| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۲۴۱:از دھڑکی ۱۳۱۳ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے یہ نیت کی کہ اگر میری نوکری ہوجائے گی تو پہلی تنخواہ زیارت پیران کلیر شریف کے نذرکروں گا،وہ شخص تیرہ تاریخ سے نوکرہوا اور تنخواہ اس کی ایک مہینہ سترہ دن کے بعد ملی اب یہ ایک ماہ کی تنخواہ صرف کرے یا سترہ دن کی؟اور اس تنخواہ کاصرف کس طرح پر کرے یعنی زیارت شریف کی سفیدی و تعمیر وغیرہ میں لگائے یا حضرت صابرپیا صاحب قدس سرہ کی روح پاک کو فاتحہ ثواب بخشے یا دونوں طرح صرف کرسکتا ہے؟بینواتوجروا
الجواب صرف نیت سے تو کچھ لازم نہیں ہوتا جب تک زبان سے الفاظ وایجاب نہ کہے، اور اگر زبان سے الفاظ مذکورہ کہے اور ان سے معنی صحیح مراد لئے یعنی پہلی تنخواہ اﷲ عزوجل کے نام پر تصدق کروں گا اور اس کا ثواب حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کے نذرکروں گا، یا پہلی تنخواہ اﷲ عزوجل کے لئے فقراء آستانہ پاک حضرت مخدوم رضی اﷲتعالٰی عنہ دوں گا، یہ نذر صحیح شرعی ہے،اور استحساناً وجوب ہوگیا، پہلی تنخواہ اسے فقراء پر تصدق کرنی لازم ہوگئی۔ مگر یہ اختیار ہے کہ فقراء آستانہ پاک کودے، اور جہاں کے فقیروں محتاجوں کو چاہے۔ اور اگر یہ معنی صحیح مراد نہ تھے بلکہ بعض سخت بے عقل جاہلوں کی طرح بے ارادہ تصدق وغیرہ قربات شرعیہ صرف یہی مقصود تھا کہ پہلی تنخواہ خود حضرت مخدوم کو دوں گا، تو یہ نذر باطل محض و گناہ عظیم ہوگی، مگر مسلمان پر ایسے معنی مراد لینے کی بدگمانی جائز نہیں جب تک وہ اپنی نیت سے صراحۃً اطلاع نہ دے۔ اسی طرح اگر نذر وزیارت کرنے سے اس کی یہ مراد تھی کہ اﷲ کے واسطے عمارتِ زیارت شریف کی سپیدی کرادوں گا یا احاطہ مزار پر انوار میں روشنی کروں گا، جب بھی یہ نذر غیرلازم و نامعتبر ہے کہ ان افعال کی جنس سے کوئی واجب شرعی نہیں۔ رہا یہ کہ جس حالت میں نذر صحیح ہوجائے،پہلی تنخواہ سے کیا مراد ہوگی یہ ظاہر ہے کہ عرف میں مطلق تنخواہ خصوصاً پہلی تنخواہ ایک مہینہ کی اجرت کو کہتے ہیں اگرچہ اس کا ایک جزء بھی تنخواہ ہے اور عمر بھر کا واجب بھی تنخواہ ہے،تو پہلی تنخواہ کہنے سے اول تنخواہ ایک ماہ ہی عرفاً لازم آئے گی۔
فان کلام کل عاقد وحالف وناذر وواقف انما یحمل علی ماھوالمتعارف۱؎کمانصواعلیہ۔
کیونکہ کسی عقد والے، قسم والے، نذر والے اور وقف کرنے والے کے کلام کو متعارف معنی پر محمول کیا جائیگا جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے۔(ت)
( ۱؎ ردالمحتار باب التعلیق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۹۹ و ۵۳۳)
ردالمحتار میں ہے:
فی الخانیۃ ان برءت من مرضی ھذا ذبحت شاۃ فبرأ لایلزمہ شیئ الاان یقول فللّٰہ علی ان اذبح شاۃ اھ وھی عبارۃ متن الدر و عللھا فی شرحہ بقولہ لان اللزوم لایکون الابالنذروالدال علیہ الثانی لاالاول اھ ویؤیدہ مافی البزازیۃ ولو قال ان سلم ولدی اصوم ماعشت فھذا وعد لکن فی البزازیۃ ایضاان عوفیت صمت کذالم یجب مالم یقل ﷲ علی، وفی الاستحسان یجب ولو قال ان فعلت کذافانا احج ففعل یجب علیہ الحج۱؎اھ باختصار۔
خانیہ میں مذکور ہے کہ جب کسی نے کہا کہ اگر میں اس مرض سے تندرست ہوجاؤں توبکری ذبح کروں گا، تو تندرست ہونے پر اس پر ذبح کرنا لازم نہیں ہوگا مگر جب یوں کہے کہ اﷲتعالٰی کے لئے مجھ پر لازم ہے کہ میں بکری ذبح کروں گا(توپھر نذر ہوگی اور پورا کرنالازم ہوگا)یہ درمختار کے متن کی عبارت ہے اوراس کی شرح میں اسکی علت یہ بیان کی ہے کہ اس لئے کہ پورا کرنا نذر کی وجہ سے لازم ہوتا ہے، اس پر دوسری عبارت دلالت کرتی ہے، پہلی عبارت اس پر دال نہیں ہے اھ، اور اس کی تائید بزازیہ میں ہے کہ اگرکوئی یہ کہے کہ اگر میرا بیٹا سالم بچے تو میں تازندگی روزہ رکھوں گا، تو وعدہ ہوگا، لیکن اس کے ساتھ بزازیہ میں یہ بھی ہے کہ اگر کوئی کہے''اگر مجھے صحت ہوئی تو اتنے روزے رکھوں گا'' تو پورا کرنا واجب نہ ہوگا، جب تک اس میں''اﷲ تعالی کے لئے مجھ پر روزہ لازم ہے''نہ کہے۔ لیکن استحسان یہ ہے کہ اس پر روزہ لازم ہوجائے گا، اور اگر کوئی کہے''اگر میں ایسا کروں تو میں حج کروں گا'' اس کے بعد اس نے وہ کام کیا توحج لازم ہوگا اھ اختصاراً(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۷۰)
درمختار میں ہے:
اعلم ان النذر الذی یقع للاموات من اکثر العوام ومایؤخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوھا الٰی ضرائح الاولیاء الکرام تقربا الیھم فھو بالاجماع باطل وحرام مالم یقصد وا صرفھا لفقراء الانام۲؎۔
معلوم ہونا چاہئے کہ اکثر عوام مردوں کے لئے جو نذر مان کراولیاء کرام کی قبروں پر دراہم، شمع اور تیل وغیرہ اولیاء کے تقرب کےلئے دیتے ہیں تو ان چیزوں کو وصول کرنا بالاجماع باطل اور حرام ہے جب تک عوام ان چیزوں کو فقراء پر صرف کرنے کی نیت نہ کرلیں(ت)
( ۲؎ درمختار قبیل باب الاعتکاف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۵)
امام ناصح حکیم علامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
ومن ھذاالقبیل زیارۃ القبوروالتبرک بضرائح الاولیاء والصالحین والنذرلھم بتعلیق ذٰلک علی حصول شفاء اوقدوم غائب فانہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین لقبورھم کما قال الفقھاء فیمن دفع الزکاۃلفقیروسماھا قرضا صح، لان العبرۃ بالمعنی لاباللفظ، وکذٰلک الصدقۃ علی الغنی ھبۃ والھبۃ علی الفقیر صدقۃ۱؎الی اٰخرما افادواجاد ذکرہ فی بحث القنیۃ ونقل جوازہ ایضا عن الامام ابن حجر المکی، قلت وھو مفادقولہ حرام مالم یقصد واصرفھالفقراء الانام۔
اور اسی قبیل سے ہے قبروں کی زیارت کرنا،اور شفایابی یاکسی مسافر کے واپس آنے سے مشروط اولیاء کے لئے نذریں ماننا(یہ سب جائز ہیں)کیونکہ یہ نذریں وہاں مزارات کے خادموں کےلئے صدقہ مجازاً مراد ہوتی ہیں، جیسا کہ فقہاء کرام نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی زکوٰۃ کسی کو قرض کا نام لے کر دے تو صحیح ہوگا کیونکہ معنی کا اعتبار ہوتا ہے لفظوں کا اعتبار نہیں ہوتا، اور یونہی نفلی صدقہ کسی غنی کو ہبہ کے نام سے یا فقیر کو صدقہ ہبہ کے نام سے دینا (یاہبہ کوصدقہ کے نام سے) دینا جائز ہے۔ علامہ نابلسی کے بیان کے آخر تک، جہاں انہوں نے قنیہ کی بحث کو ذکر کرکے یہ بہترین فائدہ بیان فرمایا، اور انہوں نے امام ابن حجر مکی سے بھی اس جواز کو نقل فرمایا، قلت(میں کہتا ہوں کہ) درمختار کے قول کہ جب تک فقراء پرصرف کرنے کی نیت نہ کریں تو حرام ہے کا یہی مفاد ہے۔(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الخلق الثامن والاربعون الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۱۵۱)
ردالمحتار میں ہے:
لایخفی ان لہ الصرف الٰی غیرھم (ای غیرفقراء الباب الذی عینہ فی النظر کما مرسابقا، ولابدان یکون المنذور مما یصح بہ النذر کالصدقۃ بالدراھم ونحوھااما لو نذر زیتا لایقادقندیل فوق ضریح الشیخ اوفی المنارۃ فباطل ۲؎اھ مختصرا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مخفی نہ رہے کہ اس کو دوسرے فقراء(یعنی نذر میں معین کردہ فقراء کے غیر) پر خرچ کرنے کا اختیار ہوگا جیسا کہ پہلے گزرا، اور ضروری ہے کہ منذور وہ چیز ہو جس سے نذر صحیح ہوجائے جیسا کہ دراہم وغیرہ کا صدقہ کرنا، ہاں اگر تیل کے چراغ قبر کے اوپر جلانے کی نذر مانی ہو یا وہاں مزار کے منارہ پر جلانے کی نذر ہوتو یہ باطل ہوگی، اھ مختصراً۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار قبیل باب الاعتکاف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۲۸)
مسئلہ۲۴۲:ازشہر کہنہ مرسلہ مولوی عبدالواحد متھراوی۲۰ذی القعدہ۱۳۳۷ھ
زید نے عہد کیا تھا کہ میں ملازم ہوجاؤں تو ایک ماہ کی تنخواہ راہِ خدا میں صرف کروں گا، اب وہ ملازم ہوگیا، اگر زید اپنی اس ماہ کی تنخواہ کو اپنے کسی نہایت غریب بیکس و مفلس رشتہ دار کو اس نیت سے دے تو اس کے ذمہ سے وہ عہد ساقط ہوجائے گا یا نہیں، درصورت عدم ساقط ہونے کے وہ اور کس کام میں خرچ کرے؟بینواتوجروا۔
الجواب ضرور نذرادا ہوجائیگی جبکہ وہ عزیز نہ اس کی اولاد میں ہو، نہ یہ اس کی نہ زوج و زوجہ، نہ سید وغیرہ جنہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں، بلکہ عزیز کو دینے میں دوناثواب ہے، صدقہ اور صلہ رحم، کماثبت عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(جیسا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔