وترکنا علیہ فی الاٰخرین سلام علٰی نوح
فی العٰلمین۔
بعد والوں میں ہم نے ان کی اچھی ثناء باقی رکھی، جیسا کہ مجمع البحار وغیرہ میں ہے، چھوڑنا، باقی رکھنے کے معنی میں وجودی چیز ہے کیونکہ بقاء وجودی ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳۷/ ۷۸ و ۷۹)
(۲؎ مجمع البحار تحت لفظ ترک نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۴۰)
اقول ابقاکہ حی قیوم عزجلالہ میکند عند المحققین وجودی باشد امابناء علی مذہب امام اھلسنت القاضی ابی بکر الباقلانی والامامین امام الحرمین والرازی ان البقاء عین الوجود لاامر زائد علیہ فالابقاء ھو الایجاد واما بناء علٰی مذہب ائمۃ الکشف والشہود من تجدد الامثال فی کل شئی حتی الجواھر فیکون الابقاء ایجاد الامثال کل حین ولہذا چنانکہ اطلاق باری وخالق برغیر او سبحٰنہ نیست اطلاق قیوم نیز نتواں شد بلکہ علماء بروتکفیر کردہ اند در مجمع الانہر فرمود اذا وصف اﷲ بما لایلیق بہ او نسبہ الی الجھل اوالعجز اوالنقص او اطلق علٰی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحوالقدوس والقیوم والرحمٰن وغیرہا یکفر۳؎(ملخصاً)
اقول(میں جواب میں کہتا ہوں) ابقا(باقی رکھنا) حیّ و قیّوم(جل جلالہ) کا فعل ہوتومحققین کے نزدیک وجودی ہے، اس لئے کہ امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی اور امام الحرمین اور امام رازی کے مذہب پر بقاء عینِ وجود کا نام ہے اور وجود سے زائد کسی صفت کا نام نہیں ہے، لہذا باقی رکھنا، یہ ایجاد ہوگا جو کہ وجودی ہے، لیکن ائمہ کشف وشہود کے مذہب پر، بقاء، ہر چیز کی امثال کے تجدد کا نام ہے، لہذا ابقا، اس معنی میں ہر چیز حتی کہ جواہر کی امثال کو ہر لمحہ، ایجاد، کرنے کا نام ہے، اس لئے جس طرح باری اور خالق جیسی صفات کا اﷲ تعالٰی کے بغیر کسی اور کے لئے اطلاق جائز نہیں اسی طرح قیوم کا اطلاق بھی غیر کے لیے جائز نہیں ،بلکہ اس کا غیر اللہ پر اطلاق علمائے کرام کے ہاں کفرہے، مجمع الانہر میں فرمایا کہ جو چیز اﷲ تعالٰی کی شایانِ شان نہ ہو یا جہالت، عجز اور نقص کی نسبت اس کی طرف کرنا،یا وہ صفات جو اﷲ تعالٰی کےلئے خاص ہیں ان کا مخلوق پر اطلاق کرناجیسے قدوس، قیوم، رحمٰن وغیرہا صفات ہیں،تویہ کفرہے،
(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد ثم ان الفاظ الکفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۹۰)
اینجا احتیاط عظیم باید کہ بعض مردم بایں مبتلاشدہ اند والعیاذ باﷲ تعالٰی بالجملہ اینست بقائے الٰہی عزّجلالہ فامّاانچہ از بشرست جز ترک ازالہ نیست ولہذااگر زرے در کیسہ نہاد و زن را گفت اگر چیزے از وتاصبح باقی مانی طلاق باشی، زن ہیچ خرچ نکرد یا برخے بصرف آورد و برخے باقی داشت طلاقہ شود و آں نیست مگر بہ ابقاواز زن نیاید مگر عدم انفاق پس ابقاء نبود مگر ہمیں عدم واگر فعلے بودے و زن خود دراں زر کارے نکردہ است تا آنکہ درکیس نہادن ہم بدست شوہر بود حنث نشدے ہمچناں اگر زید بدست عمرو چیزے ببیع فاسد فروخت قاضی مطلع شدہ برفروخت و گفت اگر امروز ایں بیع شمارا باقی مانم فکذا آفتاب فرورفت وقاضی حکم فسخ نہ کرد حانث شود پس ابقاء نبود مگر عدم فسخ واگر فعلے بودے قاضی خود متعلق آں بیع کارے نکردہ است حانث نبودے، پس ظاہر شد کہ ابقائے بشری جزترک ازالہ نیست اگر گوئی ابقاء بفعل ہم تواں شد مثلاً زید رابخانہ آورد وبزبخیر بست ایں بستن کہ فعل ست ابقاءشد۔
لہذا یہاں بڑی احتیا ط کی ضرورت ہے، بعض لوگ اس بے احتیاطی میں مبتلا ہیں والعیاذ باﷲ تعالٰی،خلاصہ یہ کہ، اﷲ تعالٰی کے باقی کرنے کا یہ حکم ہے، لیکن کسی انسان کا باقی رکھنا اور چھوڑنا، ازالہ کے ترک کا نام ہے، اس کے بغیر کچھ نہیں، اسی لئے اگر خاوند نے جیب یا تھیلی میں رقم رکھی ہو اور بیوی کو کہا''اگر تونے صبح تک اس میں سے کچھ باقی رکھا تو تجھے طلاق ہوگی'' اب اگر اس نے اس میں سے کچھ خرچ نہ کیا یا کچھ کیا اور کچھ نہ کیا تو اس باقی رکھنے پر طلاق ہوجائے گی، تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ بیوی کا رقم کو باقی رکھنا صرف اور صرف یہ ہے کہ اس نے رقم کو خرچ نہ کیا، تو معلوم ہوا کہ باقی رکھنا (خرچ نہ کرنا) عدم ہے، اگر ابقاء کوئی فعل ہوتا، اور بیوی نے اس رقم میں تصرف نہ کیا بلکہ صرف خاوندنے وہ رقم تھیلی میں رکھی ہو، تو پھر اس صورت میں قسم نہ ٹوٹتی۔ یوں ہی زید نے عمرو کے ہاتھ کوئی چیز فاسد بیع کے طور فروخت کی تو یہ معلوم ہونے پر قاضی کے غصہ آیا حکم جاری فرمایا کہ اگر آج تمہاری اس فاسد بیع کو باقی رکھوں تو یہ ہوگا، اب سورج غروب ہونے تک قاضی نے اس بیع کو فسخ نہ کیا تو حانث ہوجائے گا، تو یہاں بھی باقی رکھنا، صرف فسخ نہ کرنے کانام ہے، اگر ابقاء (باقی رکھنا) کوئی فعل ہوتا تو حانث نہ ہوتا کیونکہ قاضی نے اس بیع کے متعلق کوئی فعل اور عمل تو نہیں کیا، تو معلوم ہوا انسان کا باقی رکھنا صرف کسی ازالہ کو ترک کرنے کا نام ہے۔ اگر تیرا یہ اعتراض ہوکہ کبھی ابقاء (باقی رکھنا) فعل سے بھی حاصل ہوتا ہے، مثلاً زید کو گھر میں لاکر زنجیر سے باندھ دیا، تو یہ باندھنا، زید کو گھر میں باقی رکھنا ہے، جبکہ باندھنا فعل ہے۔(ت)
اقول این فعل خود ابقاء نیست بلکہ مستلزم اوست کہ منع زوال ترکِ ازالہ است مع شے زائد اگر گوئی در انتفائے ترک برمنع بالقول اکتفاء کردہ اند کما تقدم پس اگر زید را بست و بزبان میگوید بیروں شو باید کہ ترک متحقق نشود کہ نافیش موجود ست وابقا یقینا حاصل پس غیر ترک باشد۔
اقول(میں جواب میں کہتا ہوں کہ) باندھنے کا فعل خود بخود ابقاء نہیں بنتا بلکہ ابقاء کو مستلزم ہوتا ہے کیونکہ اس فعل سے ازالہ کا ترک منتفی ہوتا ہے تو باندھنے میں ترک ازالہ کے ساتھ ایک زائد چیز یعنی رکاوٹ، پائی گئی، جس میں ترکِ ازالہ پایا جاتا ہے۔ اگر یہ اعتراض ہوکہ، ترکِ ازالہ کا خاتمہ، قولاً منع کرنے سے کافی ہوسکتاہے، جیسا کہ پہلے گزرا ہے،تو اب زید کو گھر میں باندھ کر پھر اس کو کہا جائے تو گھر سے باہر ہوجا، تو چاہئے کہ اس صورت میں ازالہ کا ترک متحقق نہ ہو، کیونکہ زبانی ترک کے باوجود، باندھنا اس ترک کی نفی ہے تو یقینا ابقاء یعنی گھر میں باقی رکھنا، حاصل ہوگیا، تو یوں یہ ترک، عدم کی بجائے ایک فعل کے وجود سے حاصل ہوا، لہذا انسانی ابقاء، وجودی ہوگیا۔(ت)
اقول بالادانستی کہ اصل منع بقدر قدرت ست وبمجرد نہی ہنگام تعسرش بسندہ کنند پس آنکہ اخراج تو آنست وبربروں شو اکتفاکرد تارک باشد چہ جائے آنکہ ترک خروج بفعل کرد از و مجرد بروں شود کہ صراحۃً ہزل و استہزاء است بلکہ گوئیا لفظ بے معنی است چہ کار آید پس ابقاء بحصول ترک حاصل ست وبستن امر زائد۔
اقول (میں جواب میں کہتا ہوں) اوپر گزر چکا ہے، روکنا حسبِ قدرت مراد ہے، صرف قولاً اورزبانی روکنا وہاں مراد ہوتا ہے، جہاں عملاً روکنا ممکن نہ ہو، لیکن جب عملاً روکا جاسکتا ہو تووہاں محض زبانی روکنا اور یہ کہنا کہ باہر ہوجا، یہ روکنے کا ترک ہے اس پر مزید یہ کہ باندھنے کے فعل سے اس کو نکلنے سے روکنا اور پھر کہنا کہ باہر ہوجا، تو یہ صراحۃً مذاق ہے، بلکہ اس موقعہ پر یہ کہنا بے معنی اور بیکار ہے، لہذا اس صورت میں ابقاء(باقی رکھنا) ترک سے حاصل ہوا اور باندھنے کا فعل اس سے زائد چیز ہے ( توثابت ہوا کہ بشری ابقاء محض ترک کانام ہے کسی وجودی چیز کانام نہیں)۔(ت)