| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
شبہہ ثامنہ: ازیں ہم در گزشتیم آخر کم نہ ازاں کہ موافقہ و مخالفہ دونوع تخلیہ ست وارادہ یک نوع تخصیص عام ست کما حققہ فی الفتح ونیت تخصیص عام دیانۃً مقبول ست کما مر اٰنفا عن الھدایۃ گوقضاءً پذیر مباش وزن نیز برو اعتبار نتواں کرد لان المرأۃ کالقاضی کمافی التبیین والفتح والشامی پس اگر نیت ایں خصوص کردہ باشد باید کہ عنداﷲ حانث نشود در فتوٰی التفات بایں قید می بایست لان المفتی بالدیانۃ یفتی کما فی التنویر وغیرہ۔
آٹھواں شبہہ: یہ کہ تمام مذکورہ احتمالات کو نظر انداز کردیں تب بھی کم از کم یہ گنجائش ضرور ہے کہ خاوند کی قسم میں موافق اور مخالف لاتعلقی کی دوقسمیں ہیں اور دونوں میں سے ایک احتمال کا ارادہ کرنا بھی ایک قسم کی تخصیص ہے جس سے عام کو خاص کیا جاسکتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں اس کی تحقیق موجود ہے، اور عام میں تخصیص کی نیت کرنا دیانۃً مقبول ہے، جیسا کہ ابھی ہدایہ کے حوالہ سے گزراہے، اگرچہ یہ تخصیص کی نیت قضاءً قابلِ قبول نہیں اور بیوی بھی ایسے معاملات میں قاضی کا حکم رکھتی ہے اس لئے بیوی بھی اس کو معتبر قرار نہیں دے سکتی جیسا کہ تبیین، فتح اور شامی میں ہے، پس اگرخاوند نے اپنی قسم میں اس تخصیص کی نیت کرلی ہوتو عنداﷲ قسم نہ ٹوٹے گی، جبکہ فتوٰی دیتے وقت اس قید و تخصیص کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے، جیسا کہ تنویر وغیرہ میں ہے کہ مفتی کو چاہئے کہ وہ دیانت پر فتوٰی دے۔(ت)
اقول : خیرست دیانۃ نیزایں نیت کارندہد موافقہ و مخالفۃ دو نوع تخلیہ نیست بلکہ دو وصف است ونیت وصفی خاص غیر مذکور معتبر نشود چنانکہ نسبت مردے استادہ سوگند خورد کہ بایں مرد سخن نگویم و آزرد کند کہ باایں مرد استادہ ایں نیت لغو باشد اگر گوید باایں مرد استادہ سخن نزند و نیت تخصیص بوقت قیامش کند دیانۃً معتبر ست نہ قضاءً کہ وصف در حاضر لغوست وصفت قیام داعی ترک کلام نیست ہمچناں اگر سوگند خورد کہ زن نکند و مرادزن ہاشمیہ یا ترکیہ یا عربیہ یا نسب دار دیانۃً معتبر ست کہ ایں یک نوع زن ست واگر زن مکیہ یاہندیہ یاعربیہ بالمسکن نیت کرد معتبر نیست کہ ایں صفت زن ست وصفت بے ذکر بمسکن عام خیمہ آں ست
اقول (جواب میں کہتا ہوں کہ): کوئی بات نہیں، کیونکہ دیانۃً بھی یہ نیت کارآمدنہیں ہے، قسم میں موافق اور مخالف یہ دونوں لاتعلقی کی قسمیں نہیں ہیں بلکہ یہ لاتعلق کے دو وصف ہیں جبکہ دو وصفوں میں سے کسی غیر مذکور و صف کی نیت معتبر نہیں ہوتی جیسا کہ ایک شخص کھڑا ہواس کے متعلق کوئی دوسرا یہ قسم کھائے کہ میں اس شخص سے بات نہ کروں گا، اور اب بعد میں کھڑے ہونے کے وصف کی بابت قسم کو بتائے تو یہ نیت لغو بیکار ہوگی، ہاں اگر قسم کھڑے ہونے کا ذکر کرتا اور قسم اس نیت پر کھاتا تودیانۃً معتبر ہوسکتی تھی اگرچہ قضاءً یہ نیت معتبر نہیں ہے کیونکہ یہ قسم حاضر شخص کے متعلق ہے جبکہ حاضر میں وصف کا ذکر کار آمدنہیں اور پھر کھڑا ہونا ایساوصف بھی نہیں ہے جو قسم کا داعی بن سکے اور بات نہ کرنے کی وجہ بن سکے، یوں ہی اگر کوئی قسم کھائے کہ میں بیوی نہ بناؤں گا، تو اس سے اگر وہ ہاشمی یا ترکی یا عربی یا کوئی خاص نسب والی عورت مراد لے تو یہ نیت دیانۃً معتبر ہوگی کیونکہ یہ عورت کی اقسام میں سے ایک قسم کی تخصیص ہے، اور اگر رہائش کے لحاظ سے کسی عربی یا ہندی یا مکی عورت کے بارے میں یہ نیت کرے تو معتبر نہ ہوگی کیونکہ یہ ایک خاص جگہ والی عورت کے متعلق ہے جو اس کی صفت ہے اور کوئی صفت ذکر کئے بغیر معبتر نہیں ہوسکتی،چونکہ قسم صرف عورت کے ذکر پر مشتمل ہے اس میں مسکنت(رہائش) کاذکر نہیں ہے لہذا اس ذکر کے بغیر یہ قسم خیمہ والی عورت کو بھی عام ہے۔
در فتح القدیر فرمود
حلف لایسکن دارفلان وقال عنیت باجرلایصح حتی لوسکنھا بغیر اجر حنث بخلاف مالوحلف لایسکن دارا اشتراھا فلان وعنی اشتراھا لنفسہ فانہ یصدق لانہ احد نوعی الشراء لانہ متنوع الی ما یوجب الملک للمشتری وما یوجبہ لغیرہ فتصح نیۃ احد النوعین بخلاف السکنی لانھا لاتتنوع لانھا لیست الا الکینونۃ فی الدار علی وجہ القرار وانما تختلف بالصفۃ ولایصح تخصیص الصفۃ لانھا لم تذکر بخلاف الجنس، وکذا لو حلف لایتزوج امرأۃ و نوی کوفیۃ او بصریۃ لایصح لانہ تخصیص الصفۃ ولو نوی حبشیۃ او عربیۃ صحت فیما بینہ وبین اﷲ تعالٰی لانہ تخصیص فی الجنس کأن الاختلاف بالنسبۃ الی الاباء اختلاف بالجنس وبالنسبۃ الی البلاد اختلاف بالصفۃ اھ۱؎مختصرا۔
فتح القدیر میں ہے، قسم کھائی کہ فلاں کے گھر سکونت نہ کروں گا، اور کہا کہ میری مراد فلاں کے گھر کرایہ پر نہ رہوں گا، تو یہ نیت صحیح نہیں ہے حتی کہ اگر اس کے گھر میں کرایہ کے بغیر بھی رہائش پذیر ہوا تو قسم ٹوٹ جائے گی، اس کے برخلاف اگر یوں قسم کھائے کہ''میں فلاں کے اس گھر میں سکونت نہ کروں گا جو اس نے اپنی ذات کے لئے خریدا ہو، تو اس نیت کو مان لیا جائیگا کیونکہ خرید نے کی یہ ایک قسم ہے خریدنے کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو اپنے لئے خریدا اور ایک وہ جو اس نے کسی دوسرے کےلئے خریدا ہو، تو قسم میں ان دو قسموں میں سے ایک قسم کی نیت درست ہے اس کے برخلاف رہائش (سکنیٰ) کے اقسام نہیں ہیں، کیونکہ سکنٰی(رہائش) کا معنی یہ ہے کہ گھر میں بطور استقرار ہونا جبکہ اس رہائش کی صفات مختلف ہوسکتی ہیں اور صفات کی تخصیص صحیح نہیں ہے کیونکہ یہاں مذکور نہیں ہیں، بخلاف رہائش کے کہ اس کے تحت اقسام ہوتے ہیں(غرضیکہ اقسام کی تخصیص بغیر ذکر ہوسکتی ہے لیکن صفات کی تخصیص ذکر کے بغیر نہیں ہوسکتی) اسی لئے اگر کسی نے قسم کھائی کہ کسی عورت سے نکاح نہ کروں گا یعنی بیوی نہ بناؤں گا، تو اس قسم میں عورت کوفی یا بصرہ والی مراد لے تو صحیح نہ ہو گی کیونکہ یہ صفت کی تخصیص ہے اور اگر اس قسم میں عورت سے مراد حبشی یا عربی عورت مراد لے تو صحیح ہے اور عنداﷲ بھی یہ نیت صحیح ہوگی کیونکہ یہ جنس میں اقسام کی تخصیص ہے یہ اس لئے کہ جداعلی کے اختلاف کے لحاظ سے نیت کرنا جنس کا اختلاف ہے اور شہروں کے اختلاف کی نیت یہ صفات کا اختلاف ہے اھ مختصراً(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۰۹)