فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۳(کتاب الطلاق ،ایمان، حدود وتعزیر )
134 - 175
مسئلہ۲۰۷تا۲۰۹: ۴ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک گروہ نے آپس میں فرداًفرداً حلف اٹھایا ہے نماز کی پابندی پر اور ان قواعد کی پابندی پر جو ہمرشتہ تحریر ہذاپیش ہیں، اب وہ گروہ والے یہ چاہتے ہیں کہ ان قواعد میں جو قاعدہ جرمانے کا ہے وہ منسوخ ہوجائے او رحلف دروغی کے بھی مرتکب نہ ہوں اور قواعد نمازکی ترمیم بھی ہوسکے تو وہ صورت کون سی ہوسکتی ہے جس سے حلف دروغی عائد نہ ہو اور جرمانہ نماز بند ہوجائے اور قواعد نماز ترمیم ہوجائے
سوال۲: نماز کی قضایا اس کی قضا ادا کرنے پر بطور تنبیہ اگر کوئی جرمانہ مقرر کردیاجائے تو وہ خلافِ شرع تو نہیں ہے؟
سوال۳: اگرجرمانہ نماز خلاف شرع شریف ہو اور اس پر حلف سہواً اٹھالیاگیا تو وہ حلف جائز طور سے ہوا یا ناجائز، اور اس کے توڑنے سے گنہگار ہوں گے یانہیں؟
قواعد متعلق پابندی نماز
(۱) اگر کوئی ممبر کسی وقت کی نماز کی قضا بھی ادا نہ کرے گا اس کو یکم نومبر ۱۹۰۴ ایسے فی وقت کے عوض ایک پائی بطور جرمانہ کے انجمن کے اس عہدہ دار یا ممبر کے پاس داخل کرنا ہوگا جس کے سپرد انجمن اس خدمت کو کرے گی۔
(۲) ہر ممبر اور عہدہ دار پر لازم ہوگا کہ ایسی نماز کی اطلاع کہ جس کی قضاء بھی اس سے ادا نہ ہوئی ہو بلادریافت کے ہفتہ وار انجمن کو کردے۔
(۳) آمدنی جرمانہ کارجسٹر جدا ہوگا۔
(۴) یہ آمدنی کسی کارِ خیر میں صرف ہوگی۔
(۵) جرمانہ قضا نماز کی ادائیگی بحالتِ موجودگی بریلی ہفتہ وار ہوا کرے گی۔
(۶) اگر ممبر یا عہدہ دار ایسا جرمانہ قصداً وقت معینہ پر ادا نہ کرے گا اور انجمن کی رائے میں اس کا یہ ارادہ مفسد انہ پایا جائے گا تو اس ممبر کا نام باجازت کورم جلسہ معمولی انجمن کیا جائے گا(تعداد ممبران کی ایک حد کا نام کورم ہے)
(۷) اگر کوئی قصداً حلف دروغی کا مرتکب ہوگا وہ انجمن سے خارج کیا جائے گا۔
(۸) کوئی مسلمان ممبر بلاحلف اٹھائے اس انجمن کا ممبر نہ بنایاجائے گا۔
عبارت حلف
(۱) میں حلف کرتا ہوں کہ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی میں کوشش کروں گا۔
(۲) اور اگر سہواً یا اتفاقاً یا عمداً قضا ہوجائے گی تو اس کو دوسرے وقت ادا کروں گا۔
(۳) اگر قضا بھی ادا نہ کرسکوں گا تو یکم نومبر ۱۹۰۴ء سے جوقواعد متعلق پابندی نماز انجمن ہذا سے تیار ہوئے ہیں ان کی پابندی بدل وجان کروں گا۔ واضح رہے کہ حلف اٹھانے سے قبل اور بعد بھی یہ بات سمجھادی گئی تھی کہ حلف بالا کی سطر اول اورد وم کا اثر تم لوگوں پر تمام عمر رہے گا اور سطر سوم وچہارم کا اثر فقط اسی زمانے تک رہے گا جب تک کہ تم اس انجمن کے ممبر ہو۔ بینواتوجروا۔
الجواب
جرمانہ کے ساتھ تعزیر کہ مجرم کا کچھ مال خطا کے عوض لے لیا جائے منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں کما حققہ الامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی والمسألۃ فی الدرالمختار وغیرہ وقد بیناھا علی ھامش ردالمحتار (جیسا کہ اس کی تحقیق امام طحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمائی، اور یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے____________اور ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ میں بیان کیا ہے۔ت)
اور ناجائز بات پر عمل کرنا جس حلف سے لازم آتا ہو اس کو توڑنا واجب ہےکما ارشد الیہ الحدیث وفصلہ فی الھندیۃ (جیسا کہ اس کےلئے حدیث میں ارشاد ہے اور ا سکی تفصیل ہندیہ میں ہے۔ت) مگر صورت مذکورہ میں وہ جرمانہ انجمن والوں نے اپنے لئے لینا نہ قرار دیا بلکہ کسی کارِخیر میں اس کا صرف کرنا بتایا ہے اور اس کے لینے میں انجمن کی طرف سے کوئی جبرواکراہ نہیں، صرف اتنا قاعدہ قرار دیا ہے کہ جو جرمانہ نہ دے انجمن سے خارج کیا جائے تو انجمن میں داخل رہنے کےلئے جو شخص یہ رقم ادا کرے گا بجبر و تعدی نہ ہوگا بلکہ اس کی اپنی رضا سے ہوگا کہ انجمن سے خارج ہونے میں اس کا کوئی ضرر نہ تھا اس نے باختیارِ خود یہ پسند کیا کہ یہ رقم اس سے لے کر کارِ خیر میں صرف ہو، لہذایہ قانون جرمانہ ناجائز ہ کی حد تک نہیں پہنچتا۔ رہا حلف وہ اگر عبارت حلف بے کم وکاست اسی قدر ہے اور اس سے قبل یا بعد زبانی کوئی لفظ ایسا نہ کہلوایا گیا کہ حلف کو ان چاروں سطرروں سے شرعاً متعلق کردے تو حلف صرف دو سطر سابق سے متعلق ہوکہ بعد کی دو سطریں حرف عطف سے خالی ہیں،
والجملۃ المستقلۃ لاتتعلق بالسابقۃ الابعاطف فبقیت خارجۃ عن الحلف لماعلم ان فصل الاجنبی یبطل عمل الحلف حتی لو قال واﷲ والرسول لافعلن کذا لم یکن یمینا لان قولہ والرسول لیس یمینا فکان فاصلا کما فی العٰلمگیریۃ وغیرہا فکان کقول القائل واﷲ لاشربن لاقومن لم یدخل تحت الحلف الاالشرب دون القیام بخلاف قولہ ولاقومن، ھذاماظہرلی وارجو ان یکونا صوابا۔
اور یہ جملہ مستقلہ ہے اس کا پہلے عطف کے بغیر تعلق نہیں ہوسکتا، لہذا یہ قسم سے خارج ہے کیونکہ اجنبی جملہ کے فاصلہ سے قسم کا عمل ختم ہوجاتا ہے، حتی کہ اگر کوئی شخص یوں کہے اﷲ اور رسول کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا، تو قسم نہ ہوگی کیونکہ اﷲ کی قسم ہوتی ہے، تو درمیان میں رسول کا لفظ فاصل بن گیا،کیونکہ رسول کی قسم نہیں ہوتی، جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں بیان ہے، تو یہ یوں ہوا جیسے کوئی کہے خدا کی قسم میں ضرور نوش کروں گا ضرور کھڑا ہوں گا، تو یہ نوش کرنے کی قسم ہوگی کھڑے ہونے کی قسم نہ ہوگی، اس کے برخلاف اگر حرفِ عطف کے بعد، میں ضرور کھڑا ہوں گا، کہے، تو کھڑے ہونے کی بھی قسم ہوگی۔ یہ مجھے ظاہر ہوااور مجھے امید ہے کہ یہ درست ہوگا۔(ت)
اس تقدیر پر پابندی جرمانہ ودیگر قواعد انجمن زیر حلف داخل ہی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۱۰: از دولت پورضلع بلندشہر مرسلہ بشیر محمد خان صاحب ۱۵شوال ۱۳۲۹ھ
اگر چند بار کسی شخص نے حلف شرعی کسی امر کے واسطے کیا ہواور پھر اس کے خلاف کرے اور اس امر کافیصلہ کہ جس کے بابت اس نے حلفِ شرعی کئی مرتبہ کیا ہے تو وہ اس کا فیصلہ قابل مان لینے کےہوگا یانہیں؟
الجواب
اگر خلاف کرنے میں شرعاً خیر دیکھے تو خلاف کرے اور کفارہ دے ورنہ بلاوجہ شرعی قسم توڑناحرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی واحفظواایمانکم۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ اپنی قسموں کو پوراکرو۔(ت)
( ۱؎ القرآن الکریم۵ /۸۹)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیرامنھا فلیأت الذی ھو خیرولیکفر عن یمینہ۲؎۔ رواہ احمد ومسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس نے کسی چیز کا حلف دیا اور اس کے خلاف سے بہتر محسوس کرے تو بہتر کو بجالائے اور قسم کا کفارہ دے۔ اس کو احمد، مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۸)
یہی حال فیصلہ کا ہے اگر حلف کیا تھا کہ یوں فیصلہ کرے گا پھر حکمِ شرع اس کے خلاف پایا تو اس پر فرض ہے کہ خلاف ہی کرے اور کفارہ دے، اور اگر حکم شرع وہی تھا جس پر حلف کیا پھر اس کا خلاف کیا تو قسم توڑنے کا بھی گناہ ہواور ظلم وناحق فیصلہ کا گناہ سخت تر ہوا۔واﷲتعالٰی اعلم۔