| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
شبہہ ثانیہ: زن تابع است ولا حکم للتبع مع الاصل اقول عہ۴ لامرد للحقائق در صدور ترک تعرض از زن جائے سخن نیست سائل خود گوید کہ زن چیزے از لاونعم نہ گفت وہمیں قدر شرط حنث بود بیش ازیں درکار نیست آیا نہ بینی کہ در مکان غیرشرط برنہی بالقول داشتہ اند گوبخانہ آرندہ محلوف علیہ خود صاحبِ خانہ باش یادیگر آوردیا خود آمد وصاحب خانہ ہم معترض نہ شد لاطلاق حکم الکل فی جمیع الکتب بلکہ تصریح فرمودہ اند کہ امر عدمی بحالت اکراہ نیز موجب حنث شود چہ جائے رضا ولو تبعا، امام قاضی خاں فرماید الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل فرق و قا ل فی قولہ ان لم اخرج اذا منعہ مانع حنث وفی قولہ لااسکن اذا منعہ مانع عن الخروج لایحنث والفتوی علی قولہ لان فی قولہ لااسکن شرط الحنث السکنیٰ والفعل لایتحقق بدون الاختیار وفی قولہ ان لم اخرج شرط الحنث عدم الخروج والعدم یتحقق بدون الاختیار۱؎۔
عہ۴ :مسودہ میں بیاض ہے۔
دوسرا شبہہ: یہ کہ، بیوی مرد کے تابع ہے تو اصل کی موجودگی میں تابع پر حکم نہیں ہوتا، اقول (میں کہتا ہوں کہ) حقائق کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ بیٹے سے تعرض نہ کرنا، بیوی سے اس کے صادر ہونے میں شبہہ نہیں ہوسکتا کیونکہ سائل نے خود کہا ہے کہ بیوی نے اس موقعہ پر ہاں یانہ، کچھ نہ کہا، توحانث ہونے کےلئے بس یہی کافی ہے اس سے زیادہ کوئی ضرورت نہیں، صرف زبانی روکنا ہی کافی قرار دیا گیا ہے، جس کے بارے میں قسم کھائی ہے اس کو گھر لانے والا خود صاحبِ مکان ہو یا کوئی غیر ہو یا وہ خود آجائے اور گھر والا، آنے پر اعتراض نہ کرے، ہر صورت میں حانث ہوتا ہے کیونکہ تمام کتب میں ان جملہ صورتوں کاحکم مطلق رکھا گیا ہے بلکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عدمی امور میں جبر واکراہ کی صورت میں بھی حانث ہوجاتا ہے چہ جائیکہ رضامندی سے ہواگرچہ تبعاً ہی ہو۔ امام قاضی خاں فرماتے ہیں کہ شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل نے فرق کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی یوں قسم اٹھائے کہ''اگر میں نہ نکلوں تو'' اس قسم میں اگر کسی نے اس کو نکلنے سے منع کیا تب بھی حانث ہوگا، اگر یوں قسم کھائی کہ''میں یہاں رہائش نہ رکھوں تو'' اس قسم میں اگر کسی نے اس کو وہاں سے جانے اور نکلنے سے منع کیا تو قسم نہ ٹوٹے گی اور اس فرق والے قول پر فتوی ہے،کیونکہ میں یہاں رہائش نہ رکھوں گا، میں حانث ہونے کی شرط وہاں رہائش پذیر ہونا ہے اور یہ فعل ہے جبکہ کوئی فعل اختیار کے بغیر متحقق نہیں ہوتا، اور ''اگر نہ نکلوں تو'' کی صورت میں حانث ہونے کی شرط ، نہ نکلنا ہے جو کہ عدمی چیز ہے اور عدمی چیز اختیار کے بغیر بھی متحقق ہوجاتی ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الایمان فصل فی التزویج نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۹۶)
شبہہ ثالثہ :ایں جا داعی یمین صفت عقوق وہذا درپسر بود ویمین بزوال صفات داعیہ زائل شود کما فی لایاکل ھذا البسر فصار رطبااو الرطب فصارا تمرا۲؎ کمافی الھدایۃ وسائر الکتب،
تیسرا شبہہ: یہ کہ ، یہاں قسم کا سبب نافرمانی ہے اور نافرمانی بیٹے کی صفت تھی لہذا قسم کا سبب نافرمانی ختم ہوجانے پر قسم بھی ختم ہوجائے گی جیسا کہ کسی نے قسم کھائی کہ میں یہ بسر کھجور نہ کھاؤں گا تو اب وہ رُ طب ہوگئی یا قسم کھائی کہ یہ رُطب نہ کھاؤں گا تو اب وہ تمر بن گئی۔ ایسی صورت میں قسم ختم ہوجاتی ہے جیسا کہ ہدایہ اور دیگر کتب میں ہے،
(۲؎ الہدایہ باب الیمین فی الاکل والشرب المکتبۃ العربیہ کراچی ۲ /۴۶۷)
در عقود دریہ است
ھذہ صفات داعیۃ الی الیمین فتتقید بہ۳؎ ،
عقود الدریہ میں ہے کہ کھجور کی یہ صفات قسم کا سبب تھی تو قسم بھی ان صفات سے مقید قرار پائے گی لہذا یہ صفات تبدیل ہوگئیں تو قسم بھی باقی نہ رہے گی،
(۳؎ عقود الدریۃ کتاب الطلاق ومطالبہ حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان ۱ /۴۹)
در فتح القدیر فرمودالاصل ان المحلوف علیہ اذا کان بصفۃ داعیۃ الی الیمین تقید بہ فی المعرف والمنکر فاذازالت زال الیمین عنہ وما لاتصلح داعیۃ اعتبر فی المنکر دون المعرف۱؎۔
فتح القدیر میں فرمایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی وہ چیز اگر صفت رکھتی ہے جو قسم کا سبب بن سکتی ہے تو وہ قسم اس صفت سے مقید ہوگی خواہ وہ چیز معرفہ کے طور پر مذکور ہو یا نکرہ مذکور ہو تو جب وہ صفت ختم ہوجائے تو قسم بھی ختم ہوجائے گی اور اگر اس چیز کی صفت قسم کا سبب بننے والی نہ ہو تو پھر اس کو نکرہ ذکر کرنے پر قسم میں اس کی صفت کا اعتبار ہوگا معرفہ میں اعتبار نہ ہوگا۔
(۱؎ فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب المکتبۃ العربیۃ کراچی ۴ /۳۹۶)
اقول محلش آنجاست کہ در حلف آن صفت داعیہ را ذکرکردہ باشد اگرچہ در معرف اگرچہ بالاشارہ باآنکہ وصف در حاضر لغواست ولہذا الوحلف لایکلم ھذا الصبی فکلمہ شاباحنث اماداعی بود نش داعی اعتبارش میشود چنانکہ در ھذا البسر وھذاالرطب وھذااللبن الٰی غیرذٰلک ورنہ وصف ملحوظ رامدار بقائے یمین نتواں کرد کہ بنائے ایمان بر الفاظ ست نہ براغراض،
اقول(میں کہتا ہوں) اس قاعدہ کا محل وہ ہے جہاں قسم کا سبب بننے والی صفت کو قسم میں ذکر کیا گیا ہواگرچہ وہ معرفہ کے طور پر مذکور ہو خواہ معرفہ اشارہ سے بنایا گیا ہو کیونکہ اشارہ حاضر چیز کی طرف ہوتا ہے باوجود یکہ حاضرین میں صفت کا ذکر لغو قرار پاتا ہے، اسی لئے اگر قسم کھائی کہ میں اس بچے سے بات نہ کروں گا تو اگر اس سے جوانی میں بات کی تو تب بھی حانث ہوگا، تاہم وصف اگر قسم کا داعی ہوگا تو اس کے اعتبار کا بھی داعی ہوگا، جیساکہ یہ بسر اور یہ رطب وغیرہ میں اور یہ دودھ، وغیرہ میں یہ صفات قسم کا داعی ہونے کے ساتھ قسم میں بھی معتبر ہیں، اگر ایسا نہ ہوتو پھر وصف داعی بھی ہوتو غیر معتبر ہونے کی صورت میں اس کی بقاء قسم کی بقاء کے لئے مدار نہیں بن سکتی کیونکہ قسمیں الفاظ پر مبنی ہوتی ہیں اغراض پر مبنی نہیں ہوتیں،
در فتح القدیر فرمود من صور تخصیص الحال ان یقول لااکلم ھذاالرجل وھو قائم ونوی فی حال قیامہ فنیتہ لغو بخلاف مالو قال لا اکلم ھذاالرجل القائم فان نیتہ تعمل فیما بینہ وبین اﷲ تعالٰی۲؎پیدا ست کہ در دیانت صفت داعیہ وغیرداعیہ یکساں ست نیت خصوص باید امابے ذکر در لفظ نیت مجردہ دیانۃً نیز بکار نیامد تابقضا چہ رسد،
فتح القدیر میں فرمایا حال کی تخصیص کرنے کی صورت یوں ہے کہ ایک شخص کھڑا ہوتو کوئی اس کے بارے میں قسم کھائے کہ میں اس سے بات نہ کروں گا اور قسم میں اس کے کھڑے ہونے کی نیت کرے تو یہ نیت لغو ہوگی بخلاف جب یوں کہے کہ میں اس کھڑے شخص سے بات نہ کروں گا تو اس صورت میں قسم میں کھڑے ہونے کی نیت کا اعتبار عنداﷲ ہوسکتا ہے اس سے واضح ہواکہ دیانۃًیعنی عنداﷲ، میں وصف داعی اور غیر داعی دونوں یکساں ہیں اس لئے نیتِ تخصیص ضرور ی ہے لیکن وصف کو ذکر کئے بغیر محض نیت کرنا دیانت میں بھی کار آمد نہیں ہے تو قضاءً کیسے کار آمد ہوسکتی ہے،
(۲؎ فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۱۰)
ہمدران ست ان خرجت فعبدی حرونوی السفر مثلا یصدق دیانۃ فلایحنث بالخروج الٰی غیرہ تخصیصا لنفس الخروج مالونوی الخروج الٰی مکان خاص کبغداد حیث لایصح لان المکان غیر مذکور۱؎۔
اسی میں ہے اگر کوئی شخص کہتاہے کہ اگر میں باہر جاؤں تو میرا غلام آزاد ہے، اور باہر جانے سے سفر کی نیت کی تو اس کی تصدیق دیانۃً کی جاسکتی ہے کیونکہ باہر نکلنے کو سفر کے ساتھ خاص کیاہے تو یہ خروج مذکور کی تخصیص ہے لہذاکسی اور مقصد کےلئے باہر نکلے تو حانث نہ ہوگا، اس کے برخلاف اگر اس سے وہ کسی خاص جگہ مثلاً بغداد کے لئے نکلنا مراد لے تو یہ نیت صحیح نہ ہوگی کیونکہ قسم میں جگہ کا ذکر نہیں اس لئے جگہ کی تخصیص بھی معتبر نہیں ہے۔(ت)
( ۱؎ فتح القدیر باب الیمین فی الاکل والشرب نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۰۹)