Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
149 - 175
ثانیاً : علماء مسئلہ شکایت رایک جزئیہ نوشتہ اندزن را گفت اگر ہربدی و شناعت کہ در دنیا است از تو پیش برادرت نگویم بر تو طلاق اینجا تصریح فرمودہ اند کہ تا انواع بدی ہائے کہ درکمینگاں ودزداں و مکّاراں وخونریزاں می باشد از زن ببرادرش نگوید از سوگند برنیاید او اقل انہا سہ نوع بدی ست وہر گز نگفتند کہ چوں قصد انتقام یا استحقاق آوردہ و باہم آشتی کنند یمین منتہی شود باآنکہ تصریح نمودہ اند کہ بابرار ایں سوگند بزہ کارشودوازیں گناہ توبہ را فرمود اند کہ بعد شکایت بہ برادر گوید ایں ہمہ ازجہت سوگند پیش میگفتم ورنہ زن ازینہا مبراست اگرپیش از شکایت اورا خبر دہد کہ حفظ سوگند را چیز ہائے بے اصل بتوخواہم گفت سودند ہد کہ بعد ازیں سخن بربدی کہ گوید بہ بدی نسبت کردہ زن نبود،
ثانیاً کہتا ہوں کہ علماءِ کرام نے شکایت کے متعلق ایک مسئلہ ذکر فرمایا کہ،ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا''اگر دنیا کی ہربدی کو تیری طرف منسوب کرکے تیرے بھائی سے شکایت نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے'' یہاں علماء نے یہ تصریح کی ہے کہ اس قسم کے بعد خاوند کمینے لوگوں، چوروں، مکاروں اور خونریزی کرنے والوں میں پائی جانے والی بدیوں کوبیوی سے منسوب کرکے اس کے بھائی سے جب تک شکایت نہ کرے وہ قسم سے بری نہ ہوگا اور کم از کم ان بدیوں میں سے تین ضروری ہوں گی، یہاں علماءِ کرام  نے یہ ہرگز نہیں فرمایا کہ خاوند اپنی بیوی سے انتقام کا قصد کئے ہوئے تھا یا وہ بیوی کو انتقام کا مستحق قرار دئے ہوئے تھا تو اب اگر آپس میں صلح کرلیں تو قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ قصد انتقام یا استحقاق انتقام ختم ہوگیا ہے، بلکہ انہوں نے اس شکایت کو گناہ قرار دینے کے باوجود فرمایا کہ وہ اپنی قسم کو پورا کرنے کیلئے یہ گناہ کرے اور پھر شکایت کے بعد اس گناہ سے توبہ کرلے، اور بھائی سے شکایت کرنے کے بعد اس کو کہہ دے کہ میں نے یہ باتیں قسم کو پورا کرنے کے لئے کی ہیں ورنہ بیوی ان بدیوں سے بری ہے، اور شکایت کرنے سے قبل بھائی کو یہ عذر نہ بتائے، اگر اس نے شکایت سے قبل بھائی کو اطلاع دے دی کہ میں قسم کو پورا کرنے کے لئے تجھ سے بیوی کے متعلق بے اصل باتیں کروں گا، تو قسم سے بری نہ ہوگا، کیونکہ شکایت سے قبل یہ بات بتادینے میں بیوی سے متعلق بدی کی شکایت نہ رہے گی،
درخانیہ و خلاصہ و بزازیہ وغیرہاست
رجل قال لامرأتہ ان لم اقل عنک مع اخیک بکل قبیح فی الدنیا فانت طالق، قالواان قال مع اخیھا عنھا بما ھومن اخلاق اللئام واللصوص والخادعین والقاتلین یصیر بارافی یمینہ ویاثم بذٰلک ویمینہ ھذہ تقع علی الکثیر من ذٰلک واقلہ ثلثۃ انواع من القبح      ،
وقال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالٰی ینبغی للحالف ان یقول عند الاخ بعد ماقال من القبائح انما قلت ذٰلک لاجل الیمین وھی برئیۃ عن ذٰلک فیکون ھذاالکلام توبۃ منہ عماقال فیھا ویکون بارا۱؎،
خانیہ، خلاصہ، بزازیہ وغیرہا میں ہے کہ ایک شخص نے بیوی کو کہا کہ ''اگر میں تیرے بھائی کو یہ شکایت نہ کروں کہ تیری بہن میں دنیا کی تمام قبیح باتیں ہیں تو تجھے طلاق ہے'' تو فقہاء کرام نے اس پر فرمایا کہ''اگر اس شخص نے بیوی کے متعلق اس کے بھائی کو کمینے، چوروں، مکاروں اور قاتلوں میں پائی جانے والی بدیاں بتائیں تو وہ قسم سے بری ہوجائیگا اور ایسا کرنے پر وہ گنہگار ہوگا، اس کی قسم کثیر بدیوں کے متعلق ہے جن میں سے کم از کم تین بدیاں بھائی کو بتانا ضروری ہوگا،
اور فقیہ ابولیث رحمہ اﷲ تعالٰی نے یہاں فرمایا کہ قسم کھانے والے شخص کو چاہئے کہ وہ بھائی کو بدیوں کی شکایت کرنے کے بعد کہے کہ میں نے آپ سے باتیں قسم کو پورا کرنے کےلئے کی ہیں ورنہ تمہاری بہن(بیوی)ان بدیوں سے بری ہے، تو شکایت کے بعدیہ حقیقت بیان کرنا اس کی طرف سے توبہ قرار پائیگی، اور قسم اور گناہ سے بری ہوجائے گا،
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     باب التعلیق     نولکشور لکھنؤ    ۲ /۲۲۶)
در نوازل وتاتارخانیہ و ہندیہ ست
ولو قال لہ قبل ذٰلک لایجوز لانہ لایکون بعد ذٰلک قول قبیح۲؎
نوازل، تاتارخانیہ اور ہندیہ میں مذکور ہے کہ اگرشکایت سے قبل بھائی کو حقیقت سے آگاہ کردیا تو قسم سے بری نہ ہوگا کیونکہ حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد بیوی سے منسوب بدیوں کی شکایت نہ بنے گی،
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۴۴۵)
نظر کنید ایں جایک پہلو گناہ بود ودگر سو طلاق وایں مبغوض ست وآں مغضوب وآشتی محبوب وشرعاً مطلوب اگر کارہاوکشودے بمارأیتموبہموں بودے واجب بودے کہ زن وشوئے بہم آمیزند واز سرجنگ وپر خاش برخیزند تااز مبغوض و مغضوب ہردو پر ہیز نداما نگفتند وایں راہ آسان نرفتند پس روشن وعیاں شد کہ آشتی رافع یمین نتواں شد وخود علامہ راایں جااطمینان نفس نبود کہ می گوید واختشے علیہ من الشکایۃ اگریمین بدلالت حال متقید ببقائے سزاواری سزاشدے بعد صلح آں سزاواری نماندے زوال یمین واجب بودے گواز شکایت ترس آزارے مباش مگر علامہ خواست کہ سقوط یمین راعذرے پدید آردوپیداست کہ سوگند پروائے سود وزیاں کسے ندارد اگر زید سوگند خورد کہ زداعمروراخواہد گشت بے گناہے عمرو شفیع سقوط حلف نگرددبلکہ برزید فرض بود کہ سوگند شکندوکفارہ ادا کند وباﷲ التوفیق۔
آپ غور کریں کہ یہاں ایک پہلو گناہ کاہے اور دوسری تکلیف دہ چیز طلاق ہے، طلاق مبغوض چیز ہے اور گناہ مغضوب چیز ہے جبکہ صلح وآشتی محبوب اور شرعاً مطلوب چیز ہے، اگر معاملہ وہی ہوتا جو آپ سمجھ رہے ہیں تو یہاں پر خاوند اور بیوی کی آپس میں صلح کرنا اور لڑائی اور ناراضگی کو ختم کرنا واجب ہوتا جس کی بناء پر مبغوض اور مغضوب دونوں سے پرہیز ہوسکتا تھا، لیکن فقہاء نے ان سے بچنے کے لئے یہ آسان راستہ نہ بتایا، تو واضح طور پرمعلوم ہوا کہ صلح قسم کو ختم نہیں کرسکتی اور خود علامہ سائحانی رحمہ اﷲ اس بات میں مطمئن نظرنہیں آتے اسی لئے انہوں نے صلح اور زوال قصدِ ضرر کے ساتھ، شکایت کرنے سے خطرہ، کی بات کی ہے،کیونکہ اگر قسم دلالتِ حال کی وجہ سے استحقاق سزا کی بقاء کے ساتھ مقید ہوتی اور صلح کے بعد وہ استحقاق انتقام ختم ہوجاتا ہوتو پھر قسم کا ساقط ہوجانا لازم ہوتا اگرچہ شکایت کرنے سے خطرہ نہ بھی ہوتا مگر علامہ مذکور نے شکایت سے خطرہ کو قسم کے سقوط کےلئے بنانا چاہا، حالانکہ ظاہر ہے کہ قسم میں کسی کے نفع و نقصان کی پروا نہیں ہوتی، مثلاً زید نے قسم کھائی کہ وہ عمرو کو مارے گا، توعمرو بے گناہ ثابت ہوجائے تو اس کی قسم ساقط نہ ہوگی بلکہ زید کو اپنی قسم کی وجہ سے لازم ہوگا کہ وہ قسم کو توڑدے اور کفارہ دے، وباﷲ التوفیق۔(ت)
شبہہ سابعہ: بخانہ گزاشتن دوگونہ است موافقہ کہ برضائے پدر باشد ومخالفۃ کہ بے رضائے اووشک نیست کہ حال برارادہ قسم دوم دال ست یعنی خلاف مرضی من بخانہ نگزاری وایں جاواقع قسم اول ست پس شرط حنث متحقق نشد۔
ساتواں شبہہ: کہ بیٹے کو گھر میں چھوڑنا دو طرح ہوسکتا ہے، ایک موافقت کے طور پر کہ باپ کی مرضی سے ہو، اور دوسرا مخالفت کے طور پر کہ والد کی مرضی کے بغیر، جبکہ قسم کے ارادے کا موجب دوسرااحتمال ہے یعنی والد کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ اس کو میری مرضی کے بغیر گھر میں نہ چھوڑنا، اور یہاں واقعہ کا تعلق پہلی صورت سے ہے کہ باپ کی رضامندی سے بیوی نے بیٹے کو گھر میں چھوڑا ہے لہذا قسم کے ٹوٹنے کی شرط نہ پائی گئی۔(ت)
اقول اولاً زید برفتن بخانہ عمروراضی نباشد زن را بازدارد او سر ننہد گوید ان دخلت الدار فانت طالق ثلثا آیا ہیچ شنیدہ کہ حنث دریں یمین موقوف برعدم رضائے زید ماند تاآنکہ اگر زید گاہے خودش راضی شدہ زن را دستوری دہد باز بدخول طلاق نیفتند حاشا بلکہ تاحیات زن وشوایں تعلیق ہیچ گاہ زوال پذیر نیست تا بحصول شرط نزول جزاء نشود تا آنکہ اگر زید زن رایک طلاق دہد و بگزارد کہ عدت بگزارد، باززن دراں خانہ پائے نہد جزاء فرود آید و محل ندیدہ رائگاں رود کہ زید بلاتحلیل اورابزنے تواں گرفت پس ازاں زن برقد رخواہد برضائے زید یا بے رضائے اوبآں خانہ رود طلاق نشود کہ یمین بیکبار منحل شد کما تقدم عن السراجیۃ والھندیۃ۔
اقول (جواب میں کہتا ہوں کہ) اولاً زید اگر اپنی بیوی کو عمرو کے گھر سے روکنے کی کوشش کرے اور بیوی باز نہ آئے تو زید قسم کھائے کہ اگر تو عمرو کے گھر میں داخل ہوئی تو تجھے تین طلاقیں، تو کیا آپ نے کبھی یہ سناہے کہ یہ قسم زید کی ناراضگی میں عمرو کے گھر داخل ہونے سے ٹوٹے گی، حتی کہ اگر زید خود راضی ہوجائے اور بیوی سے معاملہ بحال کرلے تو کیا اس کے بعد بیوی وہاں داخل ہوتو طلاق نہ ہوگی، ہرگز ایسا نہیں بلکہ یہ قسم خاوند اور بیوی کی زندگی بھر کے لئے ہے اور قسم میں مذکور طلاق کی شرط ختم نہ ہوگی جب تک شرط پائے جانے پر جزالازم نہ ہوجائے جس کا حیلہ یہ ہے کہ خاوند بیوی کو ایک طلاق دے کر چھوڑدے اور عدت پوری ہوجائے تو اس کے بعد بیوی عمرو کے گھر داخل ہوتو اس وقت جزاء یعنی طلاق پڑے گی لیکن اس وقت بیوی طلاق کا محل نہ ہونے کی وجہ سے وہ طلاق لغو ہوجائے گی، اور اب زید یعنی خاوند کو اختیار ہوگا کہ وہ بغیر حلالہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرلے تو اس دوبارہ نکاح کے بعد بیوی چاہے تو عمرو کے گھر داخل ہوسکے گی زید کی رضا سے یا بغیر رضا کے داخل ہواب طلاق نہ ہوگی کیونکہ ایک دفعہ شرط پائے جانے پر قسم ختم  ہوچکی ہے جیسا کہ سراجیہ اور ہندیہ کے حوالہ سے گزرچکاہے۔(ت)
ثانیاً اگر سوگند ہاکہ برامورنا مرضیہ حالف باشد متقید بعدم رضاشود ان خرجت فانت طالق بعینہٖ نہد ان خرجت الاباذنی او برضائی فانت طالق بود ایں خلاف اجماع وتصریحات جملہ کتب ست۔
ثانیاً یہ کہ لازم آئے گا کہ ناپسندیدہ امور پر قسم کھائی جائے تو وہ قسمیں ناپسندیدگی سے مقید ہوجائیں کہ رضامندی پائی جائے تو قسم ختم ہوجائے مثلاً خاوند ناراضگی میں بیوی کوکہے کہ اگر تو باہر جائے تو تجھے طلاق ہے، یا اسی طرح یوں کہے اگر تو میری اجازت یا میری رضاکے بغیر باہر جائے تو تجھے طلاق ہے، تو لازم آئے گا کہ ان دونوں میں فرق نہ ہوحالانکہ یہ اجماع اور تمام کتب کی تصریحات کے خلاف ہے(ت)
ثالثاً حل آں ست کہ دلالت حال برآں ست کہ ایں کار خلاف مرضی حالف ست نہ برآں کہ منع تا خلاف مرضی ماندن ست در ہمچو مقام خشم تابحد توسط باشد انسان را تصور عواقب باز ندارد خودش داند کہ گنجائش رضاو زوال غضب باقی ست آنگاہ امثال تعلیق شدید رامقید باذن میکند کہ بے دستوری من چناں نکنی وچوں خشم بمنتہی رسید رضا در وقتے آئندہ راخیال ہم پیراموں خاطرش نمی گردد وحکم موبدمی کند پس تخصیص وتقیید مرابودن درکنار غالباً جزتعمیم وتابید تصورے ہم بذہن نمی باشد ولہذامتقید باذن وغیرہ نمیکند پس معنی سخن آں نباشد کہ بخانہ گزاشتن تاخلاف مرضی من ست نکنی بلکہ مفہوم آن ست کہ بخانہ گزاشتن خلاف مرضی من ست زنہار نکنی و بریں تقدیر گوآیندہ مطابق مرضیش شود حکم مرتفع نشود کہ خلاف مرضی آن وقت بود نہ مرضی موہوم آیندہ وہرگاہ کند قطعاً خلاف مرضی وقت دیگر را خلاف مفہوم مباش پس شرط حنث متحقق ست۔
ثالثاً اس صورت میں دلالتِ حال یہ ہے کہ یہ کام مثلاً گھر میں چھوڑنا، قسم کھانے والے کی مرضی کے خلاف ہے اور یہ دلالت اس پر نہیں کہ اس کام سے منع یعنی گھر میں نہ چھوڑنا، اس کا عدم رضاتک ہے۔ جہاں پر غصہ اور ناراضگی حدِ اعتدال میں ہو وہاں یہ غصہ انسان کو انجام سے بے خبر نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے کہ غصہ اور ناراضگی ختم ہونے کی اور راضی ہوجانے کی گنجائش باقی ہے تو ایسے موقعہ پر شدید امور سے مشروط قسم کو اجازت سے مقید کیا جاتا ہے کہ میری مرضی کے خلاف یہ کام نہ ہو اور جب غصہ انتہائی ہوجائے تو رضا کے حال کو دل میں نہیں لاتا اور قسم میں حکم کو ابدی کردیتا ہے، پس اس موقعہ پر تخصیص وتقیید کومراد بنانا تو درکنار وہ غالب طور پر تعمیم اور ابدی حکم کے سوا کسی چیز کا تصور تک نہیں کرتا اس لئے وہ یہاں اجازت وغیرہ سے قسم کو مقید نہیں کرتا۔ پس یہاں قسم کایہ مطلب نہیں ہوگا کہ میری مرضی کے خلاف تک اس کو گھر میں چھوڑنے کا عمل نہ کرنا بلکہ اس کامفہوم یہ ہوگا کہ اس کو گھر میں چھوڑنا میری مرضی کے خلاف ہے لہذا یہ عمل نہ کرنا، تو اس تقدیر پر بعد میں رضامندی سے بھی چھوڑے گی تو قسم کا حکم ختم نہ ہوگا کیونکہ قسم کے وقت مرضی نہ ہونے کا اعتبار ہے نہ کہ آئندہ موہوم مرضی کا اعتبار ہے بلکہ جب بھی یہ عمل ہوگا تو وہ اس قسم کی خلاف مرضی ہی میں ہوگا دوسرے وقت کی مرضی جو قسم کے مفہوم کے خلاف ہے میں نہ ہوگا، تو اس صورت میں قسم کا ٹوٹنا متحقق ہوجائے گا۔(ت)
Flag Counter