Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
14 - 175
در عالمگیر یہ جلد دوم ص۵۹۹ :  

آوردالاصل ان الیمین متی عقدت علی عدم الفعل فی محلین ینظر فیھما الی شرط البروعند فوات شرط البریتعین الحنث۱؎(در ماسخن شرط البرفائت نشد پس حنث متحقق نشود ،
عالمگیریہ کی جلد دوم صفحہ ۵۹۹ میں ہے :  کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی فعل کے عدم پر جو دو محل میں ہوتو دونوں میں سے جس محل میں قسم پورا ہونے کی شرط پائی جائے اس کو پیش نظر رکھا جائے گا اور جب شرط فوت ہوتو پھر قسم کا ٹوٹنا متعین ہوگا، اس قاعدہ کی رو سے ہماری بحث میں قسم پورا ہونے والی موجود ہے وہ فوت نہیں اس لئے حنث یعنی قسم نہ ٹوٹے گی،
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ  الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذاوغیرہما نورانی کتب خانہ پشاور  ۱ /۴۲۹)
وایضا ھناک مسطور ولو قال ان لم تعطین ھذاالثوب ودخلت الدار لم یقع الطلاق حتی یجتمع امران دخول الداروعدم الاعطاوعدم الاعطاء انما یتحقق بموت احدھما او بھلاک الثوب۲؎
نیز اسی میں ہے اگر خاوند نے بیوی کو کہا''اگرتو مجھے یہ کپڑا نہ دے اور تو گھر میں ویسے ہی داخل ہوجائے تو تجھے طلاق ہے'' تو اس صورت میں اس وقت تک طلاق نہ ہوگی جب تک کپڑا نہ دینا اور گھر میں داخل ہونا نہ پایا جائے یعنی دونوں باتیں پائی جا ئیں تو طلاق ہوگی  ورنہ نہیں، جبکہ کپڑا نہ دینے والی بات خاوند یا بیوی میں سے کسی ایک کے مرنے یا اس کپڑے کے ختم ہوجانے تک باقی رہے گی اور قسم نہ ٹوٹے گی،
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذاوغیرہما     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۴۲۹)
وہمچنیں عدم الصلاۃ المطلقۃ قبیل موت زن مذکورہ متحقق تواں شد قبل آں نے وایضا فیہ ص۶۵۱  :
رجل قال لامرأتہ ان لم تصل الیوم رکعتین فانت طالق فحاضت قبل ان تشرع فی الصلاۃ او بعد ماصلت رکعۃ،حکی ان الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی انہ کان یقول ان کان وقت الحلف الی وقت الحیض مقدار ما یمکنھا ان تصلی رکعتین تنعقد الیمین عند الکل وتطلق۱؎دریں عبارت قید الیوم ورکعتین موجود ست ولہذا حکمش مغایر حکم مانحن فیہ شدفافترقتا ولاتشکوا
اسی طرح یہاں بھی نماز مطلقہ کا عدم، عورت کے مرنے سے تھوڑا پہلے تک باقی رہے گا اور قسم نہ ٹوٹے گی بلکہ عورت کے مرنے سے ایک گھڑی پہلے جب یہ نماز مطلقہ کے عدم کا احتمال ختم ہوجائے گاتب قسم ٹوٹے گی۔ نیز اسی کے صفحہ ۶۵۱ پر ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا''اگر تو آج نماز دو رکعتیں نہ پڑھے تو تجھے طلاق ہے'' تو اس عورت کو نماز شروع کرنے سے قبل حیض آجائے یا ایک رکعت پڑھنے کے بعد حیض آجائے تو شیخ شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے کہ اگر خاوند کی قسم اور حیض آنے کے درمیان اتنا وقت تھا کہ وہ نماز دو رکعتیں پڑھ سکتی تھی تو بالاتفاق یہ قسم صحیح ہوگی اور عورت کو طلاق ہوجائے گی، چونکہ اس مسئلہ میں ''آج کے دن'' اور ''دو رکعتوں'' کی قید ہے اس لئے یہ مسئلہ اور زیر بحث مسئلہ مختلف ہوگئے جن کا حکم بھی مختلف ہوگا، لہذا اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ         الفصل الثالث فی التعلیق بکلمۃ ان واذا وغیرہما    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۴۳۶)
وایضا فیہ ص ۶۴۱ :
رجل ضرب رجلا ضربا وجیعا فقال المضروب اگرمن سزائے وے نکنم فامرأتہ کذا فمضی زمان ولم یجاز قالوا ھذا لایقع علی المجازاۃ الشرعیۃ من القصاص اوالارش او التعزیر او نحوہ وانما یقع علی الاساءۃ بای وجہ یکون فان نوی الفور فھو علی الفور وان لم ینویکون مطلقا کذا فی فتاوٰی قاضی خاں۲؎ایں مطابق صورت مانحن فیہ ست ،
نیز اسی میں صفحہ ۶۴۱ پر ہے:
ایک شخص نے دوسرے کو ضرب لگائی تو مضرورب نے کہا اگر میں اس کو سزا نہ دوں تو بیوی کو فلاں طلاق، تو کچھ وقت گزرجانے کے باوجود اس نے سزانہ دی(یعنی سزاسے مراد شرعی سزا قصاص یا تعزیر تاوان نہیں بلکہ کوئی تکلیف پہنچانا مرادہے) تو اس قسم والے نے اگر یمین فور کی نیت کی تو فوراً اس ضرب کے وقت سزا مراد ہوگی اور اگر کوئی نیت نہ کی ہوتو پھر مطلق سزا ہوگی یعنی کسی وقت بھی سزا دینا مراد ہوگی جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں میں  مذکور ہے یہ مسئلہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کے موافق ہے
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ         الفصل الثالث فی التعلیق بکلمۃ ان واذا وغیرہما    نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/ ۴۴۶)
فرق لفظی آنکہ سزائے وے نکنم معلق بہ فعل عدمی زوج ست در مانحن فیہ اگر نخوانی معلق بہ فعل عدمی زوجہ است حکم اگر نماز نخوانی ترادو طلاق ان نوی الفور فھو علی الفور وان لم ینویکون مطلقا لیکن احمد علی نیت فور نکردہ نہ قرینہ  فور یافتہ شود پس یمین مطلق باقی ماند
فی شرح الوقایۃ ص۴۸:
انت کذاان لم اطلقک یقع فی اٰخر عمرہ۱؎
زیراکہ طلاق ندادن در آخر عمر صادق آید ورنہ ہر وقت احتمال طلاق ہست  ہمچنیں نماز خواندن در آخر عمر صادق آید ورنہ نماز خواندن ہر وقت در مدۃ العمر محتمل ست ،
صرف لفظی فرق ہے کہ  یہاں''سزانہ دوں'' جو کہ خاوند کے فعل کاعدم ہے، کے ساتھ معلق کیا گیا ہے اور ہمارے زیر بحث مسئلہ میں ''نماز نہ پڑھنے'' کو جو کہ بیوی کے فعل کاعدم ہے،کو معلق کیا گیا ہے۔ لہذا دونوں مسئلوں کا حکم ایک ہے جیسے گزرا چنانچہ یہی حکم، بیوی کے نماز نہ پڑھنے پر ہوگا کہ اگر خاوند نے یمین فور کی نیت کی، فوری مرادہوگی۔ اور اگر یمین فور کی نیت نہ کی ہو تو عام اور مطلق یعنی نماز کسی بھی وقت نہ پڑھنا مراد ہوگا، لیکن احمد نے فوری یمین مراد نہیں لی اور نہ ہی یمین فور کا یہاں کوئی قرینہ ہے، لہذا یہ قسم مطلق مراد ہوگی اور بعد میں بھی باقی رہے گی۔شرح وقایہ کے صفحہ ۴۸ پرہے: خاوند نے بیوی کو کہا''اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق ہے'' تو یہ قسم عمر بھر کےلئے ہے، اگر عمر بھر طلاق نہ دی تو موت کے قریب آخری گھڑی میں طلاق ہوگی کیونکہ اس وقت معلوم ہوگا اس نے عمر بھر طلاق نہ دی ورنہ زندگی میں ہر وقت طلاق کا احتمال تھا، تو اسی طرح ''نماز نہ پڑھنے کی شرط'' کا وقوع عمر کے آخرمیں ہوگا ورنہ زندگی میں ہر وقت نماز پڑھنے کا احتمال موجود ہے۔
 (۱؎ شرح الوقایہ     بیان لفویۃ التطلیق قبل التزوج     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/۷۷)
وفی القھستانی ص۲۷۹ویقع فی الاصح اٰخر العمر او قبیل موتہ او موتھا وفی النوادر لایقع بموتھا فی قولہ انت طالق وان لم اطلقک۲؎
ہمچنیں آں اگر زن قبیل موت نماز نہ خواند بروئے دو طلاق رجعی واقع شود مانحن فیہ چناں نیست بلکہ آں زن ازاں تاریخ تاایں دم متعودہ گشت،
قہستانی ص۲۷۹ میں ہے کہ اصح قول یہ ہے کہ عمر کے آخری حصہ میں خاوند یا بیوی کی موت سے ایک گھڑی قبل شرط کا وقوع معلوم ہوگا، اور نوادر میں ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا''تجھے طلاق اگرچہ میں طلاق نہ دوں'' تو بیوی کے مرنے پر طلاق نہ ہوگی، اسی طرح اس مسئلہ میں بیوی مرنے سے قبل نماز نہ پڑھے گی تو اس کو دو طلاقیں رجعی ہونگی جبکہ زیر بحث صورت میں بیوی نے نماز نہ چھوڑی بلکہ اس وقت سے لے کر آج تک وہ نماز کی عادی اور پابند ہے۔
 (۲؎ جامع الرموز (قہستانی)     کتاب الطلاق         مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۵۱۳)
فی قاضی خاں ص۳۴۱ ولو قال اذا طلقتک فانت طالق واذا لم اطلقک فانت طالق فلم یطلق حتی ماتت طلقت ثنتین فی اٰخر جزء من اجزاء حیاتہ۱؎ایں ہمہ ثبوت مدعا ست ایضافیہ ص۲۲۹ رجل قال لامرأتہ ان لم اجامعک علٰی راس ھذاالرمح فانت طالق فما داما حیین والرمح قائم لایحنث وقبیل موت احدہما یا بعد ضیاع رمح حانث شود ہکذا مانحن فیہ واﷲتعالٰی اعلم،
قاضی خاں کے ص ۳۴۱ میں ہے کہ اگر خاوند نے کہا''جب  میں تجھے طلاق دوں توتجھے طلاق اور جب تجھے نہ دوں تو تجھے طلاق'' اس صورت میں عورت کے مرنے پر اس کو طلاق ہوگی اور اس کی عمر کی آخری گھڑی میں دو طلاقیں ہونگی یہ تمام بحث مدعٰی کے ثبوت کےلئے تائید ہے۔ اسی میں ص۲۲۹ پر ہے کہ ایک شخص نے بیوی کو کہا کہ ''اگر میں نے اس نیزے کے سر پر تجھ سے جماع نہ کروں تو تجھے طلاق ہے۔'' اس صورت میں جب تک خاوند اور بیوی زندہ ہیں اور نیزہ بھی موجود ہے طلاق نہ ہوگی، ہاں کسی کے مرنے یا نیزے کے ختم ہوجانے پر طلاق ہوگی، تو زیرِ بحث مسئلہ بھی ایسا ہی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 ( ۱؎فتاوی قاضی خاں     باب التعلیق         نولکشور لکھنؤ        ۱ /۲۲۰)

(۲؎ فتاوی قاضی خاں     باب التعلیق         نولکشور لکھنؤ          ۱/۲۲۸)
اگرتسلیم کردہ شود کہ طلاقین اولین واقع شدند تاہم بوجہ رجعت باطل چنانکہ بعد طلاق بائن اگر تجدید نکاح کند بعدہ ایضا طلاق دہد طلاقین اولین با طل شوند بعد تجدید نکاح اگر طلاق دہد آں در حساب کردہ آید نہ طلاق قبل تجدید نکاح ہمچنیں بعد رجعت اول طلاق باطل است
کما فی الدرالمختار لوطلقھار جعیا فجعلہ بائنا او ثلثا ۱؎
اگر تسلیم کرلیا جائے کہ احمد علی کی بیوی کو پہلی دوطلاقیں ہوگئی ہیں تو تب بھی ان سے رجوع کرلینے پر وہ کالعدم ہوگئیں جس طرح کہا بائنہ طلاق کے بعد اگر تجدید نکاح کرلیں اور اس کے بعد طلاق دے دے تو بعد والی گنتی میں ہوگی اور  پہلی گنتی میں نہ ہوگی کیونکہ پہلی تجدید نکاح سے کالعدم ہوگئی ہے۔ اسی طرح رجوع کرلینے کے بعد پہلی دی ہوئی طلاقیں کالعدم ہوجائیں گی، جیسا کہ درمختار میں ہے کہ اگر رجعی طلاق دی ہوتو اس کو بائنہ بنادے یا تین طلاق دے دے۔
(۱؎ درمختار         باب الکنایات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۵)
وردالمحتار قولہ قبل الرجعۃ لانہ بعدھا یبطل عمل الطلاق فیتعذر جعلھابائنا او ثالثا ھکذا فی الطحطاوی ۲؎
ازیں عبارت خوب واضح شد طلاقین اولیین بوجہ رجعت باطل ست اکنوں برائے طلاق بلاشرط رجعت صحیح است وھوالمدعی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ المستخرج محمد وجیہ اﷲ ۔
اس پر ردالمحتار میں کہا کہ ماتن کا قول''رجعت سے پہلے'' یہ اس لئے کہ اگر رجعت کے بعد ہوتو طلاق کا عمل باطل ہوجاتا ہے اس لئے اس کو بائن یا تین بنانا ممکن نہ رہے گا، طحطاوی میں یوں ہے: اس عبارت سے خوب واضع ہوگیا کہ احمد علی کی بیوی کی پہلی دونوں طلاقیں رجعت کی وجہ سے کالعدم ہوجائیں گی۔ اب اس کے بعد کسی شرط کے بغیر دی ہوئی طلاق پر رجوع کرنا صحیح ہوگا، یہی مطلوب ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔ مسئلہ کا حل پیش کرنے والا محمد وجیہ اﷲ۔
(۲؎ ردالمحتار       باب الکنایات          داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶)
Flag Counter