Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
138 - 175
اقول :  اینجا تنبہ باید برامور اولا عبارات علما چنانکہ دیدی در مسئلہ عدم ترک فلاں مثلاً نگزارم کہ بخانہ آید بر رنگہائے مختلف آمدہ امام صدر شہید اعتبار ملک دار فرمود کہ اگر خانہ خانہ اوست منع بقول وفعل کند اگر تنہا بنہی زبانی عمل نماید حانث ہمیں است نص دوم امام قاضی خاں، آرے اگر خانہ ملک اونیست منع زبانی بس است،
اقول : (میں کہتاہوں یہاں چند امور پر تنبیہ ضروری ہے اول جیساکہ آپ نے دیکھا عدمِ ترک فلاں، یعنی فلاں کو نہ چھوڑوں گا کہ وہ گھر میں آئے، کے مسئلہ میں علماء کرام کی عبارات مختلف ہیں، امام صدر شہید گھر کے مالک ہونے کا اعتبار کرتے ہیں کہ اگر گھر اس کا اپنا ہے تو پھر زبانی اور عملی دونوں طرح سے روکے، اور اگر صرف زبانی روکا تو حانث ہوجائےگا، اور امام قاضی خاں کی دوسری نص بھی یہی ہے، ہاں اگر گھر اس کا اپنا نہ ہوتوپھر زبانی روکنا کافی ہے،
وامام فقیہ ابواللیث ملک منع رامعتبر داشت کہ اگر بزور باز داشتن تواند مجرد نہی کفایت نکند گوخانہ خانہ اش مباش ورنہ کافی است گوخانہ خود از آں او باش امام ظہیرالدین ہمبریں فتوی داد ونص اول امام قاضی خاں وامام حسام الدین در فتاوی صغری مسئلہ خود در دار مملوکہ حالف وضع فرمود وعلی الاطلاق بر نہی زبانی اقتصاد نمود وہمیں ست قضا ونص مذکور فتح القدیر،
اور امام فقیہ ابواللیث نے روکنے کی قدرت واختیار کو معتبر رکھا ہے کہ اس صورت میں اگر طاقت سے روک سکتا ہے تو پھر زبانی روکنا کافی نہیں ہے اگرچہ وہ گھر اپنا نہ بھی ہو ورنہ صرف زبانی روکنا کافی ہے اگرچہ گھر اپنا ہی ہو، امام ظہیرالدین نے اسی پر فتوی دیا ہے۔ امام قاضی خان کی پہلی نص اور امام حسام الدین نے فتاوی صغری میں، اپنایہ مسئلہ، قسم اٹھانے والے کے اپنے گھر کے متعلق بیان کیا اور وہاں انہوں نے مطلقاً زبانی روکنے پر اقتصار فرمایا اور یہی فتح القدیر کا فیصلہ اور نص ہے،
ودر بزازیہ جائے دار پسر فرق بصغیر وکبیر فرمود کہ صغیر را باز داشتن بقول وفعل جمیعا لازم است وکبیررا تنہا بقول واز نص چہارم خانیہ تقیید مستفادست کہ اگر بر کبیر قدرت منع بالفعل نہ باشد منع بالقول ست ودر نص سومش در حق اجنبی مطلقا منع قولی گرفت کہ منع فعلی نمی تواند
اور بزازیہ میں بیٹے کے معاملہ میں صغیروکبیر کافرق کیا ہے کہ اگر بیٹا صغیرہو تو زبانی اور عملی دونوں طرح گھر سے روکنا ضروری ہے اور اگر کبیر ہو تو پھرصرف زبانی روکنا کافی قرار دیا ہے،اورخانیہ(قاضیخاں) کی چوتھی نص میں یہ تقیید عیاں فرمائی کہ اگر کبیربیٹے پر عملاً روکنے کی قدرت نہ ہوتوتب زبانی روکنا کافی ہے، اور ان کی تیسری نص اجنبی شخص کے متعلق ہے کہ اس کو مطلقاً زبانی روکنا ہی کافی ہوگا کیونکہ عملی طور اجنبی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔
فقیر گویم بحقیقت اینجا ہیچ اختلاف نیست اصل سخن آن ست کہ درخانیہ بآں اشارہ رفت کہ قدر ما یطیق پیداست کہ ہر کہ گفت فلاں را بخانہ نگزارم وقادر بود براخراج اوگرچہ خانہ خانہ دیگرے باشد واینکس باجارہ یا اعارہ وغیرہما آنجامی ماند واگرچہ آنکس پسر بالغ یا اجنبی بود چوں طاقت خودرا بکار بزدوتنہا ہر یکبار گفتن کہ میا، یا بیروں شوقناعت در زید قطعاً اورابخانہ گزاشت وحانث شود ہر کہ نتواند گو خانہ خانہ اش باشد وآنکس پسر صغیر،
میں فقیر کہتا ہوں کہ حقیقتاً یہ اختلاف نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت وہ ہے جس کی طرف خانیہ میں اشارہ گزرا کہ قدرت کے مطابق روکنا مراد ہے، ظاہر ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ میں فلاں کو گھر میں نہ چھوڑوں گا تو اگر وہ اس کو نکالنے پر قادر ہو گھر اس کا اپنا ہو یا نہ ہو بلکہ کرایہ دار ہو یا عاریۃً ہو جو بھی صورت رہنے کی ہو تو جس کے متعلق یہ کہا وہ بیٹا بالغ ہو یا کوئی اجنبی ہو اس کو روکنے کی طاقت رکھتا ہے تو پھر زبانی روکنا کافی نہ ہوگا کہ ایک بار زبانی منع کردے اور کہے کہ یہاں نہ آیا باہر ہوجا بلکہ عملی اور زبانی ہر طرح روکنا ہوگا ورنہ اندر چھوڑا تو قطعاً حانث ہوجائے گا، اور جو روکنے پر قدرت نہیں رکھتا گو وہ گھر اس کا اپنا ہو اور بیٹا بھی صغیر ہو تو زبانی روکنا ہی کافی ہے،
مثلاً حالف مقعد یا زمن یا مفلوج ست وپسر سیزدہ چہاردہ سالہ شریر کہ سر بفرمان ننہد لاجرم اینجا ہمیں نہی بقول کافی بود درخانہ خودش غالب اختیار کلی باشد واحکام فقیہ نظر بغالب دارد ازینجہت امام صدر شہید آں تفرقہ فرمود کہ تعبیر اصل بمظنہ نیست عہ در زمن متأخر اختیار تام جزبر اطفال صغار نماند لہذا تفریق صغیر و کبیر کردند کہ نیز از ہماں دادی است دیگراں نظر بفساد زمان گفتند کہ غالبا منع بتدافع وتدافع بتضارب انجامد وآتش فتنہ سر بالا کشود والفتنۃ اشد من القتل لہذا از سر اقتصار بر سخن کردند ومراد جملہ یکے وباﷲ التوفیق،  عہ :مسودہ میں بیاض ہے۔

مثلاً قسم کھانے والا اپاہج ہو یا معذور ہو یا مفلوج ہو اور بیٹا تیرہ چودہ سال کا شریر ہو کہ فرمانبرداری نہیں کرتا، تو ایسی صورت میں مجبوراً زبانی روکنا ہی کافی قرار پائے گا، چونکہ اپنے ذاتی گھر میں کلی اختیار ہونا اغلب ہے اورفقہی احکام کا مدار بھی غالب امور پر ہوتاہے اس لئے امام صدر شہید نے اپنے اور غیر گھر کا فرق ذکر کیا ہے ورنہ یہ قاعدہ کابیان نہیں ہے، اور چونکہ آخر زمانہ میں باپ کو صرف صغیر بیٹے پر ہی مکمل اختیار ہوتا ہے اس لیے فقہاء نے صغیر  وکبیر بیٹے کا فرق بیان کرنا بھی اسی وجہ سے ہے، دوسرے فقہاء نے زمانہ کے فساد کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف زبانی روکنے کو ذکر کیا کیونکہ اغلب طور پر روکنے کے لئے عملی رکاوٹ ضروری ہوتی ہے اور عملی رکاوٹ مار پیٹ سے ہوتی ہے جبکہ اس سے فتنہ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور فتنہ، قتل سے بھی برا ہے، اس لیے تمام عبارات کا ماحاصل ایک ہی ہے ،  یہ توفیق بیان اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے۔
بالجملہ بریں قدر اتفاق ست کہ نگزاشتن راکم از کم بزبان باز داشتن ناگزیر است ہرکہ ایں رازن آں پسر را برآوردن نتوانست آخر کم نہ ازاں کہ یکبار گفتی میاں یا بیروں رود محلش نہ بود مگر اول وہلہ چوں آں گاہ خموشی گزید گزاشتن حاصل شد وطلاق نازل باز منع بے سود ولاطائل واگرآں وقت یکبار منع کردی سوگند منتہی شدے کہ مصدر بکلمہ کلما نبود پس ازاں ترک اگرچہ مستمر ماندے زیاں نہ رساندے وکل ذٰلک واضح مما قدمنا من نصوص العلماء
تاہم خلاصہ یہ ہے کہ نہ چھوڑنے کےلئے کم از کم زبانی روکنا ضروری ہے، تو جب کسی نے زبانی روکنے کا عمل بھی نہ کیا تو گویااس نے چھوڑا۔ تو زیربحث مسئلہ میں بیوی اگر بیٹے کو عملاً باہر نہیں نکال سکتی تھی توایک بار زبانی یہ کہہ دینے سے تو عاجز نہ تھی کہ گھر میں مت آ، یا باہر جا، روکنے کا مقام ابتدائی مرحلہ میں ہوتا ہے جب ابتداء میں وہ خاموش رہی تو بیٹے کو گھر میں چھوڑنا متحقق ہوگیا اور طلاق کی وجہ پائی گئی اور طلاق ہوگئی، بعدمیں منع کرنا اور روکنا بے سود ہے اگر وہ ابتداء میں ایک بار بھی زبان سے روک دیتی تو قسم ختم ہوجاتی کیونکہ قسم میں ہمیشگی کےلئے ''کلما'' کا لفظ نہ تھا ایک دفعہ روکنے کے بعد اگر نہ روکنا باقی رہتا تو کوئی حرج نہ تھا،یہ تمام گفتگو علماء کرام کے مذکورہ نصوص سے واضح ہے۔
اقول والسرفیہ ان التخلیۃ عدمیۃ لانھا عدم النھی والتعرض وقد اثبتت فی الشرط فیکون منفیۃ ونفی النفی اثبات والاثبات تکفی مرۃ کان قال ان لم تمنعی تطلقی ای ان منعت فلافاذا انھت  نحت والیمین قد انتھت۔
اقول(میں کہتا ہوں) اس میں نکتہ یہ ہے کہ تخلیہ یعنی لاتعلقی عدمی چیز ہے کیونکہ یہ، نہ روکنے اور نہ چھیڑنے کا نام ہے تو شرط میں اس تخلیہ کا اثبات کیا گیا جس سے یہ منفی بن گیا اور جب اس منفی کا ترک ہوا تو نفی پر نفی ہو جانے سے اثبات ہوگیا(یعنی نہ روکنے کا عدم ہوجانے سے روکنا متحقق ہوگیا)تو قسم کے پورا ہونے کے لئے ایک دفعہ اثبات یعنی روکنا کافی ہے جس کا ماحصل یوں ہوا، گویا اس نے بیوی کو کہا اگر تونے منع نہ کیا تو تجھے طلاق ہے یعنی اگر تو منع کردے تو طلاق نہ ہوگی تو جب وہ منع کردے تو طلاق سے بچ گئی اور قسم ختم ہوگئی۔(ت)
Flag Counter