Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
150 - 175
رابعاً اگر ازیں تدقیق گزریم غایت آنکہ ہردو معنی متحمل باشد ودر تقیید بدلالت حال شک نیست اما آنجا کہ در تقیید بدلالت حال شک نیست امر محتمل صالح تقیید نتواں شد کہ اطلاق لفظ یقینی ست والیقین لایزول بالشک ولہذا اگر زن شوئے را گفت تو برمن زنے گرفتہ شوئے گفت ھرزن کہ مراہست مطلقہ است ایں زن نیز طلاق شود اگرچہ بظاہر مقصود مرد ارضائے ایں زن مے نماید کہ اگر زنے جز تو گرفتہ ام او را طلاق ست فامامتحمل کہ مقصود سزائے زن بود کہ چرا در حلال بر من خوردہ گرفتی ودلالت محتملہ بسندہ نیست آرے اگرنیت غیرش کردہ ست دیانۃً صحیح باشد در ہدایہ ارشاد می رود واذا قالت المرأۃ لزوجھا تزوجت علیّ فقال کل امرأۃ لی طالق ثلثا طلقت ھذہ التی حلفتہ فی القضاء ووجہ الظاھر عموم الکلام وقد یکون غرضہ ایحاشھا حین اعترضت علیہ فیما احلہ الشرع ومع الترددلایصلح مقیدا وان نوی غیرھا یصدق دیانۃ لاقضاء لانہ تخصیص العام۱؎اھ باختصار.
رابعاً اگر تدقیق مذکورہ سے قطع نظر بھی کرلیں تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں اطلاق اورتقیید دونوں کے احتمال ہیں اور دلالتِ حال سے مقید ہونے کے احتمال کی بناپر قسم دلالتِ حال سے مقید نہ ہوگی کیونکہ قسم کے الفاظ میں اطلاق اور عموم ہے جو کہ یقینی ہے تو یہ یقین محض احتمال اور شک سے ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شک یقین کو زائل نہیں کرسکتا، اسی لئے مثلاً اگر بیوی خاوند کو کہے کہ تو نے مجھ پرکوئی عورت دوسری بیوی بنارکھی ہے تو خاوند جواب میں یوں کہے کہ جو بھی عورت میری بیوی ہو اس کو طلاق ہے تو اس بیوی کو بھی طلاق ہوجائے گی۔ تو یہاں بظاہر خاوند کی قسم کا مقصد اپنی اس بیوی کو راضی کرنا ہے کہ تیرے علاوہ کوئی اور بیوی ہوتو اس کو طلاق ہے، لیکن الفاظ کے پیشِ نظر یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اس بیوی کو اعتراض کرنے پر سزادینا چاہتا ہوکہ اس نے میرے لئے حلال معاملہ میں کیوں مداخلت کی ہے تو ظاہر حال کی دلالت کا احتمال سند نہ بن سکے گا کیونکہ الفاظ میں عموم اور اطلاق ہے جو کہ یقینی ہے، ہاں اس احتمال کی بناء پر موجودہ بیوی کے علاوہ کسی دوسری بیوی کی نیت کا اظہار کرے تو دیانۃً اگرچہ معتبر ہوگی لیکن قضاءً معتبر نہ ہوگی، ہدایہ میں فرمایا ہے کہ جب بیوی خاوند کو کہے تو نے مجھ پر دوسری بیوی کررکھی ہے تو خاوند اس کو جواب میں یوں کہے کہ جو بھی میری بیوی ہے اس کو تین طلاقیں۔ تو اس قسم دلانے والی بیوی کو بھی طلاق ہوجائیگی، قضاءً یہی حکم ہوگا کیونکہ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ قسم کے الفاظ کا عموم ہے جبکہ ایسے موقعہ پر خاوند کی غرض بھی یہ ہوسکتی ہے کہ وہ بیوی کو اس کے اعتراض پر سزادینا چاہتا ہے  کہ اس نے شرعا حلال کام پر اعتراض کیوں کیا ہے تو کلام کے عموم اور سزادینے کی غرض کے احتمال کے باوجود کسی اور بیوی کی نیت کے احتمال کی وجہ سے یہ قسم دلالتِ حال سے مقید نہ بن سکے گی، ہاں اگر دوسری بیوی کی نیت کرے تو اگرچہ وہ دیانۃً معتبر قرار دی جائیگی لیکن قضاءً معتبر نہ ہوگی کیونکہ یہ عموم میں تخصیص ہے جبکہ دلالتِ حال تخصیص نہیں کرسکتی اھ اختصاراً۔
 (۱؎ الہدایہ  کتاب الایمان  باب الیمین فی البیع والشراء الخ  المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ /۴۸۱)
ایں قدر بسندہ بود فاما توضیح مرام وزیارت وافادت رامثالے چندازیں پہلو نیز بر خوانیم کہ دلالتِ حال بحال احتمال معتبر نہ داشتہ اند(۱) ہمیں مثال ہدایہ(۲)آنگہ گزشت کہ اگر برخروج زن یا بندہ مطلقاً شوگند خرد بے تقیید باذن متقید بزمان بقائے ملک نباشد،
اس مقصد کے لئے یہ مثال کافی ہے تاہم وضاحت اور فائدہ کو زائد بنانے کے لئے اس پر مزید چند مثالیں پیش کرتا ہوں کہ محض احتمال کی صورت میں دلالتِ حال معتبر نہیں ہوتا، ہدایہ کی مثال کے بعد دوسری مثال یہ ہے کہ، جو پہلے گزرا کہ بیوی یا غلام باہر جانے کو تیار ہو تو اس موقعہ پر بیوی کوطلاق یا غلام کوآزادی کی علی الاطلاق قسم کھانا جو اجازت سے مشروط نہ ہوتو یہ قسم عام اور مطلق ہوگی اور ملک یا نکاح کی موجودگی سے مشروط نہ ہوگی، کیونکہ یہاں پر اگرچہ دلالتِ حال کی وجہ سے اس قسم کے مقید ہونے کا احتمال ہے لیکن یہ احتمال معتبر نہ ہوگا کیونکہ الفاظ میں عموم ہے،
اقول زیرا کہ یمکن کہ نزد بندہ یا زن اورا رازے بودکہ بہ بروں شدن بروں افتد وحفاظی وکوچہ گردی زن اہل غیرت رابعد بینونت نیز موجب عار شود مرد ماں گویند ایں زن فلان ست اگرچہ اطلاق بلحاظ ماکان ست بلکہ نخواہد کہ ہمخوابہ خود بعد فراق نیز بکنار دیگرے رود پس از جدائی ہم اورا نگاہ دارند وتکفل نفقہ اش کنند باز تصدیق ایں معنی در حدیث یافتم عبدالرزاق در مصنفہ گوید
انبأنا معمرعن الزھری قال سأل رجل صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فقال الرجل یجد مع امرأتہ رجلا فیقتلہ فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الاتسمعون الٰی ما یقول سیدکم قالوا لاتلمہ یارسول اﷲ فانہ رجل غیور واﷲ ماتزوج امرأۃ قط الابکراولاطلق امرأۃ قط فاستطاع احد منا ان یتزوجھا فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یابی اﷲ الابالبینۃ ۱؂ اھ،
اقول اس کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ قسم کھانے والے کا مقصد ہمیشہ کےلئے بیوی یا غلام کو باہر جانے سے روکناہو، کیونکہ ان کے پاس اس کا ایک ایسا راز ہے جوان کے باہر جانے سے افشاء ہوجائے گا اورخفت اٹھانا پڑے گی یابیوی کو ہمیشہ کےلئے باہر نکلنے سے روکنا مقصود ہواگرچہ وہ نکاح سے باہر اور جدابھی ہوجائے کیونکہ غیرت مند لوگ اپنی مطلقہ کی عورت کی کوچہ گردی پر بھی غیرت  اور عار محسوس کرتے ہیں کہ لوگ کہیں گے کہ یہ فلاں کی بیوی ہے اگرچہ اس کی بیوی سابقہ زمانے کے لحاظ سے کہتے ہوں بلکہ غیرت منداپنی مباشرت شدہ عورت کو فراق اور طلاق کے بعد بھی دوسرے کی مباشرت میں دیکھنا پسند نہیں کرتے، اس لئے طلاق مغلظہ کے بعدبھی وہ اس کو اپنی نگرانی میں رکھتے ہوئے اس کے تمام اخراجات کی کفالت کرتے ہیں پھر اس مضمون کی تصدیق میں نے حدیث میں پائی ہے، مصنف عبدالرزاق میں فرماتے ہیں ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ہے انہوں نے فرمایاکہ ایک شخص نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال کیا اور عرض کی ایک شخص ایک بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو قتل کردے، تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا تم اپنے آقا کی بات کو نہیں سنتے کہ وہ کیافرمارہا ہے تو اس پر دیگر اصحاب نے عرض کی یارسول اﷲ (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) اس شخص کو ملامت نہ فرمائیں کیونکہ یہ غیور شخص ہے خدا کی قسم یہ صرف باکرہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس کی طلاق دی ہوئی عورت کو دوسرا کوئی بھی ہم میں سے نکاح نہیں کرسکتا۔ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی قتل کی اجازت نہیں دیتا ماسوائے(قاضی کے ہاں اس کے خلاف) گواہ پیش کرنے کے، اھ،
 (۱؎ مصنف عبدالرزاق     حدیث۱۷۹۱۷ حبیب الرحمٰن الاعظمی بیروت    ۹ /۴۳۴)
قلت والسائل ھو سیدنا سعد بن عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
ولہذا سہ طلاق دفعۃً کہ گناہ بود وبتفریق از مبغوض شرعی بے حاجت شرع اکثار بروتازیانہ تحلیل مقرر فرمودہ اند وبرمجرد نکاح کفایت نمودہ تاباہم شہد ہمد گر بچشند حکمتش ہمان ست کہ غیرت منداں از تثلیث طلاق باز مانند تابہ تیس مستعار طوق عار  نشود والعیاذ باﷲ تعالٰی بخلاف آنکہ بے اذن من

بیرون نرود کہ ولایت اذن  بانتہائے ملک منتہی شود (۳) آنکہ گزشت کہ بے اذن زن زنے نکنم مقید ببقائے زوجیت نباشد
قلت(میں کہتا ہوں) وہ سائل حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ تھے، اور اسی غیرت کی وجہ سے ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دینا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ شرعاً مبغوض چیز کو شرعی حاجت سے زائد استعمال کرنے پر حلالہ کی شرط کو سزا کے طور پر مقرر کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے حلالہ میں دوسرے شخص سے صر ف نکاح کو کافی نہ قرار دیا گیا بلکہ جب تک ایک دوسرے کے مزے کو نہ چکھ لیں حلالہ مکمل نہیں ہوسکتا، یہ اس لئے تاکہ غیرتمند لوگ تین طلاقیں دینے سے باز رہیں اور خواہ مخواہ دوسرے شخص کے مجامعت کو اپنے گلے میں نہ ڈالیں، والعیاذ باﷲ، اس کے برخلاف اگر قسم کواجازت سے مشروط کیا ہوتو پھر اجازت کی ولایت ختم ہوجانے یعنی نکاح ختم ہوجانے پر قسم ساقط ہوجائیگی (۳) وہ جو گزراکہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تیری اجازت کے بغیر دوسری عورت کو بیوی نہ بناؤں گا، تو یہ قسم موجودہ بیوی سے نکاح کی حالت سے مختص نہ ہوگی (بلکہ اس بیوی سے نکاح ختم ہونے کے بعد بھی اس کی اجازت ضروری ہوگی)
اقول ازاں رو کہ مقصود غم نرسانیدن ست بزن وبارہا باشد کہ بعد فراق نیز زناں بتزوج شوہر بزنے دیگر غمگین شوند ایام خود یادمے آید وبجائے خود نشستن دیگرے رنج می رساند بخلاف آنکہ بے اذن زن بیروں نرود ایں متقید شود چنانکہ وجہش بالا بنشتیم (۴) زن را بامردے بیگانہ چانہ زن دید سوگند خورد کہ اگر باز مردِ بیگانہ چانہ زنی رسن زنی از گلوفگنی وبخانہ نوچہ نوکر ست کہ باذن مردآمد رفت دارد وزن اورا کارہائے خانگی می فرماید نیز پسر آں عم و عمہ وخالہ زن یا برادر ان مرد برضائے مرد مے آیند یا خود در ہمیں خانہ مے مانند و بازن ہمسخن می شوند مرد بایں ہمہ راضی ست باایں ھمہ اینہا بدلالت حال مستثنیٰ نشوند و زن بعد سوگند اگر بآں نوکر یا ایں قریباں سخن گوید طلاقہ شود
اقول(میں کہتا ہوں) اس قسم کا مقصد بیوی کو پریشانی سے بچانا ہے ___کیونکہ بیوی کی پریشانی صرف نکاح کی حالت سے مختص نہیں کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ فرقت کے وقت بھی عورتیں سابقہ خاوند کی دوسری شادی سے غمگین ہوتی ہیں، اپنا وقت یاد کرکے اپنے بجائے دوسری کو رہتی دیکھ کر رنج پاتی ہیں،____(غرضیکہ چونکہ بیوی کی پریشانی دوسری عورت کی وجہ سے صرف حالتِ نکاح سے مختص نہیں بلکہ جدائی کے بعد بھی اس چیز پر وہ پریشان ہوتی ہے لہذا اس پریشانی سے بچانا حالتِ نکاح کے بعد بھی ہوسکتا ہے لہذا یہ قسم بیوی سے فراق کے بعد قائم رہے گی) اس کے برخلاف اگر خاوند قسم کھائے کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گی تو یہ قسم حالتِ نکاح سے مقید ہوگی جیسا کہ اس کی وجہ پہلے ہم بیان کرچکے ہیں۔(۴) بیوی کوغیر شخص سے بے تکلف باتیں کرتے ہوئے پائے تو اس وقت قسم کھائے کہ اس کے بعد اگر تونے بیگانے مرد سے بات کی نکاح کی رسی تیرے گلے سے نکل جائے گی یعنی تجھے طلاق ہوگی، جبکہ گھر میں نوکر چاکر ہیں جو خاوند کی اجازت سے گھر میں آتے جاتے ہیں جن کو بیوی گھر کے کاموں کے متعلق ہدایات دیتی ہے یوں ہی بیوی کے چچا یا پھوپھی زاد یا خالہ زاد یا خاوند کے بھائی خاوند کی اجازت سے گھر آتے ہیں یا اسی گھر میں رہتے ہیں اور بیوی اپنے خاوند کی رضامندی  سے ان تمام حضرات سے بات کرتی رہتی ہے، اس دلالتِ حال کے باوجود یہ لوگ اس قسم سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے بلکہ بیوی قسم کے بعد گھر کے نوکر یا ان مذکورہ قریبیوں سے بات کرے گی تو اس کو طلاق ہوجائے گی۔
در جواہر الفتاوٰی باب چہارم فتاوٰی امام مفتی الجن والانس نجم الدین عمر نسفی قدس سرہ الصفی ست رجل رأی امرأتہ تتکلم اجنبیا فقالاگر پیش تو بامرد بیگانہ سخن گوئی فانت طالق فکلمت تلمیذ زوجھا لیس من محارمھا اوکلمت رجلا فی ھذہ الدار بینھما معرفۃ ولکن لامحرمیۃ بینھما او کلمھا عہ رجل من ذوی الارحام و لیس من محارمھا فانہ یقع الطلاق۱؎
جواہر الفتاوٰی کے باب چہارم میں امام مفتی جن وانس نجم الدین عمر نسفی قدس سرہ کے فتوے ذکر کئے گئے ہیں، جن میں یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کسی اجنبی کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی پالیا تو اس نے قسم کھائی کہ اگر اس کے بعد تونے بیگانے شخص سے بات کی تو تجھے طلاق، تو اس کے بعد بیوی نے خاوند کے غیر محرم شاگرد سے بات کی یا اس گھر میں آنے جانے والے واقف کار غیر محرم سے بات کی یا بیوی کے غیر محرم رشتہ دار شخص نے بیوی سے بات کرلی تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
(عہ: اقول والاولی کلمت رجلالان الحنث بکلامھما لابکلام غیرھا اذالم تجب ۱۲منہ۔
اقول (میں کہتا ہوں) یہاں بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے،عورت نے اس مرد سے بات کی۔ کیونکہ عورت کے بات کرنے سے قسم ٹوٹے گی کسی دوسرے کے کلام کرنے سے نہ ٹوٹے گی، بشرطیکہ عورت غیر کو جواب نہ دے۱۲منہ(ت)
 (۱؎ جواہر الفتاوٰی     کتاب الایمان)
اقول زیرا کہ محتمل ست کہ مرد باعتماد زن پیش ازیں روادار اینہا بود چوں دید کہ بااجنبی محض ہم سخن می شود در سنش تنگ تر کشید وبانام محرم سخن گفتن مطلقا منع کردپس اطلاق لفظ راتقییدے متقین متعین نشد، وباﷲالتوفیق۔
اقول (میں کہتا ہوں) یہ اس لئے کہ قبل ازیں خاوند، بیوی پر اعتماد کرتے ہوئے ان مذکور لوگوں کے بارے میں رواداری سے کام لیتا رہا، تو جب اس نے بیوی کو خالص اجنبی شخص سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے بیوی کی رسی کو تنگ کرتے ہوئے مطلقاً ہر غیرمحرم سے بات کرنا ممنوع قرار دیا تو اس احتمال کے ہوتے ہوئے یہ قسم دلالتِ حال کی وجہ سے مقید نہ ہوگی بلکہ یہ قسم اپنے الفاظ کے عموم پر باقی رہے گی اور ہر غیر محرم کو شامل ہوگی، اور توفیق صرف اﷲ تعالٰی سے حاصل ہے۔(ت)
Flag Counter