے ہے زیارتِ قبور اور مزارات اولیاء وصلحاء سے برکت لینا اور بیمار کی شفایامسافر کے آنے پر اولیائے کرام کیلئے منت مانناکہ وہ ان کے خادمانِ  قبور تصدق سے مجاز ہے جیسے فقہاء نے فرمایا ہے کہ فقیر کو زکوٰۃ دے اور قرض کا نام لے تو صحیح ہوجائے گی کہ اعتبار معنٰی کا ہے نہ کہ لفظ کا۔
 (۲؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ     الخلق الثامن والاربعون الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۱۵۱)
ظاہر ہے کہ یہ نذر فقہی ہوتی تو احیا کے لئے بھی نہ ہوسکتی حالانکہ دونوں حالتوں میں یہ عرف وعمل قدیم سے اکابرین میں معمول و مقبول ہے۔ امام اجل سیدی ابوالحسن نورالملۃ والدین علی بن یوسف بن جریر لخمی شطنوفی قدس سرہ العزیز جن کو امام فن رجال شمس الدین ذہبی نے طبقات القراء اور امام جلیل جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ میں الامام الاوحد کہا یعنی بے نظیر امام، اپنی کتاب مستطا ب بہجۃ الاسرار شریف میں محدثانہ اسانید صحیحہ معتبرہ سے روایت فرماتے ہیں:
 (۱) اخبرنا ابوالعفاف موسٰی بن عثمان البقاعی بالقاھرۃ ۶۶۳؁ قال اخبرنا ابی بدمشق ۶۱۴؁ قال اخبرنا الشیخان الشیخ ابوعمروعثمان الصریفینی والشیخ ابو محمد عبدالحق الحریمی ببغداد ۵۵۹؁ قالاکنابین یدی الشیخ محی الدین عبدالقادررضی اﷲ تعالٰی عنہ بمدرسۃ یوم الاحد ثالث صفر۵۵۵؁ ۔
ہم سے ابوالعفاف موسیٰ بن بقاعی نے ۶۶۳؁ھ میں شہر قاہرہ میں حدیث بیان کی کہ ہمیں میرے والدِ ماجد عارف باﷲ ابوالمعانی عثمان نے۶۱۴؁ھ میں شہر دمشق میں خبردی کہ ہمیں دو  ولی کامل حضرت ابوعمر و عثمان صریفینی وحضرت ابومحمد عبدالحق حریمی نے ۵۵۹؁میں بغداد مقدس میں خبردی کہ ہم ۳صفر روزیک شنبہ ۵۵۵؁ میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی کے دربار میں حاضر تھے حضور نے وضو کرکے کھڑاویں پہنیں اور دو رکعتیں پڑھیں، بعد سلام ایک عظیم نعرہ فرمایا اور ایک کھڑاؤں ہوا میں پھینکی، پھر دوسرا نعرہ مارا اور دوسری کھڑاؤں پھینکی وہ دونوں ہماری نگاہوں سے غائب ہوگئیں، پھر تشریف رکھی، ہیبت کے سبب کسی کو پوچھنے کی جرأت نہ ہوئی، ۲۳دن کے بعد عجم سے ایک قافلہ حاضر بارگاہ ہوا اور کہا
ان معناللشیخ نذرا
ہمارے پاس حضور کی ایک نذر ہے
فاستأذناہ فقال خذوہ منھم،
ہم نے حضور سےاس نذر کے لینے میں اذن طلب کیا حضور نے فرمایا لے لو،انہوں نے ایک من ریشم اور خزکے تھان اور سونا اور حضور کی وہ کھڑادیں جو اس روز ہوا میں پھینکی تھیں پیش کیں، ہم نے ان سے کہا یہ کھڑاویں تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟کہا۳صفر روز یک شنبہ ہم سفر میں تھے کہ کچھ راہزن جن کے دو سردار تھے ہم پر آپڑے ہمارے مال لوٹے اور کچھ آدمی قتل کئے اور ایک نالے میں تقسیم کو اترے، نالے کے کنارے ہم تھے
فقلنالوذکرنا الشیخ عبدالقادر فی ھذاالوقت ونذر نالہ شیئا من اموالنا ان سلمنا،
ہم نے کہا بہتر ہوکہ اس وقت ہم حضور غوث اعظم کو یاد کریں اور جنات پانے پر حضور کے لئے کچھ مال نذرمانیں، ہم نے حضور کو یاد کیا ہی تھا کہ دو عظیم نعرے سنے جن سے جنگل گونج اٹھا اور ہم نے راہزنوں کو دیکھا کہ ان پر خوف چھاگیا ہم سمجھے ان پر کوئی اور ڈاکو آپڑے یہ آکر م سے بولے، آؤ اپنا مال لے لو اور دیکھو ہم پر کیا مصیبت پڑی، ہمیں اپنے دونوں سرداروں کے پاس لے گئے ہم نے دیکھا وہ مرے پڑے ہیں اور رہ ایک کے پا ایک کھڑاؤں پانی سے بھیگی رکھی ہے ڈاکوؤں نے ہمارے سب مال پھیردئے اور کہا اس واقعہ کی کوئی عظیم الشان خبر ہے۱؎۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار    فصول من کلامہ مر صعابشیئ من عجائب احوالہ     مصطفی البابی مصر    ص۶۷)
 (۲) نیز فرماتے ہیں قدس سرہ،:
حدثنا ابوالفتوح نصراﷲ بن یوسف الازجی قال اخبرنا الشیخ ابوالعباس احمد بن اسمٰعیل قال اخبرنا الشیخ ابومحمد عبداﷲ بن حسین بن ابی الفضل قال کان شیخنا الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقبل النذور ویأکل منھا۲؎ (ملخصاً)
ہم سے حدیث بیان کی ابو الفتوح نصراﷲبن یوسف ازجی نے ، کہا ہمیں شیخ ابوالعباس احمد بن اسمٰعیل نے خبردی کہ ہم کو شیخ ابو محمد عبداﷲ بن حسین بن ابی الفضل نے خبردی کہ ہمارے شیخ حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ نذریں قبول فرماتے اور ان میں سے بذات اقدس بھی تناول فرماتے، اگر یہ نذر فقہی ہوتی تو حضور کا کہ اجلہ سادات عظام سے ہیں اس سے تناول فرمانا کیونکہ ممکن تھا۔
 (۲؎ بہجۃ الاسرار  ذکر شیئ من شرائف اخلاقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ       مصطفی البابی مصر      ص۱۰۴۔۱۰۳)
(۳) نیز فرماتے ہیں:
حدثنا الشریف ابوعبداﷲ بن الخضر الحسینی قال اخبرنا ابی قال کنت مع سیدی الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ورأی فقیرامکسور القلب فقال لہ ماشأنک قال مررت الیوم بالشط وسألت ملاحًا ان یحملنی الی الجانب الاٰخرفابی وانکسر قلبی لفقری فلم یتم کلام الفقیر حتی دخل رجل معہ صرۃ فیھا ثلاثون دینارا نذراللشیخ فقال الشیخ لذٰلک الفقیر خذھذہ الصرۃ واذھب بھا الی الملاح واعطھا لہ وقل لہ لاترد فقیرا ابدا وخلع الشیخ قمیصہ واعطاہ للفقیر فاشتری منہ بعشرین دینارا۱؎
ہمیں شریف ابوعبداﷲ محمد بن الخضرالحسینی نے حدیث بیان کی، کہا ہم سے والد فرمایا میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ساتھ تھا حضور نے ایک فقیر شکستہ دل دیکھا، فرمایا تیرا کیا حال ہے؟عرض کی آج میں کنارہ دجلہ پر گیا ملاح سے کہا مجھے اس پار لے جا، اس نے نہ مانا، محتاجی کے سبب میرا دل ٹوٹ گیا،فقیرکی بات ابھی پوری نہ ہوئی تھی کہ ایک صاحب ایک تھیلی میں تیس اشرفیاں حضور کی نذر لائے حضور نے فقیر سے فرمایا یہ لو اور جاکر ملاح کو دو اور اس سے کہنا کبھی کسی فقیر کو نہ پھیرے، اور حضور نے اپنا قمیص مبارک اتارکر اس فقیر کو عطافرمایا وہ اس سے بیس اشرفیوں کو خریدا گیا۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار ذکر شیئ من شرائف اخلاقہ رضی اﷲ عنہ  مصطفی البابی مصر    ص۱۰۴)
 (۴) نیز فرماتے ہیں:
الشیخ بقابن بطوکان الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یثنی علیہ کثیر و تجلہ المشائخ والعلماء وقصدبالزیارات والنذورمن کل مصر۲؎۔
حضور سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ حضرت شیخ بقابن بطو رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی بہت تعریف فرمایا کرتے اور اولیاء وعلماء سب ان کی تعظیم کرتے، ہر شہر سے لوگ ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر لاتے۔
 (۲؎ بہجۃ الاسرار   شیخ بقابن بطو             مصطفی البابی مصر    ص۱۵۹)
Flag Counter