| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
شبہہ خامسہ: یمین بدلالت حال متقید شود اگرچہ در قال مقید نبود وازیں باب ست تقید بغرض تا آنکہ غرض راباآنکہ بنائے ایمان برونیست تخصیص دانستہ و تصریح فرمودہ اند کہ غرض در یمین نفزاید فاماعہ خصوص را شاید
عہ: مسودہ میں بیاض ہے۔
پانچواں شبہہ :کہ قسم حال کی دلالت سے مقید بن جاتی ہے، اگرچہ لفظوں میں وہ مطلق ہو اور اس کے ساتھ قید کا ذکر نہ ہو، اسی باب سے کلام کاغرض سے مقید ہونا ہے، اگرچہ قسموں کی بنیاد اغراض پرنہیں ہے تاہم اغراض میں تخصیص پیداکردیتی ہیں، چنانچہ فقہاءِ کرام نے یہ تصریح کی ہے کہ غرض قسم میں زیادتی پیدا نہیں کرتی لیکن تخصیص پیدا کرسکتی ہے،
در ردالمحتار ست فی تلخیص الجامع الکبیر وبالعرف یخص ولایزاد حتی خص الراس بما یکبس ولم یرد الملک فی تعلیق طلاق الاجنبیۃ بالدخول اھ ومعناہ ان اللفظ اذاکان عاما یجوز تخصیصہ بالعرف کما لو حلف لایأکل رأسا فانہ فی العرف اسم لما یکبس فی التنور ویباع فی الاسواق وھو راس الغنم دون رأس العصفور ونحوہ فالغرض العرفی یخصص عمومہ فاذا اطلق ینصرف الی المتعارف بخلاف الزیادۃ الخارجۃ عن اللفظ کما لو قال لاجنبیۃ ان دخلت الدار فانت طالق فانہ یلغو ولاتصح ارادۃ الملک ای ان دخلت وانت فی نکاحی وان کان ھو المتعارف لان ذٰلک غیر مذکور ودلالۃ العرف لاتاثیر لھا فی جعل غیر الملفوظ ملفوظا۱؎،
ردالمحتار میں ہے کہ جامع کبیر کی تخصیص میں مذکور ہے کہ عرف سے تخصیص ہوسکتی ہے لیکن زیادتی نہیں ہوسکتی حتی کہ کسی نے سری کے متعلق قسم کھائی تو اس سے وہ سری مراد ہوگی جس کو عرف میں آگ سے بھون کر کھایا جائے، اور اجنبی عورت کے متعلق کہا''اگر وہ گھر میں داخل ہوئی تو اسے طلاق ہے'' تو اس عورت کی ملکیتِ نکاح مراد نہیں ہوسکتی اھ،اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اگر لفظ عام ہوتو عرف کے ذریعہ اس کی تخصیص کی جاسکتی ہے جیساکہ جب کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ سری نہ کھاؤں گا، تو قسم میں اگرچہ سری عام اور مطلق مذکور ہے لیکن عرف میں وہی سری مراد ہوتی ہے جس کو بھونا جاسکے اور بازار میں فروخت کیا جائے اس لئے عرف میں سری سے مراد چڑیا وغیرہ کی سری مراد نہ ہوگی، تویہاں عرف نے سری میں تخصیص کردی توجب مطلق سری ذکر کی جائے گی تو عرفاً خاص ہی مراد ہوگی اس کے برخلاف ایسی زیادتی جو لفظو ں سے مذکور نہ ہو عرف کی وجہ سے وہ زیادتی پیدا نہیں ہوسکتی جیسے کوئی شخص اجنبی عورت کو کہے کہ ''اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے'' تو یہاں اگر وہ یہ مراد لے کہ گھر میں داخل ہوتے وقت میری منکوحہ ہوتو طلاق ہے، تو منکوحہ ہونا قسم کے الفاظ سے زائد چیز ہے، جس کو مراد نہیں لیا جاسکتا، اگرچہ عرف میں طلاق کے لئے منکوحہ ہونا ضروری ہے مگر عرف کلام میں غیر مذکور لفظ کو زائد نہیں کرسکتا اس لئے اجنبی عورت کے لئے یہ قسم لغو قرار پائے گی،
(۱؎ ردالمحتار باب الیمین فی الدخول والخروج داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۷۲)
ہمدران ست الغرض یصلح مخصصا لامزید۲؎ واگر تقییدات کہ بدلالت حال باغراض حالفین کردہ اند فروع آنہا را بر خوانیم دفتر باید،
اسی ردالمحتار میں ہے کہ عرف مخصص بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن زیادتی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حال کی دلالت سے قسموں کا اغراض سے مقید ہونا، اگر میں اس کی جزئیات کو ذکر کروں تو اس کےلئے دفتر چاہئے،
(۲؎ ردالمحتار باب الیمین فی الدخول والخروج داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۷۳)
بر دوسہ مثال منصوص فی المذہب اختیار کنیم:
(۱) والیئِ زید را سوگند داد کہ ہر مفسدے کہ بشہر بود مرا آگاہانی متقید باشد بزمان قیام ولایتش حالانکہ اینجا لفظے مثل اذن وغیرہ مفید تقیید اصلاً نیست مگر حال دال ست کہ عرفش تدارک اوست و ایں نباشد مگر بولایت لاجرم بادمقید شد در ہدایہ ست اذااستحلف الوالی رجلا لیعلمنہ بکل داعر دخل البلد فھذا علی حال ولایتہ خاصۃ لان المقصود منہ دفع شرہ او شر غیرہ بزجرہ فلایفید فائدتہ بعد زوال سلطنتہ۱؎،
تاہم مذہب میں منصوص دوتین مثالیں ذکر کررہا ہوں:
(۱) والی شہر نے زید کو قسم دی کہ شہر میں جو بھی شرپسند ہو مجھے اس کی اطلاع دے گا، تو اطلاع دینے کی یہ قسم اس والی کی ولایت کی مدت کے ساتھ مقید ہوگی حالانکہ لفظوں میں اس قید پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ مثلاً اجازت وغیرہ موجود نہیں مگر عام حال کی یہاں دلالت موجود ہے کہ قسم دینے کا عرف میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ حاکم اس اطلاع پر شرکا تدارک کرے اور یہ تدارک صرف ولایت سے ہوسکتا ہے تو لازماً یہ قسم ولایت کے زمانہ سے مقید ہوگی۔ ہدایہ میں ہے کہ جب والی نے ایک شخص کو قسم دی کہ تو مجھے شہر میں کسی فسادی کے داخل ہونے پر اطلاع دے گا۔ تو یہ قسم اس والی کی ولایت کے زمانہ سے مختص ہوگی کیونکہ والی کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس اطلاع پر شریر کو سزادے کر شر کاخاتمہ کرے، لہذا ولایت کے خاتمہ کے بعد اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہے،
(۱؎ ہدایہ کتاب الایمان مسائل متفرقہ مکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۴۸۶)
درفتح القدیراست ھذا التخصیص فی الزمان یثبت بدلالۃ الحال وھو العلم بان المقصود من ھذاالاستحلاف زجرہ بما یدفع شرہ او شر غیرہ بزجرہ وھذا لایتحقق الافی حال ولایتہ لانھا حال قدرتہ علی ذٰلک۲؎۔
فتح القدیر میں ہے کہ قسم کا زمانہ ولایت سے مختص ہونا دلالتِ حال کی وجہ سے ہے اور وہ یہ کہ اس قسم دینے کا مقصد شریر کو سزادے کر اس کے یاغیر کے شرکو ختم کرنا ہے جبکہ یہ مقصد اس والی کی ولایت سے حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ ولایت کی وجہ سے وہ اس مقصد پر قادر ہوتا ہے(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الایمان نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۶۸)
(۲) ہر مدیون خود کہ از دین منکر بود و دائن گواہان نداشت سوگند خورد ترابدر قاضی کشم و حلف گیرم مدیون اعتراف کردیا دائن راگواہان بدست آمد ندیمین ساقط شود کہ بدلالت حال متقید بحال انکار وعدم وجدان شہود بود۔