| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
چہارم: احمد علی رادریں دستاں استاذ خود می گوید کہ ایں مطلب از خود نگر فتم بلکہ احمد علی میگوید حالانکہ معاملہ واژ گونہ است بے چارہ احمد علی اگر ازیں کید عظیم آگہی داشتے صبحگاہ چارتخم رجعت کاختے۔ چہارم: احمد علی کی اس داستان کا استاذ خو د کہتا ہے کہ ''یہ مطلب میں نے خود نہیں بنایا بلکہ احمد علی کہتا ہے'' حالانکہ یہ گہرا معاملہ ہے اگربے چارہ احمد علی اس عظیم مکرکو سمجھتا تو صبح کو رجوع کیوں کرتا۔
پنجم: باز کہ باعتراف حق گزائید سخنے لغو وبے سود چادیدن گرفت کہ معلق برسہ گونہ است وقسم را قسمت دانستہ میگوید مجموعہ شش قسمت است حالانکہ ایں تقسیم را در مسئلہ دائرہ دخلے نیست اینجا وفرق حکم میان قسمے وقسمے نیست خودش می سراید ھذایعم الصورۃ الستۃ کلھا من غیر فرق ہوشمندرا پر سیدن ست کہ چوں اینجا ہر قسم را حکم یکے ست ذکر ایں تقسیم ازش چہ رو در میان آمد جزینکہ بینندہ داند کہ جناب اجتہاد مآب را گاہے بر شرح وقایہ ہم نظر افتادہ است ولو مع عدم الفھم۔ پنجم: پھر حق کے اعتراف سے گزیر کرتے ہوئے لغو اور بے سود معاملہ میں الجھ گیا کہ'' معلق تین قسم پر ہے''اور قسم کو تقسیم سمجھ کر کہتا ہے''مجموعہ چھ قسم ہے''حالانکہ زیر بحث مسئلہ میں اس تقسیم کا کوئی دخل نہیں ہے اور یہاں اقسام میں کوئی فرق نہیں ہے اور خود کہتاہے کہ یہ حکم تمام چھ اقسام کو شامل ہے، اس عقلمند سے کوئی پوچھے کہ جب سب کا حکم ایک ہے تو پھر اس تقسیم کوکس وجہ سے درمیان میں لایا گیا سوائے اس کے کہ دیکھنے والے کو معلوم ہوجائے کہ جناب مجتہد صاحب کی نظرشرح وقایہ پر بھی پڑی ہے اگرچہ سمجھ نہیں آئی۔
ششم: شان الٰہی نظارہ کردنی ست کہ خوددر ضمن باطل نادانستہ لب بحق می کشاید وبازاز خطب بہ جذب می گراید، مرادش آں بود کہ ایں تعلیق رادائم نماز چسپاں نماید تا بوقوع صلٰوۃ ولو مرۃ زن را تحفظ از طلاق بدست آید از ہمیں رومنطق الطیر خود را خرچ نمود ومطلب را کشاں کشاں برآں منزل آورکہ اگر از زن احمد علی یک نماز ہم پیش از مرگ واقع شد اورا طلاق نیست حالانکہ ایں جا خود می گوید حیث لایشعر راہ حق می پوید،کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ ست دائما سبحان اﷲ ایں شترگر بگی بیں غرض متکلم آں بود کہ زوجہ دائما معتاد نماز شود یا آں شد کہ زن در مدۃ العمر یک سجدہ بجاآرد گو در سائر عمر خودش ہیچ روئے بقبلہ میار ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا۔ ششم: خداکی شان دیکھئے کہ باطل کے ضمن میں غیر شعوری طور پر حق زبان سے نکل گیا اور پھر دوبارہ گڑھے میں گرگیا، اس کا مقصد تو یہ تھاکہ اس تعلیق کا تعلق دائمی ترکِ نماز سے بنائے تاکہ ایک نماز بھی پڑھ لینے پر بیوی کو طلاق سے تحفظ مل سکے، اسی بناء پر اپنی منطق کواستعمال کرتے ہوئے مطلب کو کھینچ تان کر اس منزل پر لے آیا کہ اگر احمد علی کی بیوی مرنے سے قبل ایک نماز بھی پڑھ لے تو طلاق نہ ہوگی حالانکہ یہاں راہ حق کوغیر شعوری طور پر پاتے ہوئے کہتا ہے کہ متکلم کی غرض بھی یہی کہ اس کی بیوی دائمی طورپر نماز کی عادی ہوجائے، سبحان اﷲ! اس شتر کی چال دیکھئے کہ یا متکلم کی غرض بیوی کو دائمی نما ز کا پابند بنانا ہے یا یہ غرض ہے کہ پوری عمر ایک سجدہ بجالائے اگرچہ باقی عمر بھر قبلہ رونہ ہویہ تفاوت دیکھئے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
ہفتم :خود معترف شدہ کہ غرض متکلم دائما خوگر بودن زن بہ نماز ست، می گوید پس تخصیص نماز عشاوفجروغیرہ از کجا امد، اجتہاد تا بامانیز ہمیں می گویم کہ غرض تعوددائم ست تخصیص ہیچ نماز نیست، ہر نماز یکہ عمداً بلاعذر شرعی ترک دہد طلاق شود عشا باشد یا فجر چوں وقت عشا گزشت وزن نماز گزاشت وادا نکرد طلاقہ شدہ۔ ہفتم: جب خود معترف ہے کہ متکلم کی غرض بیوی کو نماز کا دائمی پابند بنانا ہے، تو عشاء یا فجر کی نماز وغیرہ کی تخصیص کہاں سے آئی، تمہارا اور ہمارا اجتہاد بھی یہی کہتاہے کہ غرض نماز کا دائمی عادی بنانا ہے جس میں کسی نماز کی تخصیص نہیں ہے جو نماز بھی شرعی عذر کے بغیر ترک کرے گی طلاق ہوجائے گی، وہ نماز عشا ہو یا فجر جب عشاء کی نماز کا وقت ختم ہوجائے اور بیوی نے نماز وقت میں ادا نہ کی تو اس کو طلاق ہوگئی۔
ہشتم: باعتراف آنکہ غرض متکلم تعود دائم ست ایں چانہ زنی کہ قرینہ یمین ہم مفقود مگر از باب اجتہاد دیوبند خواہد بود یاہما نا معنی معتاد صلٰوۃ شدن زوجہ دائما آں باشد کہ در ہمہ عمر جز یکبار ہیچ نماز ادا نہ کند ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ۔ ہشتم: اس اعتراف کے باوجود کہ متکلم کی غرض دائمی نماز کا عادی بنانا ہے ،یہ کہنا کہ "قرینہ یمین خود بھی مفقود ہے "کیسے درست ہو سکتا ہے __لیکن دیوبند کےاجتہاد میں یہ ہوسکتا ہے کیونکہ بیوی کو ہمیشہ نماز کا عادی بنانے کا مطلب جن کے ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ تمام عمر میں ایک نماز کے علاوہ کوئی نماز نہ پڑھے(ان کے ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے) لاحول ولاقوۃ الاباﷲ ۔
نہم: تخصیص یمین الفور بصورت غضب وبے اعتدالی طبع نیز از اجتہادات دیوبندیہ است کہ در کتب مذہب ازاں نشانے نیست در فتوائے جلیلہ سابقہ چند امثلہ اش از کتب معتمدہ مذکورہ است چشم مالیدہ آنجا بیند کہ غبار ایں تخصیص از دلش بنشیند درمثال چہارم فرمودہ اند حاکم حلف کرد اگر در شہر بد معاشے آید وتراجزانہ دہم زن طلاقہ باشد ایں نیز از باب یمین الفور ست اینجا کدام غضب واشتعال طبع بود مگر جناب اجتہاد مآب از وجوہ تسمیہ الفور یک وجہ راملاحظہ فرمودہ گمان بردہ باشند کہ مشبہ ومشبہ بہ یکے ست ومناسبت تسمیہ لازم حقیقت شیئ ست وایں خود از اثر تعلیم دیوبندی دور نیست۔ نہم: یمین الفور کی تخصیص غصہ اور بے اعتدالی طبع سے کرنا بھی دیوبند کا اجتہاد ہے، جبکہ مذہب کی کسی کتاب میں اس تخصیص کا کوئی نشان نہیں ہے،گزشتہ چند معتمد علیہ کتب کے فتاوٰی جلیلہ کی کچھ مثالیں گزری ہیں ان کو آنکھیں صاف کرکے دیکھیں تاکہ ان کے دل سے تخصیص کی غبار نکل سکے، چوتھی مثال میں فرمایا گیا ہے کہ اگر حاکم نے قسم اٹھائی کہ ''اگر کوئی بدمعاش شہر میں داخل ہوا تجھے سزا نہ دوں تو بیوی کو طلاق ہے'' یہ بھی یمین فور ہے حالانکہ یہاں غصہ اوراشتعالِ طبع موجود نہیں ہے مگر اس مجتہد صاحب نے یمین فور کی وجہ تسمیہ کے وجوہ میں سے ایک وجہ کو دیکھ کر گمان کرلیا کہ مشبّہ اور مشبّہ بہ ایک ہی چیز ہیں اور وجہ تسمیہ کی مناسبت شیئ کی حقیقت کو لازم ہوتی ہے، یہ بھی تو دیوبند تعلیم کے اثر کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
دہم: ازیں جاتاقول اوھکذا ما نحن فیہ واﷲ تعالٰی اعلم کہ دوثلث تحریر اومی شود اگر فتوائے جلیلہ سابقہ را بچشم عقل وفہم ودیدن تو انستے از ینہمہ یاوہ سرائہیا معاف داشتے ایں معنی کہ ظاہر مفاد لغوی لفط تعلیق طلاق برعدم دائم نماز ست در فتوائے جلیلہ بالفاظ جزیلہ قلیلہ ادا شدہ بود باز تخصیص بالفرض بورجہے سمت ایضاح تا فت کہ آفتاب حق بے حجاب سحاب تافت وخود اینکس نادانستہ ایمان آورد کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ است دائما پس حق روشن شد وپردہ از جہالت دیوبندیہ بر افتادودریں دو ثلث تحریر بے تحریر ہر چہ جاوید ہمہ لغو وضائع رفت کہ حاجت التفات نماند کما لایخفی علی کل عاقل فضلا عن فاضل ایں الفاظ مختصرہ فتوائے جلیلہ سابقہ را کہ فعل حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجا تا ہےاور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز پڑھی صادق نہ رہا باتقریر طویل پریشانی اینکس باید سنجید عہ وباز تحقیق حق ناصح را ،کہ مگر بحکم دلالت حا ل واجب ست کہ خاص قسم اول یعنی صلوٰۃ ملتزمہ مبرئـہ مراد ہو اور اس کا انتفاء ایک وقت کی نماز فرض عمداً بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے تو لازم ہوا کہ جب عوت نے اس حلف کے بعد عشاء نہ پڑھی صبح صادق طالع ہوتے ہی اس پردو طلاقیں پڑگئیں باعتراف اینکس کہ غرض متکلم نیز معتاد للصلٰوۃ شدن زوجہ است دائما باید دید تو وبخدائے توہیچ پردہ برچہرہ حق ماندہ است حاشا ثم حاشا بشرط آنکہ تعلیم دیوبندی عقل ترا دیوبندی یعنی بندی دیو نکردہ باشد۔ عہ :یہاں مسودہ میں بیاض ہے۱۲ دہم: یہاں سے لے کر اس کے اس قول ''ہمارے زیر بحث مسئلہ میں ایسے ہی ہے واﷲ اعلم'' تک جو کہ اس کی تحریر کا دوتہائی حصہ ہے کے متعلق اگر پہلے مذکور فتوٰی جلیلہ کو عقل وفہم کی آنکھ سے دیکھ لے اس کی یہ تمام یا وہ گوئی ختم ہوجائے اور تعلیق طلاق کا لغوی معنی جس کا مفاد ظاہراً دلالت کررہا ہے کہ''اگر تو نماز نہ پڑھے گی'' کا مطلب دوام نماز کاعدم ہے یعنی کوئی ایک نماز نہ پڑھے، مذکورہ فتوٰی جلیلہ کے الفاظ نے بھر پور انداز میں اس کو بیان کردیا ہے پھر نماز فرض کی تخصیص واضح انداز میں بادل سے بے حجاب سورج کی طرح روشن ہو گئی ہے ،اور خود اس شخص نے نادانستہ طور پر اعتراف کرلیا کہ''متکلم کا مقصد بیوی کو دائمی نماز کا پابند بنانا ہے'' پس حق واضح ہوگیا اور دیوبندی کی جہالت سے پردہ اٹھ گیا، اور اس کی دو ثلث تحریر بے تحقیق یہاں لغو اور ضائع ہوگئی اور اس کی طرف التفات کی ضرورت نہیں جیسا کہ کسی بھی عقلمند پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی رہے، گزشتہ فتاوٰی جلیلہ کے مختصر الفاظ کو''کہ فعل حکم نکرہ میں ہے اور نکرہ حیز نفی میں عام ہوجاتا ہے اور عموم سلب بوجہ ایجاب جزئی کہ صبح کی نماز نہ پڑھی، صادق نہ رہا'' کو اپنی طویل پراگندہ تقریر کے مقابلہ میں اس شخص کو دیکھنا چاہئے، اور پھر اس کے بعد واضح حق کو''کہ مگر بحکم دلالتِ حال واجب ہے کہ خاص قسم اول یعنی صلٰوۃ ملتزمہ مبرئیہ مراد ہواور اس کا انتفاء ایک وقت کی نماز فرض عمداً بلاعذر شرعی چھوڑنے سے صادق آجاتا ہے اس حلف کے بعد عشاء نہ پڑھی، صبح صادق طالع ہوتے اس پر دو طلاقیں پڑگئیں'' کو یہ شخص اپنے اس اعتراف کے ساتھ''کہ متکلم کی غرض بھی بیوی کو دائمی طور پر نماز کی عادی بناناہے'' ملاکر دیکھے تو بخدا بتائے کہ حق کے چہرہ پر کوئی پردہ باقی رہتا ہے؟ہرگز ہرگز نہیں رہتا، بشرطیکہ دیوبندی تعلیم نے اس کی عقل کو دیوبندی یعنی شیطان کا غلام نہ بنایا ہو۔
یازدہم: مسکین بیچارہ کہ در مدرسہ دیوبند گا ہے الفاظ میرزاہد بر ملاجلال را ترجمہ شنیدہ باشد بشامت بخت منطقہ منطق بر رخت فقاہت دیوبندی بست ومطلبے را کہ در فتوائے جلیلہ سابقہ باحسن طریقہ اصول ایضاح یافتہ بود باخس طرق معقول نا معقول خودش اثبات خواست و باآنکہ محققین ایں تدقیق ذائع عمدۃ المدققین سید زاہد مرحوم را بوجوہ کثیرہ رد فرمودہ اند بیچارہ دست نظرقاصر از انہا کو تاہ داشتہ بر تقلید جامد سید زاہد بسند نمودونداشت کہ موضوع قضیہ طبعیہ معروض کلیت است وکلیت از معقولات ثانیہ پس قضیہ ذہنیہ باشد نہ خارجیہ وزنہار ایں مرتبہ از وجود خارجی بوئے نشود نہ بوجود فردے واحد نہ بوجود جمیع افراد فی الخارج بلکہ وجود فردے فی الخارج مستلزم وجود انتزاعی ایں مرتبہ ہم نتواں شد فان المنتزع تابع للانتزاع فمالم ینتزع لم یوجد ولو وجد مایصح الانتزاع منہ آیا نہ بینی کہ ایں مرتبہ بے لحاظ ماہیت مع الاطلاق ای فی العنوان دون المعنون صورت نہ بنددپس بے لحاظ لاحظ بمجرد وجود فرد فی الخارج چسپاں وجود ذہنی پزیرد۔ یازدہم: بیچارے مسکین نے کبھی دیوبند کے مدرسہ میں ملاجلال پر میر زاہد کے الفاظ کا ترجمہ سن لیا ہوگا جس پر بدقسمتی سے منطق کی بات شروع کردی اور دیوبندی فقاہت بنادی اور مذکورہ فتاوٰی جلیلہ کا مطلب جو وضاحت کے اصول پر بہت اچھی طرح واضح ہوچکا تھا اس کو اپنی نامعقول منطق سے ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے اگرچہ محققین نے عمدۃ المدققین علامہ سید میر زاہد مرحوم کی بعض مشہور تدقیقات کا کثیر وجوہ سے رَد کیا یہ بیچارہ اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے محققین کی بیان کردہ وجوہ سے محروم رہ کر سید زاہد کی تقلید جامد پر ہی انحصار کرسکا۔ اسے معلوم نہیں کہ قضیہ طبعیہ کا موضوع کلیت کا معروض ہوتا ہے اور کلیت معقولات ثانیہ سے ہے جس کو وجود صرف ذہنی ہوتا ہے، لہذا یہ طبعیہ صرف قضیہ ذہنیہ ہوتا ہے خارجہ نہیں ہوتا، اور یہ ہرگز وجود خارجی کا مرتبہ نہیں پاسکتا، یہ اپنے ایک فرد یا جمیع افراد کے خارجی وجود سے بھی خارج میں متحقق نہیں ہوسکتا بلکہ کسی فرد کے خارج میں پائے جانے سے اس مرتبہ کا وجود انتزاعی بھی نہیں ہوسکتا، کیونکہ انتزاع کی ہوئی چیز، انتزاع کے تابع ہوتی ہے تو جب تک انتزاع نہ کیا جائے اس کا وجود نہیں ہوتا اگرچہ وہ چیز موجود تھی جس سے انتزاع کیا جاسکتا ہو، کیا غور نہیں کرتے کہ یہ مرتبہ ماہیت کے ساتھ اطلاق کو ملحوظ رکھے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا یعنی اطلاق کا لحاظ صرف عنوان میں ہو معنون میں نہ ہو، تو کسی فرد کے محض خارج میں لحاظ کرنے والے کے لحاظ کے بغیرپائے جانے سے ذہنی وجود کس طرح پیدا ہوسکے گا۔
دوازدہم: مراد از وجود طبیعت موضوع طبعیہ وجود خارجی است یا وجود ذہنی اول را خود اوشایاں نیست ودوم در گرد وجود فرونبود کہ بانتفائے افراد منتفی شود۔ دوازدہم :قضیہ کے موضوع کے لئے طبیعت کے وجود سے مراد خارجی وجود یا ذہنی وجود ہے وجود خارجی تو خود طبیعت کے شایاں نہیں، اور ذہنی وجود مراد ہوتو وہ حاصل نہیں(کیونکہ یہ افراد سے متعلق نہیں) کہ وہ افراد کے انتفاء سے منتفی ہوجائے۔
سیزدہم: الشیئ المطلق کہ ملحوظ بلحاظ عموم وکلیت واطلاق است احکام افراد بادساری نشود پس چرا بوجود فرد موجود یا بانتفائے افراد منتفی شود۔ سیزدہم: الشیئ المطلق کے مرتبہ میں عموم، کلیت اور اطلاق ملحوظ ہوتا ہے، اس میں افراد کے احکام سرایت نہیں کرتے تواس مرتبہ کے متعلق یہ کہنا کہ ایک فرد کے وجود سے موجود یا ایک فرد کے انتفاء سے منتفی ہوجانا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔
چہاردہم: اگر بفرض باطل طبعیہ راخارجیہ گویم پس وجود طبیعت بوجود ہر یک از افراد متعاقبہ ہماں نحو وجود ست کہ بوجود فرد اول عارض شود یا غیر آں ولو بالاعتبار اول باطل ست کہ تحصیل حاصل ست وعلی الثانی چوں بوجود ہر فرد نحوے از وجود عارض شود بانتفائے آں فرد ہمانحووجود منتفی شود پس انتفا بانتفائے ہر فرد رو نماید وتفرقہ ایں حکم میان مطلق الشیئ والشیئ المطلق ضائع برآید۔ چہاردہم :اگر بفرض باطل، ہم مان لیں کہ قضیہ طبعیہ کا وجود خارجی ہے تو طبیعہ کا وجود اس کے افراد متعاقبہ میں سے ہر فرد کے وجود سے ہوگا جو کہ اس کے فرد اول کا وجود ہے یا اس کا کوئی غیر وجود ہوگا اگرچہ یہ غیریت اعتباری ہی ہو، اول باطل ہے کیونکہ یہ تحصیل حاصل ہے، اور دوسری شق پر جب ہر فرد کے وجود سے طبیعت کو ایک قسم کا وجود عارض ہوا تو اس فرد کے انتفاء سے طبیعت کو حاصل شدہ وجود منتفی ہوگا، تو لازم آئے گا کہ ہرفرد کے انتفاء سے طبیعت کا انتفاء ہوجائے تو اس حکم میں مطلق الشیئ اور الشیئ المطلق کا فرق فضول ہوگا۔
الصلٰوۃ مطلقۃ یعنی موضوع قضیہ طبعیہ است وبہ بطلانش بطلان ہمہ انچہ برو متفرع کردہ واضح فان فساد المبنی فساد البناء۔
پانزدہم: اس فرق پر مضبوط اعتر اضات کا مطالعہ ملک العلماء بحر العلوم کے کلام میں کرو۔ زیربحث مقام سے متعلق غرض یہ ہے کہ احمد علی نے اپنی بیوی کو کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاقیں، پس بالبداہت معلوم ہے کہ اس کا مقصد وہ نماز ہے جو خارج میں پڑھی اور ادا کی جاسکے، نہ وہ نماز جس کا وجود محض ذہنی اور اعتباری ہو اور خارج میں پڑھنے اور ادا کرنے کے قابل نہ ہو، تو یہ کہنا کہ یہاں صلٰوۃ مطلقہ مرا دہے جو قضیہ طبعیہ کا موضوع ہے، محال ہوگا، اس کے بطلان کے بعد وہ تمام باتیں باطل ہوگئیں جو اس پر متفرع کی گئی ہیں، یہ واضح بات ہے کیونکہ مبنی کے فساد سے بناء کا فساد ہوتا ہے۔
ابوداؤد ونسائی وبیہقی از عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت داردند ان الرجل کان اذا طلق امرأتہ فھو احق برجعتھا وان طلقھا ثلاثا فنسخ ذٰلک فقال
الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ۱؎
ابوداؤد، نسائی اور بیہقی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے کہ ابتداء میں مرد کو طلاق دے دیتا تو اس کو منسوخ کرکے اﷲ تعالٰی نے فرمایا الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان،
(۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی باب من جعل الثلاث واحدۃ وماوردفی خلاف ذلک دارصادر بیروت ۷ /۳۳۷)