Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
142 - 175
اقول وھذا احسن ما سمعناہ فی الباب وعلیہ التعویل ولااصغاء الی مازاد الناس من تھویل وقال وقیل من دون اصل اصیل واﷲ الھادی الٰی سواء السبیل ودر مسائل مذکورہ وجہ نہ آنست بلکہ آنجا تقیید ونفس بیان ست زیرا کہ بااذن مقید کردہ اندپس مخصوص باشد بزمانہ ولایت آنہا مراذن ومنع راوآں نیست مگر زمان قیام دین و کفالت ولہذا اگر کہ سلطان اسیرے راحلف دہند کہ بے اذن ملک ایشاں برون نرود متقید ماند بزمان بقائے سلطنتش تاآنکہ اگر اورامعزول کنند باز نشانند واسیر بے اذن او بیروں رود حانث نشود کہ یمین بزوال ملک منتہی شد وباز بہ عودش نکنند ہمچناں اگر شوہر زن یا مولیٰ غلام یا شہ یکے از رعایا را حلف دہد باخودسوگند خورد کہ بے اذن من بیروں نروی متقید ماند بزمان بقائے زوجیت وملک ملک تاآنکہ اگر زن را جدا کرد باز بزنے آورد یا غلام را فروخت باز خرید یا معزول باز منصوب شد ودریں ملک وملک حادث زن وغلام ورعیت بے اذن بیرون روند حنث روئے ننماید کہ ولایت اذن ہمیں تابقائے نکاح وملک وملک بود ودر حدوث تازہ یمین تازہ نکرد ولہذا اگر بے تقیید بودند کررست ولہذا اگر زن را گوید اگر بے اذن توزنے را بزنے می گیرم مطلقہ باشد یمین مطلقہ غیر مقیدہ باشد تا آنکہ اگر زن را نکاح بروں کردبا زنے بے اذن اولٰی بنکاح آورد مطلقہ شود زیرا کہ زن بزنے مالک اذن ومنع نمی شود پس دلیل تقیید منتفی شد واذن ومنع نمی شود پس دلیل تقیید منتفی شد واذ ن بر اذن لغوی محمول گشت نہ اذن شرعی واذن لغوی مقتصر بر بقائے زوجیت نیست آرے آں روز کہ آں زن میرد یمین منتہی شود کہ حالا او را صلاحیت اذن نماند،
اقول(میں کہتا ہوں کہ) یہ واقعہ اس بحث میں بہترین دلیل ہے جو ہم پرواضح ہوئی اور اسی پر اعتماد ہوناچاہئے اور اس پرلوگوں کی زائد باتوں اور بے اصل قیل وقال پر تو جہ نہ دی جائے، اور اﷲ تعالٰی ہی سیدھے راستے کی رہنمائی فرماتا ہے اور اس شبہ میں ذکر کردہ مسائل کی وجہ وہ نہیں جو شبہ کرنے والوں نے ظاہر کی، بلکہ وہاں قسم کی تقیید اور اس کابیان ہے کیونکہ انہوں نے وہاں اذن (اجازت) کے ساتھ مقید کرکے اس قسم کو اذن و منع کی ولایت کی مدت کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور ولایت کی یہ مدت صرف قرض وکفالت کے زمانہ تک ہے، اسی لئے اگر کوئی سلطان کسی قیدی کو قسم دے کہ تو میری اجازت کے بغیر میرے ملک سے باہر نہ جائے گا تو یہ قسم اس سلطان کی حکومت کی بقاکے ساتھ ہوتی ہے حتی کہ اگر اس سلطان کو معزول کردیں تو اب اگر قیدی اس کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر چلا جائے تو قیدی کی قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ وہ قسم سلطان کے معزول ہونے پر ختم ہوگئی، اوردوبارہ سلطان کے بحال ہونے سے قسم بحال نہ ہوگی، اسی طرح اگر خاوند کو یاآقا اپنے غلام کو یا بادشاہ اپنی رعیت میں سے کسی کو قسم دے یا وہ خود قسم کھائے کہ میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے، تو یہ قسم بھی بقاءِ زوجیت، بقاءِ ملک، بقاءِ مُلک کے ساتھ مقید ہوگی، حتی کہ اگر بیوی کو نکاح سے خارج کردیا اور اس کے بعد دوبارہ نکاح کیا یا مالک نے غلام کو فروخت کردیا اور دوبارہ خریدایا معزول شدہ کو دوبارہ بحال کردیا تو اس دوسری نئی زوجیت، ملک، مُلک میں، بیوی، غلام، رعیّت بغیر  اجازت کے باہر چلے جائیں تو حانث نہ ہوگا، کیونکہ ان لوگوں کو اذن واجازت کی ولایت اس وقت کی موجودہ ولایت تک تھی اور بعد میں دوبارہ نئی ولایت حاصل ہونے پر دوبارہ قسم بحال نہ ہوگی، لہذا اگر بیوی کو باہر جانے سے روکنے کےلئے بیوی کو قسم دی یا خود قسم کھائی جس میں اجازت کی قید کا ذکرنہیں ہے، اس لئے اگر بیوی کو کہا کہ میں تیری اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہوگی تویہ قسم مطلق اور بغیر قید ہوگی، حتی کہ اگر پہلی بیوی کو نکاح سے خارج بھی کردے تب بھی اس کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرنے پر دوسری کو طلاق ہوجائیگی کیونکہ بیوی دوسری عورت سے نکاح کوروکنے اور اجازت دینے کی مالک نہیں بن سکتی، اس لئے اس صورت میں اجازت کا ذکر ہونے کے باوجود وہ قید نہ ہوگی اور یہ بیوی کی اجازت لغوی معنی میں ہوگی شرعی معنی میں اجازت مراد نہ ہوگی، اور لغوی اجازت بقائے نکاح پر موقوف نہ ہوگی اور نکاح ختم ہونے کے بعد بھی پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہوگی، ہاں جس روز وہ فوت ہوجائے گی تو قسم ختم ہوجائے گی کیونکہ اب اجازت دینے کی صلاحیت نہ رہی تو اب قسم پوری ہونے کا احتمال ختم ہوجانے پر اجازت سے مشروط قسم بھی ختم ہوجائیگی۔
دردرمختار بعد عبارت مذکورہ فرمود
لو قال لھا ان خرجت من ھذہ الدار الا باذنی فانت طالق ثلثا فطلقھا بائنا فخرجت بغیر اذنہ لایحنث لان یمینہ تقیدت بحال تمام ولایۃ المنع عن الخروج وولایۃ المنع تزول بالطلاق البائن وھو کالسلطان اذاحلف رجلا ان لایخرج من البلدۃ الا باذنہ فعزل السلطان ثم خرج الحالف لایحنث (ومعہ عہ مسئلۃ الکفیل المذکورۃ ثم قال) ولوان الحالف تزوج المرأۃ بعد ماابانھا فخرجت بغیر اذنہ لاتطلق لان الیمین بطلت بالابانۃ فلاتعود بعد ذٰلک،
عہ :مسودہ میں بیاض ہے۔
درمختار میں مذکورہ عبارت کے بعد فرمایا کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر باہر نکلی تو تجھے تین طلاق ہوں گی ،اس کے بعد خاوند نے اس کو طلاق بائنہ دے دی اور وہ خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نکل گئی تو قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ بائنہ طلاق کی وجہ سے اب خاوند کو اجازت کا اختیار ختم ہوگیا جبکہ یہ قسم بیوی کو باہر نکلنے سے منع کرنے کی ولایت اور اختیار سے مقید تھی اور یہ اختیار نکاح کے باقی رہنے تک تھا جو نکاح ختم ہوجانے پر ختم ہوگیا______________جیسا کہ کسی حکمران نے کسی کو قسم دی کہ تو میری اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائے گا، اب اگر وہ شخص حکمران کے معزول ہوجانے پر شہر سے باہر اس کی اجازت کے بغیر نکل جائے تو قسم نہ ٹوٹے گی(اس کے ساتھ انہوں نے کفالت مذکورہ کا مسئلہ بھی بیان کیا اور پھر فرمایا) اگر مذکورہ قسم اٹھانے والے خاوند نے مذکورہ بائنہ بیوی سے دوبارہ نکاح کیا تو اب اگر بیوی اس کی اجازت کے بغیر باہر جائے تو اب طلاق نہ ہوگی کیونکہ وہ حلف بیوی بائنہ ہوجانے پر باطل ہوگیا اور دوبارہ نکاح سے وہ حلف بحال نہ ہوگا،
وذکر فی اسیر اھل الحرب اذا حلفوا لاسیر ان لایخرج الاباذن ملکھم فعزل الملک ثم عاد ملک فخرج الاسیر بغیراذنہ لایحنث وکذا لو قال الرجل لعبدہ ان خرجت بغیراذنی فانت حرفباعہ ثم اشتراہ فخرج بغیراذنہ لایعتق
درمختار نے اہلِ حرب کے قیدی کے متعلق ذکر کیا کہ اس کو قید کرتے ہوئے انہوں نے یہ قسم دی کہ توحاکم کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گا تو اس حاکم کے معزول ہونے کے بعد دوبارہ بحال ہونے پر وہ قیدی اس حاکم کی اجازت کے بغیر باہر نکلاتو حانث نہ ہوگا یعنی قسم نہ ٹوٹے گی، اور یونہی اگر مالک نے اپنے غلام کو کہا کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر باہر نکلے تو تو آزاد ہے، اب مالک نے اس غلام کو فروخت کردیا اور پھر دوبارہ خریدا تو تو اب غلام مالک کی اجازت کے بغیر باہر نکلا تو آزاد نہ ہوگا۔
در تبیین الحقائق و فتح القدیر ست
وھذا لفظ الفتح یتقید بحال قیام الدین والکفالۃ لان الاذن انما یصح ممن لہ ولایۃ المنع وکذا الاتخرج امرأتہ الا باذنہ بقیام الزوجیۃ بخلاف ما لو حلف لا تخرج امرأتہ  من الدارفانہ لایتقید بہ، اذلم یذکر الاذن فلاموجب لتقییدہ بزمان الولایۃ فی الاذن و کذاالحال فی حلفہ علی العبد مطلقا ومقیدا وعلی ھذالوقال لامرأتہ کل امرأۃ اتزوجھا بغیر اذنک طالق فطلق امرأتہ طلاقا بائنا او ثلثا ثم تزوج بغیر اذنھا طلقت لانہ لم تتقید ببقاء النکاح لانھا انما تقیدبہ لوکانت المرأۃ تستفید ولایۃ الاذن والمنع بعقد النکاح۱؎،
تبیین الحقائق اور فتح القدیر میں ہے، یہ عبارت فتح القدیر کی ہے کہ قسم قرض اور کفالت کی بقاء سے مقید ہوگی کیونکہ اجازت تب متصور ہوسکتی جبکہ اس کو روکنے کی ولایت حاصل ہو اور یہ ولایت قرض اور کفالت تک ہوتی ہے اور یونہی خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو میری اجازت کے بغیر نہ نکلے گی تو یہ قسم اس زوجیت کے وجود سے مقید ہوگی، اس کے برخلاف اگر خاوند یوں کہے کہ میری بیوی گھر سے باہر نہ نکلے گی، تواس قسم میں اجازت کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے یہ قسم زوجیت کی بقاء سے مقیّد نہ ہوگی کیونکہ زوجیت کی ضرورت اجازت کی ولایت کے لئے تھی،اور یوں ہی غلام کے بارے میں اجازت سے مقید قسم اور غیر مقید قسم کا حال ہے، اسی قاعدہ کی بناء پر، اگر کسی نے اپنی بیوی کوکہا کہ میں جس عورت سے تیری اجازت کے بغیر نکاح کروں تواس عورت کوطلاق ہوگی، اس کے بعد اس نے اپنی بیوی کوبائنہ یا مغلظہ طلاق دے دی پھر کسی عورت سے پہلی مطلقہ بیوی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تواس عورت کوطلاق ہوجائے گی اور یہ قسم بقائے زوجیت  پر موقوف نہ ہو گی کیونکہ بیوی کو نکاح سے روکنے یا اجازت دینے کی ولایت نہیں ہو تی  (لہذا قسم میں مذکور اجازت کےلئے ولایتِ اجازت ضروری نہ تھی۔ لہذا نکاح ختم ہونے سے اجازت کی شرط ختم ہوگی)
(۱؎ فتح القدیر     کتاب الایمان     مسائل متفرقہ     نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۴۶۸)
در ہدایہ وفتح فرمایند
لوقال ان کلمت فلانا الاان یقدم فلان او یاذن فلان ومات فلان سقط الیمین لان الممنوع منہ کلام ینتھی المنع منہ بالاذن والقدوم ولم یبق الاذن والقدوم بعد الموت متصور الوجود وبقاء تصوّرۃ شرط بقاء الموقتۃ عند ابی حنیفۃ ومحمد وھذہ الیمین موقتۃ بوقت الاذن والقدوم اذبھما یتمکن من البر اذیتمکن من الکلام بلاحنث فیسقط بسقوط تصور البراھ۱؎ملخصاً مخلوطا
ہدایہ اور فتح القدیر میں فرماتے ہیں، اگر کسی نے کہا اگر فلاں سے اس کی اجازت یا اس کی آمد کے بغیر بات کروں تویہ ہوجائے، اس کے بعد وہ فلاں فوت ہوجائے توقسم ختم ہوجائے گی کیونکہ اس سے کلام کی ممانعت کا اختتام اس کی اجازت یا آمد پر موقوف تھا جبکہ اس کی موت سے اجازت اور آمد کا تصور ختم ہوگیا، کیونکہ جب قسم کسی چیز سے مشروط ہوتواس شرط کا متصور ہونا اس قسم کی بقاء کے لئے امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیک ضروری ہے چونکہ یہ قسم اس فلاں کی اجازت یا آمد سے مشروط ہے تواس شرط کے وجود سے قسم پوری ہوسکے گی توجب شرط کے وجود کے بغیر کلام کرنے پر حانث ہونے کا احتمال ختم ہوگیا توقسم پورا ہونے کااحتمال بھی ختم ہوگیا لہذا یہ قسم باطل ہوجائے گی اھ ملخصاً،
(۱؎ فتح القدیر     کتاب الایمان     باب الیمین فی الکلام     نوریہ رضویہ سکھر     ۴ /۲۴۔۴۲۲)
قال فی الفتح فان قیل لانسلم عدم تصور البر بموتہ لانہ سبحٰنہ وتعالٰی قادر علی اعادۃ فلان فیمکن ان یقدم ویاذن فالجواب ان الحیاۃ المعادۃ غیر الحیاۃ المحلوف علی اذنہ فیھا وقدومہ وھی الحیاۃ القائمۃ حالۃ الحلف لان تلک عرض تلاشی لایمکن اعادتھا بعینھا وان اعیدت الروح فان الحیاۃ غیرالروح لانہ امر لازم للروح فیمالہ روح۲؎اھ۔
فتح القدیر میں مزید فرمایا کہ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس فلاں کی موت سے شرط کے وجود کا احتمال ختم ہوجانا ناقابلِ تسلیم نہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی قادر ہے کہ اس کودوبارہ زندہ کردے اور وہ زندہ ہوکر اجازت دے یا آجائے،تواس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کی حیات اس حیات کا غیر ہے جس حیات سے اجازت یا آمد کی قسم کھائی تھی اور قسم والی یہ حیات وہ ہے جوقسم کے وقت تھی، کیونکہ حیات ایک ایسا عارضہ ہے جس کوبعینہ واپس لانا ممکن نہیں اگرچہ روح واپس ہوجائے کہ روح اور حیات آپس میں ایک دوسرے کے مغایر ہیں کیونکہ حیات، روح والی چیز کی روح کا لازم ہے نہ کہ وہ روح ہے اھ(ت)
 (۲؎ فتح القدیر     کتاب الایمان     باب الیمین فی الکلام     نوریہ رضویہ سکھر     ۴ /۴۲۴)
Flag Counter