Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
161 - 175
مسئلہ۲۴۳:مرسلہ منشی عبدالصبور صاحب سوداگر۶ذی الحجہ ۱۳۲۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے وقت شروع کرنے روز گار کے، یہ خیال کرلیا کہ مجھ کو جو نفع ہوگا اس میں سولھواں حصہ واسطے اﷲ کے نکالوں گا، اب اس کو لاگت سے زائد ایک روپیہ نفع ہوا لیکن متفرق خرچ یعنی تنخواہ ملازمان وغیرہ میں دو آنے اس نفع ایک روپے میں صرف ہوگئے باقی چودہ آنے رہے، اب وہ اصلی لاگت سے جو نفع ہوا ہے اس میں سے سولھواں حصہ نکالے یا بعد مجراکرنے خرچ متفرق کے ماہوار میں سے نکالے۔
الجواب

صرف خیال کرلینے سے وجوب تو نہیں ہوتا جب تک زبان سے نذر نہ کرے، ہاں جو نیت اﷲ عزوجل کے لئے اس کا پورا کرنا ہی چاہیئے، جو خرچ کہ تجارت کے متعلق ہو اور حساب تجارمیں اسی پر ڈالا جاتا ہے وہ مجرادے کر جو بچے اسے نفع کہتے ہیں، پھر اس نفع میں جو کچھ اپنا خرچ خانگی وغیرہ دیگر مصارف علاوہ خرچ تجارت میں صرف ہوجائے وہ مجرانہ دیا جائے گا کہ یوں تو جو نفع بچتا ہے وہ خرچ ہی ہونے کےلئے ہوتا ہے ، پس وہ نوکر اگر تجارت کا نوکر ہے اور اس کی تنخواہ حسبِ دستور تجارخرچ تجارت میں محسوب کی جاتی ہے، اس کے بعد جو بچتا ہے وہ نفع سمجھا جاتا ہے، جب تو چودہ آنے کا سولھواں حصہ تصدق کرے اور اگرخرچ تجارت مجرادے کر کامل روپیہ بچا تھا یہ تنخواہ اس کے متعلق نہیں تو پورے روپیہ کا سولھواں حصہ دے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۴۴تا۲۴۷:مرسلہ محمد عبدالصبور صاحب سوداگرابن منشی محمد ظہور صاحب جوہری ۲۰ربیع الآخرشریف

اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں علمائے دین، ایک شخص نے اپنی تجارت کے منافع میں خدا وندکریم کاسولھواں حصہ مقرر کیاہے۔

(۱) اس سولھویں حصہ میں محفل میلاد شریف و نیاز گیارھویں شریف کرنا چاہئے یانہیں؟

(۲) اس سولھویں حصہ میں اپنے والدین و پھوپھی وخالہ و سید صاحب و مولوی صاحب کو دینا چاہئے یانہیں؟

(۳) اس سولھویں حصے میں سامع رمضان المبارک کو دینا و نیز افطاری رمضان المبارک کرنا چاہئے یانہیں؟

(۴) دربارہ زکوٰۃ مذکورہ کے روپے کو طالب علموں کی خورد ونوش و لباس میں صرف کرنا چاہئے یانہیں،اور زکوٰۃ کاروپیہ مؤذن کو دینا چاہئے یانہیں؟
الجواب

اگر نہ یہ منت ہے نہ زکوٰۃ ہے بلکہ یونہی دل میں نیت کرلی یا بے الفاظِ نذر زبان سے کہہ لیا ہے کہ اپنے منافع تجارت سے سولھواں حصہ نیک کاموں میں اﷲ تعالٰی کےلئے صرف کیا کروں گا، جب تو اس سے محفل میلاد شریف اورگیارھویں شریف اور افطاری رمضان شریف اور اپنے والدین و سادات و علماء کی خدمت سب کچھ کرسکتا ہے کہ یہ سب نیک کام اﷲ تعالٰی ہی کےلئے ہیں جب کہ نیت خالص اﷲ عزوجل کے واسطے ہو، رمضان مبارک کا سامع اگر حاجتمند ہو اور اس سے اجرت نہ ٹھہری ہواور نہ رواج کی رو سے اجرت مقرر ہو تواسے بھی دے سکتاہے کہ اب اسے بھی دینا نیک کام ہے،اور اگر اجرت کی شرط ہولی یا ازروئے رواج اس کی اجرت کا قرار دیا ہے تو اسے دینا کچھ نیک کام نہیں بلکہ گناہ ہے،
لانہ اجارۃ علی الطاعۃ والاجارۃ علیھا باطلۃ الامااستثناہ المتاخرون من امامۃ واذان وتعلیم قراٰن ولیس ھذامنھا والتحقیق فی ردالمحتار وشفاء العلیل۔
کیونکہ یہ عبادت پر اجرت ہے اور عبادت پر اجرت لینا دینا باطل ہے مگر امامت پر یا اذان اور تعلیم قرآن پر اجرت جس کو متاخرین نے اس سے مستثنی قرار دیا ہے وہ اور چیز ہے یہ اس قبیل سے نہیں ہے، اس کی مکمل تحقیق ردالمحتار اور شفاء العلیل میں ہے(ت)
اور اگر صورتِ مذکورہ میں ہر نیک کام کی نیت نہ تھی بلکہ بالخصوص مساکین کو خدا کے نام پر دینا تو وہ سب امور ابھی اس روپے سے جائز ہوں گے مگر یہ چاہئے کہ مجلس مبارک کا حصہ خاص محتاجین کودے، گیارہویں شریف کی نیاز، رمضان المبارک کی افطاری، صرف مساکین کو بانٹے،سادات و علماء میں انہیں کی نذر کرے جو حاجتمند ہوں، ماں باپ کو بھی بحالتِ حاجتمند دے سکتا ہے،
لانھا لیست صدقۃ واجبۃ وانما نوی التصدق علی المساکین فاذاکان منھم جاز صلتھمابھا وقد سمی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فی الاحادیث الصحیحۃ مااطعمت اھلک صدقۃ امااطعمت ولدک صدقۃ وما اطعمت عیالک صدقۃ۱؎ ۔
کیونکہ یہ صدقہ واجب نہیں ہے اور اس نے مساکین پر تصدق کی نیت کی ہے تو جب ماں باپ بھی مساکین سے ہوں تو بطور صلہ ان پر صدقہ کرنا جائز ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صلہ رحمی کو صدقہ قرار دیتے ہوئے صحیح احادیث میں فرمایا کہ جو کچھ تو نے اپنی بیوی کو کھلایا وہ صدقہ ہے اور جو تونے پانی اولاد کوکھلایا وہ صدقہ ہے اور جو تونے اپنی عیال کو کھلایا وہ صدقہ ہے۔(ت)
 (۱؎ کنز العمال     حدیث ۱۶۳۲۱    موسسۃ الرسالۃ بیروت     ۶/ ۴۱۵)

(المعجم الاوسط        حدیث ۶۸۹۲    مکتبۃ المعارف الریاض   ۷/۴۵۵)
اور اگرخاص منت کے لفظ زبان سے ادا کرلئے ہیں مثلاً کہا ''مجھ پر اﷲتعالٰی کےلئے واجب ہے کہ اپنے منافع کا سولھواں حصہ اﷲ تعالٰی کے نام پر تصدق کروں'' تو نہ والدین کو دے سکتا ہے نہ سادات کو اگرچہ محتاج ہوں، نہ کسی غنی کو اگرچہ عالم ہو، ہاں صرف محتاجوں کو دینا لازم ہے اگرچہ اس کی پھوپھی، خالہ،بہن، بھائی، چچا، ماموں ہوں، اگرچہ مجلس شریف یا گیارھویں شریف کرکے یا افطاری میں مالک کردے،
فانھا طریق الاداء والاجتماع لذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوایصال الثواب الی ولی اﷲ الکریم رضی اﷲ تعالٰی عنہ لاینافی النذر ولاینفی التصدق مال زکوٰۃ ھو۔
کیونکہ یہ صرف ادائیگی کا ایک طریقہ ہے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذکر پاک کے لئے اجتماع، یاکسی والی اﷲ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے ایصال ثواب کا ہونا نذر کے منافی نہیں ہے، اور یہ طریقے زکوٰۃ کے مال کوصدقہ کرنے کے منافی نہیں ہیں۔(ت)
جب بھی یہی حکم ہے جو خاص منت کا حکم تھا مال زکوٰۃ و نذر طالب علموں کو بھی دے سکتے ہیں خواہ کپڑے بنادے خواہ اناج یا کھانا انہیں دے کر مالک کردے، ہاں گھر بٹھاکر کھلانے سے زکوٰۃ و نذر ادا نہ ہوگی
لانہ اباحۃ والتصدق تملیک کما نصواعلیہ
 (کیونکہ یہ اباحت ہے جبکہ صدقہ کرنا بطور تملیک ہوتا ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ت) مؤذن کی تنخواہ ٹھہری ہے تو اس میں زکوٰۃ یا نذر کو محسوب نہیں کرسکتا
لان واجبھا لایدخل فی واجب اخرلیس من جنسہ
 (کیونکہ واجب دوسرے خلافِ جنس واجب میں داخل نہیں ہوسکتا۔ت) ہاں بلاتنخواہ اذان دیتا ہو اور محتاج مصرف زکوٰۃ ہوتو دے سکتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۲۴۸:ازصدر ۸شعبان ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منت مانی کہ اگر فلاں تکلیف میری رفع ہوجائے تو میں بکری وغیرہ ذبح کرکے مسکینوں کو تقسیم کروں گا، اگر زید کامیاب ہواور بکرا ذبح کیا تو آیا زید بھی اس گوشت میں سے کھاسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

زید خود کھاسکتا ہے نہ اپنے ماں باپ وغیرہما اصول خواہ بیٹا بیٹی وغیرہما فروع کسی ہاشمی یا غنی کو کھلاسکتا ہے بلکہ وہ خاص مساکین مصرف زکوٰۃ کاحق ہے،
فی ردالمحتار مصرف الزکٰوۃ ھوایضا مصرف النذر۱؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ زکوٰۃ کا مصرف نذر کا مصرف بھی ہوتا ہے، اھ ملخصاً۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب المصرف     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۵۸)
Flag Counter