| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر ) |
ثانیاً اقول من قدر علی المنع بالفعل فاکتفی بہ کفی اذ لایصح ان یقال انہ ترک وخلی بل اتی بما ھو نھایۃ المعنی و مقصد ہ الاعلی فلیس علیہ ان یجمع معہ القول جمعا فما یتوھم من ظاہر لفظ الواقعات والنوازل وثانی عبارات الخانیۃ واربعھا والوجیز لیس مراد قطعا۔
ثانیاً اقول(دوسری بات کہتا ہوں کہ) جو عملاً روکنے پر قادر ہو عملاً روکنے پر اکتفاء کردینا کافی ہے کیونکہ اس عملی رکاوٹ پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے گھر میں اسے چھوڑ ا اور اس سے لاتعلق رہا، بلکہ اس نے شرط کا مقصد پورا کردیا اب اس پر زبانی منع کرنا لازم نہ رہا، تو واقعات اور نوازل اورخانیہ کی دوسری اور چوتھی عبارت اور وجیز کی ظاہر عبارات سے جو وہم ہوتا ہے وہ قطعاًمراد نہیں ہے(ت)
ثالثاً اقول عند الفقیہ شرط برہ المنع فلفظ الملک وقع زائدافی عبارۃ النوازل اماالملک ای القدرۃ فشرط انعقاد الیمین مطلقا وباقء الموقتۃ خصوصا اذبہ تصور البر ولیس الکلام فیہ بل فیما اذااتی بہ برالاان یقال انہ من وزان حصول الصورۃ ای المنع المملوک ای قدر ماقدر۔
ثالثاً اقول (تیسری بار کہتا ہوں کہ) فقیہ ابواللیث کے نزدیک قسم پورا کرنے کی شرط صرف روکنا ہے،لہذا نوازل کی عبارت ''ملک المنع'' میں''ملک'' کالفظ زائد ہے، لیکن اگر ملک سے مرادقدرت ہوتو یہ مطلقاً قسم بننے کے لئے ضروری ہے اور وقت سے مقید قسم کی بقاء کے لئے خصوصاً ضروری ہے کیونکہ اسی قدرت سے ہی قسم کو پورا کرنا متصور ہوتا ہے۔ لیکن ملک بمعنی قدر ت میں یہاں بحث نہیں ہے بلکہ یہاں تو قسم کو پورا کرنیوالی چیز میں بحث ہے۔ ہاں اگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ حصولِ مراد کا بیان ہے کہ جس قدر ممکن طور پر روکنے پر قدرت رکھتا ہو۔(ت)
رابعاً اقول المنع یعم الفعلی والقولی کما تقدم عن عدۃ نصوص وقد یخص بالفعلی بقرینۃ المقابلۃ بالقولی وھو المراد فی کلام النوازل من قولہ یملک منعہ الی قولہ دون المنع والاول المراد فی قولہ اوفی ملک المنع وکذاقول الھندیۃ اٰخر فتثبت ولاتزل۔
رابعااقول(چوتھی بار کہتا ہوں کہ) روکنا عملی اور قولی دونوں طریقوں کو شامل ہے جیسا کہ متعدد نصوص میں پہلے مذکور ہوا ہے اور جبکہ اس کو قولی کے مقابلہ میں ذکر کیاگیا ہوتو اس قرینہ کی بناء پر صرف عملی روکنے کو خاص ہوگا اور نوازل کے کلام میں جہاں انہوں نے ''یملک منعہ'' کہہ کر اس کے بعد''دون المنع'' تک عبارت ذکر کی، تو جہاں انہوں نے ''منع کا مالک ہو'' کہا وہاں پہلا معنی یعنی دونوں کو شامل، مراد ہے اور جہاں انہوں نے ''منع کا مالک نہ ہو'' کہا وہاں دوسرا معنی یعنی صرف عملی منع مراد ہے، اسی طرح ہندیہ کا دوسرا قول ہے، توثابت قدم رہو اور تردد مت کرو۔(ت)
ایں نصوص کہ آرایم عین جزئیہ مسئلہ دائرہ بود کہ بحث ہمیں از یمین برگزاشتن است وآنکہ شرط بروحنث در وچیست، وتفاوت بآنکہ من نگزارم، اگرتو بگزاری، چیزے نیست کہ تغیر جزئیہ کند، حالاہر کہ خواہد کہ صورت دائرہ را ازاں حکم برآرد محتاج بینہ واضحہ باشد ورنہ حکم ہمان ست کہ از نصوص عیان ست تبیین مرام وتسکین اوہام را نظر کردم وچند شبہہ بخاطر رسید بخیال آنکہ مباد بذہن کسے عہ۱آید جائے جواب بہتر بیند آنہمہ راپیش نہم وبتوفیقہ تعالٰی عہ۲ اماوہم شبہہ اولیٰ پسر را مرد بخانہ گزاشت نہ زن اقول ایں درایواگنجائش داشت کہ فعل حقیقۃً از فاعل ست و بہ ساکت اگر منسوب شود بمعنی رضا ومجاز باشد اما گزاشتن کہ تخلیہ وترک تعرضات شک نیست کہ از زن حقیقۃً متحقق ست مرد عہ۳ زن را منع نکر داوداشت ایں گزاشت پس در ترک زن چہ جائے ظن۔
عہ۱: مسودہ میں بیاض ہے۔ عہ۲:مسودہ میں بیاض ہے۔ عہ ۳: مسودہ میں بیاض ہے۔
جو نصوص میں نے پیش کی ہیں یہ زیر بحث مسئلہ کا بعینہ جزئیہ ہے کیونکہ ان میں''چھوڑنے'' کے متعلق بحث ہے اور اس میں قسم کے پورا ہونے اور اس کے ٹوٹنے کے متعلق یہی بحث ہے اور ''میں نہ چھوڑوں گا'' اور ''تو نے اگر چھوڑا'' کے فرق سے جزئیہ تبدیل نہیں ہوتا اور اس کے باوجود اگر کوئی زیرِ بحث صورت کوا ن نصوص سے الگ کرے تو اس کو واضح دلیل پیش کرنی ہوگی ورنہ اس کا حکم وہی ہے جوان نصوص سے عیاں ہوا، مقصد کو واضح اور اوہام کو دور کرنے میں، میں نے غور سے کام لیا تو چند شبہات دل پروارد ہوئے اس خیال سے کہ شاید کسی کے ذہن میں آئیں تو ان کو وہ جواب کے لئے بہتر خیال کرے، اس لئے میں ان سب کو پیش نظر رکھتے ہوئے بحث کرتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے۔ لیکن پہلے شبہہ کا وہم، وہ یہ کہ مسئولہ صورت میں گھر میں بیٹے کومرد نے چھوڑا، بیوی نے نہیں چھوڑا۔ اقول(میں کہتا ہوں) اس شبہہ کی گنجائش یہاں اس بنیاد پر ہے کہ فعل حقیقۃً فاعل کا ہوتا ہے اور اس فعل پر خاموش رہنے والے کی طرف وہ فعل رضا کے طور مجازاً منسوب ہوسکتا ہے، لیکن یہاں''چھوڑنا'' جوکہ تخلیہ اور تعرض نہ کرنا ہے، یہ بیشک بیوی سے حقیقتاً متحقق ہوچکا ہے، مرد نے اس پر بیوی کو منع نہ کیا اور اس نے اس چھوڑنے کو قائم رکھا، تو اس سے بیوی کے فعل کے نہ ہونے کا گمان کہاں ہوسکتا ہے۔(ت)