| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
اقول اولاً : فرق ست میان انتفائے مقصود وانعدام قصد در فروع مستشہدہ افعال محلو ف علیہا خود از ثمرات مخصوصہ تہی شدہ است چوں والی معزول شد اطلاع او بر آمدن مفسد در شہرچہ سود دہد و مقصود از بردن منکر پیش قاضی وحلف از و خواستن آں بود کہ قاضی او را بر حلف مجبور کند وبرمقرحلف نتواں نہاد پس تحلیف صورت نہ بندد و طلب حلف مسموع نشود و چوں بر دعوی مدعی گواہان عادل شرعی باشند نیز از منکر حلف نگیر ند و ہمچوگواہان داشتن و باز کار برزبان صاحب انکار گزاشتن حق خود را در خطر افگند ست کہ خلاف مقصود ست پس بہر وجہ ثمرہ مطلوبہ مفقود ست و بعد ادائے دین باروئے مدیون چہ کار ماندہ است کہ پوشیدن و نمودن ثمرہ دہد و مقصود زن حصول انس بمصالحت شوہر ومنع وحشت بوحدت ست وایں بعد زوال زوجیت میسر نیست زن مرد اجنبی رانگوید کہ بامن باش وجدا مشو بخلاف صورت دائرہ کہ بخانہ نگزاشتن ہمچناں مثمردوری وہجران و سزائے ناشکری وکفران ست مگر حالف حالازیں قصد برگشتہ است پس ایں نیست کہ آنکار ثمرہ نیارد بلکہ خود اوخواہش آں ثمرہ ندارد،
اقول (میں کہتا ہوں)اولاً : جواب یہ ہے کہ مقصود کا متنفی ہونا، اور اس کا قصدنہ کرنا یہ دو مختلف چیزیں ہیں جبکہ شبہہ میں مذکور مسائل بیان جن کاموں کے متعلق قسم ہے وہ کام اپنے مخصوص مقاصد سے خالی ہوتے ہیں کہ جب والیئ شہر معزول ہوجائے تو شہر میں مفسد شخص کے داخل ہونے کی اطلاع اس کو دینے میں کیا فائدہ ہوگا۔ اور منکر کو تو قاضی پرپیش کرکے اس سے قسم لی جاسکتی ہے تاکہ قاضی اس کو قسم پر مجبورکرے لیکن جب قرض کا اقرار کرلیا تو اب اس سے قسم نہیں لی جاسکتی اور اس سے قسم کا مطالبہ نہیں ہوسکتا۔ اور جب مدعی کے دعوی پر شرعی عادل گواہ موجود ہوں تو منکر سے قسم نہیں لی جاتی اور اسی طرح گواہوں کی موجودگی میں اپنے حق کو منکر کی زبانی حلف کے سپرد کرنا اپنے حق کو خطرہ میں ڈالنا بھی مقصود کے خلاف ہے تو یہ تمام صورتیں قسم کے مقصد کے خلاف ہیں، اور قرض ادا کردینے کے بعد مقروض کے چہرہ کو دیکھنے سے کیا کام ہے اب روپوشی کرنا نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے، اور بیوی نکاح کی موجودگی میں تو علیحدہ رہنے میں تنہائی کی وحشت کو ختم کرنے اور اپنے خاوند سے صلح کرکے مانوس ہونے کی کوشش کرے گی جبکہ نکاح ختم ہوجانے پر اس کا یہ مقصد بھی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ اب اجنبی ہوجانے پر اس کو اپنے پاس رہنے کی بات نہ کرے گی اور نہ جدائی کوختم کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ زیر بحث مسئولہ معاملہ میں گھر میں نہ چھوڑنے کی قسم کا مقصد بیٹے کی ناشکری اور کفرانِ نعمت پر اس کو بائیکاٹ اور گھر سے دور رکھنے کی سزادینا ہے لیکن قسم والے نے اب اپنے مقصد کو چھوڑدیا تو اس سے قسم والا معاملہ بے سود اور بیکار نہ ہوگا کیونکہ یہاں مقصد فوت نہیں ہوا بلکہ خود اس مقصد کو ترک کررہا ہے،
بالجملہ از نماندن مقصود تا قصد نمادن مقصود فرق عطیم ست ایں دوم زنہار مبطل یمیں نتواں شد ورنہ ہماں مفاسد لازم آید کہ در جواب شبہہ چہارم یاد کردیم حلفہائے مبتنی برخشم و غضب بعد فروشدن خشم خود بخود برباد رودو ہیچ جزایا کفارہ لازم نشود کہ بعد زوال غضب آں ثمرات را خواہش نمی ماند بلکہ بسااوقات نادم می شود و دلیل قاطع بربطلان آں احادیث کثیرہ عدیدہ صحیحہ سدیدہ بسر حداستفاضہ کشیدہ ست کہ فرمودہ اندصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حلفت علی یمین فرأیت غیرھا خیرا منھا فات الذی ھو خیر وکفر عن یمینک۱؎چوں سوگندے خوری باز بینی کہ غیر او ازاں بہتر ست پس آں بہتر را بجا آروسوگندت را کفارہ گزار،رواہ البخاری ومسلم عن سمرۃ بن جندب واحمد ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ والنسائی وابن ماجۃ عن عوف ابن مالک عن ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم وعبدالرزاق عن بن سیرین مرسلا وابوبکر بن شیبۃ و البیھقی عن امیرالمؤمنین عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ من قولہ،
الحاصل، مقصود کا باقی نہ رہنا اور اس کو مقصود نہ بنانا دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں میں بڑا فرق ہے جبکہ دوسرا یعنی مقصد کو مقصود نہ بنانا اور اس سے روگردانی کرنا قسم کو قطعاً باطل اور کالعدم نہیں کرسکتا ، ورنہ اس سے وہ تمام مفاسد لازم آئیں گے جو شبہہ چہارم کے جواب میں ہم نے ذکر کئے ہیں کہ غصہ اور ناراضگی پر مبنی تمام قسمیں، غصہ ختم ہوجانے پر خودبخود ختم ہوجائینگی اور ان پر کوئی جزاء یا کفارہ لازم نہ آئیگا کیونکہ غصہ اور ناراضگی کے دوران قسم کے جو مقاصد تھے وہ غصہ ختم ہوجانے پر باقی نہ رہے بلکہ بسااوقات غصہ کی حالت میں قسموں پر ندامت ہوتی ہے تو لازم آئے گا کہ غصہ ہونے پر کوئی کفارہ یا جزامرتب نہ ہو حالانکہ اس کے بطلان پر کثیر تعداد میں صحیح احادیث وارد ہیں جوغصہ ختم ہونے کے بعد بھی ان قسموں پر حنث لازم آنے میں درجہ شہرت تک پہنچتی ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جب تو قسم کھائے تو دیکھ کہ اس قسم کا غیر یعنی خلاف بہتر ہوتو بہتر کو بجالا اور قسم کا کفارہ دے۔ اس کو بخاری و مسلم نے سمرہ بن جندب اور احمد اور مسلم ترمذی نے ابوہریرہ اور نسائی اور ابن ماجہ نے عوف بن مالک کے والد سے روایت کیا ہے اور عبدالرزاق نے ابن سیرین سے مرسلاً اور ابوبکر بن شیبہ اور بیہقی نے موقوفاً امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رضی اﷲ تعالٰی عنہم) سے روایت کیا ہے۔
(۱؎ صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۸۰)
وفرمودند صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انی واﷲ ان شاء اﷲ لااحلف علی یمین فاری غیرھا خیرامنھا الاکفرت عن یمینی واٰتیت الذی ھو خیر۱؎بخدا اگر خدا خواہد ہر سوگند کہ خورم باز غیر اوبہتر از وبینم ہماں بہتر را پیش نہم وسوگندرا کفارہ دہم رواہ احمد وعبدالرزاق والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابی موسٰی الاشعری والطبرانی فی الکبیروالحاکم والبیہقی عن ابی الدرداء والحاکم عن ام المومنین الصدیقۃ والطبرانی عن عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہم وعبدالرزاق عن ام المومنین عن ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہما من قولہ وعبدالرزاق وابن ابی شیبۃ وابناء حمید وجریرو المنذروابوالشیخ والبیہقی عن امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بمعناہ وفی الباب غیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنہم ،
اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: بخدا!اگر اﷲ تعالٰی چاہے تو جو قسم بھی میں کھاؤں پھر اس کے بعد اس کے غیر کو بہتر پاؤں تو بہتر کو اختیار کروں گا اور قسم کا کفارہ دوں گا۔ اس کو احمد، عبدالرزاق، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے ابوموسیٰ اشعری سے اور طبرانی نے کبیر میں، حاکم اور بیہقی نے ابودرداء سے، اور حاکم نے ام المومنین عائشہ صدیقہ سے، اور طبرانی نے عمران بن حصین سے(رضی اﷲ تعالٰی عنہم) روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے حضرت ام المومنین سے انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا قول، اور عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، ابن حمید، ابن جریرابن منذر، ابوشیخ ، اور بیہقی نے امیرالمومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بالمعنی روایت کیا ہے جبکہ اس باب میں دیگر صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی روایات ہیں،
(۱؎ صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۸۰)
وفرمودند صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واﷲ لان یلجّ احدکم بیمینہ فی اھلہ اٰثم لہ عنداﷲ من ان یعطی کفارتہ التی افترض اﷲ علیہ۲؎یعنی اگر کسے دربارہ اہل خود برایذاواضرار ایشاں سوگند خورد پس بخدا کہ باضرار او برابر ارادہ باضرار شاں گناہگار تر باشد نزد خدا زینکہ سوگند و کفارہ اش کہ خدائے مقرر فرمودہ ست ادا کندرواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ پیداست کہ ہمیں فعل اختیاری ست وفعل اختیاری را از قصد غایتے چارہ نے وچوں غیر اوراخیر یا بدرائے بر گرددواں قصد نماند پس یمین ببطلان قصد باطل شدے کفارہ چرا۔
اور خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص اپنے اہل کے متعلق اس کو اذیت اور ضرر پہنچانے کیلئے قسم کھائے پس بخدا اس کو ضرر دینا اور قسم کو پورا کرناعند اﷲ زیادہ گناہ ہے اس سے کہ وہ اس قسم کے بدلے کفارہ دے جو اﷲ تعالٰی نے اس پر مقرر فرمایا ہے، اس کو بخاری اور مسلم (شیخین) نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ قسم اختیاری فعل ہے اور کوئی اختیاری فعل ارادہ اور قصدکے بغیر ممکن نہیں تو اس کے باوجود جب اس کے خلاف کوبہتر جانے تو اس بہتر کو کرے اور اپنی رائے اور ارادہ کو تبدیل کردے اور اس کا قصد نہ کرے، تو اگر قسم والے فعل کا قصد ختم ہوجانے سے قسم ختم ہوجاتی ہے تو پھر ان احادیث میں کفارہ کا ذکر کس چیز پر ہے۔
(۲؎ صحیح بخاری کتاب الایمان والنذور قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۸۰)
ثانیاً : بانتفائے مقصود نیز مطلقا بطلان ست اگر یمین مطلقہ آرد کہ فلان را زند یا کشد یا پیش حاکم برد یا چناں خوراند یا پوشاند یا خلعت پوشاند یا خبرے خوش یا بدر ساند الٰی غیر ذٰلک مما یختص بالحیاۃ عرفا ونکرد تا آنکہ فلاں مرد یقینا حانث شود وکفارہ دہد اگر یمین بطلان وعتاق بود فرود آید بآنکہ آں جملہ مقاصد بمر گش مرد و درہم خورد وکل ذٰلک واضح جلی وعلیہ فروع جمۃ فی کتب المذھب ،
ثانیاً : جواب یہ ہے ، مقصود کے انتفاء سے بھی علی الاطلاق اور علی العموم قسم کا باطل ہونا غلط ہے، مثلاً کوئی شخص غیر مقید طور پر قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو ماروں گا، یا فلاں کی کھینچا تانی کروں گا، یا حاکم کے سامنے کروں گا یا فلاں چیز کھلاؤنگا یا پہناؤں گا، یا جوڑا پہناؤں گا،یافلاں کو خوشخبری دوں گا، وغیر ذالک، تو یہ قسمیں عرفاً پوری زندگی بھرکے لئے ہوں گی اگر یہ کام نہ کئے حتی کہ وہ فلاں فوت ہوجائے تو یقینا حانث ہوگا، اور کفارہ دینا ہوگا، اوریہ قسمیں طلاق یا عتاق سے متعلق تھیں _ توطلاق یا عتاق واقع ہوجائے گی کیونکہ فلاں کے فوت ہوجانے سے قسم کے تمام مقاصد ختم ہوجاتے ہیں یہ تمام امور واضح ہیں اورمذہب کی کتب میں ان پر کثیر مسائل متفرع کئے گئے ہیں۔
ودرخانیہ و کبری ومحیط و تجنیس و خلاصہ و بزازیہ و ہندیہ وغیرہاست رجل شاجر مع اخیہ واختہ، فقال لھما بالفارسیۃ اگر من شمارا بکون خراندر نکنم تکلموافی ذٰلک والصحیح انہ یراد بھذاالقھر والغلبۃ فلایحنث حتی یموتا اویموت الحالف۱؎ ھذالفظ الخانیۃ فی الایمان،
خانیہ، کبریٰ، محیط، تجنیس، خلاصہ، بزازیہ اور ہندیہ وغیرہا میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے بھائی اور بہن سے جھگڑے میں ان کو کہا اگر میں تم دونوں کو گدھے کی دبر میں داخل نہ کردوں توفلاں چیز لازم آئے،تو اس قسم کی صورت میں فقہائے کرام نے بحث کی ہے اور صحیح یہ قرار دیا کہ یہ غصہ اور ناراضگی کی قسم ہے اور عمر بھر کےلئے قسم ہوگی اور اگر عمر بھر ان دونوں سے یہ کارروائی نہ کرے تو ان دونوں یا قسم کھانے والے کے فوت ہوجانے پر قسم ٹوٹ جائے گی اور کفارہ لازم آئے گا اھ یہ مذکور الفاظ خانیہ کی قسموں میں مذکور ہیں،
(۱؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الایمان فصل فی الیمین علی الشتم والقذف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۲۵)
ولفظھا فی الطلاق قال بعضھم لایحنث ماداموافی الاحیاء وقال بعضھم یحنث للحال لانہ عاجزعن ذٰلک ظاھراالا ان ینوی بذٰلک القھر والتضییق علیھما فلایحنث ماداموافی الاحیاء فان مات الحالف اواحد الاخوین قبل ان یفعل ذٰلک حنث وعلیہ الاعتماد۲؎اھ وقال فی الکبری وغیرہا وعلیہ الفتوی وچوں دلالت حال را باایں شبہہ کارے نمانداز تنقیح مسئلہ اش آئندہ سخن رانیم ان شاء اﷲ تعالٰی۔
اور خانیہ نے طلاق کی بحث میں یوں فرمایا کہ بعض نے کہا ہے کہ جب تک اس قسم سے متعلق حضرات زندہ ہیں قسم نہ ٹوٹے گی، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ایسا کرنے سے عاجز ہے، ہاں اگر ان الفاظ سے ا س نے غلبہ اور تنگی پیدا کرنے کی نیت کی ہوتو ان کی زندگی میں نہ ٹوٹے گی بلکہ مقصد کو پوراکرنے سے پہلے تینوں میں سے کسی کے فوت ہونے پر ٹوٹے گی، اور اسی پر اعتماد ہے اھ اور کبریٰ وغیرہ میں فرمایا کہ اسی پر فتوی ہے۔اور جب دلالتِ حال کا اس شبہہ میں دخل نہیں تو اس مسئلہ کی تنقیح کو ہم آئندہ پر چھوڑتے ہیں ان شاء اﷲ تعالٰی۔(ت)
(۲؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الطلاق باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۲۔۲۳۱)