| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
مسئلہ۲۲۴:سید پرورش علی صاحب از متولی ٹولہ سہسوان ضلع بدایوں۱۰ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی گائے جنی تو انہوں نے کہا کہ یہ بچھیا پال کر ننھی کودینگے، اب وہ سال بھر کی ہوئی، بہت خوب ومرغوب، دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ اﷲ کی نذرکریں گے، ننھی کو دینا یا د نہ رہا، نذر ہوئی یانہیں؟خریدار پہلے سات روپے قیمت تجویز کرتے ہیں کہ یہ گائے دس بارہ سیر دودھ کی ہوگی، اس کا بدل قربانی کیجیو، اگر نذر ہوگئی تو بدل جائز ہے یانہیں؟اگرجائزہے تو کیا کتنا ہوگا؟
الجواب حضرت مولٰنا سیدصاحب دامت افضالکم، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالٰی وبرکاتہ،۔ اس لفظ سے کہ''اﷲ کی نذر کریں گے'' نذر نہ ہوئی محض وعدہ ہوا، اور وہ کہنا کہ''پال کرننھی کودیں گے'' اس سے بھی ہبہ نہ ہوا یہ بھی ایک ارادہ کا اظہار تھا، مگر اﷲ عزوجل سے جووعدہ کیا اس سے پھرنا بھی ہرگز نہ چاہئے، قرآن عظیم میں اس پر سخت وعید فرمائی ہے،افضل یہ ہے کہ کسی فقیر کو ہبہ کرکے دوایک روپے میں اس سے خرید کر ننھی کودے دیجائے کہ دونوں وعدے پورے ہوجائیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔لفظ نذر جس طرح مذکور ہوا قربانی کے لئے خاص نہیں، ہاں اگر یہ نذر کرے کہ اﷲ عزّوجل کے نام پر قربانی کردے گا تو قربانی ہی واجب ہے بدل ناممکن ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۵: مسئولہ عبدالکریم ہاشم لاکہ کوٹھی مقام بدامپور ڈاک خانہ رانگ دیٹہ ضلع مان پور روز پنجشنبہ تاریخ ۷ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
افضل الفضلا عالم یگانہ روز گار جناب مولٰنا صاحب مدظلہ العالی، بعدادائے آداب وتسلیمات بصدتعظیم و تکریم وہدیہ سلام مسنون الاسلام معروض خدمت سراپابرکت ہے کہ فدوی نے اپنے کارخانہ لاکہ کوٹھی میں یوم ابتدا کاروبار سے مسلم ارادہ کرلیا تھا کہ کارخانہ مذکور میں جو کچھ نفع ہوگا اسکے سولہ حصہ میں ایک حصہ خاص جناب سیدنا و مولٰنا پیرد ستگیر غوث الثقلین جناب محی الدین عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اﷲ علی مرقدہ وقدس اﷲ سرہ کا بطور تبرک نیاز کیا تھا اور ہے اور یوم ابتدا کاروبار سے بھی کہ جمع خرچ میں بھی ایک کنہ وہ جدابنام نامی اسم گرامی محب صمدان جناب سید محی الدین عبدالقادر صاحب جیلانی قدس اﷲ سرہ کے نام پاک سے موسوم کیاگیا ہے اور اب زمانہ اس کا چند سال کا ہوتا ہے کہ روپیہ نفع کا بھی جمع ہوگیا ہے تصدیعہ وہ خدمت کہ وہ روپیہ کن کن مصارف دینی میں خرچ ہوسکتا ہے یوم ابتدا کاروبارسے آج تک کوئی خاص ارادہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ تھا کہ وہ نفع روپیہ فلاں کارِ خیر میں خرچ کیا جائے گا، اب خلاصہ دریافت مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی مسجد بے مرمت اور ویران پڑی ہے او رمسلمان یہاں کے بہت غریب ہیں جس سے مرمت کا ہونا بہت دشوار ہے تو ایسی حالت میں جو روپیہ نفع کا ہے اس کو مصارف مسجدمیں خرچ کیا جاسکتا ہے کہ نہیں، ایسی حالت میں علمائے دین کا کیا اتفاق ہے اور علاوہ اس کے کن کن مصارف میں وہ خرچ کیا جاسکتا ہے بواپسی ڈاک جواب سے سرفراز فرمادیں،فقط۔
الجواب نیت کرنے والوں کو مولٰی تعالٰی جزائے خیر دے بہت محمودنیت ہے اور ہر دینی مصرف میں اسے صرف کرسکتے ہیں مسجد ویران کی آبادی نہایت اہم کام ہے اس میں صرف کرنا مقدم ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۶:مرسلہ محمد ساجد علی شاذلی سلہٹی ضلع تیر پورہ ۱۵ربیع الاول شریف۱۳۳۵ھ
ماقولکم دام فیضکم اس میں بشوق حصول مطلوب غائب حاضر ہوتے یا لاولد واسطے فرزند کے یا مریض واسطے شفا کے وحاجات دینی و دنیوی کے واسطے یا فتح مہمات کے واسطے اﷲ تعالٰی میری مقصود حاصل کرے، پس واسطے اﷲ تعالٰی اتنا روپیہ یا قندیل یا بتی سراج کی یا شطرنجی یا مصلی یا طعام یا قربانی نذرﷲ فی سبیل اﷲ ماننا معین کرکے واسطے مسجد مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے، اور علماء و فقرا اور مساکین کے واسطے اہل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درست ہے یانہیں، اگر مقصود حاصل ہوئے پس ایسی نذر کے اسباب ارسال کرنا امانت دار کی معرفت سے ضرور ہے یانہیں، اگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ارسال نہ کرکے غیر ملک مکہ مدینہ منورہ کے علماء فقرا کو دیوے کھلاوے درست یا نہیں، اور ناذر کے ذمہ سے ساقط ہوگا یانہیں، اگر کوئی اس حیلہ بہانہ سے منع کرے اور راہ میں ڈاکے چوری ہوتا ہے ارسال نہ کرنا لازم ہے اور بعض امانتدار خیانت کرتا ہے، ایسے احتمال گمان سے روکنا مال نذر کاردرست ہے یانہیں، اگر کوئی شخص مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی تشبیہ بھوت خانہ کالی گھر کے مثل کہے اس کا کیا حکم ہے؟بدتعظیم بے ادب کلام ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب وہ نذر بلاشبہہ جائز ہے اور نذرکا پورا کرنا واجب،
قال اﷲ تعالٰی ولیوفوانذورھم۱؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اپنی نذروں کو پوراکرو۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲ /۲۹)
اور جب نذر میں تخصیص مساجد طیبہ حرمین شریفین کی کی ہے تو وہیں بھیجنا انسب ہے اگر آسان ہواور اگر یہیں کی مساجد میں صرف کردے جب بھی حرج نہیں کہ تعیین مکان نذر میں نامعتبر ہے دونوں شہر کریم کی نسبت وہ کلمہ کہنا ضرور گستاخی و توہین و کلمہ کفر ہے اور نذر پوری کرنے سے جو شخص رد کرے وہ
منّاعٍ للخیر
(بھلائی سے روکنے والا۔ت)ہے،اور ایسے ناذر کو جو خاطی کہے خود خاطی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۷:نورمحمد ریاست بہاول پور اسٹیشن صادق آباد ڈاک خانہ اختر پور ضلع خان پور ۳ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
اگر بدرگاہ خداوند کریم سوال کیا جائے کہ مجھ کو فرزند عطاہو یا بیماری دفع ہو یا قرض ادا ہو تو اس قدر خیرات فی سبیل اﷲ بارواحِ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا حضرت پیر دستگیر یا ولی اﷲ کردوں گا یہ نذر جائز ہے یانہیں؟فقط والسلام۔
الجواب بلاشبہہ جائز ہےاور اس کا کرنا واجب،
قال اﷲ تعالٰی ولیوفوانذورھم۱؎
(ا ﷲتعالٰی نے فرمایا:اپنی نذریں پوری کرو ۔ ت ) واﷲتعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۲۹)
مسئلہ۲۲۸:مرسلہ غلام محی الدین ملازم طبع کریمی۱۹ربیع الآخر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی کی نانی نے نیاز مانی کہ اگر میرے نواسی پیداہوگی تو میں چہل تنوں کی گائے ذبح کروں گی، چنانچہ ایک مدت کے بعد لڑکی پیدا ہوئی، اس کے پیداہونے کے بیس روز بعد نانی کاانتقال ہوگیا، اب لوگ لڑکی کے والدین سے کہتے ہیں کہ یہ نیاز دلواؤاور یہ نیاز ان شرائط سے دلواؤ کہ ایک گائے خریدواس کے سہرا باندھو اور فقیروں کا گروہ خاص اس نیاز کے واسطے مخصوص ہے ان کو بلواکر ان کے سر گروہ کو جوڑا پہناؤ، پھر گائے چہل تنوں کی ذبح کی جائے اس کو پکاکر مع روٹی کے فقیروں کو دے دیا جائے وہ جو کچھ اس میں سے تم کو واپس دے دیں لے کر اپنے صرف میں لاؤ، بعد اس کے کوئلے بہت سے دہکاکر زمین پر بچھائے جائیں ان انگاروں پر وہ فقیر لڑکی کوگود میں لے کر لوٹیں گے اور پاؤں سے گھوندیں گے آگ کا کچھ بھی اثر ان کے بدن پر نہ ہوگا، لہذا نوشتہ بالامعنوں سے شرعاً کیا کرنا چاہئے؟بینواتوجروا۔
الجواب چہل تن چالیس شہداء ہیں، اگر منت سے یہ مراد تھی کہ گائے مولیٰ عزّوجل کےلئے ذبح کرکے اس کا ثواب ان شہیدوں کو پہنچایا جائے تو وہ نذر واجب ہوگئی عورت کے ترکہ سے ادا کی جائے تو بہتر ہے یعنی گائے مولیٰ عزوجل کے نام پر ذبح کرکے اس کا گوشت مساکین مسلمین کو تقسیم کردیاجائے اور وہ لہو ولعب کہ سوال میں مذکور ہے باطل ومردود ہے، اگر منّت ماننے والے کے ذہن میں یہی صورت با زیچہ تھی جو ملنگوں کا معمول ہے وہ منت ہی سرے سے باطل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔