Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
153 - 175
شبہہ عاشرہ: سلمنا کہ ترک را عدم امر بخروج بس ست فامّا امر بعدم خروج نیز از وجوہ اوست پس ترک دو نوع شد وزیادت معنی در نوع خود قضیہ نوعیت ست پس حلف اگر بواقع ارادہ نوع اقوی کردہ باشدباید کہ دیانۃً معتبر شود گوپیش زن وسائر ناس مقبول مباش۔
دسواں شبہہ: یہ کہ ہمیں تسلیم ہے کہ، ترک یعنی چھوڑنے کےلئے نکل جانے کا حکم نہ دینا کافی ہے لیکن نہ نکلنے کے حکم سے بھی ترک پایا جاتا ہے پس ترک کی دو قسمیں ہوگئیں، ایک نکلنے کا حکم نہ دینا، اور دوسری قسم، نہ نکلنے کا حکم دینا، اور ایک قسم میں معنی کی زیادتی(حکم دینا) خود قسم کو پیدا کرتا ہے یعنی قسم ہونے کے منافی نہیں ہے لہذا قسم کھانے والا اگر اقوی یعنی زیادتی والی قسم کی نیت کرے کہ اس معنی کا ترک ہوتو طلاق ہوگی، تو دیانۃً یہ نیت قبول ہونی چاہئے، اگرچہ بیوی اور دوسرے لوگوں کے ہاں وہ مقبول نہ ہو۔(ت)
اقول عدم امر بخروج وامر بعدم خروج متقابل نیست کہ اول در ثانی موجود ست وقسم قسم نتواں شد آرے سکوت مطلق و تکلم باجنبی وتکلم بنافی ہرسہ ازوجوہ تحقق اوست فاما انواعش نتواں شد کہ تکلم وجودی ست نوعے از عدم چساں باشد پس مصداقش نیست مگر ہماں عدم امر بخروج و در سکوت محض چیزے بااونیست ودر تکلمات مقارن بکلام ست وشے بمقارنات متنوع نشود وقاطع شغب آنست کہ درجملہ مسائل ترک کہ بالاگزشت علماء ازیں احتمال کہ مراد از وتکلم بمنافی مراد باشد اصلا خبر ندادہ اند پس روشن شد کہ اور امساغ نیست ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق الحمد ﷲ سخن بمنتہی رسید ودریں مسئلہ نازلہ ابانت علل وسد خلل ورد زلل بذروہ اقصے در ضمن او مسائل اوکثیرہ وفوائد عزیزہ بوضوح پیوست پس بلحاظ تاریخ الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین نامش کردن مناسب ست، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول(میں جواب میں کہتا ہوں کہ) نکلنے کاحکم نہ دینا اور نہ نکلنے کاحکم دینا، یہ دونوں چیزیں آپس میں منافی نہیں ہیں کیونکہ پہلا معنی دوسرے معنی میں بھی موجود ہے (حالانکہ اقسام کا آپس میں ایک دوسرے کے مبائن ہونا ضروری ہے) لہذا یہ دو قسمیں علیحدہ علیحدہ نہ ہوئیں۔ ہاں مطلق خاموشی، اجنبی گفتگو، اور منافی گفتگو، ان تینوں صورتوں میں ترک متحقق ہوجاتا ہے مگر یہ ترک کی قمسیں نہیں ہیں کیونکہ ترک عدم کانام ہے اور گفتگو یعنی تکلم وجودی چیز ہے تو وجودی چیز عدمی چیز کی قسم کیسے بن سکتی ہے، تو معلوم ہوا کہ ترک کا مصداق صرف نکلنے کا حکم نہ دینا ہے، اور وہ سکوت جس کے ساتھ کوئی اورچیز نہ ہوا ور مقام کلام میں وہ کلام سے مقارن قرار پاتا ہے اور کوئی چیز اپنے مقارن کے ساتھ قسم نہیں بنتی۔ اس قیل وقال کا خاتمہ یوں ہوجاتا ہے کہ ترک سے متعلق جتنے مسائل گزرے ہیں ان میں علماء کرام نے منافی گفتگو، کے احتمال کو ذکر نہیں کیا، اور انہوں نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ ''نہ نکلنے کا حکم'' تو واضح ہوگیا کہ اس احتمال کا یہاں کوئی دخل نہیں ہے۔ تحقیق یوں مناسب ہے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کامالک ہے، الحمد ﷲ یہ بحث اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے قسم کے پڑنے میں یہ ایسی بحث ہے جس میں علتوں کی وضاحت، خلل کا سَدِّباب اور غلطیوں کا ازالہ اعلیٰ پیمانے پر ہوا ہے اور اس بحث کے ضمن میں کثیر مسائل اور نادر فوائد بھی پائے گئے ہیں، پس تاریخی لحاظ سے اس کا نام الجوہر الثمین فی علل نازلۃ الیمین رکھنا مناسب ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
نوٹ:خادم آستانہ علیہ دار الافتا فقیر عبید النبی نواب مرزا قادری رضوی غفرلہ ربہ القوی عرضہ دارد کہ اعلٰحضرت شیخنا مجدد الملۃ دام ظلہ العالی پیش ازیں بتاریخ یازدہم محرم شریف ایں سوال را جوابے مختصرنوشتہ ارسال فرمودہ بودند کہ  در کتاب الطلاق مرسوم گشت وبوجہ عروض تپ تفصیل را حوالت بر آئندہ فرمودند کہ بتوفیقہ تعالٰی ایں فتوی کتاب الایمان ست از مولٰیناوبالفضل اولٰنا جناب مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب شمس آبادی دام بالایادی بتاریخ ہفدہم ماہ مبارک محرم محترم نامہ دگر بزبان عربی آمد ودر طے اوفتوی دیوبندیاں تفصیل را لب بہ استدعاکشادند اینجا بعونہٖ تعالٰی فتوائے معضلہ پیش ورود ایں نامہ تکمیل یافتہ بود فتوائے دیوبند اگر چیزے بہ دلیل علیل گرایندے جوابش خود اینجا دیدے فاما بتقلید کو رانہ جناب گنگوہی صاحب نہ عبارتے نگاشت نہ بدلیلے چنگ زد ہمیں مجتہد انہ بانگ بے آہنگ زد کہ اصلاً توجہ را نشایدآرے لطف جواب سفارشی مے شود کہ اوراذکر کنیم تا بینند کہ مفتیان دیوبندی چساں در بنددیو جہالت اند کہ سوال ہم نفہمند و جواب مجتہدانہ دہند۔
نوٹ:آستانہ عالیہ دارالافتاء کا خادم، نبی پاک کا ادنیٰ غلام فقیر نواب مرزاقادری برکاتی رضوی ، اﷲ تعالٰی اس کا رب قوی اسکی مغفرت فرمائے، عرض کرتا ہے کہ ہمارے شیخ مجدد ملت اعلٰحضرت دام ظلہ العالی نے قبل ازیں گیارہ محرم شریف کو اس سوال کا مختصرا جواب لکھا اور ارسال کردیا جوکہ کتاب الطلاق میں شامل ہے اور بخارکے عارضہ کی بناء پر اس کا مفصل جواب آئندہ پر چھوڑدیا جبکہ استفتاء کا تعلق کتاب الایمان سے ہے جس کو مولانا بالفضل اولٰنا جناب مولوی غلام گیلانی صاحب شمس آبادی(زمانہ بھر زندہ رہیں) نے ارسال فرمایا، مولانا مذکور نے یہی سوال عربی زبان میں دوبارہ سترہ محرم الحرام کو بصورت خط بھیجا اور اس کے اندر دیوبندیوں کا تفصیل سے خالی فتوٰی بھی موجو د تھا، اﷲ تعالٰی کی توفیق اور مدد سے یہ تفصیلی مضبوط، کتاب الایمان سے متعلق فتوٰی، مولانا مذکور کے دوسرے خط سے قبل پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا،، دیوبند کے فتوے میں اگر کوئی کمزور دلیل ہوتی تو بھی اس مفصل فتوے میں اس کا جواب نظر آجاتا، لیکن دیوبند کا فتوٰی تو محض گنگوہی صاحب کی اندھی تقلید ہے اس میں نہ کوئی حوالہ ہے نہ کسی دلیل کاسہارا ہے بلکہ وہی بے ڈھنگی مجتہد انہ بولی ہے جو ہرگزقابلِ التفات نہ تھی۔ ہاں تحقیقی جواب کی خوبی سفارش کرتی ہے کہ اس کو ذکر کردیں تاکہ دیکھنے والے معلوم کرسکیں کہ دیوبندی حضرات کس طرح دیوجہالت کی قید میں ہیں کہ وہ سوال کو سمجھے بغیر ہی اپنا اجتہادی جواب دے رہے ہیں۔(ت)
 (نامہ نامی جناب مولٰنا اینست)
 (مولانا مذکور کا خط یہ ہے)
الی الجناب المستغنی عن الالقاب بل الالقاب مطروحہ دون سدۃ الباب مجدد الملۃ والاسلام والدین ناصرالمسلمین باعلاء اعلام الدین مزعج اصول الکفرۃ والمبتدعۃ والفسقۃ والمضلین بسط اﷲ تعالٰی ظلال فیوضھم علٰی رؤس المسترشدین الی یوم الدین۔
القاب سے مستغنی بلکہ القاب جن کی چوکھٹ کے سامنے پھینکے پڑے ہیں، مجدد الملت والاسلام والدین، دین کے جھنڈے بلند، اور کفار، بدعتی حضرات، فساق اور گمراہ لوگوں کے اصول و قواعد کو مٹانے میں مسلمانوں کے مددگار کی خدمت میں،اﷲ تعالٰی قیامت تک ان کے فیوض کے سائے کو رہنمائی حاصل کرنے والوں کے سروں پر پھیلائے رکھے۔
امابعد، فقد ورد الجواب المستطاب مع المطلوبات من الرسالۃ والکتاب وانکشف الستروالحجاب جزاکم اﷲ تعالٰی خیر الجزاء بتعداد المخلوقات ماھو فی جوالسماء وعلی الارض من الدواب لکن کتب من مدرسۃ دیوبند علی خلاف ذٰلک فحٍ لابد من الجواب المفصل المزیل للارتیاب لیفتت ترائب المخطی ویدسہ فی التراب ویرتفع الخلاف من البین باجلاب الزین والتحاب وصلی اﷲ تعالٰی علی خیر خلقہ والاٰل والاصحاب الی یوم التناد لذوی الخیاب ویوم الریان والشباب لذوی الحجۃ واصحاب الاقتراب۔
امابعد، آپ کاجواب مستطاب مطلوبہ قرآن و احادیث و کتب کے حوالوں پر مشتمل موصول ہوا، حجاب اوپردے اٹھ گئے، اﷲ تعالٰی آسمان اور زمین کی مخلوقات کی تعداد کے برابر آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے لیکن مدرسہ دیوبند سے اس کا خلاف لکھا گیا، لہذا ضروری ہے کہ اس کا رد مفصّل طورپر کیا جائے جو شکوک کو ختم کردے تاکہ خطا کار کے دل کے خیالات پراگندہ ہوجائیں اور اس کو مٹی میں دفن کردے اور اس خلاف کو یہاں سے مقبول اور پسندیدہ امور کے سبب ختم کردے۔ رسوالوگوں کی ذلّت،اور محبوب اور اصحاب حجت لوگوں کی رونق وشباب کے دن (قیامت) تک حضور الصلوٰۃ والسلام پر اﷲ تعالٰی کی رحتمیں ہوں۔
العبد المذنب للاواہ الخامل الجانی القاضی غلام گیلانی الشمس اٰبادی حفظہ اﷲ تعالٰی عن ایادی الاعادی۔
منجانب گنہگار، پناہ کا خواستگار، پسماندہ اور جنایت کا مرتکب بندہ غلام گیلانی شمس آبادی، اﷲ تعالٰی اسے دشمنوں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھے۔
سوال فتوائے عین سوال مذکور ست و سوال پارسی را بزبان ہندی جواب عجاب چناں:
دیوبندی کے فتوٰی میں بعینہ اس فتوے والا سوال مذکور ہے اور اس فارسی سوال کا عجیب جواب انہوں نے اردو(ہندی) میں دیا ہے، جو یہ ہے:
الجواب: زید جبکہ اپنے پسر سے راضی ہوگیا اور خود اس کو گھر رکھا تو اس کی عورت پراس صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی البتہ اگر زید ا سکو نکالتا اور اس کی زوجہ اس کو رکھتی تو مطلقہ ہوتی فقط واﷲ تعالٰی اعلم۔کتبہ عزیزالرحمٰن عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند۔
13_7.jpg
Flag Counter