Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
145 - 175
 (۲) مقروض جب قرض سے انکار کرے اور قرض خواہ کے پاس گواہ نہ ہوں تو قرض خواہ قسم اٹھائے کہ میں تجھے قاضی کے دربار میں پیش کروں گا اور وہاں تجھ سے قسم لوں گا تو اس کی قسم کے بعد مدیون ومقروض شخص نے قرضے کا اعتراف کرلیا یا قرض خواہ کو گواہ مل گئے، تو قرض خواہ کی قسم ساقط ہوجائے گی، کیونکہ حال کی دلالت سے وہ قسم انکار وگواہوں کے نہ ہونے کی حالت میں مخصوص قرارپائے گی۔
دردرمختار ست : حلف ان یجرہ الی باب القاضی ویحلفہ فاعترف الخصم اوظھر شھود سقط الیمین لتقییدہ من جھۃ المعنی بحال انکارہ۱؎اھ قال الشامی لکن ھذاالتعلیل لایظھر بالنسبۃ الی قولہ او ظھر شھود فانہ بظھور الشھود لم یزل الانکار بل العلۃ فیہ انہ بعد ظھور الشہود لایمکن التحلیف تأمل۲؎اھ
درمختارمیں ہےکہ قرض خواہ نے قسم کھائی کہ میں تجھے قاضی کے دربار میں پیش کرکے تجھ سے قسم دلاؤں گا تو اس دھمکی پر مقروض نے قرض کا اقرار کرلیا یا اس کو گواہ مل گئے، تو قسم ساقط ہوجائیگی کیونکہ قسم کھانے والے کی یہ قسم مقروض کے انکار کے ساتھ مقید قرار پائے گی اھ، اس پر علامہ شامی نے فرمایا کہ اس وجہ اور علت کا تعلق صرف مقروض کے انکار سے ہے، گواہوں کے دستیاب ہونے کی بات سے نہ ہوگا کیونکہ گواہوں کے دستیابی کے باوجود انکار باقی رہ سکتا ہے، تو گواہوں کی دستیابی پر قسم کے ساقط ہونے کی علت یہ ہوگی کہ گواہوں کی موجودگی میں قاضی کے ہاں قسم دلانا ممکن نہ رہے گا، اس میں غور چاہئے اھ
 (۱؎ درمختار     باب الیمین فی الاکل و الشرب واللبس والکلام     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۰۴)

(۲؎ ردالمحتار  باب الیمین فی الاکل و الشرب واللبس والکلام      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳ /۱۰۶)
اقول لہ ان لایستشھدھم ویطلب حلفہ فکیف لایمکن کما یوھمہ قول العلامۃ لایمکن التحلیف فالاولی ان یقال لتقیدہ بانکارہ وعدم وجدان الشھود اذلاحلف علی مقرولامع بینۃ شھدت، فی الدر عن البحر الیمین کالخلف عن البینۃ فاذاجاء الاصل انتہی حکم الخلف اھ۱؎ ولایرضی الطالب بحلف المنکر مادام یقدر علی الشھود مخافۃ ان یحلف فیذھب مالہ فیتقید بھما عرفا،
اقول (میں کہتا ہوں) علامہ شامی کا فرمانا کہ گواہوں کی موجودگی میں قسم دلانا ممکن ہے کیسے صحیح ہوسکتا ہے جبکہ مدعی کو اختیار ہے کہ وہ گواہ پیش کرنے کی بجائے مقروض منکر کو قسم دلائے، لہذا قسم کو ناممکن کہنا درست نہیں بلکہ یوں کہنا بہتر تھا کہ وہ قسم انکار اور گواہوں کے دستیاب نہ ہونے سے مقید قرار پائے گی، کیونکہ اقرارکرلینے پر اور گواہوں کی شہادت پر قسم کی ضرورت نہیں رہتی۔ درمختار میں بحر سے منقول ہے کہ قسم، گواہی کا خلیفہ بنتی ہے توجب اصل حاصل ہوجائے تو خلیفہ کی ضرورت نہیں رہتی اھ، اور نہ ہی حق والاگواہوں کی موجودگی میں قسم دلانے پر راضی ہوتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مقروض جھوٹی قسم اٹھادے تو اس کا قرض ضائع ہوجائے، لہذا عرفاً یہ قسم دونوں حالوں(انکار اور گواہ نہ ہونے) سے مقید قرار پائے گی۔
 (۱؎ درمختار     کتاب الدعوی     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/۱۱۸)
اقول:  ولیس ھذاالسقوط لعدم تصور البر بقاء فان قلت الیس فی الدر قال المدعی لی بینۃ حاضرۃ فی المصر وطلب یمین خصمہ لایحلف خلافا لھما ولو حاضرۃ فی مجلس الحکم لم یحلف اتفاقا ابن ملک اھ۲؎،
اقول(میں کہتا ہوں کہ) گواہوں کی موجودگی میں قسم کایہ سقوط اس لئے نہیں کہ بالآخر قسم کا پورا ہونا متصور نہیں ہوسکتا کہ قسم کا پورا ہونا ناممکن ہوجانے پر ختم ہوجائے۔ اس پر اگر تو یہ اعتراض کرے کہ کیا درمختار میں یہ موجود نہیں کہ جب قاضی کے ہاں مدعی یہ کہے کہ میرے گواہ ہیں لیکن وہ شہر میں موجود ہیں اور مدعی اس صورت میں اپنے مخالف سے قسم کا مطالبہ کرے، تو امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیک قاضی مخالف کوقسم نہ دلائے گا۔ صاحبین کامسلک اس کے خلاف ہے، اور اگر مدعی کے گواہ قاضی کی مجلس میں حاضر ہوں تو بالاتفاق قسم نہ لی جائیگی، ابن ملک اھ(تو قسم دلانے کا احتمال ختم ہوجانے سے قسم ساقط ہوجائیگی)
 (۲؎ درمختار     کتاب الدعوی     مطبع مجتبائی دہلی       ۲ /۱۱۹)
قلت الیس ان الاحضار والاخبار کلیھما بیدہ فان الشھود لایحضرون مالم یحضروا ولایعلم القاضی ان لہ بینۃ فی المصر مالم یخبر  فالامکان حاصل لاشک اما اولا فلان الیمین مطلقۃ فلایضرھا انتفاء تصور البر فیما بعد وامّا ثانیا فلانہ متصور اما فی الشھود فلما ذکرنا واما فی الاقرار فلان من اقر عند الطالب لایجب ان یقر عندالقاضی فلعلہ اذااجرالیہ انکر فیحلفہ فالتصور حاصل قطعا فلاسقوط الاللتقید العرفی اھ۱؎ ماکتبت علیہ ۔
قلت(میں کہتا ہوں) کیا گواہوں کو حاضر کرنا اور قاضی کو گواہوں کی موجودگی کی خبر دینا مدعی کے اختیار میں نہیں ہے؟ضرور اس کے اختیار میں ہے کیونکہ جب تک وہ گواہوں کو حاضر نہ کرے وہ پیش نہ ہوں گے اور یوں ہی جب تک وہ قاضی کوگواہوں کی موجودگی کی خبر نہ دے قاضی کو معلوم نہ ہوسکے گا کہ اسکے پاس گواہ ہیں، تو بہرصورت گواہوں کی موجودگی کے باوجود مدعی علیہ سے قسم لینے کا امکان قاضی کے ہاں باقی ہے، اولاً تو اسلئے کہ مذکورہ قسم مطلق ہے تو تاحال قسم پورا ہونا متصوّر نہ ہوتو اس کے لئے کچھ مضر نہیں ہے، اور ثانیاً اس لئے کہ قسم کا پورا ہونا ابھی ممکن ہے گواہوں کی موجودگی کی صورت میں تو ہم نے وجہ ذکرکردی، اور مدعی علیہ کے اقرار کی صورت میں اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ مدعی علیہ، مدعی کے پاس تو اقرار کرتا ہوتو پھر ضروری نہیں کہ وہ قاضی کی مجلس میں بھی اقرارکرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مدعی علیہ کو جب قاضی کے ہاں پیش کیا جائے تو وہ انکار کردے تو اس صورت میں قاضی کا اس سے قسم لینا متصور ہے تو معلوم ہوا کہ بہر صورت ابھی قسم کا تصوّر باقی ہے لہذا یہاں قسم کا سقوط صرف عرفی قید کی وجہ سے ہوگا نہ کہ حلف کا امکان ختم ہوجانے سے قسم کا سقوط ہوگا اس پر میرا حاشیہ ختم ہوا۔
 (۱؎ جدالممتار علی ردالمحتار)
ثمّ رأیت الامام ابابکر محمد بن ابی المفاخر بن عبدالرشیدالکرمانی ذکرہ فی جواہر الفتاوٰی کتاب الایمان، الباب الثانی فتاوی الامام جمال الدین البزدوی، فرأیتہ افاد فوائد منھا،التعلیل بدلالۃ الحال ملحقالہ بمسألۃ تحلیف الوالی لیعلمنہ بکل داعر ومنھا ان التقید بالانکار فی صورۃ الاقرار ومنھا ان فی سقوط الیمین بظھور الشھود خلافا وان الفتوی علی السقوط و ھذا نصہ رحمہ اﷲ تعالٰی رجل ادعی علی اٰخر کذا منا حنطۃ فانکر المدعی علیہ فحلفہ المدعی بطلاق امرأتہ ان یجرہ الی باب القاضی ویحلفہ علی ذٰلک ثم ان المدعی علیہ اقربما ادعی استغنی عن الیمین ویکون بارافی یمینہ لان الحلف علی ان یحلفہ مادام منکر افاذا اقرفات الانکار ولیس ھذا کما لو قال لاشربن الماء الذی فی ھذا الکوز فاریق الماء انہ یحنث لان الیمین ھناک علی الشراب ولم یشربہ وھٰھنا الیمین علی الانکار فلم تبق الیمین وصار کانہ حلف مع السلطان ان یعلمنہ بکل داعر دخل المدینۃ ثم عزل السلطان سقط یمینہ لانہ حلف علی ان یعلمہ مادام ھوالوالی فی البلد فکذٰلک ھنا بدلیل انہ لو حملہ الی القاضی لایحلفہ فاذالا فائدۃ فی حملہ الی القاضی ھکذاعہ ذکر، وھذا الجواب یوافق قول القاضی ابی الھیثم ویخالف قول القاضی الامام الصاعدی فانہ ذکر فی فتاواہ ھذاالمسألۃ الاانہ وضع المسألۃ ھکذاذکر مکان اعتراف المدعی علیہ انہ ظھر لہ شھود وقال القاضی الامام ابو الھیثم سقط یمینہ وقال الصاعدی لایسقط بل یقع طلاقہ فاذاجواب شیخنا جمال الدین وافق جواب القاضی ابی الھیثم وھو الصحیح وعلیہ الفتوی۱؎اھ۔
اس کے بعد میں نے امام ابوبکر محمد بن المفاخربن عبدالرشید کرمانی کو جواہر الفتاوی کی کتاب الایمان کے دوسرے باب۔ امام جمال الدین بزدوی کے فتاوی میں ذکر کرتے ہوئے پایا جس میں ان کو بہت سے فائدے ذکر کرتے ہوئے دیکھا، جن میں ایک فائدہ یہ کہ،والیئ شہرکا  کسی کو قسم دینا کہ وہ اسے ہر فسادی کی اطلاع دے گا، والے مسئلہ میں، قسم کا والی کی  ولایت باقی رہنے کی علت، دلالت حال کو بنایا۔ دوسرا فائدہ، مدعی کی قسم کا انکار سے مقید ہونا صرف مدعی علیہ کے اقرار کی صورت میں ہے گواہوں کی صورت میں نہیں(جیسا کہ اوپر بحث گزری)۔ تیسرا فائدہ گواہوں کی صورت میں قسم کا ساقط ہونا مختلف فیہ ہے جبکہ فتوی یہ ہے کہ ساقط ہوجائےگی۔ امام جمال الدین کی عبارت یوں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے پر دعوی کیا کہ اس کے ذمے ہماری اتنی گندم ہے تو مدعا علیہ نے انکار کردیا تو اس پر مدعی نے اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھائی کہ میں اس کو قاضی کے دربار میں پیش کرکے اس کو قسم دلاؤں گا، تو اس دھمکی کے بعد مدعا علیہ نے اس کے دعوی کا اقرار کرلیاتو اب قاضی کے پاس لے جاکر قسم دلانے کی ضرورت نہ ہوگی اور قسم کھانے والا مدعی اپنی قسم سے بری ہو جائے گا کیونکہ اس کی قسم دلانے کی قسم اس مدعاعلیہ کے انکار پر تھی، تو جب اس نے اقرار کرلیا تو انکار ختم ہوگیا۔ اور یہ معاملہ ایسا نہیں کہ کوئی قسم کھائے کہ میں اس کوزے کے پانی کو ضرور نوش کروں گا، تو قسم کے بعد کوزے کا پانی گرادیا گیا ہو، تو قسم ٹوٹ جائے گی، کیونکہ یہ قسم کوزے کے پانی کو پینے سے متعلق تھی تو وہ اسے پی نہ سکا لیکن یہاں قسم انکار پر مبنی تھی جو ختم ہوگیا، تو قسم بھی ختم ہوگئی، جیساکہ حاکمِ شہر کسی کو قسم دے کہ تو مجھے شہر میں داخل ہونے والےہر فسادی کی اطلاع دے گا، اس کے بعد وہ حاکم معزول ہوجائے تو اس کی دی ہوئی قسم بھی ختم ہوجائیگی، کیونکہ یہاں بھی قسم کا مطلب یہ تھا کہ میری ولایت جب تک ہے اس وقت تک اطلاع دینی ہوگی، تو یہاں بھی یہی صورت ہے کیونکہ مدعی اگر مدعٰی علیہ کو اب قاضی کے ہاں پیش کرے تو قاضی اس سے قسم نہ لے گا اس لئے اب قاضی کے ہاں لے جانے کا فائدہ نہ رہا، اس کو امام جمال الدین بزدوی نے یونہی ذکر فرمایا ہے، یہ امام جمال الدین بزدوی کا جواب قاضی ابوہیثم کے قول کے موافق ہے اور قاضی امام صاعدی کے قول کے مخالف ہے، کیونکہ امام صاعدی نے اس مسئلہ کو اپنے فتاوی میں ذکر کیا اور مدعیٰ علیہ کے اعتراف کی بجائے انہوں نے گواہوں کے موجود ہونے، کو ذکر کیا، جبکہ قاضی امام ابوہیثم نے کہا کہ قسم ساقط ہوجائے گی اور امام صاعدی نے کہا کہ قسم ساقط نہ ہوگی بلکہ گواہوں کے موجود پانے پر مدعی کے قسم کے مطابق اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی، تو جب ہمارے شیخ جمال الدین بزدوی کا جواب قاضی ابوہیثم کے جواب کے موافق ہے تو یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے،اھ۔(ت)
 (۱؎ جواہر الفتاوی     کتاب الایمان)
عہ : قولہ ھکذا ذکر ای الامام جمال الدین البزدوی ومن ھٰھنا الٰی اٰخر مانقلنا کلام الامام الکرمانی جامع تلک الفتاوی ۱۲منہ۔

اس کا قول یونہی ذکر کیا ہے یعنی امام جمال الدین بزدوی نے ذکر کیا ہے اور یہاں سے آخر تک جو عبارت ہم نے نقل کی ہے وہ امام کرمانی کا کلام ہے جو اس فتاوی کے جامع ہیں ۱۲منہ(ت)
Flag Counter