کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی دوسری والدہ کے روبرو ہوش وحواس میں قسم کھائی کہ مجھ کو خداکا دیدار اور حضرت (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) کی شفاعت نصیب نہ ہو جو میں اپنے والد کی کمائی کا روپیہ یا جائداد موجودگی یا عدم موجودگی یا بعد وفات والد ماجد کے لوں جائداد میں یا ان کی کمائی میں، اب وہ شخص کسی طرح سے اپنے باپ کی جائداد یا کمائی کا روپیہ لے سکتا ہے یانہیں؟امید کہ جواب امورِ مذکورہ بالااز روئے کتب حنفیہ عنایت فرمائیں۔بینواتوجروا۔
الجواب
وہ جو اس نے کہاشرعاً قسم نہیں بلکہ اپنے حق میں بددعا ہے، اس کے سبب مال پدر سے لے لینا ناجائز نہ ہوگیا، لے سکتا ہے، اور ایسے برے لفظ سے توبہ کرے۔
علیہ غضبہ لایکون یمینا ایضالانہ دعاء علی نفسہ ولایستلزم وقوع المدعو بل ذٰلک متعلق باستجابۃ دعائہ لانہ غیر متعارف، فتح۱، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کسی نے یوں کہا مجھ پر ا ﷲتعالٰی کا غضب ہوتو یہ بھی قسم نہ ہوگی، کیونکہ یہ اپنے لئے بددعا ہے اور اس کا وقوع لازم نہیں ہے اس لئے یہ وقوع اس کی دعا کے قبول ہونے پر موقوف ہے کیونکہ یہ غیر متعارف ہے، فتح۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۵۷)
مسئلہ۲۱۳: ۹ رمضان المبارک۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے متعلقوں سے ناراض ہوکر قسم کھائی اگر میں حج کو نہ چلاجاؤں تو خداکرے میں کافر ہوجاؤں، اس پر لوگوں نے سمجھایا کہ ایسی قسم مت کھا، مگر زید نے مکررسہ کرر قسم کھاکر کہا اگر میں حج کو نہ چلا جاؤں کافر ہوجاؤں، لہذابستی والوں نے مبلغ (صہ ) روپیہ چندہ کرکے دے دئے، چنانچہ زید وہ روپیہ لے کر اس بستی سے حج کے ارادہ سے ظاہراً روانہ ہوگیا مگر دس روز کے بعد پھر اپنی بستی میں واپس آگیااور کہا میں بمبئی سے لوٹ آیا ہوں حج کو نہیں جاؤں گا، ایک روز زید مسجد میں نماز پڑھنے کو گیا وہاں بکر نے دعامانگی:یااﷲ پاک! تو ہر مسلمان کو حج نصیب کر۔ اس دعا کو سن کر زید نے بکر کو گالیاں دیں مجھ کو تو طعنہ دیتا ہے، درانحالیکہ زید اس وقت اندازاً مبلغ ڈھائی سوروپے کی چیزوں کا بذاتِ خود مالک ہے یعنی بیل بھینس اور ہل نیشکر کا مالک ہے تو ایسی حالت میں اس چندہ کا کیاحکم ہے جو کہ وہ ہضم کرچکا ہے اور اس کو شرع کون سے لفظ سے نامزد کرتی ہے اور مسلمان لوگ کیا برتاؤ کریں، اگر زید اس فعل مذکور سے احاطہ اسلام سے خارج ہوگیا تو دائرہ اسلام میں کس ترکیب سے داخل ہوسکتا ہے اور کس طرح گناہ سے بری ہوسکتا ہے اور کوئی مسلمان اس حالتِ موجودہ میں اس سے ارتباط ومیل جول رکھے تو ایسے مسلمان کے واسطے کیا حکم ہے اور منکوحہ اس کی اور اولاد اس کی کا کیا ہے کہ یہ سب زید کے ساتھ کیا سلوک کریں ورنہ اولاد اور منکوحہ اس کی کے ساتھ مسلمان کیا تعلق رکھیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب
زید نے جو الفاظ کہے قسم نہ تھی اسکے بعد حج کو نہ جانے کے سبب احاطہ اسلام سے خارج نہ ہوا روپیہ کہ چندہ والوں نے دیا وہ ہبہ تھا کہ زید بعد قبضہ اس کا ٹکٹ لے کر گیا اگر واقعی زید کا اس وقت ارادہ حج کو جانے کا تھا اور بمبئی تک گیا اور کوئی عذر پیش آیا کہ نہ جاسکا مثلاً زید بہت ضعیف ہواور محتاج معین ہو اور اسے کوئی ایسا نہ ملا کہ اس سفر میں اس کی اعانت کرے، بمجبوری پلٹ آیا تو اس پر کچھ الزام نہیں چندہ کا روپیہ بہتر یہ ہے کہ واپس کردے ورنہ شرعاً اس پر واپسی لازم نہیں، ہاں اگر وہ دھوکا دے کر جھوٹ ارادہ ظاہر کرتا اور اس ذریعہ سے لوگوں سے روپیہ لے کر چلتا ہو ضرور شخص مجرم تھا مگر صورتِ سوال سے اس کا ہرگز یہ ارادہ نہیں عہ۱، نہ کسی پر بدگمانی جائز بلاوجہ قطعی اور بلاثبوت شرعی دھوکا دینے اور جھوٹ ارادہ روپیہ ہضم کرلینےعہ۲ کرلیں گے وہ سخت مجرم ہوں گے اس پر توبہ فرض ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(عہ۱: مسودہ میں بیاض ہے۔) (عہ۲: مسودہ میں بیاض ہے۔)