حلف بالطلاق علی اختہ البالغۃ لااخلیک تسکنین مع حماتک فی الدار فحیث لاتکن الدار للحالف فمنعھا بالقول دون الفعل لایحنث۴؎
عقود الدریہ میں ہے ایک شخص نے طلاق کی قسم کھاتے ہوئے اپنی بالغ بہن کو کہا میں تجھے گھر میں تیرے دیوروں کے ساتھ رہتا نہ چھوڑوں گا، توجب وہ گھر قسم کھانے والے کا نہ ہوتو پھر زبانی روکنا مراد ہوگا عملاً روکنا مراد نہیں ہوگا تو زبانی روک دیا قسم پوری ہوجائیگی،
(۴؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق قندھار، افغانستان ۱ /۳۸)
کذا فی الخانیۃ والبزازیۃ ورسائل العلامۃ الشرنبلالیۃ دراں از قنیہ است حلف لیخرجن ساکن دارہ الیوم والساکن ظالم غالب یتکلف فی اخراجہ فان لم یمکنہ فالیمین علی التلفظ باللسان۵؎
یوں خانیہ، بزازیہ اور علامہ شرنبلالی کے رسائل میں ہے اور اس میں قنیہ کے حوالے سے ہے کہ ایک نے قسم کھائی کہ میں آج فلاں رہائشی کو ضرور نکال باہر کروں گا، تو وہ رہائشی ظالم اور غالب ہو جس کو نکالنا مشکل ہوتو پھر نکالنے سے مراد زبانی کہنا ہوگا، لہذا زبانی کہہ دینا کہ نکل جا، قسم کے پورا ہونے کے لئے کافی ہے،
(۵؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق قندھار، افغانستان ۱ /۵۰)
اذ قال ان ترکت فلانا یدخل ھذہ الدار فامرأتی طالق فان کان الحالف یملک ھذہ الدار فشرط برہ ان یمنعہ عن الدخول بالقول الفعل ھکذا ذکرہ الصدر الشہید رحمہ اﷲ تعالٰی فی واقعاتہ، وفی النوازل شرط برہ ملک المنع ولم یعترض لملک الدار فقال ان کان الحالف یملک منعہ عن الدخول فھو علی النھی والمنع جمیعا وان کان لایملک منعہ فھو علی النھی دون المنع وکان شیخ الامام ظھیرالدین یعتبر ملک المنع وعلیہ الفتوی۱؎۔
عالمگیریہ میں ہے کسی نے کہا اگر میں فلاں کو اس گھر میں داخل ہوتا چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق، تو اگر گھر اس کی ملکیت ہوتو پھر قسم پورا ہونے کے لئے زبانی اور عملی دونوں طرح منع کرنا ضروری ہے، اس کو صدرالشہید رحمہ اﷲ تعالٰی نے اپنی کتاب واقعات میں یونہی ذکر فرمایا ہے، اور نوازل میں ہے قسم پورا کرنے کے لئے منع کی قدرت شرط ہے انہوں نے گھر کی ملکیت کا ذکر نہیں فرمایا اور یوں کہا اگر قسم کھانے والا اس کو دخول سے منع کرسکتا ہے تو پھر زبانی اور عملی دونوں طرح منع مراد ہوگا، اور اگروہ دخول سے روکنے پر قادر نہ ہوتو پھر صرف زبانی منع مراد ہوگا،اور امام شیخ ظہیرالدین منع کی قدرت کا اعتبار کرتے ہیں اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیۃ الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۴۳۶)