| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
در سوال بود اگر بخانہ گزاشتی و در جواب میگوید ''اس کو رکھتی'' مساکین بیفہم کہ اینجا در گزاشتن وداشتن تمیز ندارند آنہا را گزاشتن بہ کہ داشتن باز حاصل ایں شبہہ ہماں شبہہ اولیٰ ست کہ مرد خود گزاشت نہ زن وایں دو ن ترین شبہہ پیش پا افتادہ نیز ایجاددماغ دیوبند نیست بلکہ بیچارہ مفتی مخطی از سائل آموخت کہ در عبارت سوال زید راضی شدہ در خانہ گزاشت ایمائے باوجود بلے چوں دید کہ گزاشتن و منع نہ کردن بالیقین از زن نیز مستحق ست براہ گریزی گزاشتن رابداشتن بدل کردتاایواد جادادن رابجائے ترک وتخلیہ نشاند وحرام خدا را حلال کردہ داد دیوبندیت از دیوبندیاں ستاند ولاحول ولاقوۃ الّا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین واٰخردعوٰنا ان الحمدﷲرب العٰلمین۔
سوال میں تھا کہ ''اگر تو گھر میں چھوڑے''۔ جواب میں دیوبندی لکھتا ہے''اس کو رکھتی''۔ اس مسکین بے فہم مفتی کو یہاں چھوڑنے اور رکھنے کا فرق معلوم نہ ہوسکا، ایسے مفتیوں کو چھوڑنا بہتر یا رکھنا بہتر؟ پھر یہ شبہہ وہی ہے جس کو ہم نے شبہہ اولیٰ کے طور پر ذکر کیا ہے کہ خاوند نے خود بیٹے کو گھر چھوڑا، بیوی نے نہیں چھوڑا، اورکمزورترین اور حقیر سایہ شبہہ دیوبندی دماغ کی ایجاد نہیں، بلکہ اس بیچارے نے یہ شبہہ سائل سے سیکھا جس نے اپنے سوال میں''زید نے راضی ہوکر بیٹے کو گھر میں چھوڑا'' لکھ کر اشارہ دیاہے، پھر جب اس مفتی نے دیکھا کہ چھوڑنا اور منع نہ کرنا بیوی سے یقینا سرزد ہوا ہے، تو پھر گزیر کرتے ہوئے اس نے ''چھوڑنے'' کو ''رکھنے'' میں بدل دیا تاکہ آنے کے موقعہ دینے کو ترک اور تخلیہ کی جگہ منطبق کرسکے،یوں ا س نے اﷲ تعالٰی کے حرام کردہ کو حلال بنادیا ہے، دیوبندیوں کی دیوبندیت بن گئی، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم، وصلی اﷲ تعالٰی علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہٖ واصحابہ اجمعین۔ وآخر دعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العالمین۔(ت)(رسالہ ختم)
مسئلہ۲۱۵:از محلہ بہاری پوربریلی ۲۹/رجب ۱۳۳۸ھ مرسلہ ریاض الدین احمد
کسی سچی بات کے لئے قرآن پاک کی قسم کھانا یا اس کا اٹھالینا گناہ ہے یانہیں؟آپ کو تکلیف دینے کی اس وجہ سے ضرورت ہوئی کہ ایک شخص سے کہا گیا کہ اگر تو سچا ہے تو قرآن شریف کواٹھالے۔ اس کا اس نے جواب دیا کہ میں سچائی پر ہوں لیکن میں قرآن شریف نہیں اٹھا سکتا ہوں کیونکہ قرآن شریف اٹھانا ہر حالت میں گناہ ہے، دوسرا فریق کہتا ہے کہ سچا قرآن شریف اٹھانا گناہ نہیں ہے البتہ جھوٹا قرآن شریف اٹھانا گناہ ہے، مہر بانی فرما کر مطلع فرمائیے کہ دونوں باتوں میں کون سی بات سچی ہے؟
الجواب جھوٹی بات پر قرآن مجید کی قسم کھانا یا اٹھانا سخت عظیم گناہ کبیرہ ہے اور سچی بات پر قرآن عظیم کی قسم کھانے میں حرج نہیں اور ضرورت ہوتو اٹھابھی سکتا ہے مگر یہ قسم کو بہت سخت کرتا ہے، بلاضرورتِ خاصہ نہ چاہئے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۱۶: از برٹس گائنا براراتیرس وینج ایسٹ بنک مسئولہ عبدالغفور ۲۴صفر المظفر۱۳۳۴ھ
اگر لوگوں نے کلام اﷲ کو ہاتھ میں لے کر حلف کیا اپنے پیش امام کی تابعداری کا،وہ حلف یمین ہوا یا کہ نہیں؟اور یاکہ شرف ہوا اﷲ تعالٰی کے ساتھ؟یاگناہ ہوا؟ اور یا کہ ایسا حلف قسم کلام کا ہوا؟ اور قسم کلام اﷲ کا کھانا درست ہے یاکہ نہیں؟ اور جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ غیر اﷲ کی قسم کھانا شرک ہے اور لوگوں نے حلف کیا ساتھ کلام اﷲ کے، تو وہ غیراﷲ کا قسم کہا جائے گا یاکیا کہا جائیگا؟فقط۔
الجواب کلام اﷲ، اﷲ عزوجل کی صفت قدیمہ ہے۔ صفاتِ الٰہیہ عین ذات ہیں نہ کہ غیر ذات۔ کلام اﷲ کی قسم ضرور حلف شرعی ہے،
لانہ من صفاتہ وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ لاکالحلف برحمتہ وجودہ وکرمہ لعدم التعارف وھذاھو منات الحلف الشرعی کما فی الدرالمختار وغیرہ۔
کیونکہ یہ اﷲ تعالٰی کی ایسی صفات میں سے ہے جس کے ساتھ قسم کھانا متعارف ہے لہذا قرآن کے ساتھ حلف ایسا ہی ہے جیسا کہ اﷲتعالٰی کی عزت،عظمت اور جلال کی قسم ہے۔ اور اﷲ تعالٰی کی رحمت، جوداور کرم کی قسم کی طرح نہیں جن سے قسم متعارف نہیں ہے، اور یہی متعارف ہونا نہ ہونا ہی شرعی قسم کا معیار ہے، جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
ہاں مصحف شریف ہاتھ میں لے کر یا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظاحلف و قسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگامثلاً کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایساکروں گا اور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔