Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
155 - 175
مسئلہ۲۱۷:از شمس آباد کیمل پور مسئولہ غلام گیلانی سہ شنبہ ۱۸شعبان ۱۳۳۴ھ
زید حلف خورد کہ من بخانہ برادر خود ہرگز نان نخواہم خورد ورنہ کذاوکذاباشد بعدہ در تقریب شادی مرد ماں آں زید را برخوردن نان مجبور کردند او گفت کہ من بگفتہ شماایں نان را در تصور خوردم(یعنی حقیقۃً نمی خورم لیکن در تصور خود میخورم و چہ نخوردہ ام اما خوردہ گیر بایدم ایں واقعہ پیش علمائے دیاررفت مگر حکم بحنث داد واستناد او بایں عبارت حاشیہ اصول شاشی در بحث مقتضی بایں الفاظ ست
عبارت اصول شاشی ولاتخصیص عن الفرد المطلق لان التخصیص یعتمد العموم ولاعموم للمقتضی۱؎
زید نے قسم کھائی کہ میں اپنے بھائی کے گھر ہرگز کھانا نہ کھاؤں گا اگر کھاؤں تو فلاں چیز لازم آئے، اس کے بعد شادی کی تقریب میں لوگوں نے اس کو کھانے پر مجبور کیا تو اس نے کہا میں تمہارے کہنے پر کھانے کا تصور کرلیتا ہوں، یعنی حقیقتاً نہ کھاؤں گا صرف اپنے تصور میں کھاؤں گا کیونکہ میں نے کھایا نہیں لیکن کھانے والاسمجھاجاؤں گا۔ یہ واقعہ علاقہ کے علماء کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے اس بات پر قسم کے ٹوٹنے کا حکم دیا، اور ا سکی دلیل اصول شاشی  کے حاشیہ کی اس عبارت کو بنایا ہے جو اصول شاشی میں مقتضی کی بحث میں ہے۔ اصول شاشی کی عبارت یہ ہے کہ فرد مطلق میں تخصیص جاری نہیں ہوتی کیونکہ تخصیص کی بنیاد عموم پر ہے جبکہ متقضٰی میں عموم نہیں ہوتا۔
 (۱؎ اصول الشاشی وفصول الحواشی     قبیل فصل فی الامر     المطبع المحمدی پشاور    ص۲۰۰)
وعبارت فصول ایں ست
فان قیل فلیراد الطعام الموصوف بصفۃ کذا قلنا ھذا اثبات وصف زائد علی المطلق وھو زیادۃ علی قدر الحاجۃ فلایثبت بطریق الاقتضاء کصفۃ التعمیم وفیہ ایضاکلام قولہ لعل المراد(الی ان قال) قیل انہ لیس من باب العموم بل لحصول المحلوف علیہ فانہ لو تصور الاکل الخ۱؎
رابایں حکم حنث درسوال تعلق ست یانہ، اگر حضور پر نور مطلب ایں عبارت مع شواہد و توابع ونظائر در عبارت فارسی مفصل ارقام فرمایند ہر آئنہ رفع حجاب و فتح باب خواہد شد، فقط۔
اس پر حاشیہ فصول کی عبارت یہ ہے: اگر اعتراض کیا جائے کہ کھانے، کے قول کے بعد مطلق طعام کی بجائے خاص وصف والاطعام بطور مقتضی مراد لیاجائے تو کیسا ہے، قلنا(ہم جواب دیں گے کہ)ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ مطلق پر ایک زائد وصف کا اضافہ ہے جو قدرِ حاجت سے زائد ہے اور مقتضی قدرِ حاجت سے زائد ثابت نہیں ہوسکتا جیسا کہ مقتضٰی  میں تعمیم کی صفت ثابت نہیں ہوسکتی، جبکہ اس جواب میں بھی کلام ہے، کیونکہ لعل المرادسے آگے، قیل کے تحت، کہ، یہ عموم کے باب سے نہیں بلکہ جس چیز کے متعلق قسم کھائی ہے(محلوف علیہ) اس کا حصول ہے، کیونکہ اگر وہ کھانے کے لئے متصور ہوا لخ، تو کیا اس عبارت کا سوال مذکور کے حانث ہونے سے تعلق ہے یانہیں، اگر حضور پر نور اس عبارت کا مطلب بمع شواہد، موافق اور نظائر فارسی میں مفصل طور پربیان فرمادیں تو ہر طرح حجاب ختم ہوجائے گا اور اس بحث کی وضاحت ہوجائے گی، فقط۔(ت)
 (۱؎ اصول الشاشی وفصول الحواشی     قبیل فصل فی الامر    المطبع المحمدی  پشاور    ص۲۰۰)
الجواب الملفوظ
روزے پیش امیرالمومنین علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم یکے گفت کہ فلاں در خواب بامادر آنکس زناکردہ است۔  امیر المومنین کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم فرمود اور ادر آفتاب قائم کردہ سایہ اش رادرہ زن، از مدعیان علم ہمچوسخن خیلے بعید است پیداست کہ ایں نزول جزارا از حصول شرط ناگزیرست وشرط اکل بود نہ تصور او وبمجرد تصور تحقق اکل بداہۃً مخالف عقل است ہیچ صبی عاقل گمان نتواں برد کہ ہر کہ تصور خوردن کرد حقیقۃ خورد واگر چناں بودے فقر و فاقہ از جہاں برخاستے وحکمت الٰہیہ کہ باختلاف لزوم در رزق ست کہ
لوبسط اﷲ الرزق لعبادہ لبغوافی الارض ولکن ینزل بقدر مایشاء۱؎
ایک دن حضرت علی مرتضیٰ کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے سامنے ایک شخص نے کہا کہ فلاں شخص نے خواب میں دوسرے شخص کی ماں سے زنا کیا ہے، تو حضرت امیرالمومنین کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم نے فرمایا کہ اس شخص کو دھوپ میں کھڑا کرکے اس کے سایہ پر کوڑے ماروغرضیکہ ایسی باتیں علم کے مدعی لوگوں سے بعید ہیں، کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جزا کے پائے جانے کے لئے شرط کا پایاجانا ضروری ہوتا ہے، جبکہ سوال میں کھانے کی شرط کو ذکر کیا گیا ہے تو کھانا شرط ہوگا نہ کہ تصور شرط ہوگا، کھانے کے محض تصور کرلینے سے کھانا متحقق نہیں ہوتا، یہ بات ہر عقلمند بچہ بھی جانتا ہے اور ایسا ہونا بداہۃً عقل کے خلاف ہےکہ کوئی کھانے کا تصور کرے تو حقیقی کھانا ہوجائے گا۔ اگر ایسا ہی ہوتو پھر دنیا سے فقر و فاقہ ختم ہوجائے،اور رزق میں تفاوت کی یہ حکمت معاذاﷲ ختم ہوجائے جس کو اﷲ تعالٰی نے یوں بیان فرمایا، اگر اﷲ تعالٰی سب کےلئے رزق کو کشادہ کردے تو لوگ زمین میں بغاوت کردیں لیکن وہ بقدر مشیت رزق اتارتا ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۴۲ /۲۷)
معاذاﷲ از ھم پاشیدے وآنکہ از حاشیہ اصول شاشی منقول شد معنیش آنست کہ در(أکلت) اقتضائے طعام از جہت تحصیل محلوف علیہ ست زیرا کہ اکل فعل متعدی ست وفعل متعدی بے مفعول بہ صورت نہ بند واینجا مفعول بہ طعام ست تا آنکہ اگر اکل بے طعام صورت بستے حنث بے اوحاصل شدے واذ لیس فلیس اینجا بر معنی باطل حمل کردن در چہ مرتبہ از جنون ست نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم،واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور اصول شاشی کے حاشیہ سے جو نقل کیا گیا اس کا معنی یہ ہے اکلت(میں کھاؤں) کا فعل طعام کا مقتضی ہے تاکہ اس قسم والے کی قسم سے متعلق چیز معلوم ہوسکے کیونکہ اکل(کھانا) متعدی فعل اور کوئی متعدی فعل، مفعول بہ کے بغیر نہیں پایاجاسکتا جبکہ یہاں کھانے کا مفعول بہ طعام ہے حتی کہ اگر کھانا بغیر طعام متصور ہوسکے تو پھر کھانے کے بغیر قسم ٹوٹ جائے، تو جب کھانا بغیر طعام متصور نہیں ہوسکتا تو طعام کے بغیر قسم بھی نہ ٹوٹے گی۔ یہاں پر شخص مذکور نے جو معنی مراد لیا ہے۔ وہ غلط اور باطل ہے اور اس کو مرادلینا جنون سے کم نہیں ہے، ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter