فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
136 - 175
رسالہ
الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین(۱۳۳۰ھ)
(قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)
مسئلہ۲۱۴: از شمس آباد ضلع اٹک مرسلہ جناب مولٰنا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۱۱محرم شریف ۱۳۳۰ھ
چہ می فرمایند علمائے اندریں مسئلہ کہ زید از پسر خود بوجہ امرے خلاف مرضی ناراض شدہ زن خود راگفت کہ اگر ایں پسر مرادر خانہ گزاشتی تو برمن سہ طلاق طلاق ہستی باز بعد از چند مدت بوجہ عذر خواہی پسرش زید خود ازاں پسر راضی شدودر خانہ گذاشت وزن اوچیزے ازلاونعم نگفت آیا آں زن برزید طلاق شد یانہ؟بینواتوجروا۔
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید کسی ناپسندیدہ معاملہ پر اپنے بیٹے سے ناراض ہوا تو زید نے اپنی بیوی کو کہا اگر تونے میرے اس بیٹے کو گھر میں چھوڑا تو مجھ پر توتین طلاق ہے، پھر کچھ مدت کے بعد بیٹے کی معذرت خواہی پر زید اپنے اس بیٹے سے راضی ہوگیا اور گھرمیں آنے دیا، بیٹے کے گھر آنے پر زید کی بیوی نے بیٹے کو کچھ نہ کہا، نہ ہاں اور نہ ہی نہ کہا، تو کیا اس صورت میں زید کی بیوی کو طلاق ہوگئی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔ الحمد ﷲرب العٰلمین، وافضل الصلوٰۃ والسلام علی السید الامین، الذی قال لہ ربہ فسلٰم لک من اصحٰب الیمین، اجلہ اجلالاوعززہ تعزیزاوجعل تعلیقات مواعید فضلہ فی حق امتہ تنجیزا، صلی اﷲ تعالی وسلم علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ المیامین، عدد کل بروفاجر وبروحنث وعھد ویمین، اٰمین!
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ یااﷲ! تجھ سے ہی حق وصواب میں رہنمائی ہے۔ سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جو سب جہانوں کو پالنے والا ہے، بہترین صلوٰۃ وسلام اس آقا امین پر جس کے اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اے حبیب ! آپ کےلئے دائیں جانب والے اصحاب کی طرف سے سلام ہے، اور اس کو انتہائی بزرگیوں سے نوازاور اس کو اعلیٰ اعزاز عطا فرمایا اوراس نے اپنے فضل کے مشروط وعدوں کو آپ کی امت کے حق میں غیر مشروط فرمایا، اﷲ تعالی کی رحمتیں اور سلام آپ پر اور آل واصحاب پر جو دائیں جانب والے ہیں، ہر نیک وبد اور پورا کرنے والے اور توڑنے والے اور عہدو قسم کی تعداد کے برابر ہو، آمین!
فقیر غفرلہ المولی القدیر دریں مسئلہ نگاہ تنقیح راجولاں دادم وبقدر قدرت وفرصت دورفرستادم عدم طلاق راوجہے کہ ثلج صدر دہد نیا فتم بخانہ گزاشتن ترک وتخلیہ است واوبد ووجہ منتفی شود منع بالفعل یانہی بالقول واینجا بتصریح سوال ہر دو نافی منتفی پس تخلیہ کہ شرط حنث بود روئے نمود وسہ طلاق لازم شد در فتاوی امام اجل قاضی خاں کتاب الایمان مسائل الیمین علی الترک است
رجل اٰجر دارہ سنۃ ثم قال للمستاجر واﷲ لااترکک فی داری ثم قال لہ اخرج من داری یصیربارا۱؎،
اس فقیر(اﷲ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے) نے اس مسئلہ میں چھان بین کے لئے نظر دوڑائی اور اپنی ہمت اور فرصت کے مطابق دور گہرائی تک پہنچا، تو طلاق نہ ہونے کی کوئی اطمینان بخش وجہ نہ پائی،گھر میں چھوڑنا، جس کا مطلب ترک کردینا اور علیحدہ ہونا ہے، اور یہ ترک وعلیحدہ ہونا دو طریقوں عملا منع کرنے یا زبانی بات کرنے کے ذریعے روکنے سے منتفی ہوسکتا ہے اوریہاں پر سوال سے واضح ہورہا ہے کہ بیوی نے بیٹے کو دونوں طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ سے بھی منع نہیں کیا، تو جب منع کرنا منتفی ہے تو تخلیہ و ترک متحقق ہوگیا جو حنث کے لئے شرط قراردی تھی، تو اس تخلیہ کے پائے جانے سے بیوی کو تین طلاقیں لازم ہوگئی ہیں، امام اجل قاضی خاں کے فتاوی کے کتاب الایمان میں ترک پر قسم کے مسائل میں ہے کہ ایک شخص نے اپنا گھر ایک سال کے لئے کرایہ پردیا تو پھر اس نے کرایہ دار کو کہا خداکی قسم میں تجھے اپنے گھرمیں نہ چھوڑوں گا، یہ کہہ کر پھر اس نے کرایہ دار کو زبانی کہا تو میرے گھر سے نکل جا، تو اس کہنے پر وہ مالک قسم میں سچا ہوگیا اور اس نے اپنی قسم پوری کرلی۔
(۱؎ فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترک نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۹۶)
در عقودالدریہ ازفتاوی صغرٰی است باز درخانیہ فرمود
رجل حلف ان لایدع فلانا یدخل ھذہ الدار فان کانت الدار للحالف فمنعہ بالقول ولم یمنعہ بالفعل حتی دخل حنث فی یمینہ فیکون شرط برہ المنع بالقول والفعل بقدر مایطیق وان لم تکن الدارللحالف فمنعہ بالقول دون الفعل حتی لودخل لایکون حانثا۱؎
اسی طرح عقودالدریہ میں فتاوی صغری سے منقول ہے اور پھر خانیہ میں فرمایا کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ''میں فلاں کو اس گھر میں داخل نہ ہونے دوں گا'' تو اگر یہ گھر قسم کھانیوالے کی ملکیت ہوتو اس نے اس کو زبانی منع کیا اور عملاً منع نہ کیا، پس وہ شخص اس گھر میں داخل ہوگیا تو قسم کھانے والے کی قسم ٹوٹ گئی کیونکہ گھر کامالک ہونے کی وجہ سے اس کی قسم پوری ہونے کے لئے ضروری تھا کہ وہ زبانی اور عملی دونوں طریقوں سے حسبِ طاقت منع کرتا اور اگر وہ گھر قسم کھانے والے کی ملکیت نہ ہوتو اس کو زبانی منع کیا اور عملا منع نہ کیا حتی کہ اگر وہ شخص اس مکان میں داخل ہو گیا تو حانث نہ ہوگا،
(۱؎ فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترک نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۹۶)
باز فرمود
رجل حلف بطلاق امرأتہ ان لایدع فلانا یمر علی ھذہ القنطرۃ فمنعہ بالقول یکون بارالانہ لایمنعہ بالقول یکون بارالانہ لایملک المنع بالفعل۲؎
خانیہ میں پھر فرمایا کہ ایک شخص نے بیوی کی طلاق کی قسم کھائی کہ وہ فلاں شخص کو اس پل سے نہ گزرنے دے گا، پھر اس نے زبانی اس کو گزرنے سے روکا، تواس کی قسم پوری ہوگئی کیونکہ وہ اس کو عملاً منع کرنے پر قادر نہ تھا۔
(۲؎ فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترک نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۹۶)
بازفرمود
رجل قال لابنہ ان ترکتک تعمل مع فلان فامرأتہ کذا فان کان الابن بالغا لایقدر علی منعہ بالفعل فمنعہ بالقول یکون باراوان کان الابن صغیراکان شرط برہ المنع بالقول والفعل جمیعا۳؎
پھر فرمایا ایک شخص نے اپنے بیٹے کو کہا اگرمیں تجھے فلاں کے ساتھ کام کرنے کے لئے چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق، تو اگر بیٹا بالغ ہو جس کو عملاً نہ روک سکتا ہوتو اس کو صرف زبانی منع کرنے پر قسم پوری ہوجائیگی، اور اگر بیٹا نابالغ ہوتو پھر قسم پورا ہونے کے لئے زبانی اور عملی دونوں طرح منع کرنا شرط ہوگا۔
(۳؎ فتاوی قاضی خاں مسائل الیمین علی الترک نولکشور لکھنؤ ۲ /۲۹۶)
ودربزازیہ چنانست
قال لابنہ الکبیر ان ترکتک تعمل مع فلان فھو علی المنع بالقول ولو صغیرافعلی القول والفعل۱؎
اور بزازیہ میں یوں ہے کہ اگر بیٹا بالغ ہوتو پھر صرف زبانی منع کرنا قسم پوراہونے کیلئے شرط ہے اوراگر بیٹا نابالغ ہوتو پھر زبانی اور عملی دونوں طریقوں سے منع کرنا شرط ہوگا۔
(۱؎ فتاوی بزازیۃ علی حاشیۃ فتاوی ہندیہ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۵۰)
بازدر خانیہ فرمود
ولو قال ان ترکت فلانا یدخل بیتی فامرأتہ کذا فدخل فلان ولم یعلم بہ الحالف لایحنث وان علم ولم یمنعہ حنث۲؎
پھر خانیہ میں فرمایا کہ اگر کسی نے یوں کہا اگر میں فلاں کو اپنے گھر میں داخل ہوتا چھوڑوں تو میری بیوی کو طلاق، پس وہ شخص اس کی لاعلمی میں داخل ہوگیا تو حانث نہ ہوگا، اور اگر اس کے داخلے پر علم ہو اور منع نہ کیا تو حانث ہوگا۔
(۲؎ فتاوی قاضی خان مسائل الیمین علی الترک نولکشورلکھنؤ ۲ /۲۹۷)