Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
143 - 175
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول فیہ ان الحیاۃ عرض لاتبقی زمانین فالحیاۃ التی بعد الحلف غیرالتی کانت عند الحلف والجواب ان مبنی الایمان علی العرف واھل العرف یعدونھا واحدۃ مستمترۃ والمعادۃ غیرھا۔
اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر یہ حاشیہ لکھا جس کی عبارت یوں ہے اقول(میں کہتا ہوں)اس کلام میں بحث ہے کہ حیات جب عرض ہے تووہ دوزمانوں میں باقی نہیں رہ سکتی تواس سے لازم آئیگا کہ حلف کے بعد والی حیات بھی حلف کے وقت والی حیات کا غیر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قسموں کی بنیاد عرف پر ہوتی ہے تو عرف والے لوگ مختلف اوقات کی حیات کو ایک ہی جاریہ حیات قرار دیتے ہیں لیکن موت کے بعد والی حیات کو پہلی حیات کے مغایر قرار دیتے ہیں۔
اقول لکن لقائل ان یقول لانظر فی الحلف الی تلک الحیاۃ خصوصھا بل الی تسلیم زمانہ فی ھذاالامر الاباذنہ مثلا والشخص لایتبدل بتبدل الحیاۃ بدلیل الحشر والعقد فی تلک الحیوٰۃ غیر العقد علی تلک الحیاۃ والاذن وان لم یکن الامن حی فلایستلزم ذٰلک عقد الحلف علی تلک الحیاۃ بعینھا الاتری ان الاذن لایمکن ایضا الامن عاقل ولوجُنّ فلان لایسقط الیمین لاحتمال ان یعود عقلہ والمسألۃ منصوص علیھا واکبر ظنی انھا فی الخانیۃ بل ھو فیھا اذقال فی فصل فی الخروج ثلثۃ حلفوارجلاان لایخرج من بخارا الاباذنھم فجن احدھم وخرج الحالف باذن الاٰخرین حنث وان مات احدھم فخرج لایحنث لان الیمین تقیدت باذنھم وقد فات اذنھم بموت احدھم فلایبقی الیمین وفی الوجہ الاول لم یقع الیأس عن اذنھم۱؎اھ
اقول(میں کہتاہوں) لیکن یہاں اعتراض ہوسکتا ہے کہ قسم میں خاص اس زندگی کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ یہاں یہ بات پیشِ نظر ہوتی ہے کہ قسم کھانے والے کو زمانہ اگر یہ موقعہ دے کہ مثلاً وہ فلاں  سے بات کرسکے تو وہ اسکی اجازت کے بغیر نہ کرے گا، جبکہ حیات کی تبدیلی سے شخص تبدیل نہیں ہوتا کیونکہ مرنے کے بعد حشر میں وہی شخص ہوتا ہوگا تو اس زندگی  میں قسم کھانے کا یہ مطلب نہیں کہ اسی زندگی پر حلف کادارمدار ہے، اجازت کا تعلق اگرچہ زندہ سے ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حلف کا تعلق خاص اسی زندگی سے ہو، دیکھئے اجازت صرف عقل والے سے ہی متصور ہوسکتی ہے لیکن فلاں عاقل اگر عقل کھوبیٹھے اور اس پر جنون طاری ہوجائے تو اس کے باوجود قسم ساقط نہیں ہوتی کیونکہ عقل کے بحال ہونے کا احتمال ابھی باقی ہے، یہ عقل والا مسئلہ کتب میں مذکور ہے جبکہ میرا غالب گمان ہے کہ یہ مسئلہ خانیہ میں ہے بلکہ یقینا اس میں ہے، جہاں انہوں نے فصل فی الخروج میں یہ ذکر کیا ہے کہ تین حضرات نے ایک شخص کو یہ قسم دی کہ وہ ان تینوں کی اجازت کے بغیر بخارا سے باہر نہ جائے گا اس کے بعد ان تینوں میں سے ایک مجنون ہوگیا اور باقی دو کی اجازت سے باہر چلاگیا قسم ٹوٹ جائے گی لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک فوت ہوجائے تو قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ قسم تینوں کی مشترکہ اجازت سے مشروط تھی تو ایک کے فوت ہوجانے سے وہ شرط ختم ہوجائے گی اور قسم باقی نہ رہے گی، اور پہلی جنون والی صورت میں عقل بحال ہونے کے امکان کی وجہ سے مشترکہ اجازت سے مایوسی نہیں پائی جاتی اھ۔
 (۱؎ فتاوی قاضی خاں     کتاب الایمان     فصل فی الخروج     نولکشور لکھنؤ     ۲ /۳۱۶)
ثمّ اقول یختلج ببالی ان لو قیل ان الموقتۃ اذاکانت علی امریمکن عادۃ فشرط بقاءھا تصور البر عادۃ  لامجرد احتمال عقلی لحصل الجواب عن ھذاویؤمی الیہ قول الخانیۃ لم یقع الیأس فانہ یفید ان لو وقع الیأس سقط الیمین ولاشک ان المستحیل عادۃ مایوس عنہ و قد قال فی الفتح فی مسئلۃ من حلف لیصعد السماء اولیقلبنّ ھذاالحجر ذھبا ان العجز ثابت عادۃ فلابرّفی زوالہ۱؎ اھ وھذاھو معنی الیاس وقد استشھد لھا فی الھدایۃ بما اذا مات الحالف فانہ یحنث مع احتمال اعادۃ الحیاۃ۲؎،
ثم اقول(میں پھر کہتاہوں کہ) اس اشکال کا جواب جو کہ میرے دل پر وارد ہوا ہے یوں ممکن ہے کہ قسم جب ایسی شرط سے مشروط ہو جس کا وقوع عادتاً ممکن تو اس کی بقاء کے لئے اس شرط کے عادتاً پائے جانے کا امکان ضروری ہے تاکہ قسم کا پورا ہونا متصور ہوسکے ورنہ محض عقلی احتمال کافی نہیں ہوگا، جبکہ خانیہ کا قول کہ''ابھی مایوسی نہیں ہوئی'' اس جواب کی صحت کی طرف اشارہ کررہا ہے کیونکہ ان کا یہ قول بتارہا ہے کہ اگر مایوسی ہوجائے تو قسم ساقط ہوجائیگی جبکہ مایوسی اسی چیز سے ہوتی جب وہ عادتاً محال ہو، اور فتح میں آسمان پر چھڑھنے اور اس پتھر کو سونے میں بدلنے کے متعلق قسم کے بیان میں فرمایا کہ اگرچہ آسمان پر چڑھنا اور پتّھر کا سونے میں بدل جانا عقلاً ممکن ہے لیکن عادتاً اس سے عجز ثابت ہے لہذا قسم ٹوٹ جائیگی کیونکہ ایسا کرنا عادتاً ممکن نہیں ہے اھ، مایوسی کا یہی معنیٰ ہے۔ اس پر ہدایہ میں یوں تائید ذکر کی ہے کہ اس صورت میں قسم کھانے والے کے فوت ہوجانے پر قسم باطل نہ ہوگی کیونکہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے،
 (۱؎ فتح القدیر     باب الیمین فی الاکل والشرب     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۱۶۔۴۱۵)

(۲؎ ہدایہ  باب الیمین فی الاکل والشرب    مکتبہ عربیہ کراچی    ۱ /۴۷۳)
قال فی الفتح فیثبت معہ احتمال ان یفعل المحلوف علیہ ولکن لم یعتبر ذٰلک الاحتمال بخلاف العادۃ فحکم بالحنث اجماعا۳؎الخ فتبین انہ لیس الوجہ مغائرۃ الحیاۃ المعادۃ للحیاۃ المعقود علیھا الحلف، والالم یتم الاستشھاد لکون العجز اذن عقلا کما قررہ المحقق الاعادۃ بخلاف صعود السماء وقلب الحجر ذھبا فاذن لیس النظر الاالی الیاس العادی وھو المقصود،
فتح القدیر میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے یوں فرمایا کہ اس امکان سے حلف والے کام کو کرنے کا احتمال ثابت ہورہا ہے مگر اس کے باوجود یہ احتمال معتبر نہیں کیونکہ یہ خلافِ عادت ہے اس لئے فوت ہوجانے پر بالاجماع قسم کے ٹوٹ جانے کا حکم ہوگا الخ تو اس بیان سے واضح ہوگیا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے میں قسم کے بحال نہ ہونے کی وجہ یہ نہیں  کہ دوبارہ زندگی پہلی زندگی کے مغایر ہے ورنہ ہدایہ اور فتح القدیر کا استشہاد تام نہ ہو گا کیو نکہ ان کا استشہاد عادی عجز پر تھا جبکہ دونوں زندگیوں کے مغایر ہوجانے پر عجزعقلی ہوجاتا ہے حالانکہ محقق صاحب فتح القدیر نے دوبارہ زندگی کے احتمال کو ثابت رکھا ہے ،اس کے برخلاف آسمان پر چڑھنے اور پتھر کے سونے میں تبدیل ہونے میں عقلی عجز نہیں  ہے بلکہ یہاں صرف عادی مایوسی ہے جو قسم کے ٹوٹ جانے میں مقصود ہے،
 (۳؎ فتح القدیر  باب الیمین فی الاکل والشرب مکتبہ نوریہ رضویہ     ۴ /۴۱۶)
اقول ویظھر لی توجیھہ ان من حلف علی محال عادی فقد عقد علی امکانہ العقلی فلم یکن شرط الانعقاد الاھذا امامن عقد الموقتۃ علی ممکن عادہ ثم استحال فلایبعد ان تبقی الیمین لان ھذا الامکان غیرالمعقود علیہ فلیتا مل ولیحرر، واﷲ تعالٰی اعلم اھ ماکتبت علیہ۔
اقول(میں کہتا ہوں) اس کی توجیہ مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس نے کسی عادی محال چیز جو کہ عقلی طور پرممکن ہو،پر قسم کھائی تو اس کی قسم کےلئے یہی عقلی امکان شرط ہوگا، لیکن جس نے کسی عادۃً ممکن چیز پر قسم کھائی اور وہ چیز قسم کے بعد عادۃً محال ہوجائے تو اس صورت میں قسم باقی نہ رہے گی کیونکہ اب صرف عقلی امکان باقی ہے جبکہ قسم اس امکان پر مبنی نہ تھی بلکہ وہ عادی امکان پر مبنی تھی جو باقی نہ رہا، غور کرنا اور معاملہ کو صاف کرنا چاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم، میراحاشیہ ختم ہوا۔(ت)
Flag Counter