| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
شبہہ سادسہ: مبنائے یمین براستحقاق پسر مرانتقام راست پس بدلالت حال متقید شود بزمان بقائے آں استحقاق چنانکہ از علمائے متاخرین علامہ سائحانی دریک مسئلہ استظہار کردہ ست در ردالمحتارست (تنبیہ) رأیت بخط شیخ مشائخنا السائحانی عند قول الشارح لوحلف ان یجرّہ الخ ھذا یفیدان من حلف ان یشتکی فلانا ثم تصالحا وزال قصدالاضرار واختشی علیہ من الشکایۃ یسقط الیمین لانہ مقید فی المعنی بدوام حالۃ استحقاق الانتقام کما ظہرلی اھ فتأملہ۱؎۔
چھٹا شبہہ: اس قسم کی بنیاد بیٹے کا باپ کی ناراضگی کی وجہ سے قابل سزا ہونا ہے تو حال کی دلالت کا تقاضا ہے کہ یہ قسم بیٹے کے قابلِ سزا ہونے تک کے زمانہ سے مقید ہوگی جیسا کہ متاخرین علماء میں سے علامہ سائحانی نے ایک مسئلہ میں اس کا اظہار کیا ہے، اور ردالمحتار میں ہے تنبیہ میں نے اپنے شیخ سائحانی کا قول دیکھا کہ انہوں نے شارح کے اس قول پر کہ''کوئی قسم کھائے کہ میں فلاں کو قاضی کی عدالت میں پیش کروں گا الخ'' تو انہوں نے اس پر فرمایا کہ شارح کے اس قول سے یہ فائدہ ہورہا ہے کہ جو شخص قسم کھائے کہ میں فلاں کی شکایت کروں گا، پھر قسم کے بعدصلح ہوجائے اور فلاں کو ضرر دینے کا ارادہ ختم ہوجائے اور شکایت کرنے سے گھبرائے تو قسم ساقط ہوجائیگی کیونکہ یہ قسم معنوی طور پر انتقام کے ارادہ کی بقاء سے مقید ہے، یہ وہ ہے جو مجھے معلوم ہوسکا ہے، اھ، تو غور کرو۔
(۱؎ ردالمحتار باب الیمین فی الاکل والشر ب الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۰۶)
اقول : ایں علامہ متاخر نیزایں حکم درہیچ کتاب سلف تا خلف اصلا نیافت محض رائے اوست کہ فرمودکما ظہرلی چنانکہ مراظاہر شدہ ست و علامہ شامی نیز برو اعتماد نکرد کہ مے فرماید فتأملہ ایں را تأمل کن وایں خود سخنے تازہ نیست صدر کلامش بزوال قصد تمسک کرد وحالش در جواب شبہہ پنجم و چہارم شنیدی واستنباط از فروع در مسائل دلالت حال خواست و فرق انعدام قصد وانتفائے مقصود بما لامزید علیہ دیدی وآخر سخنش بہ حالت استحقاق انتقام حوالت نمودوایں ہماں صفت داعیہ است کہ حالش بجواب شبہہ سوم شنیدی باز قصہ سیدنا ایوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام زوال قصد واستحقاق انتقام ہر دو را جواب شافی ووافی ست چنانکہ در رد شبہہ چہارم دیدی بالجملہ از جواب شبہہ ثالثہ تا ایں جا ہرچہ گفتہ ایم ہمیں بریں سخن متوجہ است، اگر نبودے کہ ایں سخن بخط عالمے برہامش کتابے نوشتہ یافتند حاجت بہ افراز او نبود و بقطعے نظر از جملہ کلام سابق جوابے تازہ گویم کہ تقیید باستحقاق انتقام را مساغی نگزارد۔
اقول : (اس کے جواب میں میں کہتا ہوں) کہ متاخرین میں سے اس علامہ مذکور نے یہ مسئلہ کسی کتاب سلف یا خلف میں نہ پایا بلکہ انہوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی ہے اسی لئے انہوں نے فرمایا:''جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے''اور پھر علامہ شامی نے بھی اس پر اعتماد نہیں کیا اسی لئے انہوں نے اس قول کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ غور کرو، نیز انہوں نے اس کلام سے ابتداء نہیں کی بلکہ اس سے قبل ا نہوں نے قسم کی وجہ کو ترک کرنے کے قصد کو دلیل بنایا ہے جبکہ اس کا حال پانچویں اور چوتھے شبہہ کے جواب میں آپ نے سن لیا ہے۔ اور دلالتِ حال والے مسائل کی تفریعات سے استنباط کرنا چاہا، حالانکہ آپ نے قصد نہ کرنے او مقصد کے خودفوت ہوجانے، کا فرق خوب سمجھ لیا ہے، آخر میں وہ انتقام کے استحقاق کے حوالہ سے بات کررہے ہیں اور یہ تمام امور قسم کے لئے داعی و اسباب بن رہے ہیں، جبکہ ان کا حال تیسرے شبہہ کے جواب میں آپ معلوم کرچکے ہیں، اور پھر یہ کہ حضرت سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے قصہ میں وجہ قسم کو ترک کرنے کا قصد اور انتقام کے استحقاق کے خاتمہ، دونوں چیزوں کاکافی اور شافی جواب موجود ہے جیسا کہ آپ نے چوتھے شبہہ کے رد میں دیکھ لیا ہے، غرضیکہ تیسرے شبہہ کے جواب سے لے کر یہاں تک جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ تمام اس بات سے ہی متعلق ہے، اگر کسی کتاب کے حاشیہ پر کسی عالم کی یہ بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو اس کو واضح کرنے کی ضرورت نہ تھی، تاہم سابقہ تمام گفتگو سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم اس بات کا کہ اس قسم کا استحقاقِ انتقام سے تعلق نہیں ہے اور یہ اس سے مقید نہیں ہے، نئے انداز سے اثبات کرتے ہیں۔(ت)
فاقول وباﷲ التوفیق اوّلًازید کہ سوگند مے خورد کہ شکایت عمرو پیش حاکم برو باز مصالحت میکنند آیا عمرو بواقع جرمے وستمے بحق زید کردہ بود یا زید حسبِ عادت بسیارے از مرد ماں مردم آزار خودش ظالم بود و خود شکایتش می خواست بر تقدیر دوم استحقاق انتقام از سر نبود و تقییدیمین بزمان انتقامش چہ معنی، و بر تقدیر اول انچہ بمصالحت زائل میشود قصد انتقام نہ استحقاق او کہ بصلح جرم وستم کردہ ناکردہ نشود پس یمین چرا منتہی گردد اگر برجوع مجرم استحقاق انتقام بر طرف شدے بایستے کہ عفو و تجاوز از تائب نہ عفو بودے نہ تجاوز بلکہ از ظلم اوراباز داشتن وھو باطل قطعاولہذا نزد اہلسنت قبول توبہ واجب اصلی نیست تا آنکہ نزد ائمہ ماترید یہ باآنکہ تعذیب مطیع را محال عقلی دانند در شرح مقاصد فرماید اماقبول التوبۃ فلایجب عندنا اذلاوجوب علی اﷲ تعالٰی ۱؎
فاقول(پس میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں) اولاً یہ کہ زید نے جو قسم کھائی کہ میں عمرو کو حاکم کے ہاں پیش کروں گا، اور پھر قسم کے بعد عمرو سے صلح کرلیتا ہے تو اب دیکھنا ہے کہ عمرو واقعی مجرم تھا اور اس نے زید کے حق میں ظلم کیا تھا یا زید بلاوجہ اپنی مردم آزاری کی عادت پوری کرنا چاہتا تھا تو دوسری صورت میں قسم کی وجہ استحقاق انتقام ہرگز نہ ہوئی کیونکہ عمرو کا کوئی جرم ہی نہیں ہے تو اس صورت میں قسم کو استحقاقِ انتقام سے مقید کرنے کا کوئی مطلب نہیں، اور پہلی تقدیر پر کہ عمرو نے واقعی زید کے حق میں ظلم کیا تھا، تو پھر صلح کرلینے پر عمرو سے انتقام لینے کا قصد ختم ہوا نہ کہ اس سے انتقام کا استحقاق ختم ہوا کیونکہ زید کی صلح سے عمرو کا جرم تو ختم نہ ہوا اور کردہ گناہ ناکردہ نہ بن سکا، تو جب جرم باقی ہے تو استحقاقِ انتقام ابھی باقی ہےتو قسم ختم نہ ہوگی، اگر مجرم کے رجوع کرلینے سے استحقاق انتقام ختم ہوجاتا ہوتو پھر مجرم کی توبہ اور رجوع پر معافی دینا اور در گزر کرنا کیا معنی رکھتا ہے بلکہ اس کی ضرورت ہی نہ رہے، بلکہ اب مجرم کو باز رکھنا بھی بے معنی ہوجائے کیونکہ جرم تو خود بخود ختم ہوگیا حالانکہ یہ بات قطعاً باطل ہے، اسی بناپر اہلسنت ماترید یہ کے ہاں بھی یہی بات ہے حالانکہ وہ مطیع شخص کو سزا دینا محال عقلی جانتے ہیں۔ شرح مقاصد میں فرماتے ہیں کہ توبہ کو قبول کرنا ہمارے نزدیک واجب نہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی پر کوئی وجوب عائد نہیں ہوسکتا،
(۱؎ شرح المقاصد المبحث الرابع عشر فی التوبۃ دارالمعارف النعمانیۃ، پاکستان ۲ /۲۴۲)
باز دلیل معتزلہ آوردہ فرمود اکثر المقدمات مزخرف بل ربما یدعی القطع بان من اساء الی غیرہ وانتھک حرماتہ ثم جاء معتذر الایجب فی حکم العقل قبول اعتذارہ بل الخیرۃ الی ذٰلک الغیران شاء صفح وان شاء جازاہ۱؎۔علی قاری در شرح فقہ اکبر گوید قبول التوبۃ وھو اسقاط عقوبۃ الذنب عن التائب غیر واجب علی اﷲ تعالٰی بل کان ذٰلک منہ فضلا خلافا للمعتزلۃ۲؎۔پس بمصالحت سقوط یمین را وجہے نیست۔
اس کے بعد معتزلہ حضرات جو کہ اﷲ تعالٰی پر توبہ کو قبول کرنا واجب جانتے ہیں کی دلیل ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی دلیل کے مقدمات سب شعبدہ ہیں بلکہ ان کا دعوٰی بھی ایسا ہی ہے، کیونکہ یہ قطعی بات ہے کہ جو شخص کسی غیر سے برائی کرے اور اس کے جرمات میں دخل اندازی کرے پھر وہ برائی کرنے والا معذرت خواہی کرے تواس حق والے غیر پر بحکم عقل واجب نہیں کہ وہ اس مجرم کی معذرت کو قبول کرے بلکہ اس غیر کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ معاف ودرگزرکردے یا اس کو سزادے، ملاعلی قاری نے شرح فقہ اکبر میں فرمایا کہ توبہ کو قبول کرنا بایں معنی کہ توبہ کرنے والے سے اس کے گناہ کی سزا کو ساقط کردینا، یہ اﷲ تعالٰی پر عقلاً واجب نہیں ہے بلکہ توبہ کو قبول کرنا محض اﷲ تعالٰی کا فضل ہے، اس میں معتزلہ مخالف ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ صلح سے قسم کے ساتھ ساقط ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔(ت)
(۱؎ شرح المقاصد المبحث الرابع عشر فی التوبۃ دارالمعارف النعمانیہ پاکستان ۲ /۲۴۲) (۲؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر التوبۃ بشرائطہا مصطفی البابی مصر ص۱۵۵)