| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
(۳) مدیون را سوگند داد فلاں روز حق من دہی ودستم بگیری وبے دستوری من بیروں نہ روی باز مدیوں ہمیں روز دینش داد ودستش نگرفت و بے دستوری اوبیروں رفت حانث نشود کہ ایں یمیں عرفا مقیدست بحال دیں در ردالمحتار ست : فی البزازیۃ حلفہ لیوفین حقہ یوم کذاولیأخذن بیدہ ولا ینصرف بلا اذنہ فاوفاہ الیوم ولم یأخذ بیدہ وانصرف بلااذنہ لایحنث لان المقصودوھو الایفاء اھ، قلت تقدم ان الایمان مبینۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض وھذاالمقصود غیر ملفوظ لکن قدمنا ان العرف یصلح مخصصا وھنا کذٰلک فان العرف یخصص ذٰلک بحال قیام الدین قبل الایفاء ویوضحہ ایضا مایأتی قریبا عن التبیین۱؎اھ مافی الشامی۔
(۳)کسی نے اپنے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھے فلاں روز میرا قرض دے گا اور میرا ہاتھ پکڑے گا اور میری رضا کے بغیر باہر نہ جائے گا، پھر مقروض نے اسی دن قرض ادا کردیا اور اس کا ہاتھ پکڑے بغیر باہر چلاگیا تو اس کی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ یہ قسم عرف میں قرض ذمہ ہونے کی وجہ سے تھی، تو قرض ختم ہونے پر قسم ساقط ہوجائے گی۔ ردالمحتار میں ہے کہ بزازیہ میں ہے کہ قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھے فلاں دن میرا حق دے گا اور میرا ہاتھ پکڑے گا اورمیری مرضی کے بغیر باہر نہ جائیگا، تو مقروض نے اس کو قرض اسی روز دے دیا اور ہاتھ پکڑے اور اس کی مرضی کے بغیر باہر واپس چلاگیا تو قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس قسم کا مقصد قرض وصول کرنا تھا اھ۔قلت میں کہتا ہوں کہ یہ گزرچکا ہے کہ قسموں کی بنیاد الفاظ ہوتے ہیں۔ اغراض بنیاد نہیں ہوتے، اور مذکور قسم کا مقصد الفاظ میں مذکور نہیں ہے، لیکن جیسا کہ پہلے ہم نے ذکر کردیا ہے کہ عرف تخصیص پیدا کردیتا ہے تو یہ بھی ایسے ہی ہے کیونکہ یہاں بھی عرف نے اس قسم کو قرض کی موجودگی کے ساتھ مختص کردیا ہے کہ اس کی ادائیگی سے قبل تک ہوگی، اس کی وضاحت عنقریب تبیین الحقائق سے بیان کی جائے گی، علامہ شامی کا ردالمحتار میں بیان ختم ہوا۔
(۱؎ ردالمحتار باب الیمین فی الاکل والشرب داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۰۶)
اقول : والذی یظھر للعبد الضعیف ان ھنا ثلث ایمان فالاخیرۃ متقیدۃ بنفس لفظ الاذن کما تقدم والاولی کانت موقتۃ والممتنع الایفاء فی ذٰلک الوقت لحصولہ قبلہ فسقطت لعدم تصور البر ثم رأیتھم بہ عللوہ، وﷲ الحمد،
اقول : (میں کہتاہوں کہ) مجھ ضعیف بندے پر جوظاہر ہورہا ہے وہ یہ کہ یہاں ردالمحتارکے بیان کردہ مسئلہ میں تین قسمیں ہیں جن میں سے آخری یعنی''میری اجازت کے بغیر واپس نہ جائے گا'' یہ قسم لفظ اجازت سے مقید ہے جیسا کہ گزرا ہے، اور ان میں سے پہلے قسم یعنی''تو میرا حق فلاں روز اداکرے گا'' یہ وقت سے مقید ہے یعنی موقت ہے، جبکہ مقررہ اس دن میں حق کی ادائیگی نہیں ہو سکی کیونکہ ادائیگی مقررہ دن سے پہلے ہوچکی ہے اس لئے قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ مقررہ دن میں پورا کرنا ممکن نہ رہا، پھر اس بیان کے بعد میں نے دیکھاتو فقہاء نے قسم کے خاتمہ کی یہی علت بیان فرمائی وﷲ الحمد،
اماالثانیۃ : فمجازہ عن الایفاء ای لیعینہ لوفاء دینہ اذمن المعلوم قطعا ان لیس المراد خصوص اخذ العضو وھی مطلقۃ وقدبرفیھا اذا وفی وان فرضت لوقتہ بالتوقیت المذکور فقد سقطت ایضا وھذا معنی قول الوجیز لان المقصود ھو الایفاء فلیس ھنا مدخل اصلا للتخصیص بدلالۃ الحال واﷲ تعالٰی اعلم بحقیقۃ الحال ولیس فیما اتی بہ بعد عن التبیین الاان الیمین تتقید بمقصود الحالف ولھذا تتقید بالصفۃ الحاملۃ علی الیمین وان کانت فی الحاضر علی مابینا من قبل اھ۱؎
لیکن دوسری قسم یعنی ''تومیرا ہاتھ پکڑلے''یہ حق پورا کرنے، سے مجاز ہے، یعنی تاکہ یہ بات حق کی ادائیگی میں مدد گار بنے ،کیونکہ خاص عضو یعنی ہاتھ پکڑنا مقصود نہیں ہے، لہذا یہ قسم مطلق قرار پائی، اور یہ حق کی ادائیگی ہوجانے پر پوری ہوچکی ہے ،اور اگر اس دوسری قسم کو مطلق کی بجائے وقت یعنی مقررہ دن سے مقید اور موقت قرار دیا جائے تو تب بھی یہ ساقط قرار پائیگی، جبکہ وجیز کے اس کہنے کا کہ یہاں مقصود صرف حق کو پوراکرنا ہے، اور یہاں حال کی دلالت سے تخصیص کا کوئی دخل نہیں ہے، کا یہی مطلب ہے جبکہ اﷲ تعالٰی ہی حقیقت حال کا بہتر عالم ہے، اور بعد میں تبیین الحقائق کے حوالہ سے جو ذکر کیا وہ صرف یہی ہے کہ یہ قسم حالف کے مقصد سے مقید ہوگی لہذا قسم کی وجہ بننے والی صفت سے یہ مقید قرار پائے گی اگرچہ وہ صفت حاضر چیز میں پائی جائے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا۔
(۱؎ ردالمحتار باب الیمین فی الاکل والشرب داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۰۷)
ولا کلام فیہ انما الکلام فی حصول التخصیص ھنا ثم کلام التبیین فی صفۃ ملفوظۃ کلایکلم عبد فلان وتریدون ھٰھنا اثبات غیر الملفوظ فلایوضحہ مافی التبیین وغایۃ ما یقال ان المعنی لیوفین یوم کذاان لم یوف قبلہ فھذاالتقیید بدلالۃ الحال وھو المقصود الغیر الملفوظ فیکون الاولی مبرورۃ ساقطۃ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(تبیین الحقائق کے آخر کلام تک) جبکہ یہاں یہ بحث نہیں کہ مقصد سے مقید ہوگی یانہیں، بلکہ یہاں تو دلالتِ حال سے تخصیص میں بحث ہے اور پھر تبیین الحقائق کی بات کا تعلق لفظوں میں مذکور صفت سے ہے، مثلاً میں فلاں کے غلام سے بات نہ کروں گا جبکہ آپ تو یہاں غیر ملفوظ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، لہذا تبیین الحقائق کا کلام اس بحث کی وضاحت نہیں بن سکتا، انتہائی بات جو کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ قسم میں''فلاں دن حق پورا کرے گا'' کا معنیٰ یہ ہوگا کہ اگراس دن سے قبل حق پورا نہ کرے تو اس دن ادا کرے گا، تو قبل ازیں پورا نہ کرنے سے قسم مقیّد ہوگی اور یہ مقصد لفظوں میں غیر مذکور ہے جوصرف دلالت حال سے قید کے طور پر معلوم ہورہا ہے، تو پہلی قسم پوری ہوکر ختم ہوگئی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
وچوں دریں مثال در دلالت حال مجال مقال و سیع آمد مثالے دگر جایش بنشانیم دائن حلف گرفت کہ روئے از من نپوشی و معنی ایں پیمان آن ست کہ ھرگاہ ترا طلبم وتوبرطلب من مطلع شوی ظاہرگردی ورنہ فرد روپوشی مدیون در غیرآں طلب دائن بے اطلاع بر طلب دائن موجب حنث نیست گواز ترس دائن باش چنانکہ بخوف او رخ پوشاں ببازازرفتن زیراکہ ایں روئے پوشیدن بخیال ست نہ ازو سوگند بریں بود نہ براں ایں یمین بدلالت حال مقید ست بزمان بقائے دین تا آنکہ اگر دو دائن بودند ودین یکے اداشد یمین در حق او منتہی گشت ،
چونکہ مذکورہ مثال میں دلالتِ حال کے متعلق بحث کی وسیع گنجائش پیدا ہوگئی، اس لئے ایک اور مثال یہاں پیش کرتا ہوں کہ،ایک قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھ سے منہ نہ چھپائے گا، تو اس عہد وپیمان کا معنیٰ یہ ہے کہ جب میں تجھے طلب کروں اور تومیری طلب پر مطلع ہوجائے تو فوراً سامنے آنا ہوگا، اس لئے اگر وہ اس کی طلب کے بغیر یا طلب پر اطلاع نہ پانے پر روپوشی کرے تو قسم کی خلاف ورزی نہ ہوگی اگرچہ یہ روپوشی اس قرض خواہ کے ڈر سے ہی ہو مثلاً قرض خواہ کے سامنے آجانے پر مقروض منہ پھیر کر رک جائے، کیونکہ یہ روپوشی دوسرے خیال سے ہے نہ کہ اس کی طلب سے روپوشی ہے، لہذا کسی اور وجہ سے روپوشی پر قسم نہ ٹوٹے گی، کیونکہ قسم کا تعلق کسی اور وجہ سے نہیں ہے، تو یہ قسم دلالتِ حال کی وجہ سے قرض باقی رہنے کے حال سے مقید ہوگی، حتی کہ اگر قرض خواہ دو شخص ہوں دونوں نے یہ قسم دی ہو تو دونوں میں سے جس کا قرض ادا کردے گا اس کے حق میں قسم ختم ہوجائے گی۔
در وجیز کردری فصل ۱۸فی قضاء الدین فرمود حلف الدائن المدیون کہ از من رو نپوشی ولم یوقت فکل وقت طلبہ وعلم بہ ولم یظھر لہ حنث وان دخل السوق متواریالایحنث وان طلبہ ولم یعلم بہ ولم یظھر الوجہ لایحنث ولوکان حین حلف بھذا الوجہ رب الدین اثنین فقضی لاحد ھما انتہی الیمین فی حقہ۱؎،
وجیز کردری کی فصل۱۸قرض کی ادائیگی میں فرماتے ہیں کہ قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تو مجھ سے روپوشی نہ کرے گا اور قسم میں کسی وقت کاذکر نہ کیا تو اس قسم کا معنیٰ یہ ہوگا کہ جب بھی وہ اس مقروض کو طلب کرے اور مقروض کو اس طلب کا علم ہوجائے تو اس وقت روپوشی نہ کرے، لہذا اگر قرض خواہ کی طلب پر مقروض اطلاع پانے کے باوجود حاضرنہ ہوسامنا نہ کرے تو قسم ٹوٹ جائے گی، اور اگر بغیر طلب یا طلب پر اطلاع نہ پائی ہوا ور بازار میں ویسے ہی قرض خواہ کے ڈر سے روپوشی کرکے نکلے تو قسم نہ ٹوٹے گی، اگر اس صورت میں دو قرض خواہ ہوں جنہوں نے اس کو یہ قسم دی ہوتو ایک کا قرض ادا کردیا تو اس کے حق میں قسم ختم ہوجائیگی۔
(۱؎ فتاوی بزازیہ علیٰ ھامش فتاوی ہندیہ الثامن عشر فی قضاء الدین نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۳۰)
درمسئلہ دائرہ نیز حال دال ست کہ غرض یمین ہجراں پسر و تباعد از ذریت ومساکنت او وسزا دادنش بدوری از خانہ وخوان خود ست پس متقید باشد بزمان بقائے ایں مقاصد چوں پدر خودش ترک مہاجر گفت واوسرا نتقام در گزشت یمین منتہی گشت چنانکہ در فروع مذکورہ چوں بعزل سلطان واقرار مدیون وظہور گواہان و ادائے دیون آں اغراض نماند سوگند نماند۔
زیر بحث مسئولہ مسئلہ میں بھی اس قسم کا مقصد بیٹے سے بائیکاٹ ، اس کا گھر اور رہائش سے دور رکھنا اور اپنے گھر اور دستر خوان سے باز رکھنے کی سزا ہے لہذا یہ قسم بھی دلالت حال کی وجہ سے ان مقاصد سے مقید ہوگی اور جب باپ نے خود یہ تمام باتیں کردیں اور سزا ترک کردی تو قسم ختم ہوجائے گی جیسا کہ مذکورہ بالا مسائل میں، حاکم کی معزولی، مقروض کے اقرار، گواہوں کی حاضری اور قرض کی ادائیگی جیسے قسم کے اغراض ہوجانے سے قسم ختم ہوجاتی ہے۔(ت)