Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
156 - 175
مسئلہ۲۱۸:از مدراسمٰعیل صاحب از مقام پکاسن ملک میواڑ محلہ مومناں ۱۶صفر۱۳۳۶ھ
چند شخص نے مسجد کے اندر کہا کہ جو شخص بیٹی پر روپیہ لے یاقرضدار کے یہاں کھاناکھائے تو کلمہ شریف اور قرآن سے پھرے تو اس کا کاغذ بھی لکھا مگر وہ کاغذ بھی پھاڑڈالا اور وہی کام کرنے لگ گئے ان کے واسطے کیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

بیٹی پر روپیہ لینا ناجائز ہے اور قرضدار کے یہاں کھانا کھانا اگر قرض کے دباؤ سے ہے تو وہ بھی ناجائز ہے،اور جنہوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ جو ایساکرے وہ کلمہ شریف اور قرآن شریف سے پھرے، پھر اس اقرار سے پھر گئے اور وہ کاغذ پھاڑ ڈالا ان میں سے جس کے خیال میں یہ ہو کہ واقعی ایسا کرنے سے قرآن مجید اور کلمہ طیبہ سے پھر جائے گا اور یہ سمجھ کر ایسا کیا وہ کافر ہوگیا اوراس کی عورت نکاح سے نکل گئی نئے سرےسے اسلام لائے، اسکے بعد عورت اگر راضی ہو تو اس سے دوبارہ نکاح کرے ورنہ مسلمان اسے قطعاً چھوڑدیں اس سے سلام وکلام اس کی موت وحیات میں شرکت سب حرام، اور جوجانتا تھا کہ ایسا کرنے سے قرآن مجید یا کلمہ طیبہ سے پھرنا نہ ہوگا وہ گنہگار ہوا اس پر قسم کا کفارہ واجب ہے
کقولہ ھو برئ من اﷲ و رسولہ ان فعل کذا
 (جیسا کہ وہ یوں کہے اگرایسا کروں تو اﷲ تعالٰی اور رسول اﷲ  سے بری ہو جاؤں ۔ ت  واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۱۹تا۲۲۱: ازمولوی ضیاء الاسلام صاحب پیش امام جامع مسجد آگرہ ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
فرازندہ رایت شریعت و مروّج احکام فطوت دام عظمۃ بعد سلام سنت الاسلام کے واضح رائے عالی ہوکہ براہ کرم جواب بہت جلد روانہ فرمائیے گا از حد ضرورت ہے:
(۱) ایک جماعت نے متفق ہوکراور قرآن شریف ہاتھوں پر رکھ کر قسم کھائی کہ ہم سب آدمی اپنی مستورات کو قبریں وتعزیہ و شادی وغیرہ کے خلاف شرع رسوم میں نہ جانے دیں گے اور اگر کوئی اس کے خلاف کرے گا اس کے ساتھ کھانے پینے کا تعلق اور حصہ وغیرہ کالین دین نہ کریں گے، اور نہ اس کے جنازہ میں شریک ہوں گے، یہ قسم قرآن شریف ہاتھوں میں لے کر کھائی، بعد دو روز کے ایک شادی ہوئی تو کچھ لوگوں نے متفق ہوکر اپنی عورتوں کو خود بھیج دیا اورکچھ لوگوں نے قسم کی پابندی کی، اب جن لوگوں نے اس عہد کو توڑدیا وہ لوگ از روئے شرع کس جرم کے مستحق ہیں۔
(۲) یہ جو قسم کھاکر وعدہ خلافی کرگئے ہیں وہ کسی معاملہ میں حکم (پنچ ازروئے شرع ہوسکتے ہیں یا نہیں،اور گواہی ان کی درست ہے یانہیں؟
 (۳) جولوگ اپنی قسم پر قائم ہیں ان کی یہ حقارت کرتے ہیں اور طعنہ زن ہوتے ہیں اس کے وہ مواخذہ دار ہوں گے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

(۱) وہ شادی جس میں ان لوگوں نے اپنی عورتوں کو بعد قسم کے بھیجا اگررسوم خلاف شرع پر مشتمل تھی تو

ان پر دوہراگناہ ہوا، ایک ایسی جگہ اپنی عورتوں کو بھیجنے کا دوسرا قسم توڑنے کا۔
واحفظوا ایمانکم۱؎،وقال اﷲ تعالٰی قواانفسکم واھلیکم نارا۔۲؎
اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے: اپنی جانوں اور اہل کو آگ سے بچاؤ(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵ /۸۹) (۲؎ القرآن الکریم    ۶۶ /۶)
ان پر فرض ہے کہ توبہ کریں اور آئندہ ایسی حرکت سے باز رہیں اور گواہی سنی جائے۔
 (۲) اگر وہ لوگ توبہ نہ کریں تو ایسوں کو نہ حکم بنایا جائے نہ ان کی گواہی سنی جائے۔
 (۳) ضرورمواخذہ دار ہیں اور شدید بلکہ معاملہ شرعی ودینی ہے اس میں عہدِ الٰہی کو قائم رکھنے والوں کو بر ا جاننا اور قائم رہنے پر طعنہ کرنا معاذاﷲ اسلام میں فرق آنے کا باعث ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۲: ایک شخص نے کسی سے غصہ میں آکر کہا کہ تیرے مکان کا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے،یاکہا کہ تیرے مٹکے کا پانی حرام ہے تو شرع شریف میں ان کا کیا حکم ہے؟
الجواب

یہ قسم ہے اگر اس کے گھر کھائے پئے گا یا دوسری صورت میں اس کے مٹکے کا پانی پئے گا قسم کا کفارہ دینا آئے گا پھر اگر اس سے ترک علاقہ خیر ہوتو چاہئے کہ قسم توڑے اور کفارہ اداکرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۲۳:ازڈاکخانہ راموچکماکول ضلع چٹاگانگ۹جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ

کوئی شخص کہے کہ اگر تم سے بولوں یا تمہارے مکان جاؤں یا یہ چیز کھاؤں تو میرے حق میں حرام ہے یاصرف یہ کہنا حرام ہے، کیا یہ کہنے سے حرام ہوجائے گا، اگر حرام ہوتو اس سے بری الذمہ ہونے کی کیا صورت ہے؟
الجواب

ہاں استحساناً یہ صورت حلف کی ہے اور یمین تحریم حلال ہی ہے اس کہنے کے بعد اگر اس سے بولا یا گھر گیا، یا وہ چیز کھائی تو قسم ٹوٹ جائے گی، کفارہ دینا ہوگا،
ھذاھو الاستحسان کما فی ش عن النھر والفتح عن المنتقی وما فی الخلاصۃ فالبحر فالدر قیاس والتقدیم للاستحسان، واﷲتعالٰی اعلم۔
یہ استحسان ہے جیسا کہ فتاوٰی شامی میں نہراور فتح کے واسطہ سے منتقیٰ سے منقول ہے اور جوخلاصہ میں پھر بحر اور پھر درمختار میں ہے وہ قیاس ہے جبکہ استحسان کو تقدم حاصل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter