Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
15 - 175
الجواب

اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب رب انّی اعوذبک من ھمزات  الشیطٰن واعوذبک رب ان یحضرون درصورت مستفسرہ زن احمد علی از حبالہ نکاحش بدررفت ،ونہ آنچناں کہ بمجرد تجدید نکاح باز زن اوتواں شد بلکہ تحلیل لازم ست وبے توسط شوہر دیگر حرمت جازم قال اﷲ تعالٰی فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۳؎
اے اﷲ! حق اور درستگی کی رہنمائی فرما، اے رب! میں شیطان کے غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور اے رب! شیطانوں کی موجودگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، مسئولہ صورت میں احمد علی کی بیوی اس کے نکاح سے خارج ہوگئی اور اب تجدید نکاح سے بھی حلال نہ ہوگی بلکہ حلالہ ضروری ہے اور دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر قطعی حرام رہے گی، اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے: اگر تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد بیوی حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ دوسرے شخص سےنکاح نہ کرے،
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۰)
حالانکہ احمد علی بتعلیم کسے ادعائے ارادہ عموم میکند یعنی آنکہ اگر تو درہمہ عمر خودت ہیچگاہ پیراموں نماز نکردی ودر مدت حیات یک نماز ہم ادا نہ کنی برتو دو طلاق باشد حیلہ ایست کاسدہ وبہانہ ایست بس فاسدہ کہ غیر طفلاں بخبر ہیچ عاقلے بجوئے نخرومقصود وعظ زجرآں می شد کہ پابند نماز شود ہمیں معنی در مستفاہم عرف کہ مبنائے ایمان ست مفہوم شود نہ آنکہ در مدت العمر یک سجدہ پسند ست اگر ترابینم کہ مردے واز دنیا رخت بردی ہیچ گاہ یک سجدہ الہ نکردی آنگاہ بدم واپسیں کہ خود از نکاح من بیروں مے روی برتو دو طلاق باشد ایں معنی کہ اضحوکہ بیش نیست زنہار نہ مراد قائلاں مے باشد ونہ مفہوم اہل عرف وزبان ،

اب احمد علی نے کسی کے سکھانے پر جو حیلہ گھڑا اور کہا کہ عموم کا ارادہ کیا ہے یعنی تمام عمر کبھی کہیں کوئی نماز بیوی نہ پڑھے اور تمام عمر ایک نماز بھی نہ پڑھے تو تجھے دو طلاقیں، یہ حیلہ جھوٹ اور خالص فاسد بہا نہ ہے جس کو بیخبر بچوں کے علاوہ کوئی عقلمند تسلیم نہیں کرے گا، جبکہ مقصد یہ ہے کہ بیوی کو نماز کا پابند بنانے کےلئے نصیحت اور ڈانٹ کے طور پر بات کی گئی ہے لوگوں کے عرف میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ بیوی کو نماز کا پابند بنانے کے لئے کوئی نماز ترک کرنے پر اس کو دو طلاقیں ہوں گی، نہ یہ کہ تیرا ایک سجدہ ہی پسند ہے اور جب تو مرنے لگی اور دنیا سے رخصت ہوتی دیکھوں کہ تونے کوئی ایک سجدہ نہ کیا اور دنیاسے واپس جاتے ہوئے جبکہ از خود نکاح ختم ہورہا ہو تو تجھے دو طلاقیں ہوں گی، یہ معنی تو مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں اور نہ ہی ایسی بات کرنے والوں کا ہرگزیہ مقصود ہوتا ہے اور نہ ہی اہلِ زبان اور اہلِ عرف یہ معنٰی سمجھتے ہیں۔
وخود احمد علی صباح آں شب بکار روائی عملی خود مرا خودش کہ آشکارا بود آشکارا تر نمود کہ چوں زن نماز عشاء نگزارد بامداد آں رجعت نمود اگر قصدآں بودے کہ حالا بآموز گاری دستاں سازاں دامے نماید طلاق بر کہ بود ورجعت از چہ فرمودازیں ہمہ واضحات گزشتن وگزاشتن وبہر تحلیل فرج حرام نظر بر فریب وحیلہ گماشتن کار مسلمانی نیست وہم ازینجا حیلہ قصد وعدہ از ہم پاشد بل ہر حیلہ کہ فسو نسازے حالاتراشد عمل بامدادی احمد علی ہمہ را جان خراشد وقولہ ایں بیچارہ بے علم چہ داند فقیر سخن ازاں در رد معلم اومی راند وہمچناں ابطال طلاق بہ رجعت کہ ایں کلمہ ملعونہ از زبانش ہماں بتعلیم ضلال بر آمد ولاحول ولاقوۃ الّا باﷲ العلی العظیم حکم مسئلہ در فتوائے جلیلہ سابقہ ہر چہ تمامتر روشن شدہ است اینجاتسکیناً للھو اجس وتو ھبنا للوساوس والدسائس حرفے چند نافع و سود مند در رد فتوائے دیوبند بر نگاریم وامیدِ توفیق از حضرت عزت عزوعلا داریم،

 احمد علی نے رات کی کارروائی جو کہ پہلے واضح تھی اس کو صبح مزید واضح کرتے ہوئے بیوی کے عشاء کی نماز رات کو نہ پڑھنے پر دو رجعی طلاقوں کے بعد صبح اس نے رجوع کیا، اگر اس کا مقصد وہی تھا جو حیلہ سازوں نے اس کو سکھایا تو عشاء کی نماز نہ پڑھنے سے طلاق نہ ہوئی تو رجوع کیسا اور کس سے رجوع کیا، اس تمام واضح چیز کو نظر انداز کرنا اور فریب اور غلط حیلہ سے حرام شرمگاہ کو حلال کرنا مسلمانوں کا کام نہیں ہے، نیز یہاں یہ حیلہ کرنا کہ احمد علی نے وعدہ طلاق کا قصد کیا ہے، خود بخود ختم ہوگیا بلکہ وہ تمام حیلے جو کار سازوں نے اسے سکھائے ہیں ان سب کو خود احمد علی نے صبح رجوع کی کارروائی سے باطل قرار دیا اور اس مجیب بیچارے بے علم کو کیا معلوم ہے، یہ فقیر اس کے استاذ کے رد میں بیان کرتا ہے اور یونہی استاذ کے سکھائے ہوئے اس کلام میں کہ رجوع کرنے سے پہلی طلاقیں باطل ہوگئی ہیں جو کسی گمراہ کے بہکانے پر اس کی زبان نے استعمال کی ہیں کا رد کیا جائے گا۔ ان گمراہ کلمات پر ''لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم'' ہی پڑھی جاسکتی ہے،مسئولہ صورت کا جواب مذکور کلمات سے مکمل ہوگیا ہے تاہم شکوک کو ختم کرنے اور وسوسوں کو مٹانے کیلئے دیوبندی کے فتوٰی کے رد میں کچھ کلام کی جائے تو مفیداور سود مند ہوگی جس کے لئے میں اﷲ تعالٰی سے توفیق کا خواستگار ہوں ۔
ایں طرفہ فتوی جامع الخطا والطغوی کہ اثر دیو بند یش از ہر سطر اش ہویدا وجان وجہاں  دیوبند یاں برحرف حرفش شیدا بملاحظہ آمد، نوبادہ دیوبندیاں در تحلیل حرام خدا بہ تسویل نفس پر دغا، چہ ستم اعجوبہا بکاربرد کہ کہن مشقاں دیوبندرا نیز رونق بازار برد تفصیلی مفضی تطویل، لہذا بر ماقل وکفی تعویل وحاشا روئے سخن برہمچوناشنا سانِ فن بلکہ مقصود نصح عوام مومناں ست، تا مباداباغوائے کسے حرام خدارا حلال پندارد، وکلمات خطا وضلال حتی کہ تکذیب صریح کلام ذی الجلال را سہل انگارند والعیاذ باﷲ العزیز الرحیم، ولاحول ولاقوۃالّا باﷲ العلی العظیم

 یہ ردی فتوٰی جو گمراہی ا ور غلطیوں کا مجموعہ ہے اس کی ہرسطر سے دیوبند یت اور جہالت نمایاں ہورہی ہے اور اس کے ہر حرف سے دیوبندیوں کا سرمایہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، دیوبندیوں کا یہ نیا تماشہ جو اﷲ کی حرام کردہ کو حلال بنانے کےلئے من گھڑت فریب سے پر ہے۔ ان عجوبوں پر ظلم یہ کہ دیوبند کی کہنہ مشق شخصیات بھی بازار کی رونق ثابت ہوئے ضرورت  سے زائد بات موجب تطویل ہوگی لہذا ہم پر قلیل اور کافی کو پیش کرنا مناسب ہے ان جیسے ناسمجھ لوگوں سے ہرگز روئے سخن نہیں ہے بلکہ اہل ایمان کو نصیحت مقصود ہے تاکہ کہیں کسی کے بہکانے پر اﷲ تعالٰی کے حرام کردہ کو حلال نہ سمجھ لیں، اور غلط وگمراہی کی باتیں حتی کہ  اﷲ تعالی کے صریح کلام کی تکذیب ہیں پر سہل انگاری سے کام نہ لیں العیاذ باﷲ العزیز الرحیم، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
عزیزان ہلہ ہشیار دمے شتاب زدگی نباید شہسوار خامہ برق بار را بچالش آمدن دہید بحولہ تعالٰی حالاخالی شود وبیان بہ عیاں رسد کہ بیچارہ ازاثر دیوبندی چسپاں تکذیب نص قطعی قرآن وخرق اجماع ائمہ مومناں علیہم الرضوان نمود، وبطمع آنکہ مگر فرجے حرام را برائے دیگرے حلال نماید حیا در ملابرروئے خودش کشود وقد صدق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیما یرویہ عنہ ابوھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عند البیھقی فی شعب الایمان من اسوء الناس منزلۃ من اذھب اٰخرتہ بدنیا غیرہ۱؎۔ والعیاذ باﷲ رب العٰلمین ہماچیدہ چیدہ در تنبیہات عدیدہ مفیدہ بر چند خطایائے ایں فتوی نوچاویدہ آگاہی دہیم، تا عاقلاں پے برند وغافلاں خبر دار شوند وخاطیاں اگر توفیق یا بندد گررہ ہمچناں کور کورانہ نروند وباﷲ التوفیق ووصول التحقیق۔

 عزیزان نہایت ہوشیار بے صبری نہیں چاہئے، تیز رفتار شہسوار قلم کو حرکت میں آنے دو اﷲ تعالٰی کے فضل سے میدان صاف اور بیان واضح ہوجائے گا کہ اس مجیب بیچارے نے دیوبندی اثر کی بنا پر قرآن پاک کی نص قطعی کی تکذیب اور مومنوں کے ائمہ کرام رضوان اﷲ علیہم کے اجماع کی خلاف ورزی کس طرح کی ہے اور وہ بھی حرام شرمگاہ کو غیر کے لئے حلال کرنے کے لالچ میں جرأت کرکے شرمساری اپنے ذمے لے لی ہے۔ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا سچا ارشاد روایت فرمایا جس کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے کہ لوگوں میں سب سے بڑابدبخت وہ شخص ہے جو غیر کی دنیا کے لئے اپنی آخرت خراب کرے والعیاذ باﷲ رب العٰلمین، اب ہم چند تنبیہات مفیدہ، اس عجیب فتوٰی کی چند غلطیوں پر آگاہی کے لئے ذکر کریں گے تاکہ بے پر عاقل اور غافل لوگ خبردار ہوجائیں اورخطاکار اگر توفیق پائیں تو دوسروں کے نہ راستے کو نہ اپنائیں،توفیق اور حق تک رسائی اﷲ تعالی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔(ت)
(۱؎ شعب الایمان باب فی اخلاص العمل ﷲ وترک الرباء حدیث ۲۹۳۸ دارالکتب العلمیہ بیروت     ۵ /۳۵۸)
اول: آنکہ خرق طلاق را تبدیل صورت سوال رفو خواست سوال کہ ایں جا آمدہ بود لفظش آں بود کہ ''ایک شخص نے اپنی بی بی کو بعد نماز مغرب کے کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہے''۔ وتعلیم سوال دیوبندی آنچناں ساخت کہ باعتدال طبع واستقلال مزاج بطریق زجر وتنبیہ گفت کہ نماز بخواں اگر نماز نخوانی ترا دو طلاق بجائے تو دو طلاقہ، ترا دو طلاق نمود تا بزعم باطل خودش اورا از تعلیق برآوردہ وعدہ طلاق نماید وبد نداں طمع گرہ از کار احمد علی کشاید وپیداست کہ تبدیل صورت بعد اطلاع بر حکم شرعی نمی باشد مگر از راہ مکروخدع باز سائل ماکہ دوبارہ ایں سوال فرستاد نقاب ازروئے دستاں ایں ہوا پر ستاں کشادہ کہ لفظ خاص احمد علی بزبان بنگالہ''دیلام''کہ صراحۃً بمعنی دادم ست نوشت وبساط اختراع وعد یکسر در نوشت۔

اول: یہ کہ، طلاق کے نشان کو سوال کی صورت میں تبدیلی کرکے، مٹانا چاہا، یہاں جو سوال آیا اسکے الفاظ یہ ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو نمازِ مغرب کے بعد کہا''اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہے'' اور دیوبندی کی تعلیم سے سوال یوں بنادیا:ایک شخص نے اعتدال طبع اور مستقل مزاجی سے زجر اور تنبیہ کے طور بیوی کو کہا کہ تو نماز پڑھ،اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق، یوں اس نے ''تو دو طلاق'' کی بجائے''تجھے دو طلاق'' بنادیا، تاکہ اپنے باطل زعم میں وہ تعلیق طلاق سے نکال کر وعدہ طلاق بناسکے اور لالچ کے دانتوں سے احمد علی کی کارروائی کی گرہ کو کھولے، اور واضح بات ہے کسی شرعی حکم کے معلوم ہونے پر سوال کی صورت کو تبدیل کرنا صرف مکروفریب ہی کہلا سکتا ہے پھر جس نے ہمارے پاس دوبارہ یہ سوال بھیجا ہے اس نے ان نفسانی خواہشات پرستوں کی داستان سے پردہ ہٹادیا ہے کہ احمد علی نے جو لفط خاص اس موقعہ پر بنگالی زبان میں استعمال کیا ہے وہ ''دیلام'' ہے جو کہ صراحۃً ''میں نے دی'' کے معنی میں ہونا لکھا ہے اور وعدہ کی اختراعی صورت بالکل ختم کردی۔(ت)
دوم: فرقے کہ در تو طلاق وترا طالق از پیش خویش بر آو رد محض ایجاد بندہ است بیچارہ در انشائے تعلیق وتعلیق انشا فرق نمی داند مقصود ومفاہم عرف اول ست نہ ثانی، ومعنی استقبال خود لازم ہر جز است چنانکہ در قولش اگر چناں کنی تو طلاق معنی آنست کہ مطلقہ شوی ہم بایں انشانہ بانشائے جدید، کہ آں وقت وعدہ ابدایش میدہد، ہمچناں در قولش اگر نچناں کنی ترا طلاق معنی ہمان ست کہ تراطلاق شود بہمیں انشاء نہ بانشائے موعود ،وطلاق آنچناں کہ صدوراً وصف مردست کہ از وبمصدر مبنی للفاعل اے مطلقیت بالکسر تعبیر کند ہمچناں وقوعاً صفت زن کہ از وبمصدر مبنی للمفعول اعنی مطلقیت بالفتح نشان دہد پس مقدر خواہد شد بود نہ کہ خواہم داداگر مجرد ملاحظہ آنکہ ایں صفت زن بے فعل شوے صورت نہ بندد مشعر فعل جدید موعود ومفید معنی وعدہ شود پس ایں خود در قول او،اگر چناں شود تو طلاق نیز نقد وقت ست زیراکہ از طلاق بمعنی رفع کہ فعل زوج ست اور ا نیز ناگزیر ست بلکہ ہیچ لفظے ازیں معنی بے نیاز نبود پس اگر ایں ملاحظہ بموجب معنی وعدہ شدے ہمانا ہیچ تعلیق صورت نہ بستے مثلاً در تو طلاق نیز تواں گفت کہ معنی آنست کہ تو مطلقہ خواہی شد ومطلقہ نیست مگر آنکہ بروئے ایقاع طلاق نمودہ شود  پس معنی آں شد کہ برتو ایقاع طلاق کردہ خواہد شد وپیدااست کہ ایں وعدہ طلاق نیست بالجملہ ایں وسوسہ وتفرقہ جہالتے بیش نیست۔

دوم: ''تو طلاق، اور تجھے طلاق'' کا فرق خود اپنی طرف سے من گھڑت بنایا، اس بیچارے کو تعلیق کی انشاء اور انشاء کی تعلیق کا فرق معلوم نہ ہوسکا، جبکہ عرف میں پہلا یعنی تعلیق کی انشاء مقصود ومتعارف ہے نہ کہ دوسرا، اور پھر ہر جزء کو استقبال خود لازم ہے مثلاً یہ کہنا کہ ''تو اگر یوں کرے تو طلاق ہے'' اس کا معنی یہ ہے کہ ''تو مطلقہ ہوجائے گی'' اور انشاء بھی یہی ہوگا نہ کہ کوئی بعد میں جدید انشاء ہوگا، اور طلاق صادر ہونے کے اعتبار میں خاوند کی صفت ہوتی ہے جس کو طلاق دینے والا، سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور یونہی وہ وقوع کے اعتبار سے بیوی کی صفت ہوتی ہے جس کو مطلقہ سے تعبیر کرتے ہیں(یعنی خاوند کے لئے طلاق مصدر مبنی للفاعل اور بیوی کےلئے وہی طلاق مصدر مبنی للمفعول بن جاتا ہے) تو یہاں''ہوجائے گی'' کی تقدیر بنے گی نہ کہ''میں دوں گا'' کی تقدیر بنے گی۔ اوراگرصرف یہ لحاظ ہو کہ یہ بیوی کی صفت خاوند کے فعل کے بغیر بن گئی تو بات نہ بنے گی اور اس سے خاوند کے جدید آئندہ فعل اور طلاق کا وعدہ نہ بن سکے گا، پس خاوند کا یہ کہنا کہ''اگر یہ ہوجائے تو طلاق'' بھی بروقت انشاء ہے کیونکہ طلاق جس کا معنی ہٹانا اور کھولنا  ہے بھی خاوند کے فعل کا نام ہے جو کہ ضروری ہے، بلکہ کوئی لفظِ طلاق بھی خاوند کے فعل سے بے نیاز نہیں ہوسکتا، پس اگر اس لحاظ سے اس کو وعدہ والامعنی قرار دیا جائے تو پھر تعلیق کےلئے کوئی صورت نہیں بن سکے گی مثلاً کوئی یوں کہے ''تو طلاق ہے'' تو وہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے تو مطلقہ ہوسکے گی اور ابھی مطلقہ نہ ہوئی۔ اور جس عورت کوکئی طلاق دے تو معنی یہ ہوجائے گا کہ طلاق دوں گا حالانکہ وہ طلاق واقع کررہا ہے اور طلاق کا وعدہ نہیں کررہا، غرضیکہ یہ فرق کا وسوسہ جہالت ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
سوم: جناب مجتہد العصر باجتہاد خودش ایں فرق بدیع ابداع نمود و ندید یا دیداز چشم حق پوشید کہ در کتب مذہب تصریحا جا بجا لفط ''تراطلاق'' تعلیق قراردادہ اند نہ وعدہ ، در فتاوٰی خلاصہ و فتاوٰی عالمگیریہ فرمود اگر مرانخواہی تراطلاق فقالت می خواہم
لاتطلق ھذا تعلیق بالارادۃ وانھا امر باطن لایوقف علیہ فیتعلق بالاختیار ۱؎
سوم: یہ عجیب فرق کرنے پر مجتہد العصر نے یہ بھی نہ دیکھا یا دیکھا اور حق نظر نہ آیا کہ مذہب کی تمام کتب میں جابجا صراحۃً''تجھے طلاق ہے'' کو تعلیق قرار دیا گیا ہے نہ کہ وعدہ طلاق قرار دیا گیا۔ فتاوٰی خلاصہ اور فتاوی عالمگیریہ میں ہے اگر خاوند نے بیوی کو کہا کہ''اگر تو  مجھے نہیں چاہتی تو تجھے طلاق ہے'' بیوی نے جواب میں کہا''میں چاہتی ہوں'' تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ بیوی کے ارادہ سے معلق ہے اور ارادہ باطنی چیز ہے اس پر واقفیت نہیں ہوسکتی لہذا بیوی کے اختیار پر فیصلہ ہوگا،
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ  الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ  نورانی کتب خانہ پشاور  ۱ /۳۸۷)
درفتاوٰی قاضی خاں و خزانۃ المفتین و غیرہما فرمودند اگر سہ ماہ رانیایم ودہ دینار نیارم تراطلاق فجاء ولم یات بالدنانیر تطلق۲؎     اور فتاوٰی قاضی خان اور خزانۃ المفتین وغیرہما میں فرمایا ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا''اگر میں تین ماہ کو نہ آؤں اور دس دینار نہ لاؤں تو تجھے طلاق''۔ تو تین ماہ کے بعد آیا اور دس دینار نہ لایا تو طلاق ہوجائے گی۔
 (۲؎ خزانۃ المفتین     فصل فی التعلیق            قلمی نسخہ             ۱ /۱۱۳)
درفتاوٰی ظہیریہ وخزانہ امام سمعانی فرمودہ قال لھااگرتو حرام کنی تراسہ طلاق
فابا نھا ثم جامعھا فی العدۃ یحنث وتطلق ثلثا۳؎
حالانکہ مجتہد دیوبند از چشم کشادہ نظر فرماید کہ آں بالاخواینہائے وعدو تقدیرخواہم داد کجا شد۔
فتاوٰی ظہیریہ اور خزانہ امام سمعانی میں فرمایا اگر بیوی کو کہا اگر تو حرام کرے تو تجھے تین طلاق۔ اس کے بعد اس نے بیوی کو طلاق بائنہ دے کر اس سے عدت میں جماع کیا تو قسم ٹوٹ جائے گی اور تین طلاقیں ہوجائیں گی دیوبندی مجتہد آنکھ کھول کر دیکھے کہ مذکورہ بالاعبارات میں وعدہ اور ''طلاق دوں گا'' کہاں ہے۔
 (۳؎ خزانۃ المفتین     فصل فی التعلیق            قلمی نسخہ    ۱ /۱۱۲)
Flag Counter