Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
158 - 175
مسئلہ۲۲۹تا۲۳۰: از باگ ضلع امچہرہ ریاست گوالیار مکان منشی اوصاف علی صاحب سب انسپکٹر مرسلہ شیخ اشرف علی صاحب پنشنر ریاست کوڑ۱۲جمادی الاولیٰ۱۳۲۶ھ
 (۱) زید نے نذرمانی کہ اگر میرا فلاں کام اﷲ کردے گا تو میں مولود شریف یا گیارھویں شریف وغیرہ کروں گا، تو کیا اس کھانے یا مٹھائی کو اغنیاء بھی کھاسکتے ہیں؟
 (۲) زید نے یہ نذر مانی کہ اگرمیرا کام ہوجائے گا تو میں اپنے احباب کو کھانا کھلاؤں گا، تو کیا اس طرح کی منت ماننا اور اس کا ادا کرنا زید پر واجب ہوگا یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

(۱) مجلس میلاد و گیارھویں شریف میں عرف و معمول یہی ہے کہ اغنیاء و فقراء سب کو دیتے ہیں جو لوگ ان کی نذر مانتے ہیں اسی طریقہ رائجہ کا التزام کرتے ہیں نہ یہ کہ بالخصوص فقراء پر تصدّق، تو اس کا لینا سب کو جائز ہے، یہ نذورفقہیہ سے نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) یہ کوئی نذر شرعی نہیں، وجوب نہ ہوگا، اور بجالانا بہتر، ہاں اگر احباب سے مراد خاص معین بعض فقراء و مساکین ہوں تو وجوب ہوجائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۳۱:از پنڈول بزرگ ڈاک خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی کہے یعنی منت مانے کہ جان کا بدلہ صدقہ مسجد میں لے جائینگے، اور اسی کو بعض یوں کہتے ہیں کہ جان بچ جائے یا کام بن جائے تو نذر اﷲ مصلی کو کھلائیں گے، تو یہ جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

مساجد میں شیرینی لے جائیں گے یا نمازیوں  کو کھلائیں گے، یہ کوئی نذر شرعی نہیں، جب تک خاص فقراء کے لئے نہ کہے اسے امیر فقیرجس کو دےسب لے سکتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۳۲:از چوہر کوٹ بارکھان ملک بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب۱۴ربیع الاول شریف۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
اگر کسے نذر کردکہ فلاں حاجتِ من برآید بارواح فلاں مشائخ برائے اﷲ فلاں نر گاؤ یا گو سفند خواہم کشت یا بدہم چوں حاجت اوبرآمد اکنوں گوید کہ آں نرگاؤ کہ نذر کردم بدیگر گوسفنداں بدل کردہ خیرات کنم آیا منذورہ نرگاؤبعوض دیگر گوسفند بدل کردن جائز ست یاخود آں نرگاؤ راخیرات بکند۔
اگرکوئی یہ نذر مانے کہ میری فلاں حاجت پوری ہوجائے تو فلاں مشائخ کی روح کی برکت سے اﷲ تعالٰی کے لئے فلاں بیل یا فلاں بکرے کو ذبح کروں گا، اور جب حاجت پوری ہوجائے تو وہ کہے کہ فلاں بیل کے بدلے میں چند بکرے خیرات کردوں تو کیا بیل کے بدلے چند بکرے دینا جائز ہے یا وہی بیل جس کی نذر مانی تھی دینا ہوگا؟(ت)
الجواب

نذر کہ برجانور معین واقع شد تبدیلش روانیست
قال تعالٰی ولیوفوانذروکم۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
نذر میں جو جانور معین کیا جائے اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنی نذریں پوری کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم۲۲/ ۲۹)
مسئلہ۲۳۳:از سکندر پور ضلع بلیاپائی گلی مسئولہ محمد حسین وعطا حسین ۲۲رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شہید صاحبِ مزار بزرگ کی قبر شریف خام ہے اور زید نے نیت کی کہ میری مراد  پوری ہوتو مزار شریف پختہ اینٹ سے بنوادوں گا، اﷲ تعالٰی نے ببرکت شہید صاحب مراد پوری کردی اور اینٹ نئی موجود نہیں بلکہ زید کے باغ کے اندر ایک دیوار ہے اس دیوار سے اینٹ لے کر مزار شریف بنواسکتا ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا ۔
الجواب

مزار پختہ بنانے کی منت شرعی منت نہیں، اس کو پورا کرنا شرعاً واجب نہیں، وہ دیوار جو اس کے باغ میں ہے اگر اس کی ملک ہے تو اس کی اینٹوں سے مزار بنواسکتا ہے جبکہ وہ کسی دیوار ناپاک جگہ استعمال میں نہ آئی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۳۴:از مانگل لکہڑی ضلع گرگاواں ڈاکخانہ دھینار ریاست دوجانہ مرسلہ حافظ غلام کبریا صاحب پیش امام۲شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین بزرگوں کی منت ماننا کیسا ہے؟بعضے کہتے ہیں یہ تعظیم اﷲ کے واسطے ہے غیر کونہ چاہئے۔
الجواب

بزرگوں کی منت حقیقۃً مولیٰ عزّوجل ہی کے لئے منت ہوتی ہے اور بزرگوں کو ایصالِ ثواب کرکے ان سے تقرب بغرضِ توسل، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں،
کما افادہ العلامۃ عبدالغنی النابلسی قدس سرّہ القدسی فی الحدیقۃ الندیۃ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
جیسا کہ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے اسے حدیقہ ندیہ میں بیان فرمایا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۳۵:۹صفر۱۳۱۲ھ

اگرکوئی شخص منت مانے کہ میرا فلاں کام ہوجائے گا تو میں پانچ روپے کا غلّہ محتاجوں کو تقسیم کروں گا، اب تقسیم کے وقت کسی غریب کو کپڑے کی حاجت ہے تو کپڑا بنادینا اور حاجت رفع کرنا ادائے نذر کے لئے کافی ہوگا یانہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب

پانچ روپے یا پانچ روپے کا غلّہ، کپڑا، کوئی چیز محتاج کو پہنچ جائے۔ کپڑا اگر سلواکردیا تو جوسلائی میں جائے گا مجرانہ ہوگا۔
فی الدرالمختار نذران یتصدق بعشرۃ دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ جاز ان ساوی العشرۃ کتصدقہ بثمنہ۱؎۔واﷲ تعالٰی     اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر کوئی نذر مانے کہ میں دس درہم کی روٹی صدقہ کروں گا تو اگر اس نے روٹی کے بجائےدس درہم کے برابر کوئی اور چیز صدقہ کردی تو جائز ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ روٹی کے بجائے دس درہم دے دے تو جائز ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
 ( ۱؎ درمختار     کتاب الایمان     مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۹۵  )
Flag Counter