فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
141 - 175
شبہہ رابعہ: دریمین زوال سبب زوال یمین ست گو در لفظ مذکور مباش ولہذا اگر دائن مدیون یا کفیل را یا کفیل بالنفس مکفول عنہ یا کفیل بالامر اصیل را سوگند دہد بے اذنِ من بیرون شہر نروی ودین ادا شد یا کفالت نماند یمین منتہی شودکہ باعث برونبود مگر دین وکفالت پس بزوالش زائل شود در ہندیہ از محیط ست حلف صاحب الدین مدیونہ ان لایخرج من البلدۃ الاباذنہ فالیمین مقیدۃ بحال قیام الدین۲؎
چوتھا شبہہ: یہ کہ، قسم کے سبب کے ختم ہوجانے پر قسم بھی ختم ہوجاتی اگرچہ وہ سبب قسم میں مذکور نہ ہو، لہذااگر قرض خواہ اپنے مقروض کو یا اس کے کفیل کو یا نفس کا کفیل اپنے مکفول عنہ کو یا کفیل بالامر اپنے اصیل یعنی اصل ذمہ دارکو قسم دے کہ تو میری اجازت کے بغیرشہر سے باہر مت جائے گا، تو اس قسم کا سبب قرضہ یا کفالت ختم ہوجائے تو یہ قسم بھی ختم ہوجائے گی۔ ہندیہ میں محیط سے منقول ہے کہ قرض خواہ نے مقروض کو قسم دی کہ تومیری اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائے گا تو یہ قسم قرض کی بقاء سے مقید ہوگی کہ جب تک قرض ہے قسم باقی رہے گی ورنہ قرض ختم ہوجانے پر یہ قسم بھی ختم ہوجائے گی۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ)
درخانیہ فرماید
الکفیل بالنفس اذا حلّف الاصیل ان لایخرج من البلدۃ الاباذنہ فقضی الاصیل دین الطالب ثم خرج الحالف بعد ذٰلک لایحنث۱؎
خانیہ میں ہے کفیل بالنفس یعنی کسی شخص کو حاضر کرنے کا ضامن، اپنے اصل ذمہ دار کو قسم دے کہ تو میری اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائے گا، تو جب اصیل نے قرض والے کا قرض ادا کردیا تو پھر وہ اس کی اجازت کے بغیر شہر سے باہر گیا تو قسم نہ ٹوٹے گی۔
(۱؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الایمان فصل فی الخروج نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۱۵)
درتنویر فرمود
حلف رب الدین غریمہ او الکفیل بامرالمکفول عنہ ان لایخرج من البلد الاباذنہ تقید بالخروج حال قیام الدین بالکفالۃ۲؎
وپیدااست کہ ایں جا سبب یمین ہمیں خشم وناراضی ست چوں برضا بدل شد سبب نماند ومسبب رفت،
تنویر میں فرمایا کہ اگر قرض خواہ نے مقروض کو یا کسی معاملے کے ضامن نے اپنے مکفول کو قسم دی کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گا تو نکلنے کے متعلق یہ قسم قرض کی بقاء اور کفالت کی بقاء سے مقید ہوگی کہ قرض و کفالت ختم ہوجائے تو یہ قسم بھی ختم ہوجائے گی، تو مذکورہ بیان سے واضح ہوگیا کہ زیر بحث مسئلہ میں قسم کا سبب بیٹے پر باپ کی ناراضگی اور غصہ ہے تو جب یہ غصہ و ناراضگی رضا میں بدل گئی تو یہ سبب ختم ہوگیا تو مسبب یعنی بیوی کے متعلق طلاق کی قسم بھی ختم ہوگئی،
اقول چناں نیست نہ ہیچ کس باوقائل ورنہ عامہ ایمان عامہ کہ مبتنی برخشم وناچاقی وغضب ونااتفاقی باشد بفلاں سخن نکند، ورویش نہ بیند بخانہ اش نہ رود وبخانہ اش راہ نہ دہد، اوراصد چوب زند چنیں کند، چناں کند، ورنہ زن طلاقہ شود وغیرذٰلک ہزاراں ھزار سوگند ھمہ بمجرد زوال خشم برباد رفتے وبے حنث وکفارہ ولزوم ہیچ جزا باطل شدے واصلاً احتیاج احتیال بر اثر بر نماندے آیا ہیچکس بجہاں قائل ایں قول شنیدہ، ائمہ کرام در ایمان مذکور بصورتہائے گو نا گوں وتفریعات بو قلموں بہ نقیر و قطمیر سخن فرمودہ وبہر پہلوئے آنہا موج موج تحقیاتِ رفیعہ وفوج فوج تنقیحات بدیعہ نمودہ فاما ہیچگاہ ہیچ جابہ ہیچ کتاب نگفتہ اند کہ ایں ہمہ برودمات تابقائے خشم ست چوں رضا آمد سوگند سپری شد و جملہ احکام نظری تا آنکہ اگر کسے سوگند خورد کہ اگر بازید سخن کند زن سہ طلاقہ ست بازمی خواہد کہ بااوسخن گوید چہ بایدش کرد کہ طلاق مغلظ واقع نشود اور ا فرمودہ اند کہ زن رایک طلاق بائن دہد وبگزارد تا از عدت برآید باز بازید سخن راند جزا فرود آید ومحل نیابد وبے اثر رود باز بازن نکاح کندوبازید ہمکلام ماندد گر طلاق نیفتد کہ یمین بیکبار منحل شد۔
اقول(میں کہتا ہوں) ایسا ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کا قائل ہے ورنہ عام قسمیں جو غصہ اور ناراضگی، نااتفاقی پر مبنی ہوتی ہیں، مثلاً فلاں سے بات نہ کروں گا، فلاں کی شکل نہ دیکھوں گا، فلاں کے گھر نہ جاؤں گا، فلاں کو گھر کی راہ نہ دوں گا، فلاں کو ایک سو چھڑی ماروں گا، اگر ایسا کروں تو یہ ہوجائے یا وہ جائے، یا بیوی کو طلاق ہوجائے وغیرہ، تولازم آئے گا کہ ہزار ہا قسمیں غصہ ختم ہوجانے پر برباد ہوجائیں اور بغیر کفارہ اور بغیر حانث ہوئے ختم ہوکر رہ جائیں، اور ان قسموں پر کوئی جزا لاگو نہ ہو اور ان قسموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اصلاً کسی حیلہ کی ضرورت پیش نہ آئے، اور ایسی قسموں کاکوئی اثر نہ رہے، کیاآپ نے دنیا میں کبھی کسی سے یہ بات سنی ہے، حالانکہ ائمہ کرام نے ان مذکورہ قسموں کی بابت گوناگوں بحثیں کی ہیں اور طرح طرح کی تفریعات بیان کی ہیں، اور ان کے متعلق ہر پہلو سے بلند تحقیقات اور عجیب تنقیحات کے دریا بہادئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی کسی جگہ کسی کتاب میں یہ بات نہ فرمائی کہ یہ تمام قسمیں غصہ تک ہیں جب غصہ ختم ہوجائے اور رضامندی ہوجائے تو قسمیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں، اوران کے تمام غور وخوض پر مبنی احکام محض تکلّف بن کر رہ جائیں، مثلاً اگر کسی نے قسم کھائی کہ اگر زید سے بات کروں تو بیوی کو تین طلاقیں ہیں، پھر یہ قسم کھانے والا زید سے بات کرنا چاہتا ہے تو کیا کیا جائے کیونکہ بات کرنے پر بیوی کوتین طلاقیں پڑتی ہیں اور کیا صورت ہو کہ بات کرلے اور تین طلاقیں نہ پڑیں، تو ایسے شخص کوان فقہاء کرام نے فرمایا کہ یہ شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق بائنہ دے دے تو اس کی عدت پوری ہونے کے بعد زید سے بات کرے تو اب اس پر جزایعنی طلاق وارد ہوگی لیکن اس وقت بیوی بائنہ ہوجانے کی وجہ سے طلاق کا محل نہ رہے گی، کیونکہ ایک دفعہ قسم ٹوٹ چکی ہے اور ختم ہوچکی ہے۔
در سراجیہ باز ہندیہ فرمود
اذاحلف بثلث تطلیقات ان لایکلم فلانا فالسبیل ان یطلقھا واحدۃ بائنۃ ویدعھاحتی تنقضی عدتھا ثم یتکلم فلانا ثم یتزوجھا۱؎اینہمہ تکلفات چراست چرانگفتند کہ چوں آں خشم رفت وباہم مصالحت شد سوگند خود باطل گشت،
سراجیہ پھر ہندیہ میں فرمایا کہ جب کسی نے تین طلاقوں کی قسم کھاکر کہا میں فلاں سے بات نہ کروں گا، تو اس کےلئے تین طلاقوں سے بچنے کی سبیل یہ ہے کہ بیوی کو پہلے ایک بائنہ طلاق دے دے اور اس کی عدت گزرجائے تو پھر اس فلاں سے بات کرے اور اس کے بعد دوبارہ بیوی سے نکاح کرلے، تو ان فقہاء نے اس قسم کے تکلفات کیوں فرمائے اور یہ کیوں نہ فرمادیا کہ یہ غصہ اور ناراضگی کی قسم تھی تو غصہ وناراضگی ختم ہوگئی اور مصالحت ہوگئی تو قسم خود بخود ختم ہوگئی،
(۱؎ فتاوی ہندیہ کتاب الحیل الفصل السابع فی الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳۹۷)
واین ست نبی اﷲ سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام در ایام بلازوجہ مقدسہ اش رحمہ بنت آفرائیم یا میشا بن یوسف بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم بمزدوری ومحنت نان پیدا کردے وبرائے نبی اﷲ آوردے روزے نان بسیار ے آورد نبی اﷲ گمان برد مباد امال کسے بخیانت گرفت خشم کردسوگند خورد صد چوب زند باوخشم رفت وباعلام الٰہی براتِ خاتون ظاہر گشت فاما یمین برجاماند تا آنکہ حضرت عزّت جل جلالہ راہ خلاص ازاں تعلیم فرمود کہ
خذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولاتحنث۱؎
دستہ بدست گیرد زن را زن وسوگند مشکن پیداشد کہ بزوال حامل وانتفائے سبب یمین باطل نشود ،
دیکھئے حضرت سیدنا ایوب علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام اﷲ تعالٰی کے پیارے نبی ہیں کہ آزمائش وابتلاء کے دور میں آپ کی پاکیزہ بیوی جن کا نام رحمہ بنت آفرائیم، یا میشا بنت یوسف بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام تھا، وہ آپ کےلئے محنت ومزدوری کرکے خوراک مہیّا فرماتی تھیں، ایک دن انہوں نے حضرت ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں زیادہ کھانا پیش کیا تو حضرت ایوب علیہ السلام کو گمان ہوا کہ شاید وہ کسی کا مال خیانت کے ذریعہ حاصل کرلائی ہیں اس پر آپ کو غصہ آیا تو آپ نے قسم کھائی کہ اس کو ایک سو چھڑی ماروں گا، اس کے بعد اﷲ تعالٰی کی طرف سے بیوی کی برأت معلوم ہوئی تو آپ کا غصہ ختم ہوا مگر قسم باقی تھی اسی لیے اللہ تعالی نے آپ کو اس قسم سے خلاصی کی تعلیم دی کہ سوچھڑیوں کا مٹّھا ہاتھ میں لے کر ایک دفعہ ماردیں اور قسم نہ توڑیں، تو اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ قسم کا سبب اور داعی ختم ہوجانے کے باوجودقسم باقی رہتی ہے اوراس کے خاتمہ سے قسم ختم نہیں ہوتی (قرآن پاک میں اس واقعہ کو اشارۃً بیان فرمایا گیا)
(۱؎ القرآن الکریم ۳۸ /۴۴)
اخرج ابن المنذر عن سعید بن المسیّب رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلغہ ان ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام حلف لیضربن امرأتہ مائۃ فی ان جاءتہ فی زیادۃ علی ماکانت تأتی بہ من الخبز الذی کانت تعمل علیہ وخشی ان تکون قارفت من الخیانۃ فلما رحمہ اﷲ وکشف عنہ الضر علم براءۃ امرأتہ مما اتھمھا بہ فقال اﷲ عزوجل
ابن منذر نے سعید بن مسیّب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ سعید بن مسیّب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بیوی کو سو چھڑی مارنے کی قسم کھائی کہ بیوی محنت سے روٹی مہیا کرتی تھیں ایک روز اس نے زائد روٹی آپ کی خدمت میں پیش کی جس پر آپ کو خطرہ محسوس ہواکہ ہوسکتا ہے کہ یہ زائد خوراک کسی کے مال میں خیانت کرکے لائی ہیں،تو جب اﷲ تعالٰی کی طرف سے آپ پر خاص رحمت کے ذریعہ تکلیف کی شدت ختم ہوئی اور بیوی کے بارے میں جو آپ کو شبہ تھا اس کی برأت معلوم ہوئی تو اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ آپ ایک مٹھا لے کر اپنے ہاتھ سے اس کو ماردیں اور قسم نہ توڑیں، تو آپ نے شاخوں کا ایک مُٹھا جو سو چھڑیوں کا مجموعہ تھا، لے کر اﷲ تعالٰی کے حکم کے مطابق بیوی کو مارا اھ۔(ت)
(۱؎ درمنثور بحوالہ ابن منذر تحت آیہ مذکورہ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۵ /۳۱۷)