فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
159 - 175
مسئلہ۲۳۶: ۲۷شوال ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں (عہ۱) کالڑکابیمار ہوا اس کے والدین نے منت مانی کہ یااﷲ!اگر میرے لڑکے کو آرام ہوجائے تو رکھیں (عہ۲) رکھیں گے تیری نذر میں تین محتاج کھلائیں گے اور پچاس رکعت نماز پڑھیں گے۔ یہ کلمہ مولوی نے دامتی مقررکیا ہے اور اس منت کو حضرت نے بھی منع کیا ہے۔
( عہ۱ وعہ۲ : مسودہ میں بیاض ہے)
الجواب
اس مولوی نے غلط کہا اﷲ عزوجل نے پورا کرنے کا قرآن مجید میں حکم دیا ہے
ولیوفوانذورھم۲؎
یعنی مسلمانوں پر لازم کہ اپنی نذریں پوری کریں،
(۲؎ القرآن الکریم ۲۲ /۲۹)
نذریں پوری کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے
یوفون بالنذر۳؎
نذرپوری کرتے ہیں۔
( ۳؎ القرآن الکریم ۷۶ /۷)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کی وفا کا حکم دیا ہے۔ بخاری شریف میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے :
من نذران یطیع اﷲ فلیطعہ ومن نذران یعصیہ فلایعصہ ۴؎
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی طاعت الٰہی مثل نماز و روزہ و صدقہ وغیرہ کی منت مانے وہ بجالائے اور جو کسی گناہ کی منت مانے وہ باز رہے۔
(۴؎ صحیح البخاری کتاب الایمان باب النذر فی الطاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۱)
ہاں یہ سمجھنا کہ نذر ماننے سے تقدیر الٰہی بدل جائے گی جو نعمت نصیب میں نہیں وہ مل جائے گی جو بلا مقدر میں ہے وہ ٹل جائے گی،یہ اعتقاد فاسد ہے، ایسی ہی نذر سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے حدیث شیخین:
(لاتنذروا، فان النذرلایغنی من القدر شیأ وانما یستخرج بہ من البخیل۵؎۔
نذر نہ مانا کرو، کیونکہ نذر تقدیر سے مستغنی نہیں کرتی سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ نذر کے سبب بخیل سے مال خرچ کرایا جاتا ہے۔)(ت) کے نیچے مرقاۃ شریف میں ہے:
قال الخطابی معنی نھیہ عن النذر انما ھوالتاکید لامرہ وتحذیر التھاون بہ بعد ایجابہ،ولوکان معناہ الزجرعنہ لکان فی ذٰلک اسقاط لزوم الوفاءبہ اذ صار معصیۃ، وانما وجہ الحدیث لاتنذورا علی انکم تدرکون بالنذر شیئالم یقدرہ اﷲ تعالٰی لکم، او تصرفون شیئا جری القضاء بہ علیکم واذافعلتم ذٰلک فاخرجوہ عنہ بالوفاء فان الذی نذر توہ لازم لکم۱؎۔
خطابی نے فرمایا کہ نذر سے منع کا معنی یہ ہے کہ یہ نذر کے متعلق اہتمام کا اظہار ہے اور نذر کو اپنے ذمہ لازم کرنے کے بعد اس میں لاپروائی پر ڈرانا مقصود ہے، اور اگر نذر سے یہ منع برائے سزا ہوتا اس سے لازم آئے گا کہ نذر کو پورا کرنے کا حکم ختم ہوجائے کیونکہ یوں نذر گناہ قرار پائے گی، لہذا بلاشبہہ حدیث کی وجہ یہ ہے کہ نذر اس اعتقاد سے نہ مانو کہ نذر کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی کہ جس چیز کو اﷲ تعالٰی نے تمہارے لئے مقدر نہیں فرمایا نذر کی وجہ سے تم اس کو حاصل کرلوگے اور تقدیر میں جو چیز تم پروارد ہونے والی ہے تم اس کو نذر کے ذریعہ لوٹادو، اور جب نذر مانو تو اس سے بری الذمہ ہونے کے لئے اسے پورا کرو، کیونکہ جو نذر مانی ہے وہ تم پر لازم ہوچکی ہے۔(ت)
( ۵؎ صحیح مسلم کتاب النذر باب النذر فی الطاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۴۴)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب النذور الفصل الاول المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ /۵۹۹)
قال الطیبی تحریرہ انہ علل النھی بقولہ: فان النذر لایغنی من القدر، ونبہ علی ان المنھی عنہ ھو النذر الذی یعتقد انہ یغنی من القدر بنفسہ، امااذا نذر واعتقدان اﷲ تعالٰی ھوالذی یسھل الامور، وھو الضار والنافع والنذورکالوسائل، فیکون الوفاء طاعۃ، ولایکون منھیاعنہ، کیف وقد مدح اﷲ تعالٰی جل شانہ الخیرۃ من عبادہ بقولہ:''یوفون بالنذر'' ''وانی نذرت لک مافی بطنی محررا''قلت وکذا قولہ''انی نذرت للرحمٰن صوما'' فالمنھی عنہ ھوالاعتقاد علی ان النذر یغنی عن القدر۱؎الخ اھ مختصراً،واﷲ تعالٰی اعلم۔
طیبی نے فرمایا اس حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ اس میں نہی کا تعلق اور اس کی علت، تقدیر سے نذر مستغنی نہیں کرتی، والاجملہ ہے۔ اور اس میں تنبیہ ہے کہ اس عقیدہ سے نذر ماننا کہ یہ تقدیر کو تبدیل کردے گی اور اس سے مستغنی کردے گی، یہ منع ہے، لیکن نذرمان کر یہ عقیدہ رکھنا اﷲ تعالٰی ہی معاملات کو آسان فرماتا ہے اور وہی ذاتی طور پر نافع اور ضار ہے اور نذر محض ایک وسیلہ ہے،۔ تو اس عقیدہ سے نذر اور اس کو پورا کرنا عبادت ہے،اور یہ صورت ممنوع نہیں ہے یہ کیسے ممنوع ہوسکتی ہے جبکہ اﷲ تعالٰی جل شانہ نے اپنےنیک بندوں کی مدح میں خودفرمایا کہ وہ نذروں کو پورا کرتے ہیں۔ اورفرمایا: جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو میں وقف کرتی ہوں۔ اور میں کہتا ہوں یونہی اﷲ تعالٰی کافرمان ہے، میں نے اﷲ تعالٰی رحمٰن کےلئے روزہ کی نذر مانی ہے۔ تومعلوم ہوا کہ حدیث میں نہی کا تعلق اس نذر سے ہے جس میں یہ عقیدہ شامل ہوکہ یہ نذر تقدیر سے مستغنی کردے گی الخ اھ وا ﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب النذور الفصل الاول المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۶ /۵۹۹)
مسئلہ۲۳۷تا۲۳۹: ازدلیل گنج ضلع پیلی بھیت مرسلہ مولوی کریم بخش صاحب ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)کسی شخص نے نذرمانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں گائے کے سر کی نیاز کروں گا، اگر وہ شخص بجائے سر کے اور جگہ کے گوشت کی نیاز کرے اور مساکین کو کھلائے تو اس سے واجب ادا ہوگا یانہیں؟
(۲)کسی نے بکری یا مرغی موجودہ کی نسبت مخصوص کرکے کہا کہ میں اس بکری یا مرغی کی نیاز کروں گا، پھر کسی وجہ سے وہ مفقود ہوگئیں تو بجائے اس کے دوسری بکری مرغی یا گائے وغیرہ کی اسی قدر گوشت سے نیاز ہوگی یانہیں؟ بینواتوجروا۔
(۳)کسی نے مسجد کا طاق بھرنا گلگلویامانڈوں سے مانا، اگروہ مسجد کا طاق نہ بھرے اور گھر پر تقسیم کردے تو نذر پوری ہوگی یانہیں؟
الجواب
(۱)سر کی تعیین کچھ ضروری نہیں ا س قدر قیمت کا گوشت بھی کافی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
(۲) اگر یہ نیاز نہ کسی شرط پر معلق تھی مثلاً میرا یہ کام ہوجائے تو اس جانور کی نذر کروں گا، نہ کوئی ایجاب تھا مثلاً اﷲ کےلئے مجھ پر یہ نیاز کرنی لازم ہے جب تو یہ نذر شرعی ہونہیں سکتی، اور اگر لفظ ایسے تھے جن سے شرعاً وجوب ہوگیا تو جبکہ ایجاب خاص جانور معین سے متعلق تھا اس کے گمنے یا مرنے کے بعد دوسرا اس کی جگہ قائم کرنا کچھ ضرور نہیں، نہ اس نذر کا اس پر مطالبہ رہا، اگر دوسرا جانور کردے گا تو تبرع ہے۔
نذرمانی ہوئی چیز بعینہ اگر ہلاک ہوجائے یاضائع ہوجائےتو وہ نذر ختم ہوجائے گی، اھ ملتقطا، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۷)
(۳)مسجد کے طاق بھرنے کی منت سے اگر مقصود مساکین پر تصدق ہوتو نذر صحیح ہے اس طاق بھرنے کی تعیین لغو، جہاں چاہے مساکین کودے دے نذر ادا ہوجائے گی اور اگر اس منت سے مقصود مسجد کا طاق ہی بھرنا ہے پھر غنی مسکین جو چاہے لے لے،جیسا کہ بعض جہال خصوصاً عورتوں کے تعامل سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ منت ہی کرنی لغو ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۴۰:ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ زیرمسجد مکان حاجی ابراہیم صاحب مرسلہ ولی اﷲ صاحب ۲ربیع الاول شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولود شریف کی نذرماننا جائز ہے یانہیں؟بینواتواجروا۔
الجواب
مجلس میلاد شریف کہ طریقہ رائجہ حرمین شریفین پر ہواعلی مستحبات سے ہے، خواہ نذر مان کرکریں یا بلا نذر، ہاں محلِ نظریہ امر ہے کہ نذر ماننے سے واجب ہوجائے گی، جیسے نماز یا صدقہ۔ یاواجب نہ ہوگی بدستور مستحب رہے گی، جیسے تلاوتِ قرآن مجید کہ ایک قول منت ماننے سے بھی واجب نہیں ہوتی۔
کمافی الخانیۃ وغیرھا
(جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے۔ت)اس کا جزئیہ اس وقت نظرمیں نہیں،